سقوط اور سکوت: صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی


ہر سال دسمبر کے آتے ہی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان کے دولخت ہونے کا غم تازہ ہوجاتا ہے۔

بغداد اور دلی کے سقوط سے بڑا سانحہ سقوط ڈھاکہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ سقوط، سکوت کی نذر ہوا توہم اس سانحے کو بھلا بیٹھے۔ ہمارے اجتماعی ضمیر و نفسیات اور ہمارے شعور و لاشعور میں اس عبرتناک واقعے کا کوئی اثر کوئی عمل دخل ہی دکھائی نہیں دیتا۔

نتیجتاً آج ہمارے نوجوان اپنی ملی تاریخ کے اس دردناک باب سے ناواقف ’یا کم ہی آگاہ ہیں۔ اس کا اندازہ 16 دسمبر 2022 کو کالج کی مارننگ اسمبلی میں بچوں سے اس عظیم سانحے کے متعلق پوچھے گئے سوال سے ہوا جس کاوہ کوئی جواب نہ دے پائے حالانکہ ایسے واقعات عقل و فہم والوں کے لیے سبق کا سامان ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ نے کبھی سنجیدگی سے یہ کوشش کی کہ نصف صدی قبل رونما ہونے والے اس سانحے سے وہ خود کوئی سبق حاصل کرے اور نسل نو کو بھی اس طرف متوجہ کرے۔ ایسے ماحول میں ہمارے نوجوان اس سانحے کو کیا یاد رکھیں گے جب بہلاوے کا خصوصی اہتمام بھی جاری ہو۔ اس بہلاوے کو دیکھا تو خود کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا پایا اس لئے یہ سطور اسی پس منظر میں لکھ رہا ہوں۔ نصیر ترابی نے سقوط ڈھاکہ کے متعلق جو کہا وہ کچھ یوں ہے۔

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی
عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیرؔ
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

آشنائی نہ ہونے کے ایک مرحلے کا تذکرہ ترابی نے کیا ہے اور دوسرا منظر تین سال بعد فیض احمد فیض نے بیان کیا۔ فروری 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان آئے، جس کے بعد اسی سال جولائی میں ذوالفقار علی بھٹو ایک وفد کے ہمراہ بنگلہ دیش پہنچے۔ اس وفد میں فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔ پاکستانی وفد دوستی اور نئے خوشگوار تعلقات کی بلند و بالا توقعات لے کر گیا لیکن شیخ مجیب کی سردمہری نے امیدوں کے بت پاش پاش کر دیے۔ البتہ ملاقات کے دوران مجیب الرحمٰن نے فیض سے فرمائش کی کہ ہمارے لیے بھی کچھ لکھیں۔ واپسی پر فیض نے جہاز میں ہی یہ اشعار لکھے اور مجیب کو بھجوائے۔

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کرلیتے مناجاتوں کے بعد
ان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

فیض نے جو کہا کہ ڈھاکہ والوں سے گلے شکوے بھی نہ ہو سکے اور کہی جانے والی بات بھی ان کہی رہ گئی آخر یہ نوبت کیوں آئی اس پر کبھی غور و فکر کیا جاتا تو آج ملک اس حالت میں نہ ہوتا۔ مشرقی پاکستان کی طرح آج بلوچستان بھی زخم زخم ہے۔ غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ اسی طرح بانٹے جا رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان بنگلادیش بن کر ہم سے آگے ہے اور ان کی نوجوان نسل اس سانحے کی جزئیات تک سے واقف ہے۔ پلٹن کے میدان میں سرنڈر ہو چکا تھا اور اہل پاکستان کو آخری گولی تک لڑنے اور دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل ہونے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ قوم کے ساتھ اس سے بڑھ کر دھوکہ کیا ہو گا؟

سولہ دسمبر کو پاکستان حاصل کرنے اور بعد میں اس کی حفاظت نہ کر سکنے کی تاریخ کے کچھ ابواب ’کچھ حصے‘ کچھ قصے خود بھی پڑھیں اور نوجوانوں کو بھی پڑھائیں سنائیں ’سمجھائیں اور یاد کرائیں۔ تاکہ ہماری اگلی نسلوں کے اجتماعی شعور اور لاشعور میں‘ اس دردناک ’چشم کشا اور سبق آموز واقعہ کی آگہی‘ شدت احساس اور قوت عمل بخشنے والی خلش ’زندہ بھی رہے۔ خدا کرے کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے کو بھلانے‘ دبانے یا اس سے نظریں چرانے کی غلطی نہ کرے اس سے تاریخ بدلتی ہے نہ اس کے کردار۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحے پر سکوت اور حمود الرحمن کمیشن کی چھپائی ہوئی رپورٹ کا خمیازہ ہم پہلے بھی بھگت رہے ہیں۔ یہی روش جاری رہی تو خاکم بدہن مستقبل میں کوئی اور سانحہ ہمارا مقدر نہ بن جائے۔

Facebook Comments HS