’ڈاکٹر گمنام‘: نقاب پوش ماہر نفسیات جس نے ہم جنس پرستی کو نفسیاتی مرض سمجھے جانے سے روکا


خاکہ
جنوبی فلوریڈا میں 1966 میں ایک پولیس افسر نے طالب علموں کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’وہ کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ ‘ ڈبلیو ٹی وی جے نے اس منظر کو فلم بند کر لیا۔

وہ انھیں نا دانستہ طور پر ہم جنس پرستوں کے خطرے سے آگاہ کر رہا تھا مگر اس سلسلے میں اپنے لا شعور میں بسنے والے گہرے تعصبات سے خود بے خبر تھا۔

’وہ پولیس والے ہو سکتے ہیں، وہ سکول ٹیچر ہو سکتے ہیں۔ اور اگر ہم نے آپ کو ہم جنس پرستوں کے ساتھ پایا تو سب سے پہلے آپ کے والدین کو بتائیں گے۔۔۔‘

اس وقت امریکہ میں ہم جنس پرستی کو ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔

سنہ 1962 تک تمام 50 ریاستوں میں ہم جنس پرستی جرم قرار پا چکی تھی۔ مگر 2003 تک ایسے تمام قوانین ختم کر دیے گئے اور ایل جی بی ٹی کے حقوق کو جامع طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

لیکن مسئلہ یہ نہیں تھا کہ ہم جنس پرستی کو ان قوانین کے خاتمے تک صرف جرم سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ اس سے ایک دہائی قبل اس کا ذکر ڈایاگناسٹک اینڈ سٹیٹِسٹیکل مینول آف مینٹل ڈِس آرڈر (ڈی ایس ایم) کے پہلے ایڈیشن میں کیا گیا تھا۔ اس کتاب کو نفسیاتی عوارض کی سب سے اہم دستاویز سمجھا جاتا تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکی سائکیاٹرِک ایسوسی ایشن (اے پی اے) نے، جو امریکہ کے طبی شعبے میں بہت ہی بااثر سمجھی جاتی ہے، ہم جنس پرست ہونے کو ایک نفسیاتی بیماری تسلیم کر لیا ہے۔

سنہ 1952 کی اس درجہ بندی کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی ہم جنس پرستی میں ملوث پایا گیا بغیر اس کی مرضی کے اس کا ’علاج‘ کیا جائے گا۔

ایل جی بی ٹی کمیونیٹی پر اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوئے، نہ صرف معاشرے کی نگاہ میں، بلکہ خود اپنی نظروں میں بھی وہ خود کو کمتر سمجھنے لگے۔

اور اس نے ان کے لیے ماحول کو اور بھی نفرت انگیز بنا دیا۔

ڈی ایس ایم

ڈی ایس ایم میں شائع ہونے والے 81 الفاظ جن کی وجہ سے ہم جنس پرستوں کو بھیانک نتائج بھگتنا پڑے

نفسیاتی تعصب کی اس ’سائنسی توثیق‘ نے امتیازی سلوک کے ایک وسیع سلسلے کو جنم دیا: ہم جنس پرستوں کو روزگار، شہریت، رہائش اور بچوں کی تحویل کے حقوق سے انکار کرنے سے لے کرپادری بننے، فوج اور شادی کے ادارے سے خارج کر دیا۔

ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے لیے مواقع بہت کم رہ تھے: یا تو اپنے جنسی میلان کو چھپائیں یا نتائج کا سامنا کریں.

ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے یہ خطرہ مول لیا۔

پاگل پن روکنا

ڈی ایس ایم کی درجہ بندی کے خلاف سب سے پہلے 1960 کی دہائی میں ایل جی بی ٹی کے حقوق کے علمبردار فرینک کامینی کی سربراہی میں ایک گروپ نے آواز اٹھائی۔ وہ پی ایچ ڈی تھے اور ہارورڈ یونیورسٹی میں ماہر فلکیات تھے جنھیں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے فوج سے نکال دیا گیا تھا۔

انھوں نے کئی سال پر محیط مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد ہم جنس پرستی کو نفسیاتی امراض کی فہرست سے خارج کرنا تھا۔

اے پی اے کے اس دعوے کی، کہ ہم جنس پرست ہونا ایک ذہنی بے قاعدگی، کمزوری یہ تھی کہ اس کی بنیاد کسی طرح کے سائنسی علم پر مبنی نہیں تھی۔

سنہ 1971 میں اے پی اے کے سالانہ اجلاس میں ہنگامہ آرائی پر اگلے برس اس موضوع پر مباحثے کی اجازت مل گئی۔

احتجاج

قطار میں دوسرے نمبر پر امریکی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے علم بردار فرینک کامینی (1925-2011)، 15 مئی 1965 کو یومِ مسلح افواج کے موقع پر امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر دوسروں کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔

پلان کے مطابق ایسوسی ایشن کے دو ماہرین نفسیات کے مقابلے میں کامینی اور باربرا گیٹنگز کو شرکت کرنا تھی۔ باربرا ایک سرکردہ لیسبیئن (عورت ہم جنس پرست) تھیں اور ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کی آزادی کے لیے کی جانے والی کوشش کے سبب ان کی ماں کہلاتی تھیں۔

مگر ہم جنس پرست کارکنوں کو خیال آیا کہ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ ان کی نمائندگی کوئی ایسا شخص کرے جو ہم جنس پرست بھی ہو اور ماہرِ نفسیات بھی۔ ایسا ایک خفیہ گروپ تھا۔

انھوں نے سب کو لکھا، مگر جواب نفی میں آیا۔ کیونکہ کھل کوئی سامنے نہیں آنا چاہتا تھا۔ اس کا سبب یہ خوف تھا کہ وہ پیشہ ورانہ طور پر برباد ہو جائیں گے۔

’ایک ہی ہاں‘

لیکن پھر کسی نے اپنی سوچ بدلی اور 1972 میں اے پی اے کے سالانہ کنونشن کے دوسرے دن کچھ مضحکہ خیز مگر غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔

ڈیلس میں ایڈولفس ہوٹل میں ڈینش کمرہ ماہر نفسیات سے بھرا ہوا تھا جو ’نفسیات: ہم جنس پرستوں کی دوست یا دشمن؟ ایک مکالمہ،‘ نامی بحث میں مصروف تھے۔

ایک میز کے دوسری طرف گیٹنگز اور کامینی کے ساتھ ماہر نفسیات کینٹ رابنسن بھی موجود تھے۔

اور آخری لمحے میں پردوں کے درمیان سے ایک عجیب و غریب نظر آنے والا شخص نمودار ہوا اور کمرے میں بالکل اگلی جگہ سنبھال لی۔

خاکہ

اس نے اپنا چہرہ اس وقت کے امریکی صدر نکسن کی شکل ربڑ ماسک سے چھپا رکھا تھا۔

مائکروفون پر اس کی آواز نے سب کو چونکا دیا۔ وہ کہہ رہا تھا: ’میں ہم جنس پرست ہوں۔ اور میں نفسیاتی امراض کا ماہر ہوں۔‘

انسانیت کا حصہ

’اس کمرے میں آپ میں سے زیادہ تر کی طرح، میں اے پی اے کا ایک رکن ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘ اس شخص کی پہچان ڈاکٹر ہنری اینونیمس (گمنام) کے طور پر کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ تنہا ہم جنس پرست ماہر نفسیات نہیں اور بہت سے لوگوں نے محسوس کیا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ گوشت پوست کا کوئی انسان ہماری اس تنظیم کے سامنے کھڑا ہو اور خود کو سننے اور سمجھنے کا مطالبہ کرے۔

ڈاکٹر اینونیمس یعنی ڈاکٹر گمنام نے نفسیاتی امراض کے ان ماہرین کی بات کی جو ’گے‘ یعنی ہم جنس پرست تھے، مگر دنیا والوں کے خوف سے اپنے جنسی میلان کو خفیہ رکھنے پر مجبور تھے کیونکہ اگر ان کے ساتھیوں کو پتہ چل جاتا تو ان ہم جنس پرست ماہرین نفسیات کو اس کا بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑتا۔

مظاہرہ

ہم جنس پرست رفتہ رفتہ سامنے آنے لگے۔

انھوں نے کہا کہ تاہم، ہم اپنی زندگی نہ صحیح معنوں میں نہ جی کر اس سے بھی بڑا خطرہ مول لیتے ہیں۔

’یہ سب سے بڑا نقصان ہے، ہماری ایماندار انسانیت، اور یہ نقصان ہمارے آس پاس کے ہر فرد کو اپنی انسانیت سے بھی محروم کرنے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اگر وہ واقعی اپنی ہم جنس پرستی کے ساتھ آرام دہ اور پرسکون تھے، تو وہ ہمارے ساتھ آرام دہ ہوسکتے ہیں۔

’لہٰذا، ہمیں اپنی صلاحیتوں اور حکمت کو اپنی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور انسانیت کے اس چھوٹے سے حصے کے ساتھ ہم جنس پرستی کہلانے کے لیے آرام دہ ہونا چاہیے۔‘

ان آخری الفاظ کی ادائیگی کے بعد ڈاکٹر گمنام کو وہاں پر موجود سب شرکا نے کھڑے ہو کر داد دی۔

ڈاکٹر گمنام کی ہمت اور صاف گوئی کو سراہنے والوں کی اگلی قطاروں میں، فرینڈز ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر بھی تھے، جو جلد ہی ماسک کے پیچھے موجود شخص جان ایرسل فرائر کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ ’اگر آپ ہم جنس پرست ہوتے اور واضح اس کا اظہار کرنے والے شخص نہ ہوتے تو ہم آپ کو برطرف نہیں کرتے۔ یا اگر دوسروں کے لیے توجہ طلب شخصیت کے حامل ہوتے بھی تو آپ گے نہ ہوتے تو بھی بات بن جاتی۔‘

مگر چونکہ آپ میں دونوں صفات بیک وقت پائی جاتی ہیں لہٰذا ہم آپ کو ملازمت پر نہیں رکھ سکتے۔‘

استعفیٰ یا برطرفی

یہ جان ایرسل فرائر کے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ انھوں نے کالج سے ہی تعلیمی لحاظ سے اپنے آپ کو واضح کر دیا تھا اور انھوں نے 15 سال کی عمر میں کالج اور 19 سال کی عمر میں میڈیکل ’سکول میں داخلہ لیا۔

اس دوران اسے بار بار آزمائش سے گزرنا پڑا جب ان کے نگران کو پتا چلتا کہ وہ دراصل ہم جنس پرست ہیں۔

ہم جنس پرستی

سنہ 1964 میں، جب وہ پہلے سے ہی امریکہ کے بڑے برداشت والے حصے مشرقی ساحل پر رہ رہے تھے اور انھوں نے پنسلوانیا یونیورسٹی میں اپنی رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ اس قیام کے دوران انھوں نے اپنے ایک دوست کو یہ بتانے کی غلطی کی کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔

اس دوست نے یہ بات اپنے والد کو بتائی اور پھر ان کے والد نے یہی شکایت یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ چیئر کو کر دی۔
فرائر کو ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی طرف سے یہ آپشن دیا گیا کہ ’آپ یا تو استعفیٰ دے سکتے ہیں یا بصورت دیگر میں آپ کو برطرف کر دوں گا۔‘

یوں جان ایرسل فرائر کو اپنی ’غلطی‘ کی قیمت ادا کرنی پڑی، جس میں برسوں کی ذلت آمیز اسائنمنٹس بھی شامل ہیں اور وہ بھی اس ادارے کی جو اب انھیں قبول کیے ہوئے تھا۔ یہ ایک ایک سرکاری دماغی مریضوں کے لیے ہسپتال ہے، جہاں انھیں رہائش اختیار کرنا پڑی۔ باہر نکلنے میں ان کا کوئی فائدہ نہیں تھا لہٰذا وہ زیادہ وقت اندر ہی گزارتے۔

یہ ایک طویل اور غیریقینی رستہ تھا۔
یوں وہ اس میں ٹھہرے رہے۔
جان ایرسل فرائر کو اے پی اے کے سامنے ’ڈاکٹر گمنام‘ کے طور پر پیش ہونے میں 20 سال لگے جہاں پر انھوں نے یہ خطاب کیا۔

صحت مند

لیکن اس کے الفاظ اے پی اے کے اندر رویہ میں تبدیلی لانے میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے جس نے ڈی ایس ایم سے ہم جنس پرستی کو ختم کرانے میں سہولت فراہم کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے حوصلے میں اضافہ ہوا اور سنہ 1973 میں اس ایسوسی ایشن نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم رہنے والے ایک حکم کو پلٹ دیا، جس سے امریکہ اور کسی بھی دوسری جگہ جہاں ڈی ایس ایم کو اختیار سمجھا جاتا تھا ہم جنس پرستوں کو آزاد کر دیا گیا۔ ذہنی صحت میں بدنظمی سے ‘بیماری’ کا۔

تبدیلی کرتے ہوئے، اے پی اے کے ٹرسٹیز نے کہا کہ ایسوسی ایشن ’مقامی، ریاستی اور وفاقی سطحوں پر شہری حقوق کے قوانین کے نفاذ کی حمایت کرتی ہے اور اس پر زور دیتی ہے جو ہم جنس پرست شہریوں کو انہی تحفظات کی یقین دہانی کراتے ہیں جو اب دوسروں کو دی گئی ہیں۔

ہم جنس پرستوں کے حقوق کے مورخین کو سنہ 1972 میں ڈلاس ہوٹل کے بال روم میں جان ایرسل فرائر کے الفاظ کی مطابقت کو پوری طرح تسلیم کرنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔

جان ایرسل فرائر نے کہا کہ ’میں نے وہ واحد کام ایسا کیا، جس نے میری زندگی بدل دی، جس نے میرے پیشے میں ثقافت کو تبدیل کرنے میں مدد کی، وہ یہ تھا کہ میں خود ہی گم ہو گیا تھا۔‘

آج کچھ لوگ ‘اس یک طرفہ واقعہ’ کی اہمیت کو نیویارک میں سنہ 1969 کے سٹون وال فسادات کی طرح دیکھتے ہیں، جو کہ امریکہ میں جدید ایل جی بی ٹی حقوق کی تحریک کا محرک ہے۔

اس سال فلاڈیلفیا میں ڈاکٹر گمنام کی تقریر کی 50 ویں سالگرہ منائی گئی، اور دو مئی کو جان فرائر ڈے قرار دیا گیا۔
یہ واحد پہچان نہیں ہے۔

اے پی اے ان کے اعزاز میں ان افراد کو ‘فرائر ایوارڈ’ دیتا ہے جو جنسی اقلیتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

فرائر سنہ 2003 میں فوت ہوئے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27624 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments