سانحہ بیلہ بلیک ڈے 19 دسمبر 2022


سانحہ بیلہ سے رات پہلے ایک ساتھی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ضلع خضدار فہیم بھائی کی فیملی سمیت جن میں ان کی زوجہ شامل تھی سو راب بلوچستان کے روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہونے کی خبر نے بوجھل کر دیا تھا گاڑی میں ان کے تین بچے اور فہیم کی والدہ بھی ساتھ تھیں جو ابھی تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں پھر اگلی صبح 19 دسمبر تک اسی کیفیت میں مبتلا تھا ایک اور جاننے والا قریبی دوست جس کا چند دن پہلے روڈ حادثہ ہوا تو ان کی صحت دریافت کی پھر فیلڈ ورک کے بعد دوپہر کا وقت تھا ہم تین ساتھی مجھ سمیت ایک صحافی ایک ایڈوکیٹ ایک سماجی ورکر اور ایک پولیس مین کے ساتھ بیٹھ کر سماجی برائیوں اور اس کے تدارک پر بحث جاری تھی جیسے ہی نشست برخاست ہوئی پتا چلا کہ شہر میں بازار سائیڈ آگ لگی ہے کئی لوگوں کے جھلس جانے کی اطلاع ہے۔

یعنی ایک غم پھر دوسرا غم پھر غم جہاں پھر شہر کا غم سارے ایک ساتھ سر پر سوار ہو گئے جائے واقعہ پر پہنچ کر دل خون کے آنسوں رونے لگا جتنی سکت تھی سماجی ورکر کی حیثیت سے اپنا کام شروع کیا جس میں پہلا کام رابطے کا تھا مزید جو گنجائش تھی جاری رکھا مگر ایسا منظر اپنے شہر میں میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا میں گزشتہ رات کا غم پھر اگلی صبح کا غم بھول کر اس نئے غم میں گم ہو گیا۔

سانحہ کی تفصیلات کچھ یوں تھی کہ ضلع لسبیلہ کی تحصیل بیلہ کے شہر جہاں کا میں خود رہائشی ہوں میں ال ہاشم مارکیٹ میں ایک گھریلو گیس سیلنڈر کی دکان پر مالک دکان کی غفلت کے باعث گیس لیکیج کی وجہ سے اچانک قریب میں ہوٹل کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے 26 کے لگ بھگ لوگ جھلس گئے جن میں ایک شخص موقع پر جاں بحق ہو گیا جس کی شناخت واقعہ کے 10 گھنٹے بعد ہوئی جبکہ باقی 8 افراد سول ہسپتال کراچی برنس ٹرامہ سینٹر میں چل بسے۔ مزید کی بھی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اللہ پاک اپنا کرم کرے۔ قیامت خیز منظر تھا جھلس جانے والے لوگ سارے ایک ہی سرکل پوائنٹ کے تھے کیونکہ سب کی دکانیں ایک ساتھ تھیں۔

واقع کی اطلاع سے لے کر فرسٹ ایڈ تک غفلت اور سہولیات کی عدم دستیابی کا ایک ایسا منظر جس نے اس دلخراش حادثہ کی وجہ سے ہونے والے نقصان میں مزید اضافہ کیا۔ آگ پر گھنٹوں بعد قابو پایا گیا جس میں پوری لسبیلہ کی انتظامیہ بالخصوص بیلہ کی انتظامیہ مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ اس کی ایک وجہ انتظامیہ پر موقع پر نہ پہنچنا اور اس کے علاوہ پہنچ کر خاطر خواہ اقدامات نہ کرنا شامل ہے۔ جبکہ سب سے پہلا سوال آیا شہری آبادی میں پٹرول پمپس اور نان اتھورائز گیس سپلائرز کو اجازت کیوں دی آخر ایسی کون سی قوتیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ بغیر لائسنس کے اس قسم کے کاروبار سرے بازار کرتے ہیں پھر غفلت۔ کے باعث ایسے سانحات رونما ہوتے ہیں۔ البتہ میں اسسٹنٹ کمشنر بیلہ اور چند سماجی نوجوانوں اور باشعور شہریوں کی ہمت کو داد دوں گا کیونکہ انہوں نے محدود وسائل رہتے ہوئے کسی حد تک اپنا فرض نبھایا۔

واقع سے سول ہسپتال بیلہ جو خود برسوں سے کسی سانحہ کا شکار ہو جیسے کا فاصلہ چند سو میٹر تھا مگر سول ہسپتال خود ایک سوالیہ نشان ہے جہاں پر فرسٹ ایڈ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے عملے کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہسپتال ہے اور یہ آج سے نہیں سالوں سے اسی طرح ہے یاد رہے یہ موجودہ حکومت کے سابقہ وزیراعلی بلوچستان نواب جام کمال خان کا آبائی شہر ہے جو ابھی تک ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان ہیں جہاں ہسپتال کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے مگر صاحب جیسا ایماندار عوام کا درد رکھنے والا آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ کیونکہ صاحب میں عملی اقدامات کے علاوہ باتوں تقاریر کی حد تک تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔

مزید اذیت ناک بات یہ ہے کہ پاکستان بھر میں سانحات حادثات پر تو سیاست کی جاتی ہے اور یہ سیاسی پروفیشن سمجھا جاتا ہے مگر لسبیلہ میں تاحیات برسر اقتدار دو قوتوں نے کبھی عوام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ ضلع لسبیلہ کی تحصیل بیلہ سیاسی سماجی حوالے سے الگ ایک مقام رکھتی ہے مگر جہاں تک بات اس کی ترقی کی ہو خواہ وہ شعبہ صحت کے حوالے سے ہو شعبہ تعلیم کے حوالے سے ہو یا کسی بھی حوالے سے نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں مگر یہ وجوہات میرے موضوع کا حصہ نہیں ہیں اسی لیے بات کر کے آپ لوگوں کو وقت ضائع نہیں کروں گا۔

اگر سول ہسپتال بیلہ کی بات کی جائے تو ہمارے شہر کا یہ اکلوتا ہسپتال اس لحاظ سے مشہور ہے کہ یہاں نارمل مریض کو بھی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کراچی ریفر کیا جاتا ہے یہ تو بہت بڑا سانحہ تھا بہرحال اگر ہسپتال میں سہولیات ہوتی تو اس قدر جانی نقصان نہ ہوتا یہ میرا اندازہ ہے۔ بیلہ سے کراچی تقریباً تیز رفتاری میں بھی 2 : 30 گھنٹے کا سفر ہے ایک نارمل آدمی کے لیے بھی کراچی جانا دشوار ہوتا ہے یہ کیسے ممکن ہے 90 فیصد جھلس گیا ہوا انسان وہاں تک کیسے رسائی ممکن بناتا اور وہاں بھی ایمرجنسی میں ضروری نہیں فوراً آپ زخمی یا مریض کو ریلیف دے سکیں کیونکہ یہ دو الگ صوبوں کا معاملہ بن جاتا ہے جبکہ ایمبولینس سروس کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ گاڑیاں ہائر کرنے میں مزید وقت بھی لگتا ہے اور تب تک مریض کی تکلیف آخری حد تک جا پہنچتی ہے۔

بیلہ شہر میں ہونے والے سانحہ نے پورے لسبیلہ بلکہ بلوچستان بھر کی پبلک کو رنجیدہ کر دیا لواحقین کے لیے یہ سانحہ بھولنے کے قابل نہیں مگر عام شہریوں کو بھی یہ سانحہ سالوں یاد رہے گا کیوں کہ اس میں عام فرد سے لے کر حاکم وقت کی غفلت نمایاں ہے۔ سانحہ کے فوراً بعد علاقے کے نمائندوں کی جانب سے اظہار افسوس کے میسیجز دیکھ کر یہ دل اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ عام شہریوں کی زندگی ان کے لیے صرف اظہار افسوس تک ہے اقدامات یا سہولیات مہیا کرنے کے لیے نہیں۔

بیشک زندگی موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے مگر بیلہ جیسے پسماندہ شہر میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انسانی جانوں کے نقصان میں اضافہ ہوا ہے یہ بات ہر شخص جانتا ہے جو اتنا شعور رکھتا ہو کہ صحت کے لیے صحت سے منسلک سہولیات کا ہونا زندگی بچانے کے لیے کتنا اہم ہے۔ میری ارباب اختیار سے گزارش ہے خدارا اپنی آخرت پر رحم کھائیں اپنے بچوں کی خاطر اپنی آخرت کی خاطر سرکاری ہسپتال اپنی جگہ آپ لوگوں کے پاس عوام کے فنڈز سے خطیر رقم موجود ہے کوئی ایک اچھی ہسپتال ہی بنا لیں بیشک بزنس کے طور پر چلائیں مگر کم از کم ایسے سانحات میں آدھے مرے ہوئے لوگوں کو یہاں سے کراچی ریفر کر کے مکمل مرنے تک خوار ہونا نہ پڑے۔

بیلہ سے کراچی ریفر ہونے والے لواحقین اور زخمیوں کے حوالے سے بیلہ شہر سے نوجوان سیاسی و سماجی شخصیت بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو موجود تھے وہ بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو زخمیوں کو فوراً کراچی برنز ٹرامہ سینٹر سول ہسپتال کراچی لانے کا کہہ رہے تھے کیونکہ کراچی میں موقع پر لسبیلہ کی سیاسی شخصیات میں سے وہ واحد فرد تھے جو کراچی سول ہسپتال میں موجود تھے۔ بعد ازاں جناب جام صاحب جو موجودہ حکومت کے سابقہ وزیراعلی بلوچستان اور ایم پی اے ہیں وہ بھی زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے زخمیوں کی حال پرسی کی۔

جب کہ ان کی موجودگی کی ویڈیو کلپ بھی شیئر ہوئی ان کی جانب سے بڑی مؤدبانہ انداز میں خطاب سننے کو ملا اور ان کے ہمراہ موجود سننے والے بھی وہی لوگ جنہوں نے مجال ہے جی جی کے علاوہ کوئی بات کرنا سیکھی ہو یعنی کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جس نے اتنا بھی کہا ہو کہ جام صاحب اگر آپ نسلوں سے حکمرانی کے بدلے محض ایک اچھا ہسپتال ہی اپنے آبائی شہر میں بناتے تو نوبت یہ نہ آتی۔ بس اللہ خیر کرے گا کسی چیز کی ضرورت تو نہیں جی جی نہیں پھر سب بہتر ہو گا کے بعد جی جی سے ہوتا ہوا خطاب ختم ہوا کیونکہ سول ہسپتال میں نہ جام صاحب کی موقع پر بات سننے والوں کے بچے کبھی چیک اپ کے لیے گئے ہے نہ جام صاحب خود کیونکہ کسی جگہ یا ادارے کا اندازہ وہاں پر جانے سے یا کوئی کام ہونے سے ہوتا ہے۔

خیر وہ بے چارے بتا کر کیا کرتے کیونکہ جام صاحب کو بخوبی علم ہے کہ ان کے شہر میں ہسپتال کی صورتحال کیا ہے۔ بلکہ پورے ضلع میں سول ہسپتال کی صورتحال ایک جیسی ہے تحصیل بیلہ سے تحصیل حب تک اور برسر اقتدار رہنے والا ہر نمائندہ اس حالت زار کا ذمہ دار ہے۔ مگر اعتراف ایک لیڈر کرتا ہے سیاسی نمائندہ نہیں اور اپنی نا اہلی کا اعتراف کرتے یا ان کو عوام سے یا ان کے ہمراہ مسلسل موجود رہنے والے کرتے تو ایسی صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی۔

بس آخر میں میں بھی ایک سیاسی لیڈر کی طرح اپنے موضوع کا اختتام ان لفظوں کے ساتھ کروں گا کہ اللہ پاک بیلہ میں ہونے والے اس سانحہ میں شہید ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کو صبر و جمیل عطاء فرمائے آمین

 

Facebook Comments HS