وہ مانوس خاموشی
میں جب چھوٹا تھا تو سردیاں بہت شاندار گزرتی تھی۔ اتنے ڈیجیٹل آلات تو نہیں تھے مگر سچی خوشی دستیاب تھی۔ وہ مانوس سی اذان، وہ کمرے کی چھت کو سونے سے قبل گھورتے رہنا۔ ایک حال نما کمرے میں ہم سب بھائی سوتے تھے۔ ساتھ ساتھ چارپائیاں ہوتی، سب مل کر عینک والا جن دیکھتے، اماں کے ہاتھ کے سادہ کھانے کھاتے، کہانیاں پڑھتے اور سر شام سو جاتے۔ کھیل بھی کیا ہوتے سلیٹی سے دیواروں، میزوں پر لکیریں کھینچنا۔ بھاگ بھاگ کر ددھیال، ننھیال جاتے، قلفیاں کھاتے، خاص طور پر عیدین پر کیا سماں ہوتا، دل ابھی کدورتوں سے خالی تھے۔
مختلف گھروں سے اکثر میٹھے، نمکین چاول آتے تو ایک ہی برتن میں مختلف چمچے رکھے دعوت اڑائی جاتی۔ تب اماں بھی نوکری کرتی تھی، اکثر رنگ رنگ کی چیزوں سے متعارف ہوتے۔ لیکن بچپن کی سب سے شاندار چیز خاموشی ہوتی، زندگیوں میں یہ اندیشے اور شور نہیں تھا۔ میں سب سے چھوٹا بھائی تھا، میرے حصے میں ماضی کی محض چند کرچیاں آئیں، وہ پیلے بلب میں گھر کے پسار میں گھسے کتابیں اور بستے کھنگالنا۔
بڑے بھیا کو نادر اشیا کا شوق تھا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک اٹیچی کیس بھر رکھا تھا، رنگ برنگے ربڑ، پارکر کے پین، گھڑیاں، چابیوں کے چین، بکسوئے اور جانے کیا کیا۔ سب سے خاص ان کی ڈائریوں کی کلیکشن تھی۔ انھوں نے ایک ڈائری میں بہت ساری غزلیں، نعتیں اور اسٹیکرز بھی لگا رکھے تھے۔ ابا جی کے بچپن کی ڈائری بھی ان کے پاس تھی۔ گھر میں گوبل سائنس میگزین آتا، کہانیاں پڑھی جاتی، اکثر جرات اخبار آتا۔ بھائی گلوبل سائنس سے تجربات پڑھ کر کھلونے بناتا۔
بڑے بھائی کے پاس ایک بڑا سا تھیلا ٹوٹے آلات اور کھلونوں کا بھی تھا اکثر وہ چھوٹے بلب وغیرہ جوڑ جوڑ کر تجربات کرتا۔ ہم چھوٹے بھائی اکثر لڑتے رہتے تھے۔ گھر میں مار دھاڑ ہوتی۔ اماں اکثر مختلف کانوں (سر کنڈوں کی قلمیں ) کو چارپائی سے لگا کر ہاتھ سے ہی ازار بند بناتی۔ گھر میں اتنے درخت ہوتے کہ چھانگا مانگا کا گمان ہوتا۔ پرانے مکان کے صحن میں بڑا سا نیم کا درخت بھی تھا۔ مجھے اس سے بڑی عقیدت تھی۔ عمروں میں فرق بھی تو آٹھ سال کا تھا۔
سارے بھائی سردی میں ٹھٹھر کر مسجد پڑھنے جاتے۔ پھر وہ پڑھنے چلا گیا۔ ہر دفعہ میرے لیے کلر کہار سے کھانے کی چیزیں لاتا۔ صحن میں دیواروں پر اس کی خوش خطی کے نمونے تھے۔ کالج سے لوٹا تو یونیورسٹی چلا گیا۔ مجھے بھی انگریزی میڈیم اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ میں بھائیوں کے ساتھ اسکول لائف شیئر نہ کر سکا۔ پھر دوسرے بھائی بھی کالج چلے گئے۔ مجھے گاؤں سے دور انگریزی میڈیم میں داخل کرا دیا گیا۔ پھر زندگی نے اصلی رنگ دکھانے شروع کیے۔
فاصلے بڑھ گئے۔ مگر آج اس سناٹے نے جو یادوں کے چلمن روشن کیے، پریم چند کے افسانوں نے ان شعلوں کو ہوا دیدی۔ کتنی ہی حسین یادیں پردہ یاداشت پر بکھر گئیں۔ وقت پڑنے پر گھر سے نکلنا تو پڑتا ہے، در در کی خاک چھانی مگر آج اس مانوس تنہائی میں، ماں کے جہیز کی اس موٹی رضائی کو اوڑھے ایسے لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلہ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، کہانی، کردار سب وہی رہتا ہے۔ صرف گرد جھاڑنے کی دیر ہے۔ اپنی رعنائیوں اور گھسے پٹر زخموں کے ساتھ ازمنہ رفتہ پھر آ موجود ہو گا۔ وہ صندوق، پرانی کتابیں آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں مگر ان کھلونوں سے کھیلنے والے منتشر ہو گئے۔ یہ ہی زمانے کی ریت ہے۔
ہے کہ بچھڑے ہوئے اک عرصہ ہوا تم کو ہم سے
پھر بھی یادوں میں نظر آتے ہو ہنستے ہوئے اکثر


