آفات صرف تباہی نہیں لاتیں، فائدہ بھی دیتی ہیں!


ہم پاکستانی اک با صبر قوم ہیں، متواتر سانحوں اور آفات سے گزرتے ہیں، تنگ ہوتے ہیں، چڑچڑے بن جاتے ہیں، لیکن مایوس نہیں ہوتے۔ حاکموں کی عیاشیوں پر ہلکا پھلکا احتجاج کرتے ہیں، وہ بھی سوشل میڈیا پر، باقی پورا دیہاتی پاکستان اور کسی حد تک شہری پاکستان صبر میں رہتا ہے اور اپنے رب سے راضی رہتا ہے! اب تو حکام، مالکان لوریاں بھی نہیں سناتے، سبز باغ بھی نہیں دکھاتے، حتیٰ کہ کوئی امید بھی نہیں بندھاتے!

امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہوجاتی!
وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا!

جیسا رومانوی شعر شاید اب عوام الناس اپنے حاکموں کو خواب میں کہتے ہوں گے ۔ پھر ”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے“ کے الفاظ کہہ کر جنرل ضیا نے پاکستانی قوم کا کلیجا چھلنی کیا تھا۔ اور اس کی، کی ہوئی بیوفائی اب تک پاکستان کو راہ راست پر آنے نہیں دیتی!

سندھی میں اک کہاوت ہے ”جو چلھ تی، سو دل تی“ یعنی کہ جو کھانا پکانے کے وقت چولہے کے نزدیک بیٹھا ہوا ہے، بس دل کو اس کی ہی فکر پڑی ہوئی ہے۔ اس لیے ہی تو سیلاب کے ستائے لٹے لاکھوں خاندان حاکموں کی نظر سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ اس صدی کی سب سے بڑی تباہی کے بارے میں کہیں دور سے بھولی بسری آوازیں آتی ہیں۔ سردیوں میں ٹھٹھرتے، بے سرو سامان لوگ بس سب کچھ اپنی قسمت کے حوالے سے دیکھ اور سوچ رہے ہیں۔ سندھ کے کئی علاقوں میں اب بھی پانی کھڑا ہوا ہے ؛ یہ نہیں کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی؛ بہت کچھ کر رہی ہے۔

لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی لیکن وقت بہت لگ گیا ہے۔ فیصلہ سازی سست ہے یا تو ادراک نہیں یا ہمت نہیں ؛ یا پھر مصلحتیں اور قباحتیں ہیں! حکومت کی نیت پر شک کرنے کے بجائے صرف اتنا عرض کرنا ہے کی لوگوں سے جڑ کر لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں تو بہتر ہے۔ افسر شاہی کے ’لال پٹی‘ میں پھنسے فائل اور پراجیکٹ، سیاستدانوں کی مجبوریوں اور خواہشات میں گھرے فیصلے جلد ہونے چاہئیں! خریف کا فصل تباہ ہونے کے بعد ، اپنے گھروں کو گرتا دیکھنے یا کمزور پانے کے بعد ، اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار اور روزی روٹی کے ذریعہ کو کئی مہینوں تک کھونے کے بعد ، ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا! ووٹ دے کر، پارٹیوں کو حکومت میں لانے کی لوگوں کو اتنی بڑی سزا نہ دیں۔ جو کچھ آپ لوگوں کی تعمیر نو کے لیے کر رہے ہیں اس کی تشہیر کریں، بتائیں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے تاکہ ڈھارس بندھی رہے اور لوگ نا امیدی کی گہری کھائی میں گر نہ جائیں!

ہم دنیا کو بتا چکے، اپنے آپ کو مطمئن کر چکے کہ پاکستان وہ ملک ہے جو گرین ہاؤس گیسز میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے۔ لیکن دنیا کے ان پانچ یا چھ ممالک میں سے ہے جہاں ہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی تباہی کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔ 2022 کے سیلاب کو بھی ہم نے اس کھاتے میں ڈالا ہوا ہے۔ اور کس حد تک صحیح ڈالا ہوا ہے۔ لیکن گر یہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نہیں ہوا ہوتا تب بھی کسی چھوٹی آفت کے نتیجے میں ہمارے ہاں بڑی تباہی آجاتی۔ اور پچھلے 30 سالہ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے۔

COP 27 میں بھی ہم یہ موقف رکھنے میں کامیاب رہے! لیکن عجب بات ہے کہ اس کے بارے میں فیصلہ کرنے والے اور جن کے پاس ماحول کو بہتر کرنے کے وسائل ہیں وہ سب سرمایہ کاری نظام میں ایمان رکھتے ہیں۔ جارگن رینڈر نے 1972 میں کہہ دیا تھا ”صرف اقتصادی ترقی کی شرح پر توجہ پوری دنیا کے لیے بھاری پڑے گی۔ پھر 2015 موسمیاتی تبدیلی کی ہولناک اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ“ دیکھیں، سرمایہ داری نظام کے قواعد میں ہی مسئلہ ہے ”اور یہ کہ“ یہ نفع کا سودا ہے کہ دنیا کو جہنم رسید کیا جائے!

”سرمایہ داری نظام کی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے اور چھوٹے مدت کے فائدوں کو ہی دیکھ سکتا ہے۔ یہ بڑی مدت میں حل ہونے والے مسائل ہیں۔ ان کو حل نہیں کیا جائے گا باوجود اس کے کہ ان حل کیا جاسکتا تھا اور کیا جا سکتا ہے۔ یہ جو منتخب کرنے والی عوام ہے وہ مسلسل بڑھتی ہوئی تکلیف میں مبتلا رہے گی!“ دنیا میں اچھائی، برابری کے لیے کام کرنے میں کوئی نفع نہیں ہے ؛ اس میں کوئی مارجن نہیں اور یہ مارکیٹ سسٹم اس بات کی گارنٹی دیتا ہے کہ دنیا غیر منصفانہ رہے گی اور انعام و اکرام صرف لالچ کے حصے میں آئیں گے!

۔ سندھی میں اک غیر مہذب کہاوت ہے جس کو میں ہندی کے اک لفظ میں لپیٹ کر آپ کو عرض کرتا ہوں ”بلاتکار بھی جہان خان کرے اور فیصلہ بھی جہان خان!“ وہ سرمایہ داری نظام میں گھرے ممالک جنہوں نے پوری دنیا کو تقریباً موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا ہے اب دنیا کا اور ہمارا مداوا بھی وہی کریں گے۔ اگر اس روش کو بین الاقوامی لیول سے قومی اور پھر صوبائی لیول پر لے آئیں تو کیا کچھ ایسا تو نہیں کہ جن کے کچھ کرنے /یا نہ کرنے کی وجہ سے 2022 سیلاب کے اثرات اتنے بھیانک ہوئے، اب بھی وہی فیصلہ کریں گے؟! اللہ نہ کرے کہ ان کا فیصلہ جہان خان جیسا ہو!

بس اس پس منظر میں آپ سے نیومی کلائن کی باتیں بتا دوں جو انہوں نے 2000 سے اپنے مختلف کتابوں کے ذریعے ہم تک پہنچائی ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے سب سے پہلے ”آفات کا سرمایہ داری نظام (ڈیزاسٹر کیپیٹلزم)“ کا محاورہ استعمال کیا اور ہمیں یہ بتایا کہ ”آفات صرف تباہی اور بربادی نہیں لاتیں بلکہ آفات کے نتیجے میں کئی کمپنیوں، لوگوں اور اداروں کو مواقع فراہم ہوتے ہیں کہ وہ آفات کو اپنے فائدے اور نفع کے لیے استعمال کریں!“

ہم نے ہر آفت کے آنے کے بعد دیکھا ہے اور دنیا میں کی گئی تحقیق اس پر مہر لگاتی ہے کہ لوگ، طرز حکمرانی، جمہوریت اور روزی روٹی کے ذرائع کمزور پڑ جاتے ہیں۔ بس اس موقع کے تاک میں کچھ لوگ اور ادارے ہوتے ہیں جو ایسے حالات میں ناجائز اور بہت بڑے فائدے لیتے ہیں۔ اک بات اب تک بہت سے لوگوں کو بشمول مجھے سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ہمیں پتا ہے کہ مثلاً سیلاب کے محرکات کیا ہیں، ان کی تباہی کی اسباب کیا ہیں، پھر یہ کیونکر ہے کہ آفات کے نتیجے میں نقصانات ہر دفعہ پچھلے دفعہ سے زیادہ ہو رہے ہیں۔

ہم وہ غلطیاں کیوں دہرا رہے ہیں! ہم آفات کے خطرات کو کم کرنے کے عمل۔ پالیسی، قانون اور ادارتی طاقت سے لے کر پراجیکٹ تک کم سرمایہ لگاتے ہیں۔ پھر لوگوں اور نظام کی آفات برداشت کرنے کی صلاحیت کی جگہ خیراتی سرشتہ قائم کر دیتے ہیں۔ ان حالات میں سیاست دانوں /حاکموں کے لیے دو راستے رہتے ہیں : پرانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے کہ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سب کچھ ہوا ہے، اور دوسرا یہ کہ لوگوں کی پیسے وغیرہ کی مدد کے ذریعے اپنا کیا جائے۔

سندھ اور خیبرپختونخوا کے سلسلے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے، کیونکہ ان دونوں صوبوں میں حکومت تو اک ہی پارٹی کی نو سال یا اس زیادہ وقت سے چل رہی ہے۔ بس تعلیم سے دور کیے گئے لوگ، حالیہ تباہی کے نتیجے میں جب حکومت کو اپنی مدد کرتے دیکھیں گے تو ایک مرتبہ پھر حکومت کرنے والی پارٹی کے اسیر ہوجائیں گے!

ہم جانتے ہیں کہ آفات کے نتیجے میں بہت سے قوانین کو یا تو نہیں دیکھا جاتا یا تو قاعدوں میں ہی گنجائش ہوتی ہے کہ ”ٹھیکیداری کے نظام“ میں ہنگامی حالات میں کام کرنے سے بہت سی شرائط نرم کردی جائیں جس کے نتیجے میں کافی ’اپنوں‘ کو نوازا جاسکتا ہے۔ اور پوری دنیا میں ایسے کئی مثال موجود ہیں! خاص کر کے زلزلہ کے حالت میں کیے گئے کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح آفت کے بعد کے کاموں میں بہت کچھ چند افراد اور کمپنیوں کے حوالے ہو جاتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نیت کی اچھائی بھی اتنی کام نہیں آ سکتی کیونکہ آفات کے بعد والی تعمیر نو کے لیے جو اہلیت، ادارہ جاتی صلاحیت اور طرز حکمرانی چاہیے، اس میں ہم پوری دنیا میں سب سے پیچھے ہیں اور نا اہلی کا دور دورہ ہے۔ لیکن ہم نا امید نہیں۔ اگر تھوڑا سا سنبھل کر، وقت سر فیصلہ سازی کر کے میرٹ پر لوگوں / پراجیکٹ ٹیموں کو لگا کر اور ٹھیکیداری نظام کو شفاف بنا کر بہت کچھ بہتر کر سکتے ہیں!

2010 کے سیلاب کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ ان سے باہر نکلنے کے لیے پوری اک دہائی درکار تھی۔ لیکن اگلی دہائی میں پھر لوگوں کو اس سے بھی بڑی تباہی نے گھیر لیا! اور اب شاید آفات میں گھرے رہنا ان کی زندگی گزارنے کا طریقہ ہو گیا ہے۔ آفات نے کسی پرانی بیماری کی طرح لوگوں کو انفرادی سماجی اور سیاسی طور پر گھیرا ہوا ہے۔

بیماری کی وجہ سے شاید وہ ہمیں بستر مرگ پر نظر نہ آئیں لیکن بے جان اور بے حال ضرور نظر آئیں گے۔ وہ زندگی سے بے خبر لا دعوی سے ہو گئے ہیں۔ آفات کے سرمایہ داری نظام کے یہ ہی تو اشارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہر آنے والی آفت کے بعد مخصوص طبقہ کو فائدہ ہوتا ہے لیکن آفت زدہ کی زندگی کبھی بھی آفت سے باہر نہیں نکلتی۔ مہذب دنیا میں ان باتوں اور اثرات پر تحقیق ہوتی ہے، بحث مباحثے ہوتے ہیں ان کے حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے ایسی کوششیں ہمارے یہاں بھی ہونی چاہیے۔

دنیا کی ترقی کی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم طرز حکمرانی، صحت، تعلیم، برابری، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے ہیں۔ ہمیں بہت کچھ بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہم بہتر کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں پائے جانے والے عمومی ادارتی نا اہلی کے اسباب کچھ بھی ہوں لیکن وہ ترقی اور آفات کے بعد کی تعمیر نو میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ نا اہلی کے نتیجے میں سمجھ بوجھ، عقل، منصوبہ بندی، ادارتی حکمت اور بروقت فیصلہ سازی کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتائج پوری قوم کو جھیلنے پڑتے ہیں۔

حکومت سندھ نے بہت انتھک محنت کر کے ہر شعبے کی تعمیر نو اور غریب متاثرین سیلاب کے لئے 400 ارب سے بھی زیادہ کے پروجیکٹ عالمی بینک سے منظور کروائے ہیں۔ اگر ان کا استعمال اچھی طرح سے ہو گیا تو سندھ کی غریب عوام کی کی درد کم ہو جائیں گے۔ اس کے لئے شفافیت اور حکومت کے اداروں کے پروجیکٹ کو چلانے کی صلاحیت میں جو کمزوریاں ہیں ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس پر اگر خاص توجہ دی گئی تو سندھ کے لیے ایک نیا سورج طلوع ہو سکتا ہے۔ خدا نہ کرے، اس کے برعکس ہوا تو نیومی کلائن کے بقول ”آفات صرف تباہی نہیں لاتیں۔ وہ کچھ کمپنیوں لوگوں اور اداروں کے لیے بے پناہ فوائد بھی دلاتی ہیں۔ جن کے لیے کچھ کرنا ہوتا ہے وہ لوگ، علاقے اور شعبے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں!“

2023 الیکشن کا سال ہے اس کے لیے یہ سیاسی ساکھ بہتر کرنے کا ایک سنہری موقع ہے جو کوئی بھی عوام پر بھروسا کرنے والی پارٹی ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ امید ہے کہ سندھ حکومت بھی بہت اعتماد اور مضبوطی سے اپنے صوبے کے لوگوں کے درد کا مداوا کرے گی۔

· اس مضمون کی تیاری میں Oxford Research Encyclopedia of Natural Hazard Science ’s article ”Corruption and the Goverance of Diaster Risk“ ، Books: The Sock Doctrine۔ The Rise of Disaster Capitalism by Naomi Klein

· Disaster Capitalism۔ Making a killing out of Catastrophe by Antony Loewenstein اور کچھ مضامین سے استفادہ کیا گیا۔

Facebook Comments HS