فیفا ورلڈ کپ نے دنیا پر انمٹ نقوش مرتب کر دیے
فیفا ورلڈ کپ 2022 کا ایسا عجیب و غریب افتتاح ہوا ہے، جس پر مغربی ممالک و میڈیا انگشت بدنداں ہیں۔ اسپورٹس ٹورنامنٹ کے لئے ایسی عجیب و غریب تیاری پہلے کبھی نہیں ہوئی ہے، دنیا بھر سے سینکڑوں علمائے کرام اور سکالرز منگوائے گئے ہیں، جو کہ مختلف زبانوں میں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ دو ہزار مقامی علمائے کرام بھی فٹ ورلڈ کپ کی ڈیوٹی کریں گے۔ ملک بھر کی مساجد کے مؤذن تبدیل کر کے دلکش آوازوں والے مؤذن مقرر کر دیے گئے ہیں۔
تمام مساجد کو اسلامی میوزیم طرز پر پیش کیا جائے گا، جہاں کسی بھی وقت کوئی آ کر معلومات لے سکے گا۔ ملک بھر میں قرآنی آیات، احادیث اور تاریخ اسلامی کو نمایاں کر کے فلیکس اور بل بورڈز لگائے گئے ہیں۔ قرآن مجید کے تراجم، مختلف زبانوں میں، اسلامی تاریخ و سیرت کی کتب بانٹی جا رہی ہیں۔ ہر اسٹیڈیم میں نماز کی نمایاں جگہ مختص کی گئی ہے۔ معذور حافظ قرآن بچے کی تلاوت سے افتتاح ایسا کارنامہ ہے جو تادیر یاد رکھا جائے گا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک سمیت عالمی مبلغین کو مدعو کیا گیا۔ جن کے لئے خصوصی سہولیات فراہم کیں گئیں ہیں۔ قطر نے کہا ہے کہ ایل جی بی ٹی کو ورلڈ کپ میں پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔ شراب پر بھی پابندی اور عورتوں کے چست لباس پر بھی پابندی عائد رہے گی۔ اور نہ ہی ہم جنس پرستی کی اجازت ہوگی۔ قطر کا کہنا ہے کہ ہم 28 دن کے لئے اپنا مذہب نہیں بدل سکتے۔ دنیا کو ہماری روایات و اقدار کا پاس رکھنا ہو گا۔ بلاشبہ قطر کے اقدامات امت مسلمہ کے لیے رول ماڈل ہیں۔ اللہ تعالی انہیں استقامت اور مزید خیر و برکت عطا فرمائے۔
20 نومبر سے قطر میں شروع ہونے والا فٹبال ورلڈ کپ دنیا کی ایسی تقریب ہے، جو ماضی کے ورلڈ کپ تقریبات سے اسے مختلف بناتی ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ میں پہلا ورلڈ کپ ہے۔ 1930 ء میں پہلا ورلڈ کپ جنوبی امریکی ملک یوراگوئے میں ہوا تھا، اور اب تک 21 ٹورنامنٹس کا انعقاد ہو چکا ہے۔ مگر یہ ایشیا میں ہونے والا دوسرا ورلڈ کپ ہے۔ پہلا 2002 میں جنوبی کوریا اور جاپان میں ہوا تھا، جبکہ مشرق وسطیٰ پہلی بار اس تقریب کی میزبانی کر رہا ہے۔
اب تک یورپ 11 بار ورلڈ کپس کی میزبانی کرچکا ہے، جنوبی امریکا 5 بار، شمالی امریکا 3 اور افریقہ نے ایک بار اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کی۔ یہ فٹبال ورلڈ کپس کی تاریخ کا پہلا موقع ہے ؛جب اس کا آغاز موسم سرما میں ہو رہا ہے۔ قطر میں موسم گرما کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کی تاریخوں کو مئی، جون یا جولائی کی بجائے نومبر میں منتقل کیا گیا۔
یہ تاریخ کا مہنگا ترین ورلڈ کپ ہے۔ قطر نے 2022 ء کے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے اسٹیڈیمز کی تعمیر سمیت انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر 200 ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ قطر نے 2010 ء میں ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے بعد انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر کم از کم 229 ارب ڈالرز خرچ کیے۔
اس کے مقابلے میں 2018 ء میں روس نے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے 10 سے 15 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے، اس طرح 2022 ء کا ایونٹ اب تک کا مہنگا ترین ورلڈ کپ ٹورنامنٹ بھی ہے۔ قطر حکومت کی ایک اور خاص بات یہ کہ اسٹیڈیم کی تعمیر کے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا، کہ تمام اسٹیڈیمز تک رسائی ایک گھنٹے کے اندر ممکن ہو؛تاکہ کھلاڑیوں یا میچز دیکھنے والے افراد کو ایک سے دوسری جگہ جانے کے لیے زیادہ سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ قطر میں تعمیر کیے گئے تمام 8 ورلڈ کپ اسٹیڈیمز تک گاڑی کے ذریعے ایک گھنٹے کے اندر پہنچنا ممکن ہے۔
یہ 32 ٹیموں کا آخری ورلڈ کپ ہو گا۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول 2026 کا فٹبال ورلڈ کپ زیادہ طویل ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلا ورلڈ کپ ہو گا؛جس میں 48 ٹیمیں شرکت کریں گی، جبکہ قطر میں 32 ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گی۔ یہ 32 ٹیموں کے فارمیٹ پر مبنی ساتواں اور آخری ورلڈ کپ ہو گا۔
فٹبال ورلڈ کپ دنیا میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے اور تمام براعظموں سے تعلق رکھنے والے ممالک اس کا حصہ بننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
2018 ء میں فٹبال ورلڈ کپ کو 3.572 ارب ناظرین نے دیکھا تھا؛جبکہ فرانس اور کروشیا کے درمیان فائنل کو دیکھنے والوں کی تعداد 1.12 ارب تھی۔
32 ٹیمیں ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کرنے کے لیے جدوجہد کریں گی، اور پہلی بار مشرق وسطیٰ میں اس ایونٹ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ورلڈ کپ کا آغاز 20 نومبر کو میزبان ملک اور ایکواڈور کے درمیان مقابلے سے ہو گا۔
یہ بات بھی ناظرین کی دلچسپی کا ذریعہ ہوگی کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟ فیفا نے ورلڈ کپ 2022 ء کے لیے 44 کروڑ ڈالرز کی انعامی رقم مختص کی ہے۔ اس ایونٹ کے فاتح کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز دیے جائیں گے، جبکہ رنر اپ ٹیم 3 کروڑ ڈالرز کی حقدار ہوگی۔ تیسری پوزیشن پر رہنے والی ٹیم کے حصے میں 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز آئیں گے ؛جبکہ چوتھے نمبر کی ٹیم ڈھائی کروڑ ڈالرز جیت لے گی۔ 5 سے 8 ویں پوزیشن پر رہنے والی ہر ٹیم کو ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالرز دیے جائیں گے۔
9 سے 16 ویں نمبر پر رہنے والی ہر ٹیم کے حصے میں ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالرز آئیں گے۔ 17 سے 32 ویں پوزیشن پر رہنے والی ہر ٹیم کو 90 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔ اسی طرح ایونٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ہر ٹیم کو تیاریوں کے لیے 15 لاکھ ڈالرز بھی دیے جائیں گے۔ خیال رہے کہ 2018 میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم فرانس کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم دی گئی تھی۔
قطر نے اس ایونٹ کے لیے 8 اسٹیڈیمز تعمیر کیے ہیں اور ہر اسٹیڈیم میں ائرکنڈیشننگ سسٹم موجود ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا دورانیہ 28 دن ہو گا، مجموعی طور پر 64 میچز کھیلے جائیں گے، اور فاتح ٹیم کا فیصلہ 18 دسمبر کو ہو گا۔
خیال رہے کہ یہ 32 ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والا آخری ٹورنامنٹ بھی ہے، 2026 ء کے ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ دنیا میں میں کھیلوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اور اس قسم کے ایونٹس میں فاتحہ ٹیم کے ملک کو جو عزت اور شرف حاصل ہوتا ہے، وہ لاکھوں ڈالر خرچ کرنے سے بھی نہیں مل سکتا، قطر کا ملک مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے ایک ٹورنامنٹ کے لئے کتنی عظیم الشان تیاریاں کی ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ 2022 کے افتتاحی تقریب میں درج ذیل عالمی شخصیات نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں امیر قطر تمیم بن حماد نے خطاب میں تمام ٹیموں اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ افتتاحی تقریب میں سعودی وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گویتریس، مصر کے صدر عبدالفتح السیسی، فلسطین کے صدر محمود عباس اور فیفا کے صدر سمیت دیگر کئی عالمی شخصیات نے شریک ہوئیں


