آبپارہ اور پی ٹی آئی کی آبپاشی


2010 میں خان صاحب کو ملکی سیاست میں بھرپور لانچ کرنے کے منصوبے کا آغاز ہوا، گو کہ بیک ڈور پر کافی عرصہ سے اس پر کام ہو رہا تھا۔ اس حوالے سے پرویز الہی صاحب کا بیان قابل ذکر ہے کہ ”میں نے جنرل کیانی سے کہا کہ پاشا (اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی) کو روکیں، یہ ہمارے سارے بندے توڑ کر پی ٹی آئی میں بھیجے جا رہا ہے“ ۔

خان صاحب کی ملکی سطح پر بھرپور انٹری مینار پاکستان جلسہ 30 اکتوبر 2011 میں کروائی گئی۔ جس کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر کئی کئی گھنٹے میڈیا پر پی ٹی آئی کے لئے مختص کر دیے گئے۔

ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے زرداری صاحب کے دور میں خان صاحب کے مبینہ سیاسی کزن طاہر القادری صاحب ”سیاست نہیں، ریاست بچاؤ“ تحریک کا علم اٹھائے، کینیڈا سے چلے آئے۔ کئی مہینے انہوں نے تماشا لگائے رکھا۔ مینار پاکستان لاہور اور باغ جناح کراچی میں بہت بڑے بڑے سیاسی اجتماع کرنے کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا گیا۔ یاد رہے یہ وہ وقت تھا جس وقت پاکستان ایک طرف پاک ایران گیس پائپ لاین کے منصوبے سائن کر رہا تھا تو دوسری طرف روس و سینٹرل ایشیا کے ممالک کے ساتھ مختلف منصوبے پر گفت و شنید کر ریا تھا۔

بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری نظر آنے لگی، کہ پاکستان انڈیا کے مابین ہونے والے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف بھارت نوازی، میچ فکس کرنے جیسا پروپیگنڈا کیا گیا۔

2013 کے انتخابات میں، مسلم لیگ نون نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں نے ان کے ساتھ حکومت میں شمولیت اختیار کی۔

2008 سے 13 تک، سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی معاشی و خارجہ پالیسی کا رخ دھیمے دھیمے ریجنل ممالک کی جانب موڑنا شروع کر دیا۔ گیس پائپ لائن، تاپی منصوبہ، روس کے ساتھ تجارت کی آسانی کے منصوبے بن رہے تھے۔ 2013 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ نون اور اتحادیوں نے بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھا۔

2013 کے انتخابات میں شکست کے بعد ، پی ٹی آئی نے 4 حلقوں کو بنیاد بنا کر واویلا شروع کیا اور حکومت گرانے کے لیے تحریک شروع کردی۔ جس کو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ 2014 کے دھرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار، جس کے بارے میں پی ٹی آئی کے حامد خان سمیت کئی رہنما دھرنے کو ملکی تاریخ کا سیاہ باب گردانتے۔ اسٹبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کو مہرہ بنا کر ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی مکمل کوشش کی جس کو سیاسی جماعتوں نے اکٹھے ہو کر ناکام بنا دیا۔

اس دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ بھی ملتوی ہوا، جس میں انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اعلان کرنا تھا۔ جس کے لئے 2009 سے 14 تک دو حکومتوں نے بھرپور کام کیا تھا۔ جو کہ بعد میں 2015 کے وسط میں ہوا۔

کئی صحافی حضرات ٹی وی پر اور کئی نجی محفلوں میں اس بارے میں بات کرچکے ہیں کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر کئی کئی گھنٹے میڈیا دھرنے اور دیگر ایکٹیویٹز کو مسلسل دکھاتا رہا۔ بلکہ دھرنے سے قادری صاحب کے اٹھ کر جانے کے بعد تو میڈیا کو پابند کیا گیا کہ صرف سٹیج ہی دکھانی ہے۔ عوام کا کوئی وائڈ اینگل شاٹ نہیں لینا۔ اس بات کی تصدیق، والد صاحب مرحوم ابو بکر شیخ کے کئی صحافی دوستوں نے میرے سامنے بھی کی ہے اور میڈیا پر بھی موجود ہے۔

یاد رہے، یہ دور جنرل پاشا کے بعد بننے والے ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام کا تھا۔ جو اب تو کھل کر پی ٹی آئی کی حمایت میں آچکے ہیں۔ اس سے قبل جو لوگ ان معاملات کو قریب سے دیکھتے ان کا یہی کہنا تھا، کہ پی ٹی آئی کو لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بعد رضوان اختر ڈی جی آئی ایس آئی بنے۔

16 دسمبر 2014 کو پشاور اے پی ایس پر حملے کے بعد ملکی منظر نامے پر کافی تبدیلی رونما ہوئی۔ فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔

2015 میں چینی صدر کے دورے میں سی پیک کے اعلان کے بعد ملک بھر میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری میں خاصی اٹھان دیکھنے کو ملی۔

پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکل آیا تھا۔ روس کے ساتھ تجارت کے فروغ اور آسانی کے لئے کئی مختلف معاہدے ہوئے۔ قطر سے گیس (ایل پی جی) کے معاہدے ہوئے۔ سعودیہ نے بلا سود کئی ارب ڈالر پاکستان میں رکھوائے۔ بھارت کے ساتھ بھی معاملات سیدھے ہو رہے تھے، کہ ایک بار پھر کہیں سے ”لچ تل“ دیا گیا۔ نواز شریف اور کسی بھارتی بزنس مین کی میٹنگ کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف بھرپور کمپین چلائی گئی۔

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کو پروموٹ کرنے کے لئے پنڈی بوائز نے مختلف حربے استعمال کیے۔ کئی سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے، سیاستدانوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا تھا۔ الٹے سیدھے القاب، ماں بہن کی گالیاں، ایک معمول بن کر رہ گئے تھے۔

ملک میں سرمایہ کار کھل کر پیسہ لگا رہا تھا، ڈالر کا ریٹ سنبھلا ہوا تھا۔ خان صاحب کے چار حلقوں میں سے ایک پر الیکشن کروا دیا گیا تھا، جہاں پی ٹی آئی دوبارہ ہار گئی۔ اتنے میں پاناما پیپرز کا ڈرامہ رچا دیا گیا، پنڈی بوائز ایک بار پھر ایکٹو ہوئے، شریف خاندان کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے کسی چھوٹے سے رہنما کی پریس کانفرنس کو بھی میڈیا بھرپور کوریج دے رہا تھا، جب کہ اس کے مقابل کسی جماعت کے مرکزی قائد کو بھی اس طرح کوریج نہیں دی جا رہی تھی۔

اسی دوران ڈان اخبار میں سول ملٹری تنازع سے متعلق ایک خبر چھپی جس کو ڈان لیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خبر کے بعد سول ملٹری تعلقات خاصے تناؤ کا شکار ہو گئے۔ ابھی معاملات سنبھلے نہ تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل آ گیا۔ جس میں مسلم لیگ نون نے جنرل باجوہ کو آرمی چیف نامزد کر دیا۔ 2017 میں ڈی جی سی ٹی آئی ایس آئی میجر جنرل فیض حمید بنے۔

عمومی طور پر نئے آرمی چیف کے آنے کے بعد معاملات سنبھل جاتے ہیں یا پھر کچھ مہینے کے لئے بیک فٹ پر چلے جاتے ہیں۔ مگر اس بار ایسا نہ تھا، پاناما پر ہنگامہ مسلسل بڑھی جا رہا تھا کہ اتنے میں پاناما کیس پر سپریم کورٹ نے ہیئرنگ شروع کردی۔ کیس کو سپریم کورٹ لے کر جانے والی، اسٹبلشمنٹ کی روایتی حلیف جماعت اسلامی تھی۔ سپریم کورٹ نے پاناما کی تحقیقات کے لئے واجد ضیاء کی صدارت میں کمیشن بنایا۔ اس کمیشن میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف 80 سے زائد بار پیش ہوئے۔ جس کے بعد 27 جولائی 2017 میں نواز شریف کو نا اہل کر دیا۔

اس بابت، جنرل فیض کا کردار نہیں بھولنا چاہیے۔ جو راتوں کو چھپ چھپ کر مختلف ججوں کے پاس پہنچتے اور ان پر زبردستی من پسند فیصلے سنانے کے لئے دباؤ ڈالتے۔ جس کا اظہار جسٹس شوکت صدیقی نے بھی کیا ہے، کہ ”میرے پاس فیض حمید نے آ کر کہا کہ اگر آپ کے پاس نظر ثانی کی درخواست آتی ہے، تو آپ کیا کریں گے۔ جس پر میں نے جواب دیا کہ میرٹ پر کیس سنوں گا۔ جس پر وہ بولے کہ اس طرح تو آپ ہماری دو سال کی محنت ضائع کر دیں گے“ ۔ دوسری طرف جج ارشد ملک مرحوم کی ویڈیو بھی موجود ہے، کہ مجھ پر دباؤ ڈالا گیا۔

2017 کے آخر میں، جس وقت شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، حلف نامہ میں ایک چھوٹے سے لفظ کی ترمیم کو بنیاد بنا کر نان ایشو کو ایشو بنا دیا اور عوام میں مذہبی جنونیت ابھاری گئی۔ راتوں رات ایک نئی جماعت منظر عام پر آئی اور اسلام آباد میں جاکر بیٹھ گئی۔ مذاکرات کے کئی دور ہوئے، مگر ناکام رہے۔ جس وقت حالات کشیدگی کی طرف بڑھے تو حکومت نے فوج طلب کی تو حال ہی میں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل باجوہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ ”ہم اپنے لوگوں پر گولیاں کیسے چلا سکتے ہیں“ ۔

22 روز تک جاری اس دھرنے کے دوران سوشل میڈیا پر کئی بڑے بڑے پیجز سے منکر ختم نبوت، غدار، جیسے کئی ٹرینڈز چلا کر مسلم لیگ نون اور جے یو آئی کے خلاف زہر اگلا گیا۔ اس دھرنے کے نتیجے میں وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا۔ دھرنے کے اختتام پر ایک ویڈیو میں فوجی افسر کو پیسے بانٹتے دیکھا جاسکتا تھا۔ اس دھرنے سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں ہیئرنگ ہوئی، جس کے فیصلہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے واضح طور پر دھرنے کی سرپرستی کرنے پر ، فیض حمید صاحب کا نام لیا گیا تھا۔

یاد رہے، اکتوبر 2018 اور اپریل 2021 میں ریاستی اداروں کی جانب سے اسی جماعت کے کارکنوں پر شدید تشدد کیا گیا۔

2018 الیکشنز سے قبل روایتی لوٹوں (الیکٹ ابیلز) کو پی ٹی آئی کی راہ دکھائی گئی۔ جنوبی پنجاب محاذ کے نام سے ایلکٹ ابیلز کو اکٹھا کر کے پی ٹی آئی میں بھیجا گیا۔ مسلم لیگ کے کئی گرمجوش رہنماؤں کو نا اہل کیا گیا۔ انتخابات سے چند ہفتوں قبل میاں نواز شریف، مریم اور صفدر صاحب کو 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

انتخابات میں آر ٹی ایس کا استعمال اس لیے کیا گیا تھا، کہ ووٹنگ کا دورانیہ ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی حتمی نتائج آ جائیں گے۔ مگر گنتی کے دوران آر ٹی ایس کو بیٹھا دیا گیا۔ پہلا حتمی نتیجہ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے رات 3 : 30 پر سنایا۔ اس سے قبل کئی حلقوں کے نتائج روک لیے گئے جب کئی گھنٹے بعد نتائج آئے تو واضح جیتے نظر آتے امیدوار ہار چکے تھے، جن میں خواجہ سعد رفیق، مولانا فضل الرحمن کے دونوں حلقے، اکرم درانی، لاہور میں مہر اشفاق، اور اس کے علاوہ کراچی سمیت دیگر شہروں کے کئی حلقے شامل تھے۔ نتائج رکنے تک پی ٹی آئی کراچی میں بری طرح ہار رہی تھی کہ رات گئے، پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس نقوی اور علی زیدی نے دھاندلی کا الزام لگا دیا۔ صبح نتائج آئے تو پی ٹی آئی 14 سیٹوں پر کامیاب ہو چکی تھی جن پر رات نتائج روکنے سے قبل بری طرح ہار رہی تھی۔

انتخابات کے بعد آرمی چیف جنرل باجوہ کا بیان آتا ہے، کہ دشمن کو ووٹ کے ذریعے شکست دے دی۔ دوسری طرف اس وقت کے ترجمان فوج نے اپنے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ سے طنز کے لئے قرآنی آیت کا استعمال کیا۔ اس کے بعد تو اندھیر نگری چوپٹ راج سا معاملہ تھا۔ عمران خان کے ہر مخالف کو کسی نہ کسی طرح الجھائے رکھا گیا۔ کبھی نیب کے ذریعے کئی کئی ماہ تفتیش کے نام پر جیلوں میں ڈالے رکھا۔ تو کبھی محکمہ انسداد منشیات کی مدد لی گئی۔ مسلسل میڈیا ٹرائل کیا گیا۔

سب سے بڑے صوبے پنجاب پر ایک نااہل شخص کو وزیر اعلی بنائے رکھا۔ حکومتی حضرات صبح شام ایک پیج کا ورد کرتے نہیں تھکتے تھے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما تو آرمی چیف کو قوم کا باپ تک کہہ گئے۔ اپوزیشن حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلاتی تو بڑے صاحب خود خفیہ مذاکرات کرنے آ جاتے۔ نومبر 2019 میں ریٹائرڈ ہونے والے آرمی چیف کو تین ماہ قبل اگست میں ہی مزید تین سال کی توسیع دے دی گئی۔ بجٹ پاس کروانا ہو یا کوئی بل، سینٹ میں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنانا ہو کہ عدم اعتماد سے بچانا ہو، ہر جگہ ہمارا یہ ادارہ بھرپور مدد کرتا رہا۔

اس سب کے باوجود پی ٹی آئی پرفارم کرنے میں ناکام رہی۔ ملک ڈیفالٹ کے دھانے پہنچ گیا۔ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گروتھ جی ڈی پی جو 2018 میں 5.6 تھا، 2019 میں صفر کے قریب آ گیا۔ ڈالر 107 سے 188 پر پہنچ گیا۔ تین سال تک سی پیک کو رول بیک کیے رکھا، جس کا اظہار حال ہی میں میڈیا کے سامنے چینی سرمایہ کاروں نے بھی کیا، سی پیک کے جو منصوبے اس دوران تکمیل کو پہنچانے تھے، وہ آج بھی وہیں ہیں جہاں اس سے قبل تھے۔ ملکی تاریخ میں لئے جانے والے قرضوں جتنے قرضے صرف 3 سالوں میں لئے گئے۔

اسی دوران اپوزیشن نے پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم بنایا، حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور تحریک چلائی۔ تحریک کا مقصد فوج کو آئینی کردار تک محدود کرنا، اور حکومت سے اس کے سہولت کاروں کی بیساکھیوں کو ہٹانا تھا۔ پی ڈی ایم کی سٹیج سے فوج سے اختیارات و حدود سے تجاوز کرنے پر عوام کے سامنے اعتراف کرنے کا بھی کہا گیا۔ جنرل باجوہ جاتے جاتے اپنے گناہوں کو غلطیاں کہہ کر اعتراف جرم کر گئے۔

ہمارے کچھ دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ادارے میں کوئی خاص لابی تھی، جو عمران کو سپورٹ کر رہی تھی۔ مگر کیا ادارے کی چین آف کمانڈ اتنی کمزور ہے کہ جس کا جو دل چاہے کرتا رہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ ہاں کچھ لوگوں کی ہمدردیاں ہو سکتی ہیں کسی معاملے میں اثرانداز ہو جاتے ہوں گے، مگر اس قدر کہ سیاہ و سفید ان کی مرضی کا ہو، اتنا آسان نہیں۔ اس لئے باجوہ صاحب ہوں یا فیض حمید، یہ فیصلے ادارے کے تھے۔

رہی بات کہ اس ضمن میں جو نقصان ملک کا ، ملکی معیشت کا ہو گیا ہے۔ اس کی تلافی کون کرے گا۔ فی الحال میری کمزور نظر میں تو اس کی تلافی ممکن نہیں۔ اب تلافی یہی ہے کہ فوج اپنے آپ کو آئینی کردار میں محدود کر رہی ہے، اپنے کیے گئے گناہوں کا اظہار کر رہی ہے۔

کوئی وحی تو اب اترنی نہیں، زبان ہی ہے نا جس پر اعتبار کرنا ہو گا۔

معروضی حالات سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ادارہ پیچھے ہٹ چکا ہے۔ اب سیاست سیاستدان ہی کریں گے۔ یہ ادارہ ہر ملک کے لئے ناگزیر ہے۔ کہتے ہیں، کہ فوج ملک کی بائنڈنگ فورس ہوا کرتی ہے، اگر اپنی فوج نہ ہو تو کسی اور کی ہوتی ہے۔

جہاں تک بات ہے، خان صاحب کی، تو خان صاحب نے سیاست میں بیساکھیوں کے بغیر چلنے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی۔ اس لئے وہ حواس باختگی میں وہ آج بھی کسی بیساکھی کی تلاش میں ہی ہیں، جو ان کی باتوں سے واضح ہے۔ ان کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ہمارے ہاں ایک محاورہ مشہور ہے، کہ ”دیا بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے“ ۔ مجھے تو یہی لگتا۔ باقی رب جانے۔

Facebook Comments HS