تلاش دانش گم گشتہ


(یہ مضمون کچھ اضافوں کے ساتھ کرونا وبا کے ابتدائی لاک ڈاؤن کے دوران سوشل میڈیا پر چلتے مباحث اور ان سے جڑی یادداشتوں پر مبنی ہے )

گزشتہ برسوں کی بات ہے لاک ڈاؤن کے بعد بھی میں نے کافی عرصے بعد سوشل میڈیا کو دوبارہ جوائن کیا تھا۔ بہت ہچکچاتے ہوئے میں نے شروع میں اپنے آپ کو صرف اپنی کہانیاں شیئر کرنے تک محدود رکھا۔ اس وقت میں زیادہ تر قرنطینہ سے متعلق مسائل میں دلچسپی رکھتا تھا جبکہ زیادہ تر اپنی ٹائم لائن پر دوسروں کی پوسٹس کو نظر انداز کرتا تھا۔ اپنے آپ کو روکنے یا ہر پوسٹ کا جواب نہ دینے کے باوجود، میں خود کو وبائی صورتحال پر متنوع نقطہ نظر کی نگرانی کے نہیں روک سکا۔

زیر بحث آنے والے ہر ایک خیال پر میں نے زیادہ تر لوگوں کو ججمینٹل طرز عمل پر کاربند پایا۔ موضوعات پر مستند علم کا ہونا دراصل ایک نایاب چیز بن چکی ہے۔ زیادہ تر مناظر محض قیاس آرائیوں، تاثرات پر مبنی تھے پھر بھی سب ایسا دکھاوا کر رہے تھے جیسے وہ سب کچھ جانتے ہوں۔ اس میں صرف میرے جیسے عام لوگ شامل نہیں تھے بلکہ وہ معروف لوگ بھی شامل تھے جو پوری دنیا میں ہمارے معاشروں کے ایک حصے پر کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جسے عام طور پر سماجی اثر و رسوخ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اس ضمن میں فرد کی وجودی ہستی اور عقائد کے نظام پر ہونے والی بحثوں میں لوگوں کو ان کی رائے دینے کے لیے ایک دوسرے کو مدعو کرنے کی روایات زیادہ مقبول پائی گئیں۔ سچ کہوں تو یہ تیز آنچ والے چولہے پر کھانا پکانے کی کوشش لگ رہی تھی جہاں ہر کوئی اپنی پسند کے مصالحے ڈالنے کا خواہشمند نظر آتا ہے۔ جہاں آخر میں، ایک باولی ہانڈیا کے سوا کچھ بھی پیش کرنے کو نہیں ہوتا تھا جو کہ گلا سڑا اور ناقابل برداشت تیکھا ہوتا تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بظاہر، ہم زیادہ حقیقت پسند (ریشنل) ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں لیکن ہمارے دلائل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اپنے تعصبات کے دائرے میں کتنے قید ہیں۔ جی ہاں! یہ کافی فطری اور معمول کی بات ہے کہ ہم بطور فرد اپنے تعصب کو نہیں دیکھ سکتے جب تک کہ کوئی اس کی نشاندہی نہ کرے۔

ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہم معروضیت کو مسترد کرتے ہوئے محض قیاس پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ ہم اس وقت معروضیت سے محروم ہو جاتے ہیں جب خیالات کے یک طرفہ فریم میں چیزوں کا تجزیہ کرتے ہیں، جو آخر کار ہمارے اندر ایک تعصب کو پروان چڑھاتا ہے۔ ہم ریشنل ہونے کا احساس کرتے ہیں لیکن ہر اس سچائی کو جھٹلانے سے گریز نہیں کرتے جو ہماری عصبیت سے تصادم میں آتا ہے۔ میرے خیال میں یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہم اس وبائی صورتحال سے بھی سبق حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس وبائی دؤر میں تمام مذہب پرستوں نے اس وبا کو خداؤں کی اطاعت نہ کرنے پر ایک عذاب کے طور پر لیا اسی لیے انہیں لگا کہ عبادت گاہیں خالی ہو گئی ہیں جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ خالق نے انہیں اپنے مقرب ہونے کا موقع دیا ہو۔ جو ریا کاری سے پاک ہو۔

دوسری طرف، ملحدین نے اسے ایک ایسے موقع کے طور پر لیا کہ جہاں وہ مذہب پرستی کو نشانہ بنائیں کہ ترقی کے دشمنو دیکھو دنیا کے تمام دیوتا اور خدا اپنے عقیدت مندوں کو بچانے سے قاصر ہیں، جب کہ حقیقت تو یہ بھی تھی کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قومیں درحقیقت اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

اس عالم میں پرانے کامریڈ (کمیونسٹ) کیسے پیچھے رہ سکتے تھے، وہ بھی اس میں کود پڑے اور اسے کمیونسٹ افکار کی کامیابی کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی جو ان دنوں اس پیش رفت کی نشاندہی کرتے رہے، جہاں سرمایہ دار مغرب، کووڈ کی وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چین کی طرف ان کی مدد کے لیے دیکھ رہا تھا۔

سازشی نظریوں سے محبت کرنے والوں نے اسے ایک حیاتیاتی جنگ سمجھا لیکن کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ حملہ آور سے کیسے نمٹا جائے اور اگر کوئی ملک ایسا بھی بچا ہو جو اس وبا سے متاثر نہ ہو۔ نسل پرستوں نے اسے چینی وائرس کہا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پورے سفید فام سماج کا رنگ پیلا ہو چلا۔

میں گزشتہ ایک عرصے سے عقلیت، معروضیت، غیر جانبداری اور صداقت کے جوہر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ عقلیت پسندی، وجودیت پسندی کے خیالات کو سامنے لایا جا سکے۔ کافی کوشش کے بعد میں صرف اس نتیجے پر پہنچ سکا کہ اوپر والے خیالات میں دنیا بھر کے فلسفیوں نے جتنے بھی نظریات سے نتائج اخذ کیے وہ محض ”سچائی“ تک پہنچنے اور اسے پہچاننے کا ذریعہ ہیں۔ جب زندگی کو معنی دینا اور اسے جوش اور خلوص، مستند طریقے سے صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے اور ذاتی تاثرات، جذبات اور تخیلات پر انحصار نہ کرتے ہوئے جینا ہر فرد کا انفرادی ذمہ ہے۔

دانشمندی کی تاریخ سے ماخذ مندرجہ بالا قبول شدہ حکمت ”سچائی“ کو ایک دائرے میں لانے کا راستہ ہموار کرتی ہے جس کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ انفرادی کوشش کے ساتھ اس تک پہنچنا اور پہچاننا انسانی ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی عقائد/خیالات اور سوچ میں تبدیلی کی توقع کرنا ایک غلط فہمی ہوگی کہ جب تک تمام افراد اسے اپنی انفرادی ہستی کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اندر تبدیلیاں کرنے کی ذمہ داری کے طور پر قبول نہ کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اس طرح کے تصورات پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، کم از کم بظاہر، تاکہ اپنے آپ کو عقلی اور معروضی ثابت کیا جا سکے لیکن صرف اس صورت میں جب یہ ہماری اس عصبیت کے مطابق ہوں جو خود عقلیت کے سوا کسی چیز کے خلاف نہیں ہے۔ لہٰذا، ہم میں سے ہر ایک کے پاس انا پرستی کے جذبات کو پورا کرنے کے لیے عقلی ہونے کا ایک الگ انداز ہے۔

جیسے جدید فلسفہ اپنی انفرادی ہستی کی حقیقت کو تلاش کرتے ہوئے سچائی تک پہنچنے اور پہچاننے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے، ویسے امام علی (ع) نے پیغمبر اسلام (ص) کے اس قول کو ظاہر کرتے ہوئے بھی پیش کیا تھا کہ ”جو شخص خود کو جانتا ہے وہ اپنے رب کو جانتا ہے۔“

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قادر مطلق کو محسوس کرنا بھی فینٹسی سے زیادہ کچھ نہیں ہے جب تک کہ کوئی خلا میں خالق کو تصور کرنے کے بجائے خود کو ایک مخلوق کے طور پر جان کر اسے پہلے اپنے باطنی شعور میں دریافت کرنے کی کوشش نہ کرے۔

مزید برآں حکمت/ذہانت اور جہالت کے حوالے سے اصول الکافی کا ابتدائی باب ظاہر کرتا ہے کہ عقائد کے نظام میں حکمت/ذہانت کتنی اہم ہے۔ حضرت امام علی ابن موسی الرضا (ع) کا ارشاد گرامی ہے کہ ”عقل/ذہانت لوگوں کی دوست ہے جبکہ جہالت ان کی دشمن ہے۔ جو کوئی اپنی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے وہ راہ راست پر ہے جب کہ جہالت کے مرہون منت اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ خالق نے جاہلوں کو نہیں بلکہ عقلمند / ذہین کو مخاطب کیا ہے۔“

اور سب سے بڑھ کر قرآن نے بھی عقل کو انسان کے لیے سب سے بڑی قدر قرار دیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ایک آیت ہے جس میں کہا گیا ہے : ”جس کو عقل دی گئی اس کو بہت زیادہ مال دیا گیا“ ( 2 : 269 ) ۔

مندرجہ بالا تمام واقعات کے باوجود اور بہت کچھ جو کہ روایات کی کتابوں میں درج ہے اور قرآن میں، اپنی عقل/ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے حق تک پہنچنے اور پہچاننے کی فرد کی ذمہ داری پر، دنیا بھر کے متعدد معروف دانشور اب بھی موجودہ عقائد کے نظام، خاص طور پر اسلام میں ایک نشاۃ ثانیہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی غلطی نہیں ہے، کیونکہ ان کا استدلال معمولی ذرائع پر مبنی ہے، اس قدر ناقص ہے کہ ان کے متعصب ذہن کے ذریعے پرورش پانے والے خیالات کے یک طرفہ فریم کی وجہ سے معروضیت اور صداقت کا فقدان ہے۔

یہ صدیوں سے ہو رہا ہے کیونکہ لوگوں نے اسلام کو مسلم بادشاہوں سے متعلق تاریخوں میں الجھا کر غلط سمجھا جس کا اسلام کی اصولی بنیادوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یقیناً یہ خیالات میں عصبیت کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسی عصبیت جس نے کبھی مغربی یورپ کی تاریخ کو چرچ یا عیسائیت کی تاریخ کا لیبل نہیں لگایا، اس حقیقت کے باوجود کہ چرچ کا ہمیشہ قرون وسطیٰ کے یورپ میں بادشاہتوں پر بہت بڑا اثر رہا، پھر بھی وہ مسلمان شہنشاہوں کی تاریخ پر اسلام کا ٹیگ لگانے سے کبھی نہیں ہچکچاتے۔

سچائی تک پہنچنے اور پہچاننے کے لیے عقل، دانش اور ذہانت کا موقف ایک جیسا ہے، جیسا کہ کوئی انسانی معاشروں کی فکری تاریخ سے اس کی تحقیق کر سکتا ہے، خواہ وہ مذہب پرست ہو یا ملحد، پھر بھی یہ تقسیم افراد کے اس نقطہ نظر کی وجہ سے ہے۔ کوئی بھی ایسا فرد معروضی اور عقلی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتا جو خود کو غیر مستند، غیر معقول اور یک طرفہ تعصب پر مبنی خیالات پر مبنی محض قیاس آرائیوں اور تصورات تک محدود رکھے۔ عقلیت صرف حقائق کو معروضیت اور صداقت کے ساتھ تلاش کر کے علم کے تمام دستیاب وسائل کو جانچ کر حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری انا پرستی کی ذہنیت کو مزید ہلانے کے لیے ایک نشاۃ ثانیہ واقعی ضروری اور ناگزیر ہے تاکہ ہم سچائی کو پہچان کر اپنی رائے کو معقول بنا سکیں۔ ہم پھر بھی سچائی کو جھٹلا رہے ہیں۔ اس دنیا نے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، ہم سب کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے تاکہ دوسروں کے درد کو اپنے جیسا محسوس کر سکیں اور ایک قبیلے کی طرح اکٹھے رہنا سیکھ سکیں۔

کیا ہم نے آفتوں سے سیکھا ہے کہ لوگوں کے کھانے کے بارے میں کس طرح پریشان ہونا ہے جو کسی آفت یا وبائی بیماری کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے؟ ہم ان لوگوں سے متعلق اپنے گناہوں کا احساس نہیں کر سکے جنہیں ہم نے بھوک اور افلاس کی دنیا میں پھینک دیا، کبھی پابندیوں کے ذریعے اور کبھی جنگ کے ذریعے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے گزشتہ وبائی ماحول میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے لاک ڈاؤن لگانا سیکھ لیا۔ لیکن ہم انسانیت کو بچانے کے لیے اعلان کردہ جنگی علاقوں میں جنگ بندی کے لیے جانا نہیں سیکھ سکے۔

دانشمندی اور حکمت کی دنیا محض علامات سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم، ہماری اعلان کردہ دانش کے مطابق، کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ ہم نے آفات اور وباؤں سے کیا سیکھا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ ہی سیکھیں گے، جب تک کہ مسلسل آفات ہمیں دانش گم گشتہ کو تلاشنے اور سچائی کو پہچاننے کے لیے گھٹنوں کے بل نہیں جھکائے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments