مزید ہتھیار نائجیریا سیکیورٹی بحران کا حل نہیں


رائٹرز کے ایک رپورٹ کے مطابق 2013 سے نائجیرین سیکیورٹی فورسز خفیہ طور پر ایک دانستہ اور غیر قانونی پروگرام جاری رکھیں ہوئے ہیں جس کا مقصد دس ہزار عورتوں کی جبری اسقاط حمل کروانا ہیں۔ اس پروگرام کا شکار وہ عورتیں ہیں جس کی ساتھ اسلامک جنگجووں نے اس مقصد کے تحت زبردستی جنسی زیادتیاں کی تھی کہ، ”سانپ کا بچہ سانپ ہوتا ہے“ یعنی اس عورتوں کی جو بچے پیدا ہوں گے وہ بھی جنگجوؤں بنے گی۔ اس کی بدن میں جو خون گردشیں کر رہے ہوں گے اس بنا ایک دن یہ بھی نائجیرین حکومت اور معاشرے کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے۔

رائٹرز نے متاثرہ عورتوں، سیکیورٹی اہلکاروں، اور ہیلتھ ورکرز سے انٹرویوز کے ذریعے اس پروگرام کی موجودگی اور اسے جاری رکھیں ہوئے کی تصدیق کی ہیں۔ نائجیرین حکام سختی سے اس الزامات کی تردید کی ہوئے ہیں۔

یہ چونکا دینے والے انکشافات برسوں سے نائجیرین سیکیورٹی فورسز پر عائد انسانی حقوق کی پامالیوں میں ایک نئی اضافہ ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی نائجیرین سیکیورٹی فورسز کو ملک میں ماورائے عدالتی قتل عام، جبری گمشدگیوں، بلاجواز اور ناروا گرفتار یوں میں ملوث ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اس وقت منظر عام پر آئی جب صرف اٹھ مہینے پہلے ہی امریکہ نے نائجیریا کو تقریباً ایک بلین امریکی ڈالر کی ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دی ہیں۔ اگر چہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی تناظر میں پہلی یہ ڈیل سست روی کا شکار رہی تاہم بعد میں اس شرط پہ کہ نائجیرین حکام پہلے افواج کی تربیت میں خاص اس بات پر زور دیں گے کہ وہ ملٹری آپریشن میں انسانی حقوق کی تحفظ اور فضائی حملوں میں شہریوں کی نقصان ممکن حد تک کم سے کم ہوں یقینی بنائے گی۔

اس رپورٹ سے واشنگٹن حکام پر دباؤ بڑھا ہے کہ وہ نائجیریا کو فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فروخت میں کمی لائیں جو سن دو ہزار سے اب تک تقریباً دو بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔

ایک نائجیرین صحافی نے اس حوالے سے اس سال کی اوائل میں لکھا تھا کہ ”نائجیرین سیکیورٹی فورسز نہ صرف اسلامک جنگجووں کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں بلکہ تسلسل سے دہشتگردی کی روک تھام کے نام پر انسانی حقوق کی پامالیوں کی مرتکب ہو رہے ہیں جس کی گونج واشنگٹن میں کبھی سننے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی ہیں۔ پھر بھی یہ طریقے اس شدت سے جاری و ساری ہیں باوجود اس کی کہ امریکہ نائجیرین سیکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کر رہا ہے کہ وہ اہلکاروں کو اس طرف مائل کریں کہ اس کی ترجیح شہریوں کی حفاظت ہوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام ہوں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی علاوہ ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ نائجیرین سیکیورٹی فورسز جو بھاری اخراجات کی ساتھ بوکو حرام اور داعش کی خلاف لڑ رہے ہیں اس میں اب تک کوئی کامیابی ملی بھی ہے کیا؟

ایک اور نائجیرین صحافی اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”امریکہ کو نائجیریا میں امن و امان میں بغیر طاقت کی استعمال کی بہتری لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور نائجیرین حکومت کو بھی اس کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھ کی اپنی وسائل کا بھرپور استعمال کرنا چاہیں“ ۔

اس حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ ”وہ علاقہ جس میں غذائی قلت کا راج ہوں، ناکافی صحت کی سہولیات ہوں یا تعلیم کی مواقع نہ ہونے کے برابر ہوں وہاں ہتھیاروں پر بلین ڈالر خرچ کرنے سے عوام کا حکومت پر عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہو گا“ ہم سب اس حق میں ہیں کہ امن و امان کی مسئلے کو حل ہو جانا چاہیے، مزید ہتھیاروں کے حصول سے نائجیرین سیکیورٹی بحران کا پائیدار حل ممکن نہیں۔

Facebook Comments HS