پاکستان میں خواجہ سراؤں کے ساتھ بھیانک اور غیر انسانی سلوک


اس وقت سرمایہ درانہ نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ کوئی ایک بنیادی مسئلہ جیسے، ٹرانس جینڈر یا پھر خواجہ سرا کو حل کرسکیں۔ کیونکہ وہ اپنی حکومت کو بچانے کے لئے ایک لڑائی میں مصروف ہیں ان کے لئے اپنی حکومت بچانے کی سوا تمام مسائل ثانوی مسائل ہیں۔ جب تک یہ نظام موجود ہے یہ محنت کش مظلوم اور ایسے لوگوں کا خون پیتا رہے گا۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی یہاں پر ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جا سکتا ہے جس میں ٹرانسجینڈر اور خواجہ سرا جیسے مسائل کا حل ہو اور ان کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی اور غیر قانونی استحصال کا خاتمہ ہو سکے اور سماج کی تمام پرتوں کو انسان کا درجہ ملے اور وہ ایک محفوظ اور خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔ جب کسی نظام میں معاشی آسودگی ختم ہو جاتی ہے اور معاشی بحران گہرا ہوتا جاتا ہے تو معاشرے میں جرائم کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔

یوں تو مملکت خداداد میں بچے، خواتین، مظلوم قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ، محنت کش اور یہاں تک کہ جانور بھی محفوظ نہیں ہیں، لیکن خواجہ سراؤں کے ساتھ جنسی زیادتی سے لے کر کئی قسم کے دل دہلا دینے والے واقعات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔ جن میں ریپ، گینگ ریپ، اغواء قتل، اور جسمانی تشدد جیسے دل دہلا دینے والے واقعات، جنسی تشدد، جسم کے جنسی حصون پر سگریٹ لگانے کے واقعات شامل ہیں۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے 2009 ء میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ ٹرانس جینڈر افراد کو جنہیں مقامی طور پر ہیجڑا بھی کہا جاتا ہے، وہ قومی شناختی کارڈ میں اپنی صنف ’تیسری جنس‘ کے طور پر رجسٹر کرا سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بھی ٹرانس جینڈر افراد اس اسلامی ملک میں امتیازی سلوک کا شکار ہوئے اور تعلیم اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہے۔ پاکستان میں 2017 ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ملک میں ٹرانس جینڈر افراد کی تعداد تقریباً 10 ہزار کے قریب تھی تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کے مطابق 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں ٹرانس جینڈر افراد کی اصل تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔

ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 ء پاکستانی شہریوں کے اس حق کو یقینی بناتا ہے کہ وہ خود کو مرد، عورت یا کسی ایسے فرد کے طور پر شناخت اختیار کر سکتے ہیں جس میں دونوں اصناف موجود ہوں۔ ساتھ ہی اس شناخت کو سرکاری طور پر رجسٹر بھی کرا سکتے ہیں جن میں پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور تعلیمی اسناد سمیت دیگر سرکاری دستاویزات شامل ہیں۔

تا حال ہمیں ’ٹرانس جینڈر‘ اور ’خواجہ سرا‘ میں فرق ہی معلوم نہیں ہو سکا۔ ’ٹرانس جینڈرز‘ خواجہ سرا نہیں ہوتے۔ ’خواجہ سرا‘ قدرتی اور پیدائشی طور پر بعض پیچیدگیوں کے ساتھ جنم لیتے ہیں جنہیں ہم مخنث کہتے ہیں اور انگریزی میں انہیں ’انٹر سیکس‘ کہا جاتا ہے۔ ٹرانس جینڈرز ’پیدائشی طور پر مخنث پیدا نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک مرد یا خاتون کے طور پر پیدا ہوتے ہیں اور اپنی مرضی سے بعد ازاں اپنی جنس تبدیل کروا لیتے ہیں۔

ایسے افراد چند سال بعد دوسری بار بھی اپنی جنس تبدیل کروا سکتے ہیں۔ ‘ ٹرانس جینڈر ’کو‘ خواجہ سرا ’ہیجڑے سے ملانا غلط ہے، جنس کی تبدیلی آپریشن کے ذریعے‘ ٹرانس جینڈر ’کہلاتی ہے اور انہیں‘ خواجہ سرا ’سے ملانا غلط ہے، ایسے عمل سے وہ لوگ جو مخنث ہیں ان کی حقوق تلفی ہوگی۔ دونوں الگ الگ نوعیت کے افراد ہیں، انہیں ایک ہی گروہ میں شمار کرنا غلط ہو گا۔

خواجہ سرا، جنہیں تیسری جنس بھی کہا جاتا ہے، ایسے لوگ ہیں جن کو معاشرے میں اور خصوصاً پاکستانی معاشرے میں کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جاتا۔ اگر کسی کے گھر میں خواجہ سرا پیدا ہو جائے تو گھر والے سماجی بدنامی کے خوف سے یا تو اسے مار دیتے ہیں یا اسے گھر سے نکال دیتے ہیں۔ جب خواجہ سراؤں کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو ان کے سامنے صرف تاریک دنیا ہوتی ہے، اس طرح وہ دوسرے خواجہ سراؤں سے مل جاتے ہیں جہاں پر وہ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے ناچ گانا شروع کر دیتے ہیں اور شادی بیاہ یا دوسری تقریبات میں جا کر ناچتے ہیں یا پھر وہ سیکس ورکر بن جاتے ہیں۔

چونکہ ریاست کی طرف سے خواجہ سراؤں کے لئے تعلیم، رہن سہن اور روزگار کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا لہٰذا خواجہ سرا ناچنے، بھیک مانگنے اور اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اکثریت نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 39.2 فیصد خواجہ سرا جسم بیچنے پر مجبور ہیں، 37.6 فیصد نشے کے عادی ہیں، سماجی امتیاز کی وجہ سے 38.6 فیصد خواجہ سرا خودکشی کے بارے میں سوچتے ہیں جبکہ 18.5 فیصد خود کشی کی کوشش کرتے ہیں۔

ٹرانس جینڈر پر ملک بھر میں حملے کیے جاتے ہیں جس میں سینکڑوں ٹرانس جینڈر اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران صرف خیبر پختونخوا صوبے میں 100 سے زیادہ ٹرانس جینڈر قتل ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں ٹرانس جینڈر افراد کی درست مردم شماری بہت ضروری ہے جو وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹرانس جینڈر کے حقوق کے اس معاملے کو مذہب سے نہ جوڑا جائے۔ جنسی تبدیلی کے آپریشن کے بارے میں تمام مسلم علما کا ایک ہی موقف ہے۔

مصر کا الازہر ہو یا سعودی عرب کا دارالافتا، پاکستان اور ہند کے تمام مکاتب فکر کے علما کا اس معاملے میں متفقہ فیصلہ ہے۔ ملائشیا، مراکش، انڈونیشیا اور قطر کے علما، غرض سب اس معاملے میں متفق ہیں اور اس قسم کے آپریشن کی اجازت کے خلاف ہیں کہ یہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی ہے اور جبلت سے انحراف بھی شامل ہے۔ آپریشن صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب حالت مشتبہ ہو جیسا کہ ایک مرد حقیقت میں عورت ہو، لیکن اس کے اعضا مردوں کی طرح ہوں تو ایسی صورت میں اپنی قدرتی اور اصل حالت پر واپس آنے کے لیے آپریشن کروانے میں کوئی حرج نہیں۔

اگر اعضاء معمول کے مطابق ہیں، جنسی شناخت میں کوئی شبہ نہیں ہے تو محض خواہش کی تکمیل کے لیے جنس کی تبدیلی کا آپریشن کروانا جائز نہیں ہے۔ اللہ کا دین تو ظاہری مشابہت بھی گوارا نہیں کرتا، کجا یہ کہ فطرت میں تبدیلی کی خواہش ہو اور پھر اسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہو۔ یہ نہ صرف انسانی مرتبہ و مقام اور شرف کی توہین ہے بلکہ فطرت کے خلاف بغاوت بھی ہے۔ انسانی حقوق کی آڑ میں اسلام میں ایسے شرمناک افعال کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ نیکی، رحم، عدل اور احسان کے معانی میں تمام بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے مگر اپنی خواہشات کی تابع داری کو انسانی حقوق کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ ’خواہش پرستی‘ کی اسلام میں سخت ممانعت کی گئی ہے مگر کوئی حل پیش نہیں کیا گیا۔

سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ 2018 ءکے بعد سے تین برسوں میں نادرا کو جنس تبدیلی کی تقریباً 29 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جب کہ 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی۔ خواجہ سراؤں کی مجموعی طور پر 30 درخواستیں موصول ہوئیں جن 21 نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ 2018 ءکے بعد سے تین برسوں میں نادرا کو جنس تبدیلی کی قریباً 29 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

ان میں سے 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی جب کہ 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی۔ خواجہ سراؤں کی مجموعی طور پر 30 درخواستیں موصول ہوئیں جن 21 نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی۔ یاد رہے کہ 25 ستمبر 2012 کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ قانون بنایا گیا تھا، اس قانون میں کہا گیا تھا کہ خواجہ سراؤں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن کی آئین ضمانت دیتا ہے، خواجہ سرا معاشرے کے دیگر افراد کی طرح حسب معمول زندگی گزار سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ٹرانس جینڈر افراد اس اسلامی مملکت خداداد میں امتیازی سلوک کا نشانہ بنتے ہیں اور تعلیم اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Facebook Comments HS