سفر بلوچستان: مولا، جھل مگسی و بولان – حصہ دوم


مولا، جھل مگسی و بولان

اس جگہ کی وجہ شہرت یہاں کھجور کے درختوں کے بیچ واقع وہ خوبصورت تالاب ہے جس کے زمردی مائل پانی میں سنہری مچھلیاں (ڈمبرا) تیرتی پائی جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ پانی دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگ بدلتا ہے۔ کبھی فیروزی تو کبھی سبز، کبھی زمردی تو کبھی نیلا مانو جیسے نیلم، زمرد، فیروزے و عقیق یہاں غسل کرنے آتے ہوں اور اس تالاب میں اپنے اپنے رنگ چھوڑ جاتے ہوں۔

تالاب کا پانی اتنا شفاف ہے کہ تہہ میں پڑے پتھروں سمیت یہ مچھلیاں دور سے ہی تیرتی نظر آ جاتی ہیں۔ لمبی لمبی معصوم سی مچھلیاں انسانوں کو دیکھتے ہی تالاب کے کنارے پہ ہو جاتی ہیں۔ یہ مچھلیاں بالکل بے ضرر ہیں اور ان کو پکڑنے یا شکار کرنے پر پابندی ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے نہ صرف ان کی افزائش بہترین طریقے سے ہو رہی ہے بلکہ اس جگہ کا حسن بھی قائم ہے۔ چھتل نورانی تالاب کا پانی ایک پراسرار پتھر میں سے نکلتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تالاب کبھی نہیں سوکھتا۔ اس کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ اس کا پانی سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد ہوتا ہے۔

یہ بلا شک و شبہ بلوچستان کا خوبصورت اور منفرد مقام کہلانے کا حق دار ہے۔ یہاں ہم نے تالاب میں نہائیں اور مچھلیوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ دور دور سے لوگ اس جگہ پکنک منانے آتے ہیں۔ یہاں محمود بھائی کے مقامی دوست سلیم بھائی نے ہماری تواضع روایتی مصالحے دار مٹن، گنوار کی سبزی اور ٹماٹر کے سالن سے کی۔ روایتی اس لیے کہ ہر علاقے کے اپنے مخصوص مصالحے اور پانی ہوتا ہے جس کی وجہ سے کھانوں کا ذائقہ بدلتا رہتا ہے۔ اور یہاں کا ذائقہ انتہائی لاجواب تھا۔

کھانے سے فارغ ہو کہ ہم نے اپنا سامان باندھا اور گاڑی سے بائیکس پر منتقل کیا۔ کیونکہ آگے کا راستہ صرف جیپ، ڈالے، بیل گاڑی یا موٹر سائیکل پر طے کیا جا سکتا تھا۔ چار موٹر سائیکلوں پر ہم لوگ سوار ہوئے جن میں سلیم بھائی اور ان کے تین مددگار دوست بھی شامل تھے۔ چونکہ میزبانوں کی طرف سے کیمپنگ اور کھانے کا سامان پہلے ہی یہاں تک پہنچا دیا گیا تھا سو گاڑی سے ضروری اشیاء پکڑیں اور سفر شروع کیا گیا۔

کھجوروں کے جھنڈ میں سفر شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے پکی سڑک ختم۔ ایک کٹھن اور یادگار سفر کی شروعات ہو گئی۔ جھل مگسی کے بہترین لینڈ اسکیپ سے لطف اندوز ہوتے ہم پتھریلے راستوں پر رواں دواں تھے۔ کبھی پہاڑ تو کبھی بیابان، کبھی کھجور کے جھنڈ تو کبھی رنگ برنگ جھاڑیاں۔ ذوالفقار بھائی کی مہارت نے مجھے وقت پہ اس جگہ لا پہنچایا جہاں بس پتھر ہی پتھر تھے۔ بڑے، چھوٹے، کائی سے لپٹے ہوئے اور سنگ مرمر کی طرح سفید پتھر ہر جگہ بکھرے ہوئے تھے۔

اس جگہ کو میں نے ”پتھروں کا صحرا“ کا نام دیا۔ ان پتھروں کے پیچھے نالے کی صورت میں دریائے مولا بہہ رہا تھا اور دور چٹیل پہاڑوں کے پیچھے سورج غروب ہونے کو تھا۔ بائیکس ایک جگہ کھڑی کر کہ ہم کچھ آگے گئے اور نیکریں پہن کہ دریا پار کیا۔ ایک بہترین جگہ دیکھ کہ خیمے وہیں لگا دیے اور کچھ دیر دریا میں غسل سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

دریا سے نکل کہ میں پتھروں پہ آ بیٹھا۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور خنکی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔

پتھروں پہ بیٹھے بیٹھے پیاس محسوس ہوئی تو اچانک کسی نے جگ میں دریائے مولا کا پانی بھر کہ تھما دیا۔ میں پیاس کا مارا جگ کو منہ لگا کہ غٹک گیا اور دریائے مولا کے پانی نے بلوچستان کی پوشیدہ محبت کو چودہ برس بعد ، میرے روم روم میں جگا دیا۔

اس پانی نے بچپن کی اس محبت پر امر ہونے کا ٹھپا لگا دیا جو میں دل میں لیے گھوم رہا تھا۔
دریائے مولا اس علاقے کا سب سے بڑا اور واحد دریا ہے جو اپنی معاون ندیوں سمیت ضلع جھل مگسی کے بہت سے علاقوں کے لیے پانی کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ یہ دریا ضلع خضدار میں وسطی براہوی کے چٹیل پہاڑوں سے نکلتا ہے اور بہت سے ندی نالوں کا پیٹ بھرتا ہوا جھل مگسی تک آتا ہے۔ اس کے کنارے مولا چھٹوک سمیت بہت سے دلکش قدرتی مقامات موجود ہیں۔ کئی ایک مخفی بھی ہیں جن میں سے ایک جگہ ہم نے کیمپنگ کی جو کوہان کے قریب ضلع خضدار کی حدود میں آتی تھی۔

رات خیمے لگانے کے بعد کپڑے بدلے اور لکڑیاں جلا کر سلیمانی قہوہ تیار کیا گیا۔ جان میں جان آئی تو مقامی دوستوں سے گپ شپ کا دور چلا۔ چاند اپنے جوبن پہ تھا لیکن شرارتی بادل بار بار اس کے چہرے کو چھپانے کی کوشش میں تھے جیسے کسی دوشیزہ کی لٹیں ہوا سے اڑ اڑ کہ اس کے چہرے کو چھپا رہی ہوں۔

میں ایک زمانہ گرد، گرد پھرا تو مجھ پہ کھلا
باہر نہیں ہے کچھ، جو بھی ہے گردباد مجھ میں ہے
بول پڑوں تو ڈھیروں باتیں نہ بولوں تو پہروں چپ
آتش و انجماد مجھ میں ہے، کیا کیا تضاد مجھ میں ہے
(سید مہدی بخاری)

کھلے آسمان تلے بیٹھ کر ہم نے دنیا جہان کی باتوں پر تبادلہ خیال کیا۔ سیاحت، بلوچستان کے حالات، سیاست، یہاں کے مسائل، بلوچ نوجوان اور شعور، تعلیم و ترقی، علاقے کی صورتحال سمیت کئی ایک معاملات پر میں نے اپنے بلوچ ساتھیوں کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ یہاں میں یہ بتا دوں کہ یہ سب لوگ پڑھے لکھے، کاروباری اور باشعور لوگ تھے جو اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ملانے کا اتنا ہی شوق رکھتے تھے جتنا کہ ہم۔ ان کے خیالات جان کر بہت خوشی ہوئی اور افسوس بھی کہ کاش ان کے علاقوں کو وہ سہولیات میسر ہوتیں جس ہمارے اس ہیں۔

اتنی دیر میں سلیم بھائی کے ساتھ آئے ایک مقامی بزرگ جنہیں سب نانا کہہ رہے تھے، دریائے مولا سے مچھلیاں پکڑ کہ آ گئے۔ عمر رسیدہ نانا نے کسی بھی طریقے سے بڑھاپے کو خود پہ سوار نہیں ہونے دیا۔ ہر لحاظ سے چاق و چوبند نانا نے رات کو اس وقت دریا پار کیا جب اس کی موجیں تیز تر ہو چکی تھیں۔

نانا جی نے علیحدہ سے دو طرف آگ جلائی اور سجی کے لیے بکرے کی ران کو صاف کر کہ سلاخ میں پرو دیا۔ دو سلاخوں کو کچھ فاصلے سے پتھروں میں اس طرح گاڑھا کہ دونوں طرف سے آگ کا سیک برابر پہنچے۔ یہ سجی چونکہ آگ کی حدت سے پکتی ہے سو اس کو تیار ہونے میں ایک لمبا وقت درکار تھا۔ تب تک سلیم بھائی مٹن کا سالن بھون رہے تھے اور ہم سب دوست فوٹوگرافی میں مصروف تھے۔

ہنسی مذاق کرتے کب گزر گیا پتہ بھی نہیں چلا۔ نئی جگہوں کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ ان کی خوبصورتی اور پراسراریت میں بندہ ایسا مدہوش ہو جاتا ہے کہ وقت اپنی رفتار سے آگے نکل جاتا ہے اور محسوس بھی نہیں ہوتا۔ نانا کی اسپیشل سجی تیار تھی جبکہ مچھلیاں بھی تیل میں تڑ تڑ کر رہی تھیں۔ مولا کی یہ مچھلی بغیر کسی مرچ مصالحے کے نمک لگا کہ فرائی کی گئی تھی۔ کھانے کی سب سے منفرد چیز تھی یہاں کی مقامی روٹی جسے ”کرنو یا کاک“ کہتے ہیں۔

یہ پتھر کو گرم کر کہ اس پہ پکائی جاتی ہے۔ گوندھے ہوئے آٹے کی موٹی تہہ ایک گرم اور گول پتھر پر لگائی جاتی ہے جسے چاروں طرف سے ڈھکنے کے بعد آگ کے پاس رکھ دیا جاتا ہے۔ پکنے کے بعد اس سخت روٹی کو توڑ کر ٹکڑوں میں دسترخوان کی زینت بنایا جاتا ہے جس کا باہر کا حصہ سخت اور اندر کا نرم ہوتا ہے اور یہ سب کو نہیں پسند آتی۔ ہمارے دوست آفتاب کے مطابق اسے رات کو تازہ کھانے کے ساتھ، جبکہ صبح چائے کے ساتھ بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ مولا کے شور میں لذیذ اور منفرد کھانے سے فارغ ہو کہ ہم نے پتھروں پہ لمبی واک کی اور اس علاقے کو چاند کی روشنی میں دریافت کیا۔ دو گھنٹوں بعد پھر قہوہ نوش کیا اور ایک بجے کے قریب سب سونے کے لیے اپنے اپنے خیمے میں چلے گئے۔

رات کے کسی پہر میری آنکھ کھل گئی۔ وقت دیکھا تو ڈھائی بج رہے تھے۔ ارے واہ، یہ وقت ضائع کرنا تو گناہ ہوتا، سو میں اٹھ کہ باہر آ گیا۔ دریا سے پانی پیا اور چاند کی روشنی میں بیٹھ گیا۔ انجان علاقوں میں تھکاوٹ کے باوجود خود کے ساتھ وقت گزارنا بھی ایک عیاشی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ رات کا یہ پہر، جب جسم ڈھیلا اور دماغ تروتازہ ہوتا ہے، انسان کے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی قوت کے لیے سب سے بہترین ہوتا ہے سو ہم نے بھی کل اور پرسوں کے پلان کو ترتیب دیا اور آدھا گھنٹہ مٹرگشت کرنے کے بعد کیمپ میں آ سوئے۔

رات گئے اس چہل قدمی کے بعد تو بڑی زبردست نیند آئی اور صبح ڈرون کی آواز سے آنکھ کھلی جب محمود بھائی ڈرون سے تصاویر و ویڈیوز بنا رہے تھے۔ کیونکہ آج ہمارے پلان میں سیاحت کے ساتھ ساتھ سماجی سرگرمیاں بھی تھیں سو جلد از جلد نانا جی کے لائے تازہ دودھ (جو وہ پہاڑ پہ بنے ایک چرواہے کے گھر سے لائے تھے ) کی چائے اور بسکٹ سے ناشتہ کیا گیا اور کیمپنگ کی جگہ صاف کر کہ سامان سمیٹا۔ سب نے اپنے اپنے حصے کا سامان اٹھا کر دریا کو پار کیا اور اس جگہ کو الوداع کہا۔

بائیکس پر دوبارہ سفر شروع ہوا اور ہم پھر سے چھتل شاہ نورانی پہنچ گئے۔ باقی دوستوں کو تالاب پہ بھیج کہ میں سلیم اور محمود بھائی کے ساتھ اس علاقے کی طرف آ گیا جہاں شدید بارشوں سے تباہی کی داستانیں بکھری ہوئی تھیں۔ راستے میں ایک عظیم استاد درخت تلے کوئی آٹھ نو بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ یہاں مختلف گھروں کا دورہ کیا اور معلومات لیں۔ اپنے دوستوں کی بھیجی گئی امانتیں مستحقین کے حوالے کیں اور ہم بھی واپس تالاب پر آ گئے۔

اس کی خوبصورتی کے ڈسے ہوئے سیاحوں نے یہاں ایک بار پھر ڈبکی لگائی اور کپڑے بدلنے کے بعد کوٹرو کی راہ لی۔

کوٹرو یا کوٹرہ، گنداواہ کے جنوب مغرب میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں کی ہر دیوار پہ غربت اور کسمپرسی کی علیحدہ داستان لکھی ہوئی ہے۔ یہ بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں کے بوائز سکول کی دیوار گر چکی ہے جبکہ بہت سے گھر بھی بری حالت میں ہیں۔ یہاں ایک کمرے پر مشتمل بوسیدہ سے کسی سرکاری ریسٹ ہاؤس میں ہم نے اپنا میڈیکل کیمپ لگایا۔ کمرے میں ادویات ترتیب سے رکھ کر باری باری اہل علاقہ کو اندر بلایا گیا۔

علاقے میں پہلے ہی کیمپ کا بتا دیا گیا تھا سو یہ تمام لوگ پہلے سے یہاں موجود تھے۔ چونکہ یہ بلوچی بولنے والوں کا علاقہ ہے سو مابدولت کو ایک ترجمان بھی دے دیا گیا جس کی ضرورت ویسے کم ہی پڑی کہ مجھے ان کی بہت سی باتیں سمجھ آنے لگی تھیں۔ ایک ڈاکٹر کو مختلف ثقافتوں سے لازمی روشناس ہونا چاہیے اور پھر مریض کے درد کی زبان تو ہر ڈاکٹر ہی سمجھ لیتا ہے۔

خیر، آہستہ آہستہ مریض آنا شروع ہوئے اور ہماری توقع کے برعکس اس چھوٹے سے شہر میں اچھا خاصا رش لگ گیا۔

روایتی بلوچی پگڑی باندھے بوڑھے بابے
خوبصورت کڑھائی والی قمیضیں پہنے خواتین
گھیر والی روایتی شلوار پہنے لڑکے
ہنستے مسکراتے اور مجھے حیرانی سے دیکھتے بچے
خمیدہ کمر اور سر پہ دوپٹہ لیے بوڑھی دادیاں
جن کے محنت کش اور کھردرے ہاتھ اتنے پیارے لگے کہ میرا دل کیا انہیں چوم لوں۔

ہم نے مریضوں کو بیماریوں سے احتیاط اور بچاوٴ کی تجاویز بھی دیں اور کچھ پڑھے لکھے لوگوں کو ملیریا، ڈینگی اور ہیضہ جیسی بیماریوں سے اپنے طور پہ نپٹنے کا طریقہ بھی بتایا تاکہ وہ علاقے کے دیگر لوگوں کو بھی سمجھا سکیں۔

کیمپ سے فارغ ہو کہ ایک چکر میں نے یہاں کے پرانے بازار کا لگایا اور ہم سب سلیم بھائی کے گھر آ گئے۔ یہاں درختوں کے بیچ خوبصورت رلیوں پر دوپہر کا کھانا چن دیا گیا۔ دسترخوان پر ابلے ہوئی چاول، تلے ہوئے آلو، سلاد اور یہاں کا خاص ٹماٹروں کا سالن تھا۔ گھر کے پکے سالن کا نہایت منفرد ذائقہ جو لمبے عرصے تک مجھے یاد رہے گا۔ یہاں کے ہر کھانے میں بلوچستان کی خوشبو سمیت ہمارے میزبانوں کا خلوص بھی شامل تھا جو اس کے ذائقے کو بہتر سے بہترین بنا رہا تھا۔

جاری ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments