شہر آشوب کا ایک پر لطف مشاعرہ
شامیں سرد ہونے لگیں تو آسمان پہ ستارے نکلتے ہی گھنٹے بھر کی چہل قدمی سے ہی میری کچھ آوارگی ہوجاتی ہے۔ اور پھر گڑ کی چائے کی چسکیاں بھرتے ہوئے نظریں کسی کتاب کی سطروں پہ نہ دوڑیں تو احساس جرم کا سا ہوتا ہے۔ لیکن 25 نومبر کی شام جب شفق کی گرفت سے نکلی تو اپنے دونوں کام چھوڑ کر میرے لئے ایک مشاعرے میں جانا ضروری ہو گیا۔ مشاعرے کا انعقاد شہر خانپور کی ادبی تنظیم ربط کے زیر اہتمام انعقاد جوہر کمپلیکس میں کیا گیا۔
نوجوان شاعر شہباز نئیر کے شعری مجموعے ”تمھارے جیسا کوئی نہیں“ کا تعارف بھی پیش ہوا۔ شعراء میں لاہور سے اعجاز توکل مظفر گڑھ کے سلیم نتکانی، ضلع رحیم یار خان اور راجن پور کے عمیر نجمی، ندیم راجہ، میثم حیدر، شہزاد عاطر اور خانپور کے یاور عظیم، اظہر عروج، صفدر بلوچ، علی عباس ساجد اور ولید عباسی سمیت متعدد نوجوان شعراء اور شائقین شریک تھے۔ خانپور کے مشہور ماہر فریدیات مجاہد جتوئی اور شہر کی معروف علمی و ادبی شخصیت اور استاد ارشد ہاشمی اور جناب سید اختر حسین ہاشمی بھی تشریف فرما تھے۔
سیاسی مارا ماری کے ماحول، اخلاقی زوال اور سماجی انحطاط کی افراتفری میں لطف و سرور کی ادبی محفل گرم کرنا عقل و ہوش والوں کا نہیں دیوانگی کا کام ہے۔ یہ عجب راز قدرت ہے کہ موقع پرست عقل اپنے راستے میں حائل دریا کنارے رک کر پریشاں سر پکڑ کر بیٹھتی ہے تو دیوانگی اسی مقام سے اپنا سفر شروع کرتی ہے اور بے خطر ہنستی مسکراتی دریا میں غوطہ زن ہوتی ہے اور بیچ بھنور میں اچھل کود کرتی ہوئی پار نکل جاتی ہے۔
شعراء کا کلام شروع ہوا تو لطف کا وہ ماحول بنا کے سر کھجانا بھی یاد نہ رہا۔ نظموں اور غزلوں کے مصرعے چاندنی میں اڑتے ہوئے تاروں کی طرح زمین پہ اترتے رہے۔ شائقین کا شوق اور ذوق اتنا کہ خود شعراء بھی حیرت سے دنگ ہو کر رہ گئے۔ جوں ہی ادھر کسی شاعر کی زباں سے مصرعہ نکلتا تو شائقین کے درجنوں ہاتھ بلند ہو جاتے گویا مصرعے نہیں جگنو اور تتلیاں تھیں جنھیں پکڑنے کو شائقین بے تاب رہتے۔
واہ واہ، واہ جی واہ، کیا کہنے، خوب، بہت خوب، بہت اعلیٰ، مقرر مقرر اور تالیوں کی گھن گرج کا وہ شور بلند ہوا کہ حال کمرے کی چھت کی تعمیر میں کسی سادہ لوح، بھلے مانس اور روکھی سوکھی کھانے والے ایماندار اور عظیم محنت کش مستری مزدوروں کے ہاتھ نہ لگے ہوتے تو یقین مانیے کہ عرش عرش نہ رہتا فرش ہوجاتا۔
لگ بھگ پچیس سے تیس شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ زیادہ تر شعراء اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی اور سرائیکی کلام بھی پیش کرتے رہے۔ شاعری جب سرائیکی یا پنجابی میں ہوتی تو تلفظ کی ادائیگی میں لب و لہجے کی ہم آہنگی سے کلام لطف انگیز ہوجاتا لیکن نظم یا غزل جب اردو میں پڑھی جاتی تو تلفظ کی ادائیگی میں سرائیکی اور پنجابی لب و لہجے کی آمیزش صاف دکھائی دیتی رہی۔ لفظوں کی صف بندی تو تھی لیکن ادائیگی میں ترنم نہ تھا اور نہ موسیقیت۔ شاعری میں نظم ہو یا غزل پیش کرتے ہوئے لب و لہجے میں زبان و بیان کے حسن ادائیگی کا لحاظ نہ برتا جائے تو شاعری کسی دوشیزہ کی مانند جوان بھی ہو تو پوپلے منہ کی بڑھیا لگتی ہے۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عشقیہ شاعری میں محبوب کے حسن و جمال، وفائی و بے فائی، یاس و آس، جدائی، دوری، آمد و انتظار، ناز نخرے، وارفتگی و بے رخی اور فراق و رفاقت سمیت محبوب سے وابستہ تخیل کے اظہار کا کوئی پہلو ایسا نہیں کہ جس کو اردو ادب کے قدیم و دیرینہ شعراء نے حسین سے حسین تر بنا کر پیش نہ کیا ہو۔ بلکہ اظہار تخیل کے معیار کو اس قدر بلندی پہ پہنچایا جا چکا ہے کہ اب معیار اس مقام و مرتبے سے کم کا سامنے آ جائے تو طبیعت اونگھنے لگتی ہے۔
گویا دور جدید میں شاعری کے معیار کو برقرار رکھنا کوئی آسان کھیل نہیں۔
لیکن موضوع محبوب کی بجائے اگر انسانی اور سماجی ہو تو معیار کے گرنے کا امکان کم رہتا ہے اور اگر کوئی کمی بیشی رہ بھی جائے تو شاعری کا وزن پھر بھی لائق تحسین رہتا ہے۔
غالباً یہ ہی وجہ ہے کہ نظم کی طرح غزل بھی اب محض صنف نازک تک محدود نہیں رہی۔ یہ بازار عشق کے تنگ گلی کوچوں سے نکل کر انقلاب انسانیت کے وسیع افق پہ نغمہ زن ہو چکی ہیں۔
اقبالؒ، فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے عظیم شعراء کی فکری شاعری ہی ان کی عظمتوں کی امین ہے۔ ان کی آتش بیانی کی گرج سے وقت کے فرعونوں اور ابلیسوں کے تاج و تخت کھنڈر ہو گئے۔
لیکن اس مشاعرے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان شاعر حضرات نے کسی حسینہ کے اشارہ ابرو کا تابع فرمان بنے رہنا ہی اپنے لئے باعث برکت و فضیلت سمجھ لیا ہے۔
سچ ہے کہ مشاعرے سے جی خوش تو بہت ہوا۔ لیکن تعجب یہ ہوا کہ چولستان اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ اور محروم علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء کو چولستان کی آنکھوں سے لہو کے بہتے دریا دکھائی نہ دیے۔ اور نہ ہی جنوبی پنجاب کے عوام پہ گزرنے والی قیامت یاد رہی۔ شعراء میں کوئی تو گریباں چاک، برہنہ پا، ہاتھ میں کاسہ اٹھائے اپنی محبوبہ کی گلیوں میں خاک چھانتے دکھائی دیا تو کوئی کسی حسینہ کے طواف میں مست و مدہوش رہا۔
یہ حقیقت ہے کہ جنس مخالف کے حسن و جمال کی کشش میں بے خودی اور وارفتگی انسان کی فطری ضرورت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ لیکن مشاعرے میں محض صنف نازک کی الفت و لذت کا جنون سر پہ اس قدر سوار رہے کہ اپنی دھرتی کے کٹے ہوئے کلیجے سے نکلتی ہوئی ہولناک چیخیں بھی سنائی نہ دیں، اور دھرتی کے محنت کشوں کے افلاس زدہ معصوم بچوں کی ترجمانی کا کوئی خیال تک نہ رہے، دیوانگی نہیں نادانگی ہے۔
اس مشاعرے کو دیکھ کر مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کے نوکیلے خشک پہاڑوں کے حلق سے نکلنے والی درد ناک چیخیں ہوں یا تھر اور چولستان کے سینے سے نکلنے والی صدائے فریاد ہو، ترجمانی کا جو حق نثر ادا کرتی چلی آ رہی ہے شاعری ابھی اس کی دھول تک بھی نہیں پہنچ سکی۔ شاعری میں فوقیت اگر اپنی قوم، اپنی سر زمین، اور اپنی انسانیت کو نہ دی جائے اور محض کسی حسینہ کے پاؤں کا گھنگرو بن کے بجتی رہے تو ایسی شاعری پھر ہمارے کس کام کی؟
بقول، فیض احمد فیض
اور بھی دکھ ہیں زمانے کی محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
شعراء میں بالخصوص سلیم نتکانی، اعجاز توکل، عمیر نجمی، ندیم راجہ، یاور عظیم اور میثم حیدر، نے اپنے کلام کی خوبی سے رنگ بھی بہت خوب جمایا بلکہ کلام میں تخیل کے مفہوم کی ادائیگی بھی یقیناً قابل تعریف ہے۔ مشاعرہ قریب الاختتام ہوا تو گفتگو تمام کرتے ہوئے ماہر فریدیات مجاہد جتوئی صاحب کا یہ اعتراف کرنا کہ شعراء اور شائقین کے مابین باہمی تال میل اور ربط و بندش کا ایسا منظر اس سے پہلے انھوں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، یقیناً ان کی مبالغہ پروری تھی، جو رات گئے دیر تک تھکے ماندے شائقین مجلس کی دل جوئی کی خاطر لازمی سمجھی گئی۔
شام چھ سے رات ساڑھے گیارہ بجے تک مسلسل ساڑھے پانچ گھنٹے کے طویل مشاعرے میں چولستان اور جنوبی پنجاب کے دکھوں کی ترجمانی کی کمی جو بڑی شدت سے محسوس ہوئی اس کا حق بھی بزرگ مجاہد جتوئی صاحب نے چند اشعار سرائیکی میں پیش کر کے ادا کیا اور پھر محفل مشاعرہ کے چراغ کی لو چند لمحے تھرتھرائی اور پھر گل ہو کر تمام ہو گئی۔
شہر کی معروف ادبی شخصیت اور صحافی ارشد ہاشمی تو بہت پہلے ہی تشریف لے جا چکے تھے۔ مشاعرے کے ابتدائی ڈیڑھ دو گھنٹے تو خیریت سے گزرے لیکن پھر بعد میں بھوک سے پیٹ کے بل دوہرے ہوتے گئے۔ وجہ یہ ہوئی کہ رات کے کھانے سے بہت پہلے ہی انتظامیہ نے شام کے چھ بجے ہی اراکین محفل کو پابند کر دیا گیا تھا۔ بھوک سے بے حال شائقین کے لئے منتظم مجلس مرزا حبیب نے ایک ایک بوتل پانی کی تو تھما دی تھی مگر اس کے بعد رات گئے دیر تک سردی میں مسلسل ساڑھے پانچ گھنٹے تک جم کر بیٹھنے والے شعراء اور شائقین کو دوران سماعت ایک ایک کپ چائے سے بھی محروم رکھا گیا، منتظمین مجلس کی یہ غفلت یقیناً غیر دانستہ ہرگز نہ تھی۔
جنوبی پنجاب کے دور افتادہ، پسماندہ اور پر آشوب شہر خانپور کٹورہ میں منعقد ہونے والا یہ مشاعرہ بہت خوبیوں اور خامیوں سمیت ایک پر لطف اور یاد گار مشاعرہ تھا۔


