پاکستان پر مسلط دہشت گردی اور سرحدی جارحیت


آج ہی یہ افسوسناک خبر ذرائع ابلاغ پر نشر ہوئی کہ بلوچستان کے علاقہ چمن میں افغانستان کی طرف سے شہری آبادی پر بھاری اسلحہ، مارٹرز اور توپ خانے کے ذریعے شدید فائرنگ اور گولہ باری کی گئی، جس کی زد میں آ کر ہمارے سات شہری شہید اور بہت سے زخمی ہو گئے، ایسے واقعات اب افغانستان کے ساتھ ملنے والی سرحد پر معمول بن چکے ہیں، اور آئے روز افغانستان کی طرف سے ہمارے علاقے اور فوجی چوکیوں پر حملوں میں ہمارے فوجیوں اور شہریوں کے جانی نقصان کی خبریں آتی رہتی ہیں، ماضی میں جب افغانستان پر امریکہ قابض تھا، تو اس کی فورسز نے توپ خانے، مارٹرز اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ہماری ایک بڑی فوجی چوکی ”سلالہ“ کو تباہ کر دیا تھا، اور اس حملے میں ہمارے بہت سے فوجی جوان شہید ہوئے تھے، اس واقعے پر پاکستان نے امریکہ سے نہ صرف شدید احتجاج کیا تھا، بلکہ چند روز کے لیے علامتی اقدام کے طور پر افغانستان کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی نیٹو سپلائی بھی روک دی تھی، ہم نے یہ افسوسناک خبر ٹی وی پر سنی اور اس کی جاری کردہ فوٹیج دیکھیں، ان میں سے ایک منظر میرے ذہن میں جم کر رہ گیا کہ، ایک منہدم شدہ مورچے کے ملبے کے اوپر امن کا سفید جھنڈا لگا ہوا تھا، چلیں وہ تو دنیا کی خطرناک سپر پاور امریکہ تھا، لیکن آج بھی ہم عالم اسلام کی مضبوط ترین عسکری قوت ہوتے ہوئے، کمزور غیر منظم عسکری قوت، کے حامل اور ائر فورس سے محروم افغان فورسز کی شدید جارحیت کے جواب میں علامتی نوعیت کی ناکافی مزاحمت کے ساتھ معذرت خواہانہ سفارتی احتجاج پر اکتفاء کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری جوابی کارروائی اتنی شدید ہونی چاہیے تھی کہ، افغانستان پر قابض رجیم کو خود ہم سے رابطے پر مجبور ہونا پڑتا۔

اب متبادل کے طور پر ہمیں اپنے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے اپنے سفارتی شعبہ میں ”شعبہ منت سماجت“ بھی کھول لینا چاہیے، تاکہ جو کچھ ہو ہی رہا ہے، وہ اعلی تربیت کے بعد مزید بہتر، موثر اور نتیجہ انگیز طریقے سے کیا جا سکے! ”اب کے مار کے دیکھ“ کی پالیسی پر ہی ہمیشہ عمل کرنا ہے تو قوم پھر یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ پھر اس ”تام جھام“ کی ضرورت کیا ہے۔ کابل حکومت کے حکم اور اطلاع کے بغیر ان کی افواج کس طرح بھاری اسلحہ اور بھاری توپ خانہ کے ذریعے اپنی مستقل سرحدی پوزیشنز سے ہمارے خلاف استعمال کر سکتی ہیں، ہم اب کس سے شکایت کر رہے ہیں؟

دراصل ہم خود کو ہی دھوکہ دینے اور اپنی قوم کو دھوکے میں رکھنے کی افسوسناک اور مضحکہ خیز کوشش کر رہے ہیں، ایک ایسا لینڈ لاکڈ ملک، جس کی سپلائیز اور تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارے ملک کے ساتھ ملنے والی سرحدیں ہیں، جس پر ہم نے امریکہ کے حکم پر بھرپور فوجی مدد اور ائر فورس تک استعمال کر کے ان طالبان کو قبضہ دلایا، ان کی عسکری مدد کے لیے امریکہ ستر ارب ڈالر کا جدید اسلحہ اور ایمونیشن ان کے لیے چھوڑ کر گیا، ان طالبان کی بیک اپ فورس کے طور پر وہاں عالمی دہشت گرد تنظیم ”داعش“ کھڑی کی گئی، جن کی طرف سے حال ہی میں ہمارے کابل میں تعینات ناظم الامور پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔

ہم نے ایک تابعدار غلام کی طرح ان خونی دہشت گردوں کو افغانستان پر اور افغانستان کے مظلوم عوام پر مسلط کرنے میں یہ جانتے ہوئے بھی پوری پوری مدد کی کہ ان کو افغانستان پر مسلط کرنے کا واحد مقصد پاکستان کے وسطی ایشیا اور روس کے خلاف زمینی رابطوں کے کسی بھی امکان کو مسدود کرنا تھا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ معلوم کیا جائے، کہ ہم میں وہ کون ”آلہ کار“ تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف، امریکی سٹریٹیجک، منصوبوں اور مفادات کی تکمیل کے لیے کام کیا، اور ان کی مدد کی، ان مکروہ کرداروں اور چہروں کو نہ صرف قوم کے سامنے لایا جانا چاہیے، بلکہ ان کے خلاف ان کے اداروں کے متعلقہ قوانین کے مطابق شدید، اور نظر آنے والی کارروائی کی جانی چاہیے، تاکہ قوم کے سامنے سیاہ اور سفید کو الگ کیا جا سکے۔

ہماری بھرپور مدد سے افغانستان کے عوام پر مسلط کئیے جانے والے مسلح گروہوں کی نام نہاد حکومت کو دنیا کا کوئی ملک باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، انہوں نے افغانستان کے مظلوم عوام پر زندگی عذاب کر رکھی ہے، وہاں خواتین کی تعلیم پر پابندی ہے، جبکہ اس قابض رجیم کے لیڈرز کی اپنی بیٹیاں اور اولادیں قطر اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ دیگر کئی یورپی ممالک میں بھی وہاں کی اعلیٰ یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، پابندی ہے تو افغانستان کے مظلوم عوام کی بچیوں کی تعلیم پر ۔

وہاں خواتین پر تعلیم حاصل کرنے پر تو پابندی ہے لیکن ان کو بھیک مانگنے کی مکمل آزادی ہے، یوں افغانستان اس وقت بنیادی انسانی حقوق کے ضمن میں ایک دردناک المیہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ افغانستان پر قابض طالبان کے لیڈرز جن کے بارے میں امریکی سینٹ کی مالیاتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ ان کی تنخواہیں اور ان کے قطر آفس کے اخراجات پر امریکہ اس مدت میں اربوں ڈالرز خرچ کرچکا ہے، یہ گروہ چونکہ افغانستان اور اس کے عوام پر زبردستی اور بزور مسلط ہوئے اور کروائے گئے ہیں، لہذا انہوں نے افغانستان کا قبضہ حاصل کرتے ہی، افغان عوام کو اپنے آئندہ کے ارادوں کے بارے میں علامتی پیغام دیتے ہوئے، وہاں کے الیکشن کمیشن کو ختم کر دیا، ہمارے یہ حمایت یافتہ، ہماری طرف سے اربوں روپے سے افغانستان کی سرحدوں پر نصب آہنی باڑھ اکھاڑ رہے ہیں، اور ہم بے بسی سے تماشا دیکھ رہے ہیں، یہ اپنی فوج کی عسکری تربیت کے لیے ان کو بھارتی فوجی اکیڈمی ڈیرہ دون بھیجتے ہیں، اور ہم ایک ”معمول اور مفعول“ کی طرح ان کے لیے ”خدمات“ سرانجام دے رہے ہیں، ہمارے ملک میں دہشت گردی کرنے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں اور فوجیوں کے قاتل ٹی ٹی پی کے دہشت گرد جنھیں افغان طالبان نے ہماری سیکورٹی فورسز کے آپریشنز سے بچانے کے لیے پناہ دی، اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، اب پاکستان کی پارلیمنٹ کی ان دہشت گردوں سے مذاکرات نہ کرنے کی واضح قرارداد اور رائے کے برخلاف ان دہشت گردوں سے نہ صرف مذاکرات کئیے جاتے رہے، جیلوں میں بند ان کے دہشت گردی اور قتل و غارت میں ملوث دہشت گردوں کو نہ صرف رہا کیا گیا، بلکہ ماضی میں ان کو سینکڑوں کی تعداد میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے نہ صرف فرار ہونے کا موقع دیا گیا بلکہ وہاں سے دو سو کلومیٹر دور افغانستان تک بھی بغیر کسی روک ٹوک کے پہنچنے دیا گیا، ان افغانستان میں مقیم دہشت گردوں کو مسلح حالت میں واپس آنے کی اجازت تک دی گئی، وہ بھی اس بہانے کہ ان کو آباد کاری کا موقع دیا جا رہا ہے، یہ مسلح جتھے دوبارہ سے سوات مالاکنڈ تک پہنچ گئے، اور انہوں نے دوبارہ سے ان علاقوں کو اور ان کے عوام کو یرغمال بنانے اور خوفزدہ کرنے کی کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا، لیکن اس بار ان کوششوں اور اقدامات کا عوام کی طرف سے شدید رد عمل آیا اور ان علاقوں اور سوات کے عوام نے بہت بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکل کر شدید مظاہرے کر کے ان مسلح دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو خوفزدہ کر دیا، اور اس شدید عوامی رد عمل کی وجہ سے یہ عناصر بکھر کر روپوش ہونے، اور علاقہ بدل لینے پر مجبور ہو گئے، لیکن ان کی بدستور کہیں نزدیک مسلح موجودگی کا ثبوت عوام سے بھتہ لینے کے وہ مطالبات ہیں جن کے بارے میں ”خیبر پختون خواہ“ کے صوبہ سے آوازیں سنی جا رہی ہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے ان دہشت گردوں اور ان کے مدد گاروں کے خلاف اسی طرح ”زیرو ٹالرنس“ کی جارحانہ پالیسی اپنائی جاتی، اور ان کا اسی طرح مکمل خاتمہ کر دیا جاتا جیسے سری لنکا جیسے کمزور ملک کی سیکورٹی فورسز نے ”تامل ایلم“ جیسی بڑی اور خطرناک طور پر مسلح تنظیم کا ”سرچ اینڈ ڈسٹرائے“ کی بنیاد پر مکمل عسکری خاتمہ کیا تھا، لیکن یہاں یہ حال ہے کہ، ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے والے ایس پی شہید طاہر داور کو دارالحکومت اسلام آباد سے اغواء کر کے شدید تشدد سے ہلاک کر کے ان کی لاش افغانستان کی سرحد کے اندر پھینک دی جاتی ہے۔

اور آج تک ان کے سفاک قاتلوں کا نشان تک نہیں ملتا، ہمیں اس اندرونی اور بیرونی دہشت گردی کے مقابلے کے لیے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، ہماری ملکی و قومی سلامتی، تحفظ اور ترقی کے لیے دہشت گردی اور اس کے ہمدردوں، مددگاروں اور سرپرستوں کا مکمل اور مستقل بنیادوں پر خاتمہ ہی ہماری سلامتی اور بقاء کے لیے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ( ظفر محمود وانی)

Facebook Comments HS