ادب، معیشت اور سیاست


ادب، معیشت اور سیاست میں قریبی رشتہ موجود ہے۔ غور کریں تو سیاسی اور معاشی انقلابات حقیقت بن کر ادب کے توسط سے ہی عوامی شعور میں ابلاغ کی راہ پاتے ہیں لیکن تاریخ میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ ادب نے سیاسی اور معاشی انقلابات کی راہ ہموار کی ہے۔ ادب انقلاب سے قبل، دوران انقلاب اور بعد از انقلاب، تینوں مرحلوں میں اپنا اثر و رسوخ دکھاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ناقدین میں ایک عمومی رائے یہ بھی موجود ہے کہ بڑا ادب قید خانوں میں تخلیق پذیر ہوا ہے۔

اردو میں فضل حق خیر آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، ابوالکلام آزاد، حسرت موہانی، سجاد ظہیر، شورش کاشمیری، حبیب جالب اور فیض احمد فیض اس کی روشن مثال ہیں۔ اسی طرح انگریز دور حکومت میں ”انگارے“ کی ضبطی بھی سیاسی نظریات کے پرچار کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر احسن فاروقی نے اپنے ایک مضمون ”ادب اور ہنگامے“ میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”روس میں کمال پر پہنچنے والی صنف ناول لے لیں یا انگلستان میں کمال پر رہنے والی صنف شاعری لیں۔ عظیم ترین ادب پارے اہم واقعات جنگ و انقلاب ہی پر مبنی ہوں گے۔“

قدیم یونان کے ادب میں ہومر کی ایلیڈ کو شاہکار خیال کیا جاتا ہے جو دو مخالف گروہوں کے درمیان جنگ کا حال ہے۔ اس نظم کی خوب صورتی کی کئی وجوہات ہوں گی لیکن ایک وجہ جنگ کے واقعات، سیاسی برتری اور اقتدار کے حصول کی خواہش کا فنکارانہ اظہار بھی ہے۔ یہ بات صرف یونان کے ادب تک محدود نہیں ہے بلکہ اٹلی، فرانس، جرمنی، عرب، انگلستان اور لاطینی امریکا کے ادب میں بھی موجود ہے۔ مثلاً ورجل کی نظم ”اینیڈ“ سلطنت روم کے قیام کے قصے کو بیان کرتی ہے۔

ترقاتو تاسو کی اطالوی زبان میں تحریر کی گئی نظم ”یوروشلم لبریٹا“ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین جنگی قصوں کا احاطہ کرتی ہے۔ قدیم ہندوستان کی معروف نظمیں ”رامائن“ اور ”مہابھارت“ بھی دراصل جنگی قصوں کا احوال بیان کرتی ہیں جن سے قدیم ہندوستان کی سیاسی اور معاشی صورت حال کا پتا چلتا ہے۔ روس، برطانیہ، فرانس، عرب اور ہندوستان کے ممالک کی تاریخ، جنگی واقعات سے لبریز ہے جو ادب کو مواد فراہم کرتی ہے۔ ہر جنگی واقعے کے پس منظر میں سیاست موجود ہوتی ہے اور سیاست معاشی ذرائع کو قبضے میں لانے کا دوسرا نام ہے۔

یوں سیاست، معیشت اور ادب کا ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے جو انسانی ارتقا کی ابتدا سے لے کرتا حال جاری و ساری ہے۔ اردو ادب کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو دکنی دور میں ہی کئی ایسے شعرا مل جاتے ہیں جنھوں نے اپنے دور کے سیاسی اور معاشی حالات کو مثنویوں کا حصہ بنایا ہے۔ سیاسی اور معاشی حالات کے تنزل کا عکس پیش کرنے والی ایک پوری صنف اردو ادب میں موجود ہے جسے ”شہر آشوب“ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ادب، زندگی اور اس کے معمولات سے کبھی غافل نہیں رہا۔

میر اور سودا کا عہد ہو یا نظیر اکبر آبادی کا زمانہ ہو، ہندوستان کی جنگ آزادی ہو یا جزیرہ سسلی کی غم انگیز داستان سناتی اقبال کی نظم ”صقلیہ“ ہو، ہر کہیں ادب کی تخلیق میں سیاسی و معاشی محرکات موجود ہیں۔ نظیر اکبر آبادی نے تو اپنے شہر آشوب میں آگرے کی معاشی بد حالی، فوج کی حالت زار اور شرفا کی ناقدری کے واقعات کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ جنگ آزادی کو غالب، حالی اور داغ دہلوی نے اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا ہے۔

ہندوستان میں سیاسی اور معاشی تبدیلیوں نے نئی اصناف کو ہی جنم نہیں دیا بلکہ اس کی ذیل میں ادارے بھی تخلیق ہوئے جن میں سر فہرست فورٹ ولیم کالج کلکتہ ہے۔ فورٹ ولیم کالج ایک سیاسی ضرورت تھا جس نے اردو دب کے فروغ اور نثری اسلوب کے رواں، عام فہم اور سہل اسلوب کی بنیادیں استوار کیں۔ جنگ آزادی کے سیاسی اور سماجی اثرات کو تلاش کرنا ہو تو ہم مرزا غالب کے خطوط کا مطالعہ کر سکتے ہیں جنھوں نے اس دور کی تاریخ کو اپنے خطوط میں محفوظ کر دیا ہے۔

اس کے متوازی علی گڑھ تحریک تو خالصتاً سیاسی بنیادوں پر پروان چڑھی جس نے مسلمانوں کا رخ تعلیمی اور سیاسی ترقی کی جانب موڑ دیا۔ اردو ادب کے بڑے نام جن میں ڈپٹی نذیر احمد، الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی اور مولوی ذکا اللہ اسی تحریک سے وابستہ رہے۔ حسرت موہانی، ظفر علی خان، پریم چند، اسرار الحق مجاز، علی سردار جعفری اور سید سجاد ظہیر نے اپنی ادبی تحریروں سے معاصر عہد کی سیاسی و سماجی صورت حال کو عوام کے شعور کا حصہ بنایا۔

سیاسی و معاشی انقلاب تو کیا، ادب ہر طرح کے انقلاب سے آگے چلتا ہے۔ بنیادی تبدیلیوں کا احساس سب سے پہلے ادب دلاتا ہے۔ ڈی ایچ لارنس نے تو یہاں تک کہ دیا ہے کہ جب تک ادیب انسانی شعور کی بنیادی تبدیلیوں کی عکاسی نہ کرے وہ بڑا ادیب بن ہی نہیں سکتا۔ معاشرے میں سیاسی اور معاشی تبدیلیاں ہی ایسی تبدیلیاں ہوتی ہیں جو سب سے پہلے واضح شکل میں نمایاں ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا اظہار کرنے والے ادیب دو طرح کے ہوتے ہیں۔

ایک وہ جو مختلف طریقوں سے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پرانا نظام اور پرانی قدریں کیوں ناکارہ اور غیر اہم ہو گئی ہیں۔ ان کا ادب تخریب برائے تخریب نہیں ہوتا بلکہ تخریب برائے تعمیر ہوتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہوتا ہے جنھیں شعوری طور پر معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں کون سی سیاسی و سماجی اقدار اہم ہیں اور کون سی غیر اہم ہیں۔ یہ صحیح معنوں میں انقلابی ادیب کہلائے جاتے ہیں۔ ادب، معیشت اور سیاست کا یہ رشتہ ہر کہیں موجود ہے۔

فن اور ادب کی ہر تخلیق میں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں سیاست ترقی پسند ہے اور کہیں رجعت پرست۔ ادب اور سیاست کے رشتے کو واضح کرتے ہوئے پریم چند نے کہا تھا ادب سیاست کے پیچھے چلنے والی حقیقت نہیں بلکہ وہ مشعل ہے جو سیاست کو راہ دکھاتی ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیاست ایک تحریک ہوتی ہے جس کا تعلق عوام سے ہوتا ہے جو طاقت پکڑتی ہے اور معاشرے کو بناتی یا بگاڑتی ہے۔ ایشیا میں بہت سی ایسی تحریکیں رہی ہیں جہاں سیاست نے ترقی پسند کردار ادا کیا۔

بعض سیاسی راہنما تو خود ادیب رہے ہیں مثلاً ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو کی ادبی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ ویت نام کی کمیونسٹ پارٹی کے راہنما ہوچی من خود ایک اچھے شاعر تھے۔ ماؤزے تنگ بھی شاعر تھے اور لینن کے دانشور ہونے سے کسی کو انکار نہیں جس نے تاریخ اور فلسفے پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ کارل مارکس نے بھی اپنی جوانی میں شاعری کی ہے جو اچھی خاصی شاعری ہے جس کا موضوع ”جو ہے“ اور ”جو ہونا چاہیے“ کی باہمی کش مکش ہے۔ وہ اپنی کئی نظموں میں روایت شکن شاعر کے طور پر سامنے آتا ہے۔

بعض ناقدین کا خیال ہے کہ سیاست سے آلودہ ہو کر آرٹ خراب ہوجاتا ہے لیکن ایسا نہیں۔ آرٹ کی خرابی کی وجہ فنکار کی فن پر گرفت کی کمزوری ہے نہ کہ سیاست اور سماجی مسائل۔ ایک ادیب کے لیے تو قومی اور عالمی مسائل سے باخبر ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا زندگی کے لیے آکسیجن۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی مسائل کے لیے اس کا اپنا ایک نقطہ نظر ہو جس پر نظر ثانی کرنے کے لیے وہ ہر وقت آمادہ رہے۔ اگر ادیب بغیر نظریے کے زندہ ہے تو اس کے ساتھ وہی ہو گا جو قیوم نظر کے ساتھ ژاں پال سارتر نے کیا تھا۔ اس لیے ہمارے ادیبوں کو بھی بے بنیاد تصور پرستی اور کھوکھلی روحانیت کے خلاف جو زندگی سے فراریت اور رجعت پسندی جیسے منفی رجحانات کا سبب بن رہی ہے، آواز بلند کرنی چاہیے۔ ان کے ادب کا مقصد، تعمیر حیات اور معاشرے میں فرقہ پرستی، نسلی تعصب اور مذہبی منافقت کے خیالات کا راستہ مسدود کرنا ہو۔

Facebook Comments HS