سنہ 2011 سے 2022 تک کا سفر اور پچاس کا نوٹ۔


افریقی نژاد سندھیوں کو سندھ میں شیدی کہا جاتا ہے۔ جب سندھ کے آخری حکمران گھرانے ’تالپور‘ سے انگریزوں نے 1843 میں سندھ فتح کیا تو اس وقت فوج کے سپہ سالار شہید ہوش محمد تھے۔ وہ شیدی تھے ؛ اور انگریزوں کے خلاف جنگ میں مشہور زمانہ نعرہ لگاتے ہوئے شہید ہوئے کہ ”مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں!“ ( مر جائیں گے لیکن سندھ نہیں دیں گے ) ۔ 1849 تک پنجاب بھی فتح ہو گیا کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب کمزور ہو چکا تھا۔ اس طرح تاج برطانیہ کے قبضے میں پورا ہندستان آ گیا۔ ان تاریخی حوالوں کے ساتھ، میں آپ کو 2011 تک لانا چاہتا ہوں کیونکہ اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ تاریخی اذکار ضروری ہیں!

شیدی! حضرت بلال حبشی ؓ کی محبت میں اور حبشہ سے ممکنہ تعلق کی وجہ سے خود کو بلالی اور حبشی بھی کہتے ہیں۔ وہ حضرت امام حسین ؑ کے آزاد کیے ہوئے غلام قمبر سے محبت و نسبت کی وجہ سے قمبرانی بھی کہلاتے ہیں۔ شیدی کو سندھی میں ڈاڈا (دادا) بھی احترام و محبت سے کہتے ہیں۔ اک روایت ہے کہ حضرت آدم ؑ افریقہ میں اتارے گئے اور وہ پوری انسانیت کے ’دادا‘ ہیں، اس لئے افریقہ سے نسبت کی وجہ سے شیدی بھی دادا ہوئے۔

شیدی سندھ میں محبت، موسیقی، شجاعت، رقص، طنز و مزاح، علم، خدمت، جرات، غربت اور بیوسی کا دوسرا نام ہیں۔

مجھے انجنیئرنگ ورکشاپ کے بنیادی اسباق دینے والے میرے محترم استاد محترم قربان علی قمبرانی تھے۔ سندھ میں شیدی اب اک ذات کی طرح سماجی طور پہ سمجھی جاتی ہے، جیسے لغاری، سومرو، بھٹو، وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پیپلز پارٹی کا ذکر بھی کرلوں، پیپلز پارٹی کا جسم کچھ بھی ہو، لیکن اس کی روح غریب عوام اور پسے ہوئے طبقے کے غم ہیں اور وہ ان طبقات کو سیاسی نمائندگی دیتی ہے۔ محترمہ کرشنا کماری کا سینیٹر بننا اور محترمہ تنزیلہ قمبرانی (جو شیدی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں ) کا سندھ اسمبلی کا ممبر بننا اس بات کا ثبوت ہے۔ عملی طور پر عوام کی خدمت کے حوالے سے اس پارٹی کی قیادت سے کئی سخت اختلافات کر سکتے ہیں اور بنتے بھی ہیں۔

انسانی تاریخ کے کچھ زخم بہت گہرے اور سیاہ ہیں۔ سیاہ یا کالے رنگ کا استعارہ کئی درد و ظلم چھپائے اور ظاہر کیے دنیا میں صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ کالا تو صرف رنگ ہے، پتا نہیں اس کو کیا کیا نہ بنایا گیا۔ تھوڑا سا تاریخ کو کریدیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ سن 1400 سے لے کر 1900 تک براعظم افریقہ سے ہمہ وقت چار راستوں سے غلاموں کا بیوپار ہوتا تھا۔ سب سے بڑا ’بحر اوقیانوس کے پار‘ بیوپار تھا، جو یورپ کی بنائی ہوئی نئی کالونیوں (براعظم شمالی اور جنوبی امریکہ) کے لیے تھا۔

یہ بیوپار پندرہویں صدی میں شروع ہوا اور پانچ سو سال تک جاری رہا۔ دوسرا افریقہ کے صحارا ریگستان کے پار، جنوبی ریگستانی حصے سے شمالی افریقہ کی طرف، تیسرا بحر احمر کے راستے مشرق وسطیٰ اور برصغیر ہندستان کی طرف اور چوتھا بحرالہند کے ذریعے مشرقی افریقہ سے مشرق وسطیٰ اور ہندستان کی طرف! جب اس غلاموں کے بیوپار کے سیاسی، سماجی، تاریخی اور جغرافیائی حقیقتیں کھلتی ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ گوتم بدھ سدھارتھ آخر کیوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر انسانوں کو نروانہ کے لئے تیار کرتے ر ہے۔

اللہ کے محبوب حضرت محمد ﷺ نے اپنے آخری خطبہ مبارک میں بالکل واضح کر دیا کہ نہ گورے کو کالے پہ، نہ کالے کو گورے پہ، نہ عربی کو عجمی پر اور نہ ہی عجمی کو عربی پر فوقیت حاصل ہے۔ بس پرہیزگاری ہی کسی ایک کو دوسرے سے بہتر بناتی ہے۔ یہ آفاقی پیغام دنیا کو آج بھی اچھی طرح یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ اور تاریخ دانوں اور محققین کی باتیں آپ سے بانٹ لوں پھر اپنی اصل بات کی طرف چلتے ہیں۔ پیٹرمیننگ لکھتے ہیں ”1850 ع میں براعظم افریقہ کی جتنی آبادی تھی، اس سے سے دگنی ہوتی اگر یہ غلاموں کا بیوپار نہ ہوا ہوتا!“ اس سے ہمیں بہ آسانی اندازہ ہونا چاہیے کہ مبینہ تہذیب یافتہ دنیا کس طرح قہر بن کر براعظم افریقہ پر گری تھی!

1526 ع میں جب ظہیرالدین بابر نے دہلی میں آ کر مغل سلطنت کی بنیاد رکھی، اس سال افریقہ کے اک ملک کانگو کا بادشاہ ’افونوسو‘ پرتگال کو لکھ رہا تھا ”میری سر زمین میں کئی ٹولے ہیں جو غلاموں کے بیوپاری بن کر پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ میرے ملک کو بالکل برباد کر رہے ہیں، روزانہ لوگ اغوا کیے جا رہے ہیں اور غلام بنائے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ شاہی خاندان کے افراد کو بھی نہیں بخشا جا رہا !“ لیکن اک بادشاہ کی دوسرے بادشاہ نے بالکل بھی نہ سنی! بادشاہ افونوسو نے شاید سوچا ہو کہ جس طرح مہاراجہ پورس کی سکندر اعظم نے سنی تھی اس طرح اس کی بھی سنی جائے گی۔ بس کانگو کئی صدیوں تک برباد ہوتا رہا!

غلاموں کے بیوپار کی تاریخ پڑھتے ہوئے اس دؤر کی عدلیہ کے انصاف کے بھیانک سچ معلوم ہوئے! طاقتور لوگوں، حاکموں اور عدالت کی ملی بھگت میں کئی لوگوں کو کسی بھی جرم میں ملنے والی سزا کے تحت غلام بنایا جاتا تھا، اس وقت کی عدالت کے حکم پر! اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں دنیا میں جس تجارتی شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی تھی وہ غلاموں کا بیوپار تھا!

ساری دنیا کی طرح سندھ کے تالپور حاکموں نے بھی افریقہ کے غلام خریدے تھے اور ان کو اپنی خدمت اور کاموں کے لیے رکھ لیا تھا۔ سندھ کا روح یہاں اسلام آنے سے پہلے ہی صوفی تھا۔ حاکم ہندو تھے تو رعایا کی اکثریت بدھ مت! اسلام آیا تو ذات پات، رنگ و نسل کے بھاؤ بھید سے تو نکلنا ہی تھا۔ اور پھر صوفی رویوں اور رنگ کی وجہ سے ’غلام اور مالک میں وہ ظالم و مظلوم والا رشتہ نظر نہیں آتا۔

انگریزوں نے برصغیر میں اپنی طرز حکمرانی میں لقب و القاب، جاگیریں بانٹنا اور خود مختار ریاستیں بنانے کی اجازت دے کر اپنی حاکمیت کو مضبوط کیا۔ سندھ کے ہارے ہوئے وہ حاکم خاندان جو انگریزوں کو تنگ نہ کرنے یا وفادار ہونے کا وعدہ کیا اور وعدہ وفا کیا تو ان کو نواب کے القاب بھی ملے تو جاگیریں بھی واپس ملیں یا دی گئیں!

پاکستان بننے کے بعد سندھ کی سیاسی تاریخ دیکھی جائے تو تالپور خاندان کے سیاست دانوں نے روایتی سیاست کے ساتھ ساتھ عام سیاسی جدوجہد بھی کی ہے اور جیلیں بھی کاٹی ہیں۔ میر رسول بخش تالپور سے لے کر آج کے نواب یوسف تالپور تک، ہمیں کئی کہنہ مشق، اعلیٰ پائے کے سیاستدان ملیں گے۔

آپ کو یاد دلانا تھا کہ جیسے سندھ 2022 میں ڈوبا ایسے ہی شہید بے نظیر آباد سے لے کر بدین تک 2011 میں ڈوبا تھا! میں اک نواب صاحب کے ساتھ، جو ان دنوں ممبر قومی اسمبلی تھے، اور اپنے حلقے سے پانی نکالنے کے لئے دن رات اک کیے ہوئے تھے، اک گاؤں کے نزدیک پہنچے۔ ہم پانی کو راستہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ پانی کو پمپنگ کے ذریعے، سیم نالوں اور دیگر نیکال کے راستوں تک ہانک کر پہنچایا جا رہا تھا! میں کسی سرکاری ذمے دار ادارے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے پانی کی نکالی کے عمل کی نگرانی کر رہا تھا۔

حکومت سندھ کی ہدایات کے مطابق جلد سے جلد پانی نکالنے کے لیے کئی لوگ اور محکمہ تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ 2022 کی طرح وہاں کے لوگوں کا خریف مکمل تباہ ہو چکا تھا، لوگوں کے روزی روٹی اور آمدن کے ذرائع ختم ہو چلے تھے۔ جلد پانی نکلنے کی صورت میں ہی ربی کا فصل (زیادہ تر گندم) ممکن ہو سکتا تھا اور وہ اپنی زندگی کی طرف لوٹ سکتے تھے۔ ہم نواب صاحب کی نگرانی میں گاؤں میں پہنچے گاؤں کے باہر اک بڑا مجمع اکٹھا ہو چکا تھا، ڈوبے ہوئے گھروں کے وارث اور ڈوبی ہوئی زمینوں کے مالک یا ہاری، مزدور، محنت کش، کچھ سرکاری نوکریوں والے۔

اس مجمعے کو حوصلہ دلانے کے لیے، نواب صاحب نے خطاب کرنا مناسب سمجھا۔ یہ ان کے اپنے ہی لوگ تھے جن کو وہ اچھی طرح سے جانتے تھے : ”دیکھیں، ہم اچھی طرح جانتے ہیں آپ تکلیف میں ہیں۔ آپ بھروسا کریں۔ ہم آپ کے لیے سب کچھ کریں گے۔ آپ کو سب کچھ دیں گے!“ وہیں اک نہر کنارے، آدھا بھیگا اک شیدی جس کی قمیض پھٹی ہوئی تھی اور دھوتی پہنی ہوئی تھی جو اس کے گھٹنوں سے نیچے جانے کے لئے ناکافی تھی۔ اس نے للکار کر کہا ”نواب صاحب! آپ ہمیں کیا دیں گے؟ آپ کے پاس ہمیں دینے کے لیے ہے ہی کیا؟ کچھ بھی نہیں! “ نہ ہی آپ میں اتنا دل ہے اور نہ ہی خواہش کہ کچھ دیں! ”اور اس آخری دو جملے تھے“ آپ ہمیں دے ہی نہیں سکتے۔ ہمیں اللہ دے گا۔ ”

وہ گرجدار اور چونکا دینے والی للکار تھی۔ اک لمحے کے لئے لگا کہ شاید ہوش محمد شیدی نے انگریز کو اس طرح ہی للکارا ہو گا! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہاں عجیب خاموشی چھا گئی تھی۔ اتنے لوگوں کی آوازیں، بہتے پانی کا شور اور چلتے ہوئے موٹر جیسے بند سے ہو گئے تھے! اک غلام اک مالک کو، اک راہ چلتا ہوا کمی اک نواب کو، اک ادنیٰ اک حاکم کو کس طرح للکار سکتا ہے؟!“ کسی نے کہا ”سائیں نواب صاحب، اور گاؤں میں بھی جانا ہے، حکم کریں تو وہاں چلیں“ اور ہم سب نواب صاحب کی سربراہی میں وہاں سے چل دیے۔

پھر ہم 2022 تک آ گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ محترم شیدی کہاں ہے۔ لیکن وہ علاقہ اور لوگ اب تک شاید 2011 کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور وہ للکار اب تک ہر طرف گونج رہی ہے۔ ”نواب صاحب! آپ ہمیں کیا دیں گے؟ آپ ہمیں کچھ دے ہی نہیں سکتے۔“ وقت جیسے ان لوگوں اور علاقہ کے لیے ٹھہر سا گیا ہے! لیکن محترم شیدی کون بتائے، کون دکھائے وہ وڈیو جو پورے پاکستان میں اور شاید باہر کی دنیا میں بھی وائرل ہوئی ہے 2022 میں! کوئی 50، 50 کے نوٹ ”اپنے مسکین اور فقیر بنے ہوئے لوگوں پر نچھاور کر رہا ہے! اور کوئی شاید کہہ رہا ہے“ کوئی ڈاڈا کو بتائے ہم کچھ دینے کے قابل ہو گئے ہیں! ”

اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل حوالات سے مدد لی گئی۔
· The long term effects of Africa ’s slave trade (Nathan Nunn)
· Slave and Slavery in Muslim Africa ( edited by Ralph Willis)

Facebook Comments HS