دیار غیر میں وطن کی خوشبو


یہ 2019 کی بات ہے جب پایاب یونیورسٹی، چیانگ مائی، تھائی لینڈ میں میری یعنی فرید احمد رضا اور گل محمد ابا سندھی (انڈس کوہستان) کی درخواست ایک مہینے پندرہ دن کے مختصر تعلیمی کورس ”مادر ٹانگ بیسٹ ملٹی لنگویل ایجوکیشن“ میں شرکت کے لیے منظور ہو گئی، اور کسی نہ کسی طرح خرچے کا بھی بندو بست ہو گیا یعنی کہ سپانسر شپ مل گئی۔ تو ہرطرف سے اطمینان کرنے کے بعد یہ خیال آیا کہ تھائی لینڈ ایک غیر مسلم ملک ہے، اس میں ہمارے کھانے پینے کا انتظام کیا ہو گا۔ کیونکہ کورس منتظمین کی طرف سے ہمیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا صرف دو پھر کا کھانا ان کی طرف سے ہو گا اور کورس منتظمین کے پوچھنے پر ان کو حلال فوڈ کے بارے میں بتا بھی دیا تھا۔

اب مسئلہ شام کے کھانے اور ناشتے کا تھا۔ تو اس پریشانی کا ذکر ایک دوست محمد زمان ساگر سے کیا، جو تھائی لینڈ چیانگ مائی سے ہو کر آیا تھا۔ تو اس نے ہمت بندھائی کہ چیانگ مائی میں حلال فوڈ کا کوئی مسئلہ نہیں۔ حلال کھانے ہر جگہ مل جاتے ہیں اور ساتھ دو ایڈریس بھی دیے۔ جن میں ایک پشاور ہوٹل کا اور دوسرے حلال فوڈ سٹریٹ کا تھا۔ اگر رہائش ان علاقوں کے قریب ہوئی، تو ان دو جگہوں سے حلال فوڈ ہر وقت دستیاب ہوتی ہے۔

21جون 2019ء اسلام آباد ائرپورٹ سے روانہ ہوئے، تین فلائیٹ بدل کر چیانگ مائی پہنچے۔ راستے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی کہ اسے پہلے بھی بیرونی ملک سفر کرچکے تھے۔ ائر پورٹ سے اتر کر لوکل بس کے ذریعے 22 جون کو رات دو بجے سی ایچ ہوٹل انوسان مارکیٹ پہنچے، جو پہلے ہی سے بک تھی۔ رات کو دیر سے ہوٹل پہنچے تھے، اس لیے دو پھر کو تقریباً ًبارہ بجے اٹھے۔ میں اور گل نہا دھوکر سب سے پہلے ان دو جگہوں پشاور ہوٹل اور حلال فوڈ سٹریٹ کے بارے میں جاننے کا فیصلہ کیا۔

تاکہ کچھ کھا پی سکیں، ریسپشن کونٹر میں آ کر پشاور ہوٹل، انوسان مارکیٹ اور پھر حلال فوڈ سٹریٹ کا پوچھا، تو ہمیں بتایا گیا۔ یہ ہوٹل جہاں ہماری رہائش ہے انوسان مارکیٹ کے اندر ہی ہے، پشاور ہوٹل بالکل ساتھ ہی ہے اور حلال فوڈ سٹریٹ اس ہوٹل سے کچھ منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمارا کورس پایاب یونیورسٹی میں ہونا طے تھا جو یہاں سے کافی دور ہے۔ لیکن کورس حاضرین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کو سی ایچ ہوٹل، انوسان مارکیٹ میں منتقل کیا جا چکا تھا۔

ہم نے پہلے پشاور ہوٹل جانے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ایک پاکستانی سے مل کر ان سے رہنمائی حاصل کریں۔ جب ہم ہوٹل سے باہر نکل کر مارکیٹ میں پہنچنے، تو پوری مارکیٹ کو بند تھی۔ پشاور ہوٹل پہنچنے تو یہ بھی بند تھا۔ پریشان ہو کر ادھر ادھر گھوم کر بھی کوئی اندازہ نہیں لگا سکے، یہ پوری مارکیٹ بند کیوں ہے۔

انوسان مارکیٹ سے باہر نکل کر جب ایک بندے سے حلال فوڈ سٹریٹ کا پوچھا تو اس شخص نے اپنی انگریزی پکی کرنے کے لیے کافی تفصیل سے ہمیں بتایا۔ تو ہم اس ڈائریکشن کی طرف چل دیے۔ اگے جاکر دیکھا تو ایک گلی کے شروع میں ہی عربی سکرپٹ اور انگریزی دونوں زبانوں میں بڑا کر کے حلال فوڈ سٹریٹ لکھا ہوا تھا۔ تو ہم خوشی سے اس گلی میں دخل ہوئے۔ شروع میں ہی مسجد کے مینار نظر آئے۔ اس گلی میں بہت سارے ہوٹل موجود تھے، اگے جاکر ایک ہوٹل میں بیٹھ گئے، جس میں ایک جوان سال لڑکی نقاب پہن کر مہمانوں کو سرو کر رہی تھی۔ تو اس نے مینو ہمارے سامنے کردی۔ ہم نے مینیو دیکھ کر آرڈر دے دیا۔ کیونکہ اس مینیو میں انگریزی میں نام دیے ہوتے ہیں اور ساتھ سالن کی تصویر کے ساتھ تھوڑی بہت معلومات بھی ہوتی ہے کہ یہ سالن کس چیز سے بنا ہوا ہے۔

ہم نے چاول کا آرڈر دیا۔ فرائیڈ چاول کے ساتھ چکن پیس کا بغیر ہڈی کا ایک ٹکڑا، ساتھ چکن یخنی میں کچھ دیسی چیزیں ملا کر پیش کیے۔ یہ الک بات ہے شروع کے کچھ دن ہم سمجھ ہی نہ سکیں کہ چاول کے ساتھ یہ گرم پانی ہے یا یخنی۔ اس طرح ہم کھانا کھا کر اطمینان کے ساتھ اپنے ہوٹل واپس آ گئے کیونکہ ہمارے رہائشی ہوٹل کے ساتھ ہی حلال فوڈ سٹریٹ ہونے سے کھانے کا مسئلہ حل ہو گیا تھا۔

اس دن ہم دوبارہ عصر کے 6 بجے انوسان مارکیٹ پشاور ہوٹل پہنچے، تو ہوٹل کھلا ہوا تھا اور ایک انگریز ٹائپ کا سرخ چٹا بندہ ہوٹل کے سامنے کھڑا تھا۔ ہم وہاں پر جاکر سلام کے بعد بتایا کہ ہم پاکستان سے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ چائے پلائی، گپ شب ہوئی۔ جب ہم نے صبح کے وقت مارکیٹ کے بند ہونے کا بتایا۔ تو اس نے ہنس کر کہا کہ یہ انوسان مارکیٹ نائٹ بازار ہے۔ چیانگ مائی سیاحوں کی وجہ سے آباد ہے۔ دن کو سیاح گھومنے چلے جاتے ہیں ان کو خریداری کا وقت نہیں ملتا۔ اس وجہ سے تھائی لینڈ میں بہت سارے مارکیٹ ایسے ہیں جو سیاحوں کی آسانی کے لیے سہ پھر کو پانچ بجے کے بعد سے لے کر پوری رات کھلے رہتے ہیں، اور دن کو پوری مارکیٹ بند رہتی ہے۔ پھر ظفر اقبال بھائی نے ہمیں بتایا کہ ان کا یہ ہوٹل بھی عصر کے وقت ہی کھلتا ہے۔ اپنے ایک دوسرے ہوٹل کا بتایا کہ وہ نائٹ بازار کے ایریا سے باہر ہے اور دن رات کھلا ہوتا ہے۔

ظفر اقبال بھائی ہنس مکھ اور پیارا انسان ہے پہلے ملاقات میں ہی اپنا گرویدہ بنا دیا۔ اس طرح چیانگ مائی میں پہلا دن ہی ہمیں ایک ٹھکانہ پشاور ہوٹل کی صورت میں مل گیا۔ اس کے بعد کلاس سے فارغ ہونے کے بعد ہم ظفر اقبال بھائی کے پاس آنے لگے اور اپنی مرضی سے پاکستانی اور تھائی حلال خوراک انجوائے کرنے لگے۔

پشاور ہوٹل کا اونر ظفر اقبال بھائی گورا چٹا، جوان، دیکھنے سے پٹھان لگتا ہے لیکن تعلق پنجاب کے کھاریاں سے ہے۔ پشاور کے نام سے دو ہوٹل چلاتے ہیں خوش باش، با اخلاق ہیں۔ اللہ نے کاروبار میں برکت دی ہے اپنا گھر اور کرائے پر بھی پراپرٹی دی ہوئی ہے۔ خوش حال زندگی گزارتے ہیں۔ تیس سال سے زیادہ کا عرصہ یہاں چیانگ مائی، تھائی لینڈ میں گزارا ہے، شادی بھی یہاں سے کی ہے۔ لیکن گاؤں کی روایتی مہمانداری کی روایت برقرار رکھا ہے۔ پیار سے ہنس کر جو گفتگو کا آغاز کرتا ہے تو دل کرتا ہے بندہ سنتا جائے۔ کٹر مذہبی ایسا کہ چیانگ مائی شہر میں ہوٹل کا کاروبار کرنے کے باوجود بھی ہوٹل میں دارو وغیرہ رکھنے سے پرہیز کرتا ہے۔

اچھی بات یہ تھی کہ چیانگ مائی میں پشاور ہوٹل، یہاں میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ چیانگ مائی میں بہت سارے پاکستانی رہتے ہیں جو سارے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق خیبر پختونخوا، خاص کر کے سوات، بشام، مانسہرہ کے علاقوں سے ہیں۔ ان میں بہت سارے لوگ میرے دوست گل محمد کے کلی وال نکلے۔ اس طرح شام کو پشاور ہوٹل میں بیٹھک معمول بنتا گیا، اور ہم دیار غیر میں وطن کے مزے لیتے رہے۔

بات پشاور ہوٹل میں گپ شپ سے شروع ہو کر تعلق دوستی میں بدل گئی جب ہم کلاس سے فارغ ہو کر 4 بجے پشاور ہوٹل نہ پہنچتے تو دوستوں کے واٹس اپ کالز شروع ہو جاتے۔ جو دوست ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتے ان میں چوہدری محسن بھائی، ان کا کپڑوں کا کاروبار ہیں بیوی بچے بھی ساتھ ہیں۔ خوشحال زندگی ہے، یار باش بندہ ہے، جہاں دل چاہے گاڑی سٹارٹ کر کے اسی طرف چل دیتے ہیں۔ اس گروپ میں واحد آدمی ہے ڈنکے کی چوٹ پر ن لیگ کو سپورٹ کرتا ہے۔

سیف خان بھائی کا تعلق بشام سے ہے، گوشت کا کاروبار ہے۔ اللہ نے گھر، گاڑی دولت سب کچھ دے رکھا ہے۔ شادی بھی چیانگ مائی ہی میں کیا ہے۔ شیر خان کا تعلق صوابی سے ہے۔ شیر خان بھائی کھلا کاروبار کرتے ہیں تھائی لینڈ میں گھوم پھر کر چھوٹی موٹی چیزیں بیچتے ہیں۔ پورا تھائی لینڈ چھان مارتے ہیں ہمیں بھی دعوت دی کہ آئیں میں آپ کو پورا تھائی لینڈ گھماؤں۔ لیکن ہم ساتھ نہ دے سکیں۔ صفدر اقبال، ظفر کا چھوٹا بھائی ہے ہوٹل میں ساتھ ہوتا ہے۔ خوش گفتار اور گپ شب والا بندہ ہے۔ جب تک ہم چیانگ مائی میں رہے ہمارے لیے گائیڈ کا کردار ادا کیا۔

کورس کے دوران ہفتہ اور اتوار کو ہماری چھٹی ہوتی تھی پہلے ہفتے ہی میں نے  اور گل محمد نے پلان بنایا کہ ہفتہ وار چھٹیوں میں ہم چیانگ مائی شہر کی سیر کریں گے۔ اس طرح ہمارے قیام کے پہلے ہفتے کو پشاور ہوٹل نمبر 1 میں مدعا یہ تھا کہ کھانا کھانے کے بعد ظفر اقبال بھائی سے رہنمائی لے کر گھومنے نکلیں گے۔ ظفر بھائی ایک اور پاکستانی دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ دو پھر کا کھانا ساتھ کھانے کے بعد ہم نے اپنا مدعا بیان کیا تو ظفر اقبال بھائی نے پوچھا آپ میں سے کوئی موٹر سائیکل چلا سکتا ہے۔

تو ہمارا جواب نفی میں تھا۔ اس نے کہا اگر موٹر سائیکل چلا سکتے تو موٹر سائیکل حاضر تھا۔ اس پر آرام سے شہر شہر، گلی گلی گھومتے، کیونکہ وہاں پر ٹیکسی کا کرایہ کافی مہنگا ہے۔ تھوڑی دیر اور گپ شپ لگانے کے بعد ظفر بھائی نے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست محسن بھائی سے کہا یار چلو گاڑی نکالو، گھومنے چلتے ہیں۔ ہم نے کہا ظفر بھائی ہم فارغ لوگ ہیں، آپ تو کاروبار کرتے ہیں اپنا وقت ضائع مت کریں۔ ظفر بھائی نے ہنس کر صرف اتنا کہا کہ بھائی ہم بھی فارغ ہیں۔

اس طرح ظفر اقبال بھائی، چوہدری محسن، گل محمد اور میں گھومنے نکل گئے، اور چیانگ مائی شہر کے قریب ایک گھنٹے کی مسافت پرایک خوبصورت جگہ میں پہنچ گئے، جہاں پر ڈیم بن رہا تھا، نام یاد نہیں رہا، یہاں کے نام کافی مشکل ہیں۔ اس کے بعد یہ معمول بن گیا کہ شام کو پشاور ہوٹل میں بیٹھک لگتی اور ہفتے اور اتوار کو ایک ساتھ مل کر کہیں نہ کہیں گھومنے نکل جاتیں۔ کبھی چوہدری محسن اپنی گاڑی لے کر آ جاتا اور کبھی سیف خان بھائی ویگو لے کر پہنچ جاتے، کبھی کوئی اور آ جاتا۔ اس طرح چیانگ مائی شہر اور مضافات میں بہت سارے علاقے دیکھ لیے۔ جس میں سیاحتی مقامات سے لے کر میوزیم تک اور مذہبی مقامات سے لے کر یونیورسٹی تک شامل تھے۔ یہ ان دوستوں کی مہربانی ہے جو دیار غیر میں رہ کر بھی گاؤں کا پیار، مہمان نوازی اور خلوص کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

چیانگ مائی میں قیام کے دوران سارے دوستوں نے اپنے اپنے گھروں میں دعوتیں کی۔ تھائی خوراک سے لے کر پاکستانی مٹن کڑاہی تک سب کچھ کھلائیں۔ جب تک ہم چیانگ مائی میں رہے۔ ظفر بھائی کی طرف سے دو وقت کا پاکستانی کڑک چائے، مفت میں ملتی رہی۔ ہمارے لیے پاکستانی روٹی گھر سے بھی پکا کر لاکر کھلاتے رہیں۔ کیونکہ یہ روٹی تھالینڈ میں ہر جگہ دستیاب نہیں ہے۔ اگر ہیں بھی تو بہت مہنگی ہے۔ ہمارے لیے پاکستانی خوراک تیار کرتے اور تھائی ڈش بھی خصوصی اہتمام کے ساتھ بناتے اور تھائی خوراکوں کے بارے میں ہمیں آگاہ کرتے کہ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا۔

دیار غیر میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد یہ بھی ہمیں پتہ چلا کہ کھانے میں حرام و حلال کے علاوہ بھی ثقافتی ٹسٹ کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ ہم نے بہت سارے حلال فوڈ وہاں کے کھائے۔ لیکن مزہ اسی میں تھا جو پاکستانی فوڈ تھے، جس کے ذائقے سے ہم واقف تھے۔ اس لیے پشاور ہوٹل اور ظفر اقبال بھائی یہاں پر موجود نہ ہوتے تو ہم حلال فوڈ کھا کر بھی بہت بدمزہ ہوتے۔

چیانگ مائی میں ہر ایک پاکستانی سے مل کر ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ وہ ہم سے اچھے پاکستانی ہیں ان کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے اور دیار غیر میں رہ کر بھی پاکستان کے لیے ہم سے زیادہ فکر مند ہیں۔ یہیں بات ہے۔ دیار غیر میں رہنے والوں کی اکثریت پی ٹی آئی کی پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ خان صاحب کے دیوانے ہیں، کیونکہ ان کو صرف خان صاحب کی تقریروں سے واسطہ پڑتا ہے، زمینی حقائق کا ان کو پتہ نہیں ہے۔ ٹی وی پروگرام بھی اے آر وائی کے دیکھتے ہیں۔

اس ٹی وی کی رپورٹنگ کو یہ لوگ پتھر پہ لکیر سمجھتے ہیں۔ چیانگ مائی میں رہنے والے سارے پاکستانی خوشحال ہیں، اپنا کاروبار کرتے ہیں اور یہاں پر ان کی ریپوٹیشن بھی اچھی ہے۔ جب ہم پاکستان سے تھائی لینڈ روانہ ہوئے تھے، تو پریشان تھے کہ اتنے دن وہاں پر کیسے گزاریں گے۔ لیکن ان دوستوں کی صحبت میں یہ دن ہمیں بہت تھوڑے لگے اور بہت جلد ہنسی خوشی گزار گئے۔ 45 دن گزار کر جب ہم 3 اگست کو چیانگ مائی ائرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے تو یہ سارے دوست ہمارے ساتھ تھے۔ ائرپورٹ میں ان دوستوں کو الوداع کہہ کر بورڈنگ کی طرف جاتے ہوئے ہمیں یوں لگا کہ ہم دیار غیر نہیں بلکہ اپنوں کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ آج دو سال بعد جب تھائی لینڈ کے بارے میں معلومات اور یادوں کو جوڑنا چاہا، تو سب سے پہلے یہ دوست یاد آئے۔

Facebook Comments HS