قطر ورلڈ کپ: پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

قطر میں فٹ بال کا عالمی میلہ اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ ورلڈ کپ تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ دنیا کا یہ مہنگا ترین اور شاندار ایونٹ منعقد کر کے ایک چھوٹے سے مسلم ملک قطر نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ ہمت ہو تو کیا ہو نہیں سکتا۔ بعض مغربی ممالک اور میڈیا گروپس نے اس آڑ میں عربوں اور اسلام کے خلاف زہر افشانی کا سلسلہ برابر جاری رکھا۔ فرانس کے ایک اخبار نے قطر کے کھلاڑیوں کے کارٹون بنا کر انہیں دہشت گرد تک کہا۔ ایک برطانوی میڈیا گروپ نے سب سے پہلے قطر پر الزام لگایا کہ قطر کو فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز کرپشن کے ذریعے حاصل ہوا۔
جنسی بے راہ روی ’خواتین کا استحصال اور حقوق کے نام پر ہم جنس پرستی کی حمایت مغرب کا شیوہ رہا ہے۔ جرمنی اور برازیل میں منعقدہ فٹ بال کے عالمی مقابلوں میں فلپائن، تھائی لینڈ اور بنکاک جیسے ممالک سے بڑی تعداد میں جسم فروش لائے گئے تھے۔ اسی طرح قحبہ خانے کی اربوں کی صنعت بھی چلائی جاتی مگر قطر نے ایسے تمام اقدامات سے انکار کر دیا۔ ہم جنس پرستی کے پرچم لہرانے اور غیر مناسب لباس پر بھی پابندی عائد کی۔
مغرب کو ان اقدامات سے جو نقصان برداشت کرنا پڑا اس پر قطر کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ مغرب کا اسلام اور مسلم دنیا کو دیکھنے کا اپنا ایک مخصوص پیمانہ ہے جس میں حقارت اور عداوت کا پہلو غالب ہے۔ ایسے میں دیکھا جا ہے تو قطر ورلڈ کپ انسانیت کی دماغی اور نفسیاتی امراض کی، بحالی صحت کا مرکز بھی بن گیا۔ ری ہیب سنٹر میں نشہ چھڑانے کے لیے جس طرح مریض داخل کیے جاتے ہیں۔ اس ورلڈ کپ نے شراب، LGBTQ، نوعیت کی کئی نشہ آور عادات چھڑانے اور بہتر زندگی کا دوسرا زاویہ دکھایا کہ ان اشیاء کے بغیر بھی ’ایک مہذب ماحول میں کھیل کے مقابلوں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ اس پروپیگنڈے کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ
مغرب فٹ بال پر اپنی اجارہ داری سمجھتا ہے ’وہ اس بات کو ہضم نہیں کر پایا کہ ایک عرب مسلم ملک کو سب سے بڑے ایونٹ کی میزبانی کیوں مل گئی؟ ترقی یافتہ ممالک کو یہ غلط فہمی تھی کہ کسی میگا سپورٹس ایونٹ کا کامیاب اہتمام عرب یا مسلمان نہیں کر سکتے۔ قطر نے نہ صرف عالمی معیار سے بہتر اہتمام کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ اس موقع پر اسلام کا اصل امیج بھی دنیا کے سامنے پیش کیا۔
قطری حکام نے اس میگا ایونٹ میں اسلام کی دعوت کے ساتھ عرب کلچر کو بھی خوب پروموٹ کیا۔ ائر پورٹس، ہوٹلز، شاہراہوں اور اسٹیڈیمز کے قرب و جوار میں نیک اعمال، خیرات، اور رحم کرنے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی احادیث پر مشتمل بہت ساری پینٹنگز آویزاں کی گئیں۔ کسی بھی ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسٹیڈیم میں نماز کے مقامات اور وضو کے لیے جگہیں مختص ہوئیں۔ اسلام کا پیغام عام کرنے کا یہ طریقہ بلاشبہ دوسرے مسلم ممالک کے لئے ایک روشن مثال ہے۔
دنیا کے کتنے ہی مسلم ملکوں میں سپورٹس ایونٹس منعقد ہو چکے ہیں لیکن قطر جیسا مثالی طرز عمل کہیں دیکھنے میں نہیں آیا۔ افتتاحی تقریب میں ایک جسمانی معذور نوجوان کی قرآن پاک کی تلاوت نے تاریخ رقم کردی۔ مسلم امہ کو بھی پیغام ملا کہ مسلمانوں کی کامیابی و کامرانی کا راز صرف اسلام کی سر بلندی میں ہے۔ اسلامی تہذیب کی خوبیاں اور اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے جس انداز پیش کی گئی وہ انتہائی قابل تحسین ہے۔ دنیا کو یہ باور کرانے میں بھی قطر کامیاب رہا کہ اسلام مغربی تہذیب کا شاندار متبادل ہے۔
قطر کی ٹیم کو کامیابی نہ مل سکی مگر یہ کمی مراکش نے نہایت خوش اسلوبی سے پوری کی۔ کوارٹر فائنل میں مراکش پرتگال کو 0۔ 1 سے ہرا کر پہلی مرتبہ فٹ بال ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی پانے والا پہلا عرب افریقی ملک بنا۔
مراکش نے ایک طرف ورلڈ کپ میں فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطین کا قضیہ ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ دوسری جانب اس ٹیم نے دنیا کے سامنے یہ کلچر پیش کیا کہ اسلام عائلی (خاندانی ) قدروں کو فروغ دیتا ہے۔ سپر سٹار اشرف حکیمی کا اچھوتے انداز میں ہر جیت کے بعد اپنی ماں کی پیشانی کو بوسہ دینا اور ان کا بے حد احترام کرنا حقوق نسواں کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کے امتیاز کو واضح کرتا رہا۔
قطر نے اس ایونٹ میں دنیا بھر کے شائقین کی بہترین انداز میں میزبانی کی۔ اسٹیڈیمز میں موجود تمام شائقین کو بہترین عطر اور سوغاتی میوے کی ایک پوٹلی تحفے میں دی گئی۔
تقریباً 10 لاکھ افراد ورلڈ کپ دیکھنے آئے۔ انسیت و اپنائیت کے پاکیزہ ماحول میں اہل قطر کی مہمان نوازی نے مغربی مادہ پرستی کا بت پاش پاش کیا۔ روایتی کھانوں اور قہوے سے غیر ملکی شائقین کی تواضع کی گئی۔ خواتین کو حجاب اور مردوں کو روایتی عربی لباس دیے گئے۔ بچے کھجور اور چاکلیٹ پیش کرنے میں پیش پیش رہے۔ مادہ پرستی کے ماحول میں رہنے والے مغربی سیاح اور شائقین اس بات کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے کہ قطر میں انہیں پرامن ماحول میں نہ صرف فٹ بال میچوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا بلکہ عربوں کی ضیافت اور ان کی وسعت قلبی کا بھی قریب سے مشاہدے کا تجربہ بھی حاصل ہوا۔ سٹیڈیمز میں نماز کی جگہ مختص کرنے کے ساتھ قرب و جوار کی مساجد سیاحوں کے لئے کھلی تھیں، جن میں قرآن پاک اور دینی کتب کے دنیا کی اہم زبانوں میں تراجم بھی رکھے گئے۔ جابجا خوبصورت آفاقیت، بین الاقوامیت کی روح لیے احادیث، قرآنی آیات، مختلف زبانوں میں با ترجمہ آویزاں تھیں۔
اسلامی تعلیمات کی تفہیم کے لئے 2 ہزار سے زائد تربیت یافتہ مبلغین و مبلغات ڈاکٹر ذاکر نائیک سمیت غیر مسلم شائقین کو تعلیم دینے کے لیے مساجد اور دیگر مقامات پر موجود تھے۔
دوحہ میں اذانوں کی گونج نے ایک سماں باندھے رکھا۔ 30 لاکھ آبادی میں 2 ہزار سے زائد مساجد، خوبصورت اذانیں، روح پرور قرات، رکوع و سجود! یکسر مختلف تہذیب دنیا کے سامنے آئی۔ پہلی مرتبہ مسلم ملک کو دنیا نے قریب سے دیکھا۔ حلال خوراک کا اہتمام بھی مسلمانوں کے لیے سہولت کا باعث رہا۔ قطر میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے شائقین مغربی ممالک میں ایسے مواقع کی طرح جیب تراشی یا لٹنے کی فکر سے محفوظ رہے، جس کا انہوں نے اعتراف کیا۔
مغرب صدیوں سے نفسیاتی بالادستی کے زعم کا شکار ہے اسی لیے قطر کی میزبانی پر انگلیاں اٹھائی گئیں اور حقوق انسانی پامال کرنے کا الزامات لگائے گئے۔ قطر میں ورلڈ کپ کے دوران اسلام کی دعوت پربھی تنقید کی جا رہی ہے سوال یہ ہے کہ جب اٹلی میں مسولینی کو ورلڈ کپ میں فسطائی ایجنڈے کی اجازت مل سکتی ہے تو قطر میں عالمی مقابلے کے دوران اسلامی تعلیمات کی تبلیغ پر سوالیہ نشان کیوں؟
فٹ بال کا اگلا عالمی مقابلہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہے۔ وہ امریکہ میزبانی کا مستحق گردانا گیا ہے جس نے عراق اور افغانستان پر لاکھوں ٹن بارود برسا کر انہیں کھنڈر بنا دیا۔ جہاں تک شراب نوشی پر پابندی کا معاملہ ہے تو قطر سے پہلے سکاٹ لینڈ 1980 ء میں انگلینڈ 1985 میں اسی طرح فرانس اور 2018 ء میں روس نے بھی عالمی کپ کے دوران سٹیڈیمز میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔ تو قطر میں پابندی عائد کرنے پر اس قدر واویلا کیوں؟ قطر نے فٹ بال کے عالمی کپ کے کامیاب انعقاد کے ذریعے عالمی امن و بھائی چارے میں اسلام کے مثبت کردار کو پیش کر کے دنیا پر ثابت کر دیا کہ پر امن بقائے باہمی کے لئے ایک دوسرے کی تہذیب و تمدن کا احترام کرنا سیکھنا ہو گا۔ قطر کے اس جراءت مندی نے دنیا کو پہلی مرتبہ تصویر کا دوسرا رخ دکھایا۔
پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی۔

