”افغانستان میں ہمارے لئے زمین تنگ ہو گئی تھی“
30 ستمبر 2022 کو کابل کے علاقے دشت برچی کے تعلیمی مرکز میں ہونے والے خودکش حملے نے کوئٹہ میں مقیم افغان تارک وطن علی سینا کو اس قدر پریشان کر دیا کہ وہ کبھی اپنے موبائل کو دیکھتا تو کبھی کسی کے ساتھ فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کرتا۔ یہ دھماکہ کابل میں اس کے گھر کے عین سامنے واقع تعلیمی ادارے میں ہوا تھا اور اسے یہ پریشانی لاحق تھی کہ اس واقعہ میں اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کی جان بھی چلی گئی ہوگی۔
علی سینا کہتے ہیں کہ مجھے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے دھماکے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد میں نے کابل میں ہمارے رشتہ داروں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ کسی سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا۔ علی سینا اس دن کو یاد کرتے ہوئے آج بھی ایک الگ کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد پناہ کی تلاش میں علی سینا گزشتہ سال نومبر میں پاکستان آیا تاکہ وہ اپنی اور اپنے سات چھوٹے بہن بھائیوں کی زندگیاں بچائے۔ علی سینا کا کہنا ہے کہ اپنی ایک برس کی کمسن بہن کے ہمراہ چیک پوسٹوں سے گزر کر پاکستان کی سرزمین تک پہنچنا اس کی زندگی کا سب سے ہولناک سفر تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں ہمارے لئے زمین تنگ ہو گئی تھی۔ ہمیں گھر سے باہر جاتے ہوئے قرآن کے نیچے سے گزر کر نکلنا پڑتا تھا۔ کیونکہ گھر سے باہر جانا تو ہمارے اختیار میں تھا، مگر یہ یقین نہیں تھا کہ ہم زندہ واپس آئیں گے یا نہیں۔
پاکستان ہجرت کرنے والا سترہ سالہ علی سینا نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ایک سال سے شدید مشکل حالات میں زندگی گزاری ہے۔ وہ اپنا گھر چلانے کے لئے سڑک کے کنارے ریڑھی پر ”افغانی برگر“ فروخت کرتا ہے۔ علی سینا کے مطابق کوئٹہ میں وہ اور اس کا والد دونوں کام کرتے ہیں اور ان کا گیارہ سالہ چھوٹا بھائی کام میں ان کی مدد کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں کام کے آغاز میں کافی دشواریاں درپیش ہوئیں۔ شروع کے چند مہینے ایسے گزرے کہ لوگ ان سے کھانا نہیں خریدتے تھے۔ تاہم اب ان کی آمدنی کافی بہتر ہو گئی ہے۔ ایک دن میں ان کی اور ان کے والد کی مجموعی آمدنی پندرہ سے بیس ہزار تک بن جاتی ہے۔
علی سینا اپنے والدین، 4 چھوٹی بہنوں اور 3 چھوٹے بھائیوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہا ہے۔ جس کا کرایہ 25 ہزار روپے ہے۔ علی سینا کہتے ہیں کہ ان کی فیملی میں سب کا دھیان ان کی چھوٹی بہن پر زیادہ ہے۔ ان کا سب سے زیادہ خرچہ اپنی چھوٹی بہن کی اہم ضروریات پوری کرنے پر ہوتا ہے۔ اب ان کی بچت بھی گزشتہ مہینوں سے کافی بہتر ہے۔
علی سینا کہتے ہیں کہ پاکستان میں دستاویزات نہ ہونے کے باعث نہ تو اسے سرکاری اسکول میں داخلہ مل سکتا ہے، نہ ہی اس کے لئے سرکاری کی جانب سے صحت اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔ وہ تو اپنے بنیادی حقوق سے بھی واقف نہیں ہے۔ علی سینا نے کوئٹہ میں محنت کرتے ہوئے اپنی کمائی تو بہتر کر دی ہے۔ تاہم وہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں اس کی زندگی بہت بہتر تھی، مگر وہاں حکومت کی تبدیلی سے سب کچھ بدل گیا اور اس کی زندگی رک گئی۔
یہ صرف علی سینا کی کہانی نہیں بلکہ 1970 کی دہائی میں روسی مداخلت، پھر نویں دی دہائی میں افغان طالبان کا کنٹرول، اس کے بعد امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور اب طالبان حکومت کا دوبارہ قیام، یہ تمام واقعات لاکھوں افغان شہریوں کی ہجرت کرنے کا باعث بنے ہیں۔
پاکستان میں اقوام متحدہ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ میں 1 لاکھ 70 ہزار افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں، جبکہ رجسٹریشن نہ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد معلوم نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے ریفیوجی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 1979 سے 1992 تک 60 لاکھ سے زائد افراد نے تحفظ کی تلاش میں ملک سے ہجرت کی۔ جو اس دوران افغانستان کی کل آبادی کا پانچواں حصہ تھا۔ تاہم کافی افراد اسی عرصہ کے دوران واپس بھی آئے۔
1992 سے 1996 تک افغانستان خانہ جنگی کی زد میں رہا۔ جبکہ 1996 سے 2001 تک افغانستان کی حکومت طالبان کے ہاتھ میں رہی۔ 2001 سے 2021 تک بھی افغانستان کے حالات ٹھیک نہیں تھے اور شہریوں نے حالت جنگ میں اپنی زندگی گزاری۔ سال 2021 میں طالبان کی حکومت دوبارہ قائم ہوئی تو افغانستان کے باسی دوبارہ اپنے ملک سے نکل گئے۔
یو این ایچ سی آر کی افغان سچوایشن 2021 کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی حکومت کے باعث سال 2021 میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد افغان شہریوں کے بے گھر ہونے کے بعد افغانستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد 35 لاکھ تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب یورپی یونین کی ایجنسی فار اسائلم کی جنوری 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ فقط پاکستان میں ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ جن میں 14 لاکھ کے پاس رجسٹریشن کارڈ، 8 لاکھ 40 ہزار کے پاس افغانی کارڈ اور اندازہ 7 لاکھ 75 ہزار افراد کے پاس کوئی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
افغان جنگ پر نظر رکھنے والے بلوچستان کے سینئیر صحافی و تجزیہ کار سید علی شاہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ بارڈر پار کرنے کے بعد افغان مہاجرین کو ”سیکنڈ کلاس سیٹیزن“ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جن کے لئے زندگی گزارنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ستر کی دہائی میں جب پہلی افغان مہاجرین آئے تو اس وقت اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے انہیں سپورٹ کیا، کیونکہ اس وقت یہ نئے تھے۔ اب لوگ اس بات سے تھک گئے ہیں، اسی لئے انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سینئیر تجزیہ کار سید علی شاہ کہتے ہیں کہ افغانستان سے مہاجرین کی آمد کی اہم وجہ بدامنی ہے۔ افغانستان میں گزشتہ 4 دہائیوں سے بدامنی کی فضا قائم ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ افغانستان میں اگر فقط سماجی و اقتصادی تحفظ اور دیگر مسائل ہوتے، تو کوئی بھی اپنا گھر اور سرزمین چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ نہیں لیتا۔ حقیقت میں ان کی زندگی وہاں محفوظ نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان کے تنازعہ پر بننے والی مشن ”اوناما“ میں بھی کہا گیا ہے کہ تنازعات میں سب سے زیادہ افراد کی جان جانے کے واقعات افغانستان کے تنازعہ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی افغان مہاجرین کے معاملے کو طول پکڑنے والے بڑے المیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے اختتام تک بے گھر ہونے والے افغان مہاجرین میں کمسن بچے اور خواتین کی تعداد 80 فیصد ہے۔ جنہیں اپنے خاندان سے جدا ہونے، نفسیاتی دباؤ، ٹراما اور صنفی تشدد (جینڈر بیسڈ وائلنس) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سینئیر تجزیہ کار سید علی شاہ کہتے ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی اور یو این ایچ سی آر کو افغان مہاجرین کے معاملہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور تعلیم کے حوالے سے ان کی خصوصی طور پر حمایت کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے ان کے ذریعہ معاش کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔ یو این ایچ سی آر کو یہاں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ صوبائی و وفاقی حکومت اور عالمی برادری کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔
یو این ایچ سی آر کی ایکسٹرنل ریلیشنز ایسوسی ایٹ حمیرہ کریم اس حوالے سے کہتی ہیں کہ پاکستان نے مہاجرین پر مبنی عالمی معاہدہ پر دستخط نہیں کیا ہے۔ تاہم پاکستان میں جن افغان مہاجرین کو اقوام متحدہ نے رجسٹر کر کے کارڈ فراہم کیے ہیں، انہیں سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ، صحت اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اقوام متحدہ مہاجرین کی بہتری کے لئے حکومت کو پالیسیاں تجویز کرتی اور ان کی مدد کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے افغان مہاجرین کو بنیادی حقوق دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم تارکین وطن میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ان اداروں کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
اگر یورپی یونین کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھے تو پاکستان میں ہر 30 میں سے 8 افغان مہاجر غیر رجسٹرڈ ہے۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں، جن کی کوئی شناخت ہی نہیں ہے۔ رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث مہاجرین ان سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے، جو حکومت کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ افغان مہاجرین کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ان افراد کے لئے پالیسی بنائے اور ان کی رجسٹریشن کرے۔
مہاجرین کو زندگی گزارنے کے لئے سہولیات فراہم کرنا جتنا ضروری ہے، اتنی ہی ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ان مسائل کی اصل وجہ پر توجہ دی جائے اور اسے حل کیا جائے۔ افغانستان کے تنازعہ سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی بہتری کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں جاری تنازعہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ یہ مسئلہ عالمی برادری ہی حل کر سکتی ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے بغیر دنیا میں افغان مہاجرین کو جتنی بھی سہولیات فراہم کی جائیں، وہ فقط عارضی طور پر ان کی مدد کر سکتی ہیں۔ یہ ان کے لئے مستقل مرہم کا کام نہیں کرے گا۔


