جدید عورت کے مسائل اور ہمارے سماجی رویے (1)۔


جب سے روئے زمین پہ شعوری زندگی کا ظہور ہوا، تب سے یہاں مرد و زن کا تعلق ہی انفرادی اور اجتماعی حیات کا مرکزی موضوع اور سماجی اصولوں کی تخلیق کا محرک بن گیا، یعنی مرد و زن کا جو رشتہ پہلے خاندان اور پھر معاشرے کی تشکیل کی اساس بنا وہی فلسفہ زیست کا سرچشمہ بھی ثابت ہوا۔ ازل سے اب تک دنیا کے تمام مذاہب، سارے فلسفے اور ہر علم اسی رشتے کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں، معاشرتی تنظیم، سائنسی ایجادات اور صنعت و حرفت کا ہر ماڈل عورت اور مرد کے وجود سے تخلیق ہونے والے انسانی تمدن کے ارتقا کے لئے وقف ہو کر رہ گیا۔

تورات، زبور اور انجیل سے لے کر آخری آسمانی کتاب، قرآن، کا موضوع بھی انسان بنا، اس مقدس کتاب نے بھی مرد و زن کے حقوق و فرائض کی تفہیم کے علاوہ فطرت انسانی کی تفہیم کو ضروری سمجھا۔ سقراط سے لے کر شوپنہار تک ہر فلسفی افزائش نسل کے متنوع عمل، تنازعہ للبقاء اور سوز زندگی سے لبریز انسانی نفسیات کی بوقلمونی میں فطرت کے مقاصد تلاش کرتا رہا، حتی کہ عہد جدید کے عظیم سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کو یہ کہنا پڑا کہ ”میرے عمر بھر کے تجربات کا نچوڑ یہی ہے کہ اس کائنات کی سب سے پیچیدہ حقیقت، عورت، ہے“ ۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس پرفتن عہد کا بھی سب سے اہم ایشو مرد و زن کے تعلقات میں توازن پیدا کرنا بن گیا۔ آج آزادی نسواں کے علمبرداروں کے علاوہ عورت کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی و جسمانی تشدد سے جڑے عوامل کو لے کر مغربی تہذیب کی نمائندگی کرنے والے کئی لبرل گروہوں سمیت غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی غیرسرکاری تنظیمیں مشرقی عورت کے انفرادی تشخص اور اجتماعی کردار کی وضاحت کے لئے میڈیا مہمات اور سیمنارز کا انعقاد کر کے ہمارے سماجی رویوں کی از سر نو تدوین اور مشرق کے تمدنی رجحانات کو آزاد خیالی کی حامل مغربی تہذیب سے ہم آہنگ بنانے میں مشغول دکھائی دیتی ہیں۔

فی الوقت آزادی نسواں کے حامی، خواتین پہ تشدد کے واقعات کو جواز بنا کر ، عورت کے لئے پردہ کی حدود و قیود سے نجات، خواتین کی تعلیم و تعلم اور مالیاتی خود مختاری کے حصول کی خاطر مضبوط خاندانی بندھنوں سے نجات اور گھریلو نظام سے وابستہ عزت کے احساس کو مٹانا چاہتے ہیں حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یورپ و امریکہ میں عورت کی آزادی کے رجحان نے خاندانی نظام کی بیخ کنی کر کے معاشرتی ڈھانچہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، سماجی نظم و ضبط کی تحلیل کی بدولت مغربی اشرافیہ اس وقت منقارزیر پہ ہے، اہل یورپ ایک بار پھر مذہبی اصولوں کے نفاذ اور سماجی ڈسپلن کے قیام کی خاطر خاندانی نظام کی بحالی کے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، امریکی کانگریس کے پچاسویں اسپیکر نیوٹ گنگرچ نے 1995 میں منصب سنبھالنے کے مرحلہ پہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہم اپنی معصوم بچیوں کی عصمت کا تحفظ اور اس خاندانی نظام کا احیا چاہتے ہیں جو ہمیں مقدس رشتوں کے مربوط عمل میں محفوظ رکھ سکے“ مگر افسوس کے ان جذباتی التجاؤں کے باوجود یورپ کی سماجی زندگی کا بہتا دھارا اب واپس نہیں پلٹ سکتا، اہل مغرب کی تمام تر مساعی کے باوجود خاندانی نظام کی بحالی کی آرزوئیں پوری نہیں ہو سکیں گی۔

علی ہذالقیاس، مغرب کے ماہر سماجیات تسلیم کرتے ہیں کہ اخلاقی رویے رسومات و روایات کے تال میل میں پروان چڑھے، جو وقت کی رفتار کے ساتھ بتدریج ارتقاء پاتے رہے لیکن انیسویں صدی میں مغرب میں ٹیکنالوجی کی تیز تر ترقی کے باعث، وہ رسومات اور سماجی ادارے جو قبل از تاریخ سے کارفرما چلے آ رہے تھے، ایسے دم توڑنے لگے، جیسے وہ کوئی سطحی عادتیں ہوں جنہیں لوگوں نے عارضی طور پہ اپنا کر ترک کر دیا ہو۔ شوپنہار نے کہا ”شجاعت جس میں عورتوں کے ساتھ نرمی برتی جاتی تھی، کم ہو گئی ہے“ ، یہی پرشکوہ اخلاقی اقدار جسمانی مضبوطی کے علاوہ انہیں ذہنی تہذیب بھی سکھاتی رہیں لیکن عورت کی آزادی کے ساتھ ہی خاندانی نجابت، حسب و نسب پہ محمول سنہری روایات کا وہ سماجی ڈھانچہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا، جس نے اجتماعی زندگی میں نظم و ضبط قائم رکھا ہوا تھا۔

انیسویں صدی میں مغربی عورت نے برابری کا علم اٹھایا تو مردوں نے مساوات کا چیلنج قبول کر لیا، اب مرد کے لئے ماضی کی طرح اس عورت کی پرستش کرنا مشکل ہو گیا، جو ان کی نقالی پہ اتر آئی تھی۔ یورپی سماج میں حیا اور عزت جو مرد کو اپنی جان قربان کرنے کی ترغیب دیتی تھی، غیر مقبول صفات میں شامل ہوتی گئیں، یورپ میں آزاد شہری زندگی نے کروڑوں مرد و زن کو متاثر کر کے اعصابی تحریک کا شکار بنا ڈالا، ڈرامہ، فلم اور تھیٹر جیسے انتہائی طاقتور ابلاغی وسائل جنسی طور پہ بیباک کرداروں کی پرموشن کا وسیلہ بنے اور ادب بھی جنسی ہیجان انگیزی سے بھر گیا، جس سے شادی کے رشتہ کی حوصلہ شکنی اور تولید کا عمل سست پڑ گیا۔

یورپ کی مطلقاً آزادانہ ماحول میں نوجوان شادی کے فوائد اس کی ذمہ داریاں اور آلام کو نبھائے بغیر حاصل کرنے لگے، اسی رجحان نے شادی میں تاخیر اور طلاق کی شرح بڑھا دی چنانچہ خاندان جو کبھی سماج کی بنیادی اکائی تھا، شہری اور صنعتی دور کی ذاتیت میں گم ہو گیا، عورت کی عفت و عصمت بے معنی اور اولاد کی عافیت کے لئے جانفشانی سے بنائے گئے گھر ویران ہوتے گئے، صنعتی اقتصادیات کی قوت سے معاشرتی روایات بدلنے لگیں، سماج کو متحد رکھنے والے آزمودہ رسم و رواج ٹوٹ گئے، شخصی وقار اور انفرادی شناخت پرہجوم تنہائی میں تحلیل ہوتی گئی، اس بے شناخت ہجوم میں پروان چڑھنے والے نوجوان ان گناہوں کی نمائش سے لطف اندوز ہونے لگے جن گناہوں کی مذمت سے ان کے آبا و اجداد عزت نفس کا احساس اور ذہنی آسودگی پاتے تھے۔

اہل علم کہتے ہیں کہ اخلاق تاریخی اور لسانی اعتبار سے رسومات سے پیدا ہوا اور اخلاق کو ہمیشہ ان رسومات سے مطابقت کا نام دیا گیا، جو معاشرے کی صحت اور بقاء کے لئے ناگزیر تھیں۔ بلاشبہ یہ نظام اخلاق اور رسومات ہمہ وقت بدلتی رہتی ہیں، اس تغیر کے بہت سے اسباب ہوں گے لیکن ان کی وجوہات میں سب سے اہم اقتصادی حالات میں تبدیلیوں کو سمجھا گیا، یعنی زندگی کی معاشی بنیادوں میں تغیر و تبدل نظام اخلاقی میں تبدیلی کا سبب بنتا رہا۔

تاریخ میں پہلا دور شکاری معاشرت کا تھا جس میں انسان اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمہ وقت محو سفر رہتا تھا، دوسرا زراعت سے وابستگی کا عہد تھا جس نے انسانوں کو مستقل قیام کے اسباب مہیا کر کے تہذیب و تمدن کو بنیادیں فراہم کیں، اسی طویل زرعی عہد میں رسومات و رواجات اور اخلاقی اقدار نے سوسائٹی کی تشکیل کر کے انسان کے دل و دماغ کو اشرف المخلوقات ہونے کے احساس سے منور کیا، جس کی کوکھ سے رشتوں کا احترام، شجاعت، سخاوت، ایثار اور عفو و درگزر جیسی ملکوتی صفات کو وجود ملا، تیسرا ٹیکنالوجی کی ترقی کا مرہون منت وہ تیز رفتار دور تھا جس نے صنعتی معاشروں کی تشکیل کر کے زرعی تمدن کے ان مربوط اخلاقی اقدار کو پراگندہ کر دیا جسے زرعی عہد کے انسان نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا۔

لاریب ہمارے اخلاقی نظام کی نشو و نما زرعی سماج کے اس دیہاتی ماحول میں ہوئی، جہاں کھیت میں کام کرنے والا مرد بہت جلد ذہنی بلوغت اور اقتصادی خود مختاری پا لیتا تھا، وہ بیس برس کی عمر میں زندگی کے امور کو اس طرح سمجھتا تھا جیسے آج کل چالیس سال کا پختہ کار شخص جاتا ہے، اسے ہل اور صرف ایک رفیق کار کی ضرورت اور وہ موسموں کے تغیرات کی سمجھنے کی حساسیت درکار تھی، چنانچہ جوں ہی اسے جسمانی بلوغت اشارہ کرتی وہ شادی رچا لیتا تھا، چنانچہ اس کے لئے ناجائز جنسی تعلقات پہ عائد اخلاقی پابندیوں کے خلاف جھنجھلاہٹ کی نوبت نہیں آتی تھی۔

اس عہد کی عورت کے لئے بھی پاکدامنی ناگزیر تھی کیونکہ پاکیزگی کے بغیر اس کی ممتا خطرہ میں پڑ سکتی تھی لیکن انیسویں صدی میں یکایک صنعتی انقلاب نمودار ہوا تو مردوں، عورتوں اور بچوں نے گھر، خاندان، اتفاق اور روایات کو چھوڑ کر انفرادی طور پہ کام کرنا شروع کر دیا، بازار، مارکیٹیں اور شہر پھلنے پھولنے لگے، کھیتوں میں کاشتکاری کرنے والوں کی اکثریت کارخانوں میں در آئی، جہاں ہر سال نئی مشینوں کی ایجاد زندگی کو مزید الجھا دیتی، ذہنی بلوغت اب کہیں زیادہ تاخیر سے نمودار ہونے لگی، عنفوان شباب کا زمانہ طویل اور تعلیم کی تکمیل کا دورانیہ بڑھ گیا، جس سے جلد شادی کی روایت دم توڑنے اور خاندان کی ذمہ داری نبھانے سے بیزاری بڑھنے لگی۔

اس طرح کارخانوں کی نشو و نما میں عورت کو پہلی بار اپنے پرانے اسلوب ترک کرتے دیکھا گیا، گھریلو عورت جو مقدس رشتوں کا مظہر اور گھر کی زینت تھی، باہر نکلی تو گھر کی اہمیت بھی ختم ہو گئی، ادھر کارخانوں کی ایجاد نے دستکاریوں کی گھریلو صنعت کو اجاڑ دیا، روزمرہ استعمال کی وہ چیزیں جو کبھی گھریلو دستکاری کی مرہون منت ہوا کرتی تھیں، اب مشینی عمل کے نتیجہ میں سستی اور وافر مقدار میں مارکیٹ میں دستیاب تھیں، اس لئے عورت گھر کے اندر بوریت کا شکار ہوتی گئی، اب تفریح گاہوں، تھیٹر اور فلم دیکھنے اور ہوٹلوں پہ کھانا کھانے کے لئے اسے پیسوں کی ضرورت تھی، فیشن کی تکمیل کے لئے قیمتی لباس کے لئے بھی اسے مالی وسائل درکار تھے۔ جاری۔

Facebook Comments HS