آسمانی نمائندے کا پاکستان میں زمینی خلفاء کے گھروں کا دورہ


ارادہ تو میرا بڑا ہی تیز رفتار اور بالائی آنکھ سے معلومات اکٹھی کرنے کا تھا لیکن کیا کیا جائے کہ اس ملک کی تین تہائی آبادی نے اپنے گھر دڑبوں سے مشابہ بنا لئے ہیں۔ چھتیں، صحن، سیٹ بیکس سب بند کرنے کا رجحان ہو گیا ہے۔ کہیں پکے، کہیں جالیوں سے، کہیں عارضی، کہیں مستقل۔ اس لئے میری نظر وہاں کہاں گزر پاتی، جہاں سے روشنی اور ہوا تک کا داخلہ بھی بند تھا۔ تو مجبوراً دروازوں سے ہی اندر جھانکنا پڑا۔ میری تانک جھانک کیا رنگ لائی۔ چلئے آپ کو بھی دکھاتے ہیں :

یہ جو صاحب آپ کو رات کے اس پہر کبھی اپنے لکھنے کی میز کے گرد چکر لگاتے۔ کبھی کرسی پر بے چینی سے بیٹھتے، اٹھتے اور کبھی سر پکڑتے نظر آرہے ہیں۔ ان کا یہ حال پچھلے تین مہینوں سے ہے۔ جناب ایک جانے مانے مصنف ہیں۔ اچھے ملکی اخبارات، جریدے، رسالے اور سوشل میڈیا کے مختلف فورمز ان کی لکھی کہانیوں اور مقالوں سے سجتے رہتے ہیں۔ لیکن کچھ ہفتوں پہلے انھیں محسوس ہونا شروع ہوا کہ ان کی تحریریں کو ویسے پذیرائی نہیں مل رہی، جیسی عموماً ان کے نام کے ساتھ مخصوص ہو گئی تھی۔

بہت سے قارئین غیر دلچسپ موضوعات ہونے کی شکایت بھی کرتے نظر آرہے ہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ اب وہ مزا نہیں رہا آپ کے لکھے میں جو قاری کو جوڑے رکھتا ہے۔ اس طرح کے تبصروں کے بعد انھوں نے عمدا اپنی تحریروں کو مزید تنقیدی نگاہ سے پرکھنا چاہا تو بات درست ہی لگی۔ نئے خیالات جیسے ذہن میں آنا ہی بند ہو رہے ہیں۔ انوکھے پلاٹ اب گھنٹوں بیٹھنے پر بھی ان پر دور سے ہی ہنستے رہتے ہیں۔ الفاظ کی وہ برکت جو بس قلم اٹھانے سے ہی ان کی ہمسفر بن جاتی تھی، اب ندارد ہو رہی ہے۔

قصے جو ان کے سامنے غلام بنے، ہاتھ جوڑے کھڑے ہوتے تھے اب بلانے پر بھی منہ نہیں دکھاتے۔ پھر انھیں لگا کہ شاید اسے مزید مشاہدات اور تجربات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مد میں پچھلے ڈیڑھ مہینہ ان کے قدم مختلف قومی اور بین الاقوامی منزلوں کو چھوتے رہے۔ بلا مبالغہ کئی کتابیں اس کے شب و روز چاٹتی رہیں۔ لیکن مہینوں کی مسافت اور دنوں کی خواری بھی اس کی خالی الذہنی کو رواں نہیں کر سکی۔ قلم کی روانی کا جمود جوں کا توں ہے۔ بے بسی کا عالم فکر انگیز ہے۔

اتنے جتن کرنے اور اپنی شہرت کو گھٹتے دیکھنے والے کو میں کیسے بتاؤں کہ اگر آپ کا ہاتھ ایسے لفظ لکھتا ہے جو کسی کے دل میں اترتے ہیں۔ یا آپ کا ذہن وہ بات بنتا ہے جو کسی کو اچھوتی لگتی ہے۔ یا آپ کا قلم وہ جذبے منعکس کرتا ہے جو کسی پر گزرے ہیں۔ تو اس میں کمال آپ کے علم سے زیادہ آپ کی نیت کا ہے۔ نوازے جانے کا ہے۔ آپ کا قلم تب تک دوڑے گا، جب تک وہ خیر بانٹے گا۔ اس پریشان حال کو میں کیسے باور کرواؤں کہ پچھلے ایک سال سے اس کی تحریر خیر سے محروم ہو گئی ہے۔ وہ بکتی ہے اور بڑی سستی بکتی ہے۔ اور بکاؤ مال میں وقت، سچ، حق اور ایمان سبھی قابل فروخت ہیں۔ میں چپکے سے وہاں سے نکلا اور اڑ کر ایک اور گھر کے اندر داخل ہو گیا۔

یہاں آ کر تو مجھے یوں لگا کہ میں غلطی سے ہسپتال میں آ گیا ہوں۔ لیکن باہر تختی تو کسی مکان کا پتہ ہی بتا رہی ہے۔ گھر میں کل سات افراد رہتے ہیں۔ کہنے کو دو درمیانی عمر کے، چار جوان اور ایک بچہ۔ لیکن خدا کو مانیں، ہر وقت ان میں سے دو، تین بستر علالت پر ہی رہتے ہیں۔ سمجھیں، شہر کے کلینک، شفا و دوا خانے ان کا دوسرا ٹھکانہ ہیں۔ ہر کمرے میں، ہر بیڈ کے ساتھ دوائیوں کے دو چار نسخے پڑے ہونا ایک معمول ہے۔ گھر کے بجٹ کا نصف انھیں خریدنے اور ڈاکٹروں کے درشن کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔

پیسوں کے علاوہ بے برکتی اور بے سکونی کونے کونے سے لپٹی ہے۔ صاحب خانہ کو لگتا ہے کہ ان کا پورا گھرانا کسی بد نظر اور حسد کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی فرد بیمار ہی رہتا ہے۔ اور یہی سوچ گھر کے چھوٹے بچے تک کے ذہن میں پختہ ہو گئی ہے۔ ورنہ میں ان میں سے ہر کسی کو وہ چھوٹی بڑی ہیرا پھیریاں دکھاتا جنہوں نے ان کے حلال کاموں کو گہنا دیا ہے۔ مثلاً غیر حاضر ہو کر بھی دفتری رجسٹروں میں حاضر ہی رہنا، دکھاوے کے لئے دوسروں کو بڑھ چڑھ کر دینا اور ضرورت مند کو خالی ہاتھ ہی لوٹا دینا، غیبت کی عادت کو آتی جاتی سانسوں کی طرح اپنائے رکھنا۔ اور بات بات پر قطع تعلقی اور صلہ رحمی سے کوسوں دوری۔ مجھے اجازت نہیں ورنہ میں ان کو دکھاتا کہ ان کے گھر کی بنیادوں میں کس چیز کی دیمک لگ رہی ہے۔ کون سا نمک ان سب کی صحت کو پگھلا رہا ہے؟ میں ادھر سے بھی کھسکا اور ایک اور دروازے کی کھلی اوٹ سے تیسرے مکان کا بن بلایا، پوشیدہ مہمان بن گیا۔

مکان اس لئے کہا کہ گھر تو مکینوں کی محبت، احساس اور پیار سے تعمیر ہوتے ہیں۔ اور یہاں تو ڈھونڈنے سے بھی انسیت و مروت نام کو نہیں۔ غرض کے بندے ہیں۔ اور جس کو جب موقع ملتا ہے، دوسرے کو چونا لگاتا اور ٹانگ کھینچتا ہے۔ گھر کے سربراہ حکومت کی افسری سے ریٹائرڈ ہیں۔ مربعوں کی زمین کے مالک ہیں۔ پانچ پانچ سپوتوں کے والد ہیں۔ اپنا گھر ہے لیکن غم، اداسی، پریشانی ہر وقت چہرے کی جھریوں میں رقم ہے۔ فشار خون شاذونادر ہی نارمل ہوتا ہے۔

اولاد کا سکھ ان کے نصیب میں نہیں۔ ہر کوئی ان سے نالاں ہے۔ اتنے سال گورنمنٹ کی ملازمت کرنے کے باوجود بچے سارے ہی فارغ ہیں۔ پڑھائی میں اوسط رہے تو نوکریوں میں بد نصیب۔ اور زمین داری میں صفر۔ انھیں بھی لگتا ہے کہ پورا خاندان ان کی جائیداد پر آنکھیں لگائے بیٹھا ہے۔ ان کے بیٹوں کی ترقی پر بندش ہے۔ ان کی رزق کی فراخی پر لوگوں کی حسرت زدہ نظریں ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ان کے اردگرد کے واضح اشارے ان کی آنکھ سے اوجھل کیوں ہیں؟

گھریلو سازشوں میں ان کی زوجہ محترمہ ماہر ہیں اور اولاد موکلین۔ اور ضرورتاً خود انھیں بھی کاٹھ کا الو بنا لیا جاتا ہے۔ جس میں ان کا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینا، کانوں کا کچا ہونا اور رشتوں میں توازن نہ رکھنے جیسی شخصی کمزوریاں بڑی معاون ہیں۔ رزق میں کمی ہو رہی ہے اور خوشی و سلوک ناپید ہو رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ اس سب کے باوجود انھیں چھ گلیاں چھوڑ کر رہنے والی اپنی اکلوتی بہن یاد کیوں نہیں آتی۔

جس کی وراثت ابھی تک انھوں نے اس کے نام نہیں کی۔ اور نہ ہی ارادہ ہے۔ سال کے آٹھ دس ہزار تہواروں پر دینے سے وہ حق کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اور جب جب وہ اپنے بچوں کو کسمپرسی کے لقمے کھلاتی ہے۔ معاشی تنگی کو سہتی ہے تو خاموش آہیں اور نامکمل ضروریات کی چبھن کہاں کہاں، کس کس کی بے چینیوں کا باعث بنتی ہے۔ یہ سمجھنا کوئی ایسا کار دشوار بھی نہیں۔

مجھے ابھی اور بھی جگہوں کا دورہ کرنا تھا لیکن حضرت انسان کے غرور، بے حسی، بے ایمانی نے میرا دل ایسا کھٹا کیا کہ میں نے بھاری دل سے واپسی کی ٹھانی کہ خدا کو جا سناؤں کہ تیرے بندوں کی کیا کارستانیاں ہیں۔ اس لئے میں جیسے بنا آہٹ آیا تھا، ویسے ہی بے آواز نکل بھی آیا ہوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments