سیاسی تاریخ کی المناک شہادت


پاکستان کی سیاست عسکریت پسندی مذہبی جنونیت اور اقتدار کی ہوس سے آلودہ ہے برصغیر پاک و ہند کی سیاست کو مذہبی جنونیت عسکریت نے شدید نقصانات سے دوچار کیا ہے اس عسکریت پسندی اور جنونیت کی ہاتھوں خطے کی عظیم رہنماؤں کی شہادتیں واقع ہوئے دنیا بھر میں مقبول سیاست دانوں کی فہرست تیار کی جائے تو بھٹو خاندان کے افراد اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں رہیں گے بینظیر بھٹو کا نام دنیائے سیاست میں ایک ممتاز اور اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔

سیاسی شخصیات کا الگ الگ مطالعہ کیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ وہ اپنے لیے ایک الگ فہرست بنانے کی مستحق ہیں اور یہاں تک کہ بینظیر بھٹو اپنی نام کی طرح بے نظیر ہیں اور اس کی نظیر ہمیں عالمی سیاست میں کہیں نہیں ملتی۔ بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، ان کی شاندار اور دلکش شخصیت نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ ذہین اور پرکشش نوجوان لڑکی جو ہر قدم پر آگے آنے والی رکاوٹوں اور مشکلات سے بخوبی واقف تھی۔

یہاں تک کہ وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف تھی کہ اس نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا اس میں جان کی بازی لگانی ہے۔ ان کے خاندان کا شمار ملک کے خوشحال ترین خاندانوں میں ہوتا تھا ان کے دادا مسٹر شاہنواز بھٹو نے ریاست جونا گڑھ کے وزیر اعظم کے طور پر حکومت کی تھی اور ان کے والد ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم بنے تھے اس سے پہلے وزیر تجارت کے طور پر کام کیا تھا اور بعد میں بحیثیت وزیر خارجہ اہم کارنامے سرانجام دیے تھے بھی تھا بچپن اور نوجوانی میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ سب کچھ دیکھی۔

اس نے نہایت لگن سے ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں میں تعلیم مکمل کی۔ اپنی تعلیم کے دوران اس کا مقصد ایک سفارت کار کے طور پر اپنے کیریئر اور عملی زندگی کا آغاز کرنا تھا اور اس وقت ان کا سیاست میں آنے کا کوئی خیال نہیں تھا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، جون 1977 میں وطن واپسی کے صرف دو ہفتے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ عزم و ہمت اور بہادری کی مثال شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی کے دوران لاتعداد مصائب اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا جس میں ان کے والد بھائیوں کے شہادت کی پراسرار دردناک صدمے بھی شامل ہیں جو ان کی زندگی کی سمت بدلنے کے لیے اہم ثابت ہوئے۔

والد کی شہادت کے بعد ایک نہتی لڑکی کا صبر ہمت حوصلہ دیدنی تھا اس نے مشکل وقت میں اپنی والدہ کے ساتھ مل کر جیالوں کو سنبھالا مشکلات کا جوانمردی سے مقابلہ کر کے تاریک رات میں روشنی کی کرن ثابت ہوئی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو اپنی زندگی میں 5 جولائی 1977 سے 27 دسمبر 2007 تک مسلسل وہ عوامی حقوق کی جنگ میں آمروں وقت کی یزیدوں سے لڑتے ہوئے میدان میں شہادت نوش کی بینظیر کی زندگی کا ہر پہلو جدوجہد کی علامت ہے وہ اپنی خوشیاں ملک و قوم پر لٹائے اور بے حساب مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھی اس نے طے کردہ منزل کی جانب سفر جاری رکھی۔

وہ جیلوں اور عدالتوں بدترین آمریتوں سے لڑتے رہے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا ایک نازک پھول جیسی نوجوان لڑکی کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتی انھوں نے جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کی اس کی زندگی ہر سیاسی کارکن کے لیے طلوع آفتاب کی روشنی سے عبارت ہے سکھر جیل کے بارے میں محترمہ کہتی ہیں ”انتہائی گرم موسم نے اس کے سیل کو تندور میں تبدیل کر دیا تھا۔ میری جلد پھٹ چکی تھی اور مجھے گرم چادروں پر ہاتھ رکھنا پڑا میرے چہرے سے پسینہ بہہ نکلا میرے بال جو بنیادی طور پر ہمیشہ سے گھنے تھے گرنے لگے اور میری مٹھی میں آ گئے کیڑے مکوڑے میرے ارد گرد اندھیرے کوٹھری میں گھومتے تھے جیسے کسی قابض فوج کے سپاہی مقبوضہ ریاست میں پھیل جاتے ہیں مکھیاں مچھر اور دوسرے حشرات الارض چھت سے گر کر مجھے ڈنک مارتے تھے جس سے بچنے کے لیے میں خیمے کی چادر سے سر ڈھانپ کر راتیں جاگ کر گزارتا تھا اور جب اس چادر کے نیچے سانس لینے میں دقت ہو جاتی تھی تو دل دہل جاتا تھا اور جب میں نے اسے اپنے چہرے سے ہٹایا تو کیڑے مجھ پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھے یہ سطریں ان کی اپنی کتاب“ دختر مشرق ”سے لی گئی ہیں وہ قید کے ان دنوں کو اپنی زندگی کے بدترین دنوں کے طور پر یاد کرتی تھی۔

1984 میں جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے کان کا انفیکشن شدید حد تک بڑھ گیا تو انہیں علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دی گئی۔ ان دنوں 1984 سے 1986 کے دوران ان کے بھائی شاہنواز کی اچانک اور پراسرار موت ان کے لیے ایک صدمہ تھی جس پر وہ بمشکل چند دنوں کے لیے ان کی تدفین کے لیے پاکستان آئیں۔ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا اور اسی سال دسمبر کے بعد ضیاء الحق نے مارشل لاء اٹھا لیا اور بعد ازاں اپریل 1986 میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئیں جہاں لاہور ائرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اگر ہمیں استقبال کی ایسی کوئی مثال ملتی ہے تو اس کا موازنہ 18 اکتوبر 2007 کو ان کی دوسری جلاوطنی سے واپسی کے بعد ان کے دوسرے استقبال سے کیا جاسکتا ہے۔ 1986 میں واپسی پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں اپنے والدہ کی ساتھ شریک چیئرمین کے طور پر کام کیا اور 1988 میں انہوں نے پارٹی کی تنظیم نو کی۔ ضیاء الحق کی موت کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو پہلی بار وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور عالم اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم بن کر دنیا کو حیران کر دیا۔

لیکن صرف 18 ماہ بعد اگست 1990 میں ان کی حکومت ایک سازش کے نتیجے میں ختم کروا دیا۔ 1993 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی اور دوسری مرتبہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں امریکی سامراج کی جانب سے انھیں ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کا کہا پروگرام جاری رکھنے کی صورت میں انھیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کی دھمکی دی گئی مگر بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے شروع کردہ ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے سے صاف انکار کیا۔ ان کو 20 ستمبر 1996 کی آخری ڈیڈ لائن دی گئی اور ڈیڈ لائن پورے ہوتے ہی اسی دن ان کے بڑے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو ستر کلفٹن میں ان کے گھر کے سامنے ریاستی پولیس کے ہاتھوں قتل کروا کر قتل کا الزام بھی اس پر لگا دیا اور 5 نومبر 1996 کو اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے 258 ٹو بی کا استعمال کیا اور دوسری بار ان کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف لاتعداد ریفرنس دائر کیے گئے۔ عدالت پر عدم اعتماد اور ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف ریفرنسز کی میں کینگرو کورٹس سے نا انصافی کے سبب ایک بار پھر جلاوطنی اختیار کی۔ اس کے بعد 2007 تک اس نے جلاوطنی کی زندگی گزاری اور 18 اکتوبر 2007 کو وطن واپسی کا اعلان کیا لیکن اس کے تمام ساتھیوں نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی پرواہ نہیں کی۔

پاکستانی قوم سے بے پناہ محبت کی وجہ سے واپسی کے لیے رخت سفر باندھ لیا اور بتایا کہ ان کی زندگی اور موت دونوں پاکستانی عوام کے لیے ہیں ان کی تمام خواب قوم کی ترقی ملک میں جمہوریت کی بحالی سے وابستہ ہیں۔ ان کی بہن صنم بھٹو نے انھیں خبردار کیا کہ ان کے بچے بہت چھوٹے ہیں اس لیے وہ انہیں نہ چھوڑیں۔ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے صرف 3 بچوں کو چھوڑ کر جا رہی ہوں لیکن پاکستان میں لاکھوں بچے میرے منتظر ہیں اور میری واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں لوگوں کی امیدیں مجھ سے وابستہ ہیں

پھر 18 اکتوبر 2007 کو اپنے جلاوطنی کو ختم کر کے واپس وطن پہنچی تو عوامی سمندر نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے محبوب قائد دختر مشرق ذوالفقار علی بھٹو کی پنکی کا تاریخی استقبال کر کے اپنے پاکستانی قوم ہونے ثبوت دے کر پورے جہاں کو اپنے قوم ہونے کا ایک جھلک دکھایا مگر امریکی سامراج اور سامراج کی دلال عوام کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر گھبرا گئے سامراجی قوتوں نے رات کی تاریکی میں خودکش دھماکے کر کے بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی ایک ناکام کوشش کی ان دھماکوں میں سینکڑوں جانثاروں نے جانیں دے کر اپنے قیادت پر قربان ہوئے سیاسی دنیا حیران تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے اپنے قائد اور نظریہ کے لیے آج بھی جانیں قربان کرتے ہیں اب بھٹو کا انقلاب ادھورا نہیں رہے گا بینظیر بھٹو اپنے والد کی مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر رہے گی ایسے جانثار ساتھی دنیا کی کسی سیاسی پارٹی کی لیڈر کو نصیب نہیں ہوئی جو اپنے نظریے اور قیادت کے لیے لاکھوں کہ تعداد میں نکلیں اور سینکڑوں کی تعداد میں جانیں قربان کریں۔

سامراجی قوتوں اور سامراج کی گماشتوں نے فیصلہ کیا ہر حال میں بینظیر بھٹو کو راستے سے ہٹانا ہے اور انقلاب کو روکنا ہے مگر دوسرے طرف شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے عزم کیا تھا کہ آمریت کا سورج غروب ہو کر رہے گا جمہوریت کی سورج کو جیالے طلوع کر کے رہیں گے محترمہ جہاں جاتی تھی تو عوام اپنے محبوب قائد کی فقیدالمثال استقبال کرتے تھے آخر کار ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو سامراجی گماشتے عوام سے ان کی محبوب قائد کو چھینے میں کامیاب ہوئے۔

ملک دشمن آصف زرداری سے امید لگا بیٹھے تھے کہ وہ محترمہ کی شہادت کے غم و غصے میں بغاوت کر کے پاکستان کو توڑ دیں گے مگر دشمنوں کے امیدوں کو آصف زرداری نے پاکستان کھپے جا نعرہ لگا کر خاک میں ملا دیا آصف زرداری کی سیاسی بصیرت نے دنیا کو حیران کر دیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو زندہ بھی بینظیر تھی اور ان کی شہادت بھی بینظیر ہے وہ عوامی حقوق کی جدوجہد میں عوام کی درمیان شہید ہوئے آج ان کے فرزند چیرمین بلاول بھٹو کی روپ میں ایک اور ذوالفقار علی بھٹو وزیرخارجہ کی منصب سنبھال کر دنیا بھر میں کامیابی کی جھنڈے گاڑ رہا ہے دنیا بھر کے مظلوم طبقہ جو سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کا شکار ہے آج بلاول بھٹو اس مظلوم طبقے کی نمائندگی کر کے سرمایہ داری کے مظالم کو دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا ہے بھٹو خاندان وفاداری اور جدوجہد کا علمبردار ہے۔

آج بلاول بھٹو عوامی امیدوں کا مرکز نگاہ ہیں ان کی والدہ عوام کی مقبولیت ترین لیڈر تھیں محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان میں انقلاب کی علامت بن چکی تھی وہ بے روزگار نوجوانوں کی خوابوں کی تعبیر بنی تھی خوف زدہ آمر وقت پرویز مشرف نے جمہوریت کی سورج کو طلوع ہوتے اور اپنے اقتدار کے خاتمے کو یقینی دیکھ کر مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں امریکی سامراج کا گماشتہ بن کر بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ بینظیر عوام کی لیڈر تھی اور عوام کی درمیان شہادت نوش کی بینظیر کی شہادت دنیا کی سیاسی تاریخ کا المناک ترین واقعہ ہے وہ شہادت کی منصب تک پہنچنے سے پہلے عوام کو جمہوریت کا منزل دیکھا چکے تھے۔ شہادت بھٹو خاندان کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ ایک عظیم لیڈر کی عظیم بیٹی نے اپنے مرحوم والد کے مشن کو جاری رکھا۔

Facebook Comments HS