رشید سرابھا ایک متحرک، نڈر اور سچے انقلابی تھے!


ہماری دھرتی نے ایسے ایسے سپوت پیدا کیے ، جو اپنی ساری زندگی اپنے وطن اور اس کی مٹی سے محبت اور اس دھرتی کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے، انہیں سیاسی شعور دینے اور انہیں ملکی سیاسی دھارے میں لا کر انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کرتے رہے۔ جو سماجی انصاف پر مبنی خوشحال سماج کی بنیاد رکھنے کے لیے کوشاں رہے، وہ بھی ایک ایسی سماج، جس میں بالادست طبقات نہیں بلکہ خلق خدا راج کرے۔

جہاں کی عوام امن، محبت اور آزادی کے نغمے گائیں اور ہر کسی کو زندگی میں آگے بڑھنے کے برابر مواقع میسر ہوں۔ ایسے ہی ایک انتھک، بے باک، نڈر اور روشنی کا مینارہ کامریڈ عبدالرشید سرابھا پیر 28 نومبر کو برطانیہ کے شہر نیوکاسل میں اپنی بیماری کے دن گزارتے ہوئے ہم سے جدا ہو گئے۔ انہیں برطانیہ اور پاکستان میں ایک بزرگ سوشلسٹ راہنما کا درجہ حاصل تھا، اور دونوں ممالک کے ترقی پسند حلقوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی برطانیہ کے سرگرم رکن تھے۔

کامریڈ عبدالرشید سرابھا کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ایک گاؤں سرابھا کے رہنے والے تھے۔ عجب اتفاق تھا کہ ہندوستان سے نقل مکانی سے قبل ان کے گاؤں کا نام بھی سرابھا ہی تھا، جو لدھیانہ کے قریب واقع ہے۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں سے برطانوی سامراج کے خلاف تحریک آزادی کے ہیرو اور شہید بھگت سنگھ کے ساتھی کرتار سنگھ سرابھا کا تعلق تھا۔ اس گاؤں کی ایک پتی کے نمبر دار عبدالرشید سرابھا کے دادا کرم الہی تھے، تو دوسری پنی جو سکھ آبادی پر مشتمل تھی، کے نمبردار کرتار سنگھ سرابھا کے دادا سردار بدن سنگھ گریوال تھے۔

کرتار سنگھ سرابھا تحریک آزادی کے سب سے کم عمر راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے 15 برس کی عمر میں تحریک آزادی اور انقلابی تحریکوں میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ متحدہ ہندوستان کی انقلابی جماعت گدر پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے جلد ہی انگریز سامراج کی فوج میں بغاوتوں کے ماسٹر مائنڈ بن گئے تھے۔ پہلے انہیں ملک بدر کر دیا گیا، لیکن چند ہی ماہ میں وہ واپس آ کر سرگودھا چھاؤنی میں سپاہیوں کو بغاوت پر اکساتے ہوئے پکڑے گئے اور انہیں 16 نومبر 1915 ء کو سزاء موت دے دی گئی، جب ان کی عمر صرف 19 برس تھی۔

عبدالرشید سرابھا کے والد عبدالغفور آرامی میں ملازم تھے، جو دوسری عالمی جنگ میں جاپانی آرمی کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے تھے۔ بعد ازاں رہا ہو کر واپس ہندوستان لوٹ آئے۔ رشید سرابھا کی پیدائش یکم مئی 1934 ء کو روکڑی چھاؤنی میں ہوئی، جہاں ان کے والد کی آرمی میں تعیناتی تھی۔ اس روز متحدہ ہندوستان کے مزدور محنت کشوں کا علمی دن منا رہے تھے۔ رشید سرابھا کا خاندان برصغیر کے بٹوارے سے قبل ہی بار کے زمانے میں نقل مکانی کر کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب آباد ہو گیا تھا۔

انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا تو تلاش روزگار کے لیے کراچی چلے گئے۔ اپنے علاقے میں آئے روز کسانوں کے جلسے جلوسوں سے تو وہ سکول کے زمانے سے ہی متاثر تھے، اس لیے ایک روز کراچی کی ایک ادبی محفل میں انہیں حبیب جالب اور فیض احمد فیض کو سننے اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو انہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسان کمیٹی کی سرگرمیاں کا ذکر کر دیا اور وہ ادبی محفل رشید سرابھا کی ترقی پسند سیاست سے وابستگی کا نقطۂ آغاز بن گئی۔ ٹوبہ واپس گئے تو پاکستان کسان کمیٹی کے ساتھ باقاعدہ منسلک ہو گئے۔

بعد ازاں 1962 ء میں رشید سرابھا برطانیہ تشریف لے آئے تو ان کا دل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دیہاتوں میں ہی بھٹکتا رہا۔ وہ ہر سال چند ہفتوں کے لیے پاکستان جاتے اور کسان تحریک میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ 1967 ء میں انہیں برطانوی شہریت مل گئی لیکن اگلے چند برس تک پاکستان تواتر سے جاتے رہے۔ بعد ازاں 23 مارچ 1970 ء کی تاریخی کسان کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا تو وہ تین ماہ کے لیے پاکستان جا کر پاکستان کسان کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ دفتر بیٹھ گئے تا کہ گاؤں گاؤں کمپین کو منظم کرنے میں ہاتھ بٹا سکیں۔

جلد ہی وہ کسان راہنماؤں چوہدری فتح محمد، ذوالفقار محمود شاہ، فرزند علی، چوہدری محمد شریف، برکت علی، شیخ محمد قاسم، محمد سرور، چوہدری محمد ابراہیم اور دیگر کے دست راست بن گئے۔ انہیں کانفرنس کے مالی امور کا انچارج بنا دیا گیا اور وہ اس تاریخی کسان کانفرنس کے بعد ہمیشہ کے لیے برطانیہ کے ہو کر رہ گئے۔ ان کی بیوی اور اکلوتی بیٹی بھی ان کے ساتھ برطانیہ منتقل ہو گئیں۔

برطانیہ آنے کے بعد انہوں نے ہیڈرسفیلڈ، ویک فیلڈ، شیفیلڈ اور ڈونکاسٹر کی ٹیکسٹائل ملوں میں دن رات کام کیا۔ محنت کشوں کی سیاست سے وابستگی کی بدولت انہوں نے ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس زمانے میں ہندوستان اور پاکستان سے محنت مزدوری کے لیے آنے والوں کو ملازمت کا فارم تک بھرنا نہیں آتا تھا۔ اس لیے ان کا گھر ملازمت کے فارم بھرنے کا سماجی فلاحی مرکز بن گیا۔ ان کی بیوی نذیراں بی بی اور بیٹی نجمہ پروین نے مدد کے لیے آنے والے ایشیائیوں اور علاقے کے ٹریڈ یونین راہنماوں کی خدمت کو اپنا مشن بنا لیا۔

اس زمانے میں برطانیہ میں ایشیائیوں کے خلاف خاصی نفرت پائی جاتی تھی اور متعصبی، قوم پرست مقامی شہری انہیں اس وقت بھی اپنی نوآبادیاتی کالونی سے مزدوری کے لیے آنے والے غلام ہی تصور کرتے تھے۔ اس کے برعکس ریسزم مخالف تحریک بھی سرگرم ہو رہی تھی جسے برطانوی ترقی پسند تنظیمیں، بالخصوص ٹریڈ یونینیں اور کمیونسٹ پارٹی بھرپور سپورٹ کرتے تھے۔ رشید سرابھا نے بھی اینٹی ریسزم تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا۔

ادھر امریکی سامراج کی جانب سے ویت نام پر وحشیانہ حملوں کے خلاف دنیا بھر کی طرح برطانیہ میں تحریک چل رہی تھی۔ پاکستانی نزاد ترقی پسند دانشور طارق علی اور ڈاکٹر جہانگیر کریم اس تحریک کی قیادت کرنے والوں میں سے تھے۔ طارق علی سے تو انہیں پہلے ہی شناسائی تھی کیونکہ ان کے والد سردار مظہر علی خان اور والدہ محترمہ طاہرہ مظہر علی خان پاکستان کی ترقی پسند تحریک کے سرگرم راہنماؤں میں سے تھے اور رشید سرابھا انہیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کسانوں کے اجتماعات میں دیکھ چکے تھے۔ اس لیے طارق علی سے رابطے اور دوستی میں انہیں کوئی سرحد عبور نہ کرنا پڑی۔ وہ جلد ہی ویت نام سالیڈیرٹی تحریک کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور طارق علی کے دست راست بن کر تحریک کی راہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔

بعد ازاں 1981 ء میں وہ یارکشائر کو چھوڑ کا نیوکاسل منتقل ہو گئے اور بلیڈن کے ایریا میں گروسری اسٹور بنا لیا۔ ابھی وہ نیوکاسل میں سیٹل ہی ہو رہے تھے کہ 1982 ء میں ان کی بیوی نذیراں بی بی کا انتقال ہو گیا اور ان کی بیٹی نجمہ پروین ہی ان کی کل کائنات رہ گئیں۔ انہوں نے نیوکاسل میں بلیڈن کے علاقے میں گروسری اسٹور کھول لیا، جس سے انہیں مالی استحکام مل گیا اور انہوں نے ٹریڈ یونین اور اینٹی ریسزم تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا۔

ٹیکسٹائل ملوں، اسٹیل ملوں اور کان کنی بالخصوص کوئل مائننگ میں اوقات کار، آئے روز پیش آنے والے حادثات اور صنعت کاروں و کار سرکار کی جانب سے نامناسب انتظامات کی وجہ سے آئے روز ہڑتالیں ہو رہی تھیں۔ برطانوی تاریخ کی ایسی ہی ایک تاریخی ہڑتال 85۔ 1984 ء میں کوئل مائینرز نے کی، جس کا مرکز کاونئی ڈرہم تھا، جو بیلڈن، نیوکاسل کے پارلیمانی حلقہ سے ملحقہ ہے، جہاں عبدالرشید سرابھا رہتے اور کاروبار کرتے تھے۔ یہ ہڑتال برطانیہ پیں محنت کشوں کی طویل ترین ہڑتالوں میں سے تھی، جو برطانوی کوئلے کی صنعت میں کولریوں کی بندش کو روکنے کی کوشش میں ایک بڑی صنعتی کارروائی تھی۔

اس کی قیادت نیشنل یونین آف مائن ورکرز کے آرتھر سکارگل نے ایک سرکاری ایجنسی نیشنل کوئل بورڈ کے خلاف کی تھی۔ محنت کشوں کی اس ہڑتال کو مارگریٹ تھیچر کی قیادت میں عوام دشمن ٹوری سرکار نے اپنی پوری قوت سے کچل دیا تھا اور لاکھوں محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو فاقوں پر مجبور کر دیا تھا۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کی علم بردار برطانوی سرکار نے ہڑتال کے دوران مزدوروں کی تنخواہیں بند کر کے مزدوروں پر معاشی دباؤ بڑھا دیا اور مزدوروں کے ورثا کو فاقوں پر مجبور کر دیا تھا۔

عبدالرشید سرابھا نے کان کن ہڑتالیوں کی بھر مدد کو اپنا مشن بنا لیا۔ گھر سے کھانے بنا کر پہنچانے کے علاوہ انہوں نے اپنے اسٹور سے ان ہڑتالی کان کنوں کے اہل خانہ کو کھانے پینے کی اشیاء فری دینے کا اعلان کر دیا، جن کے پاس قیمت ادا کرنے کے لیے رقم نہ تھی۔ یوں ان کے گروسری اسٹور نے ایک چیریٹی کی شکل اختیار کر لی۔ 6 مارچ 1984 ء سے 3 مارچ 1985 ء تک رہنے والی اس تاریخی ہڑتال میں عبدالرشید سربھا اور اس کی بیٹی نجمہ پروین نے اپنا سکھ چین بھول کر انسانی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔

ٹریڈ یونین راہنما ڈیویڈ اینڈرسن جب 2005 ء میں بلیڈن، نیوکاسل سے پہلی مرتبہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے تو ان کی کیمپین میں بھی رشید سرابھا کا اہم کردار رہا۔ وہ ہر سال سرابھا صاحب اور ان کے پارٹی کامریڈوں کی جانب سے منظم کیے گئے یوم مئی کے اجتماعات میں بھی شرکت کرتے تھے، اور راقم کو بھی برسوں تک ان تقریبات کا سٹیج سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔

گزشتہ برس ان کی اکلوتی بیٹی نجمہ پروین کا اچانک ہارٹ فیل ہونے سے انتقال ہو گیا تو رشید سرابھا ٹوٹ کر رہ گئے۔ نجمہ بہن نہ صرف سیاسی کاموں میں ان ساتھ رہتی تھیں بلکہ نیوکاسل میں ہماری تقریبات کے انتظامات کی بھی نگرانی کرتی تھیں۔ وہ ایک بہادر، انتھک اور ہر کسی سے محبت کرنے والی انسان تھیں۔ وہ سپیشل نیڈ بچوں میں بہت کام کرتی تھیں اور جس صبح ان کا انتقال ہوا، اس رات بھی وہ ان بچوں کے ساتھ ہی ان کے سینٹر میں تھیں۔ اس لیے بیٹی نجمہ کا کردار سرابھا صاحب کی انقلابی جدوجہد میں کلیدی رہا۔ وہ ساری زندگی خوشی خوشی اپنی خواہشات اور ضرورتوں کی قربانی دیتی رہیں۔

عبدالرشید سرابھا نے ہمیشہ پاکستان میں ترقی پسند تحریک کی ترویج و ترقی کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ ایک خوبصورت شاعر اور کالم نویس بھی تھے اور برطانیہ و پاکستان میں نظریاتی، سیاسی اور ادبی جرائد میں مضامین لکھتے رہتے تھے۔ وہ برطانیہ میں اردو ادب، آرٹ و کلچر کے ترویج و ترقی میں ہمیشہ کردار ادا کرتے رہے اور وہ آرٹ اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن نیوکاسل کے روح رواں تھے۔ وہ برطانیہ میں رہتے ہوئے یہاں کی ترقی پسند تحریک میں بھی سرگرم تھے اور کمیونسٹ پارٹی برطانیہ کے سرگرم کارکن تھے۔

نامور کمیونسٹ راہنما اور کمیونسٹ ریویو کے ایڈیٹر کامریڈ مارٹن لیوی اور مارگریٹ کے ساتھ ان کی گہری دوستی تھی۔ پاکستان میں وہ بائیں بازو کی قوتوں کو یکجا کر کے بھرپور تحریک پیدا کرنے کا عزم رکھتے تھے، جو 1953 ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد بکھر کر رہ گئی تھی۔ جب 1986 ء میں پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کو یکجا کر کے متحدہ پارٹی بنانے پر کام شروع ہوا تو وہ اس کا بھرپور ساتھ دیتے رہے۔ 2012 ء میں بائیں بازو کی جماعتوں کے انضمام سے عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو وہ نارتھ برطانیہ میں اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ وہ اپنی آخری سانس تک ایک متحرک، بے باک اور سچے انقلابی رہے اور ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کی راہنمائی کرتی رہے گی۔

Facebook Comments HS

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 60 posts and counting.See all posts by pervez-fateh