ری ہیبیلیٹیشن سینٹر
یہ پہلا موقع تھا کہ اس ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں اس قدر سناٹا تھا۔ گو کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ہم میں سے ہر ایک اس خط کا منتظر تھا مگر آج جب خط آیا تو گویا سب کو چپ لگ گئی۔ آنکھوں میں بار بار اترتی نمی کو ایک دوسرے سے چھپانے کی غرض سے ہر کوئی ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ اس خط کو، جو کہ دو ہفتے پہلے لکھے گئے خط کا جواب تھا، باری باری سب نے پڑھ لیا تھا۔
تھا ہی کتنا۔ دو سطریں!
اتنی نروس تو انجلا اس دن بھی نہیں تھی جب اس نے پہلی بار اس ادارے کو جوائن کیا تھا۔ اور ایڈکشن وارڈ میں اس کا پہلا دن تھا۔ ڈاکٹر سائمن ہومنڈ کے قریب سے گزرتی ہوئی ایما نے اسے ویلکم کہتے ہی اس کے ہاتھ میں پکڑی فائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی کی تھی۔
Beware! a typical misogynist.
باوجود اس کے کہ انجلا اس مریض کی مکمل فائل پڑھ کر اس سے بات کرنے جا رہی تھی ایما کے اس ایک جملے نے اسے مزید چوکنا کر دیا۔ فائل پر اس کا نام میسن لکھا ہوا تھا۔ میسن کی آنکھوں میں وحشت اور رت جگے دونوں مل کر چیختے تھے اور چہرے کی سختی اس کے پورے وجود کو مشکل بنائے ہوئے تھی۔
”شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس“
یہ وہ جملہ تھا جو وہ بار بار دہراتا تھا۔ وہ یہ جملہ اتنی بار دہرا چکا تھا کہ نہ صرف اس سینٹر میں رہنے والے مریضوں کو بلکہ اسٹاف کو بھی یہ جملہ یاد ہو چکا تھا۔ بقول ایما کہ اس جملے کی بازگشت اسے سوتے میں بھی سنائی دیتی تھی۔ اٹھتے بیٹھتے، کھانے سے پہلے، کھانے کے دوران، کھانے کے بعد ، وہ متواتر یہی جملہ ایک ہی ٹون، ایک ہی انداز میں بولتا رہتا تھا۔ جس میں افسوس، نفرت، غم و غصہ سب کچھ شامل ہوتا تھا۔ حیرت ہوتی تھی کہ کوئی مستقل اتنی نفرت کے عالم میں کیسے اتنے مہینے یا شاید کئی سال رہ سکتا ہے۔
عموماً وہ اپنے چار بائی چھ فٹ کے بیڈ پر سیدھا لیٹا ہوتا اور اچانک ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ جاتا اور دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر، سامنے والے کی آنکھوں میں دیکھ کر اس سے مخاطب ہوتا،
یو نو!
”شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس“
مہینوں اس کے ساتھ رہنے والے، اس جملے کے عادی ہو چکے تھے۔ جب بھی وہ شدید غصے کے عالم میں یہ جملہ کہتا، ہال کے دوسرے بیڈز پر موجود افراد اس کی طرف دیکھنے پر ہی اکتفا کرتے تھے مگر بعض اوقات اس کی اس مضحکہ خیز مگر جنونی کیفیت کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ مگر یوں کرنے سے انہیں دوہری تکلیف اٹھانا پڑتی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سامنے کھڑا ہو جاتا تھا اور مزید شدت سے اونچی آواز میں دہراتا،
”شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس“
اور آس پاس کے بیڈز والے مریضوں کے پاس اسے توجہ سے دیکھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تا۔ ان مریضوں نے یہ حکمت عملی اس واقعی کے بعد سیکھی تھی جب چند ہفتے پہلے میسن کے دائیں بیڈ والی خاتون نے میسن کی اس مسلسل تکرار سے تنگ آ کر مارے غصے کے اس کی ناک پر مکہ جڑ دیا تھا۔ میسن نے بوکھلا کر خاتون پر جوابی وار کیا مگر خاتون نے ہوشیاری سے دوسرا مکہ اس کے پیٹ پر مارا۔ اس کے بعد میسن نے دو زوردار ککس خاتون کے پیٹ اور کمر ماریں۔
جب تک اسٹاف کے لوگوں نے دونوں کو قابو کیا، میسن کی ناک سے خون نکل رہا تھا اور خاتون اپنا پیٹ پکڑے دوہری تہری ہو رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد شاید وہ عورت دوسرے کسی سینٹر میں منتقل کر دی گئی تھی، کیونکہ دوبارہ وہ اس سینٹر پر نظر نہیں آئی۔ یہ واحد ناخوشگوار واقعہ تھا جو اس ضمن میں میسن کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مگر اس بات کا میسن پر کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا اور اس نے ”یو نو“ ، ”یو نو“ کے بعد اپنے من پسند جملے کی تکرار جاری رکھی اور کسی دوسرے مریض کو اس پر ری ایکشن کرنے کا خیال نہیں آیا۔
انجلا فائل پکڑے دیوار پر آویزاں چارٹ پر میسن کے نام کے سامنے لکھے کمنٹس کو پڑھ رہی تھی جب ڈاکٹر سائمن اس ہال میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر سائمن دیگر مریضوں کے بعد میسن کے بیڈ کے قریب آیا۔ یا تو اسے میسن کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ہچکچاہٹ ہو رہی تھی یا یہ حکمت عملی اس کی ٹریٹمنٹ کا حصہ تھی۔ جیسا کہ ”نو آئی کونٹیکٹ“ یہاں کے نفسیاتی معالجوں، پیرا میڈکس اور دیگر اسٹاف کی تربیت میں شامل ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب نشے کا عادی شخص یا پیشنٹ لوز ٹیمپر یا اینگر ٹریٹمنٹ کے حوالے سے بھی مشتبہ ہو۔ نوجوان ڈاکٹر اس کا غذائی اور میڈیکل چارٹ دیکھ کر دھیمے لہجے میں اس سے اس کی خیریت دریافت کر رہا تھا۔ مگر شاید اسے بھی نئے ڈاکٹر سے اپنا تعارف کروانے کے لئے اپنے پسندیدہ جملے کو بار بار کہنا ضروری محسوس ہوا۔
”یو نو، مائے مدر، مائے۔“ ، ”یو نو مائے مدر۔“ شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس ”
” کوئی بارہ پندرہ بار اس نے یہ جملہ دہرایا اور اس بار اس نے اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرنے کے لیے“ یونو ”،“ یو نو ”کے بعد“ کین یو بیلیو اٹ ”بھی کہا۔ وہ ڈاکٹر سائمن کی آنکھوں میں دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر لینا چاہتا تھا کہ ڈاکٹر کی آنکھیں، اس کے محتاط الفاظ اور باڈی لینگویج کا ساتھ دے رہی تھیں یا نہیں۔ ڈاکٹر نے اقرار میں یوں گردن ہلائی گویا اسے کہنا چاہتا ہو کہ میں مکمل طور پر تمہاری بات سمجھ چکا ہوں۔ قبل اس کے کہ ڈاکٹر اپنی جگہ سے اٹھ کر دوسرے پیشنٹ کے پاس جاتا، وہ اشتعال میں آ کر ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ کر بولا،“ شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس ”۔ ڈاکٹر سائمن نے چند ثانیے میسن کے چہرے کو بغور دیکھا، بڑے وقار سے کرسی پیچھے کھسکائی اور پھر دوسرے مریض کی فائل سنبھال لی۔
”ہوم سویٹ ہوم“ ایک نیم سرکاری ادارہ تھا جہاں ڈرگز کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ ان میں سے کافی لوگ کئی مہینوں بلکہ سالوں تک یہاں رہتے تھے۔ نشے کے عادی افراد یوں تو اکثر ہر موسم میں نظر آتے تھے مگر شدید سردیوں میں وہ گروپس کی شکل میں سڑکوں کے اطراف، پارکوں اور کونوں کھدروں میں سردی میں سکڑتے، جا بجا آگ تاپتے یا بیئر، وائن یا وہسکی کی بوتلوں سے مائنس تیس سیلسیئس کی سردی سے نبردآزما نظر آتے تھے۔ ویڈ، حیش، چرس، گانجے اور افیم کی بو دور سے ان کی موجودگی کا پتہ دیتی تھی۔
ایک طرف تو کئی اداروں میں کوئی بیڈ کسی نئے بندے کے لئے خالی نہ ہوتا تھا کیوں کہ سردیوں میں جسے بھی سینٹریلی ہیٹیڈ روم میں بیڈ نصیب ہوتا وہ وہاں لمبا عرصہ رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتا۔ تاہم اگر نشے کی طلب یا حرص ان سے ان کا آپا چھین لیتی تب وہ سیکیورٹی کی آنکھ بچا کر بھاگ نکلتے۔ مگر پھر یہ ادارے انہیں آسانی سے دوبارہ لینے کے لئے تیار نہ ہوتے کیوں کہ ان کے پاس ان لوگوں کی ایک لمبی لسٹ ان ناموں کی ہوتی تھی جو ویٹنگ لسٹ پر ہوتے اور کم از کم سردی کا موسم سینٹر میں گزارنا چاہتے تھے۔ یہ وہی ظالم موسم ہوتا ہے جب شدید سردی سے اکڑی ہوئی لاشیں برف میں دھنسی ملتی ہیں اور جنہیں لاوارث قرار دے کے کہیں کریمیٹ کر دیا جاتا ہے۔
Why don ’t you talk?
اس نے ڈاکٹر سائمن کو وارڈ سے واپس جاتے دیکھا تو سوال داغ دیا۔
I ’m more interested in listening from you.
ڈاکٹر سائمن نے رسانیت سے جواب دیا۔ اور اس کے بیڈ کی طرف آ گیا۔
کیونکہ تمہیں اس کام کی تنخواہ ملتی ہے؟ ”
”کہہ سکتے ہو؟ مگر تنخواہ تو دیگر ذمے داریوں کی بھی ملتی ہے نہ۔“
ڈاکٹر سائمن نے اس بار براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ جملہ بولا تھا۔
”سچ کہتے ہو ڈاکٹر، بک بک کرنے کی بیماری عورتوں میں ہوتی ہے۔ عورتیں بہت بولتی ہیں۔ اور صرف واہیات بولتی ہیں۔ اسی وجہ سے، اسی وجہ سے۔ شی، شی، شی، شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس۔“
ڈاکٹر سائمن نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے میسن کے قریب آ کر بولے،
”ایک دن میری ماں نے بھی یونہی دروازہ بند کر دیا تھا۔ بالکل میرے چہرے پر، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اور اس کے بعد اس نے مجھے کبھی نہیں دیکھا۔“ ڈاکٹر سائمن نے ایک ایک لفظ کو بڑے سکون سے ادا کیا تھا، پھر میسن کے چہرے کو بغور دیکھا اور فائلیں ہاتھ میں پکڑے ہال سے باہر نکل گئے۔
میسن نے قدرے حیرت سے اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھا۔ زیادہ تر لوگ اپنی دنیا میں گم تھے۔
ڈاکٹر سائمن کمرے سے باہر جا چکے تھے۔ دو میل نرسز کمرے میں تھے جنہیں اس ہال نما کمرے میں ابھی کافی کام کرنے تھے۔ چادریں صبح ہی تبدیل ہو چکی تھیں مگر اب مختلف اوقات میں کیے جانے والے کاموں اور ان ڈور کھیلے جانے والے کھیلوں کے بارے میں انہیں ان مریضوں کو آگاہ کرنا تھا اور دوا کے چارٹ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ، وقت پر سب کو دوا بھی دینی تھی۔ مگر میسن انہیں زچ کرنے والے سوالات کا سلسلہ شروع کر چکا تھا۔ ہر سوال اپنی ہی طرز کا نرالا سوال تھا۔
ہر دوسرا سوال پہلے سوال سے زیادہ کمزور اور پھر تیسرا دوسرے سے بھی کمزور مگر پہلے سے ذرا جڑا ہوا مگر پہلے دونوں سوالات سے زیادہ کمزور اور جب ان سوالات کی زنجیر ختم ہوتی تھی تب وہ آخری سوال سے پہلے سوال کو جوڑ دیتا تھا یعنی زیڈ سے اے کو جوڑ دیا جاتا تھا اور پھر اے سے زیڈ کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ یہ سوالات ایک ہولہوپ کی طرح تھے جن کا کوئی منطقی جواب نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر ان تمام سوالوں کی تان آ کے ”شی شٹ دا ڈور ان مائی فیس“ پر ٹوٹتی تھی۔
سرخ انکھیں، بھنچی مٹھیاں، چہرے پر نفرت، اور منہ سے بہتی رال۔ جسے وہ ہاتھوں اور قمیض سے کبھی صاف کرتا کبھی اسی عالم میں ٹک ٹک دوسرے مریضوں کے چہرے دیکھے جاتا۔ دیگر مریض جن میں اتفاق سے سبھی مرد تھے، اسے خاموشی سے دیکھتے، گردن ہلاتے، چند جملے یا الفاظ بدبداتے، منہ پھیر لیتے یا پھر پیٹھ موڑ کر بیٹھ جاتے۔
”ہاں میسن کی ماں آتی تھی پہلے۔ کئی بار آئی تھی۔ اب کافی دن سے نہیں آئی ہے، بلکہ کئی ہفتے ہو گئے ہیں۔ فون بھی نہیں کیا اس نے۔“ ایما نے ڈاکٹر سائمن کے پوچھنے پر بتایا۔
بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ایما بولی:
”پہلے تو وہ ہمیشہ اپنی ماں سے ملنے سے انکار کر دیا کرتا تھا مگر آخری بار کہنے لگا کہ وہ اس سے مل لے گا۔ ظاہر ہے کہ ہم نے اسے یہ موقع فراہم کیا۔ اور جو اس طرح کی ملاقاتوں کا پروٹوکول ہے، اسٹاف کے کچھ لوگ چند فٹ کے فاصلے پر موجود تھے۔ مگر صرف تین منٹ کے بعد ہی اس نے اپنی قمیض میں چھپائے چمچے سے اپنی ماں پر حملہ کر دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اس بیچاری عورت کی آنکھ محفوظ رہی، اس کی آنکھ کے نیچے کا زخم ٹھیک ٹھاک گہرا تھا۔
اس واقعہ کے بعد سے ہم نے اس کی اپنی ماں کے ساتھ ملاقات پر پابندی لگا رکھی ہے۔ صرف اسے اس کی ماں کے آنے کی اطلاع دی جاتی ہے مگر وہ بھی اس وقت، جب وہ واپس چلی جاتی ہے۔ مگر میسن نے بھی دوبارہ کبھی اپنی ماں سے ملنے یا اسے دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں کی ہے۔ وہ اسے صرف ایک غیر ضروری خبر کے طور پر لیتا ہے۔“
”اور اس کی ماں کتنے عرصے بعد آتی ہے؟“ ڈاکٹر سائمن نے رجسٹر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” تقریباً تین چار بار تو آہی جاتی ہے سال بھر میں۔ پہلے ذرا جلدی جلدی آتی تھی۔ مگر اب، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، کافی وقت ہو گیا ہے۔“
”کل مدر ڈے ہے۔ کیا تمہارے بچوں نے تمہیں کارڈ پر اپنے دل کی باتیں لکھ کر دی ہیں؟“ ڈاکٹر نے مسکرا کر ایما سے پوچھا۔
”کل تک تو نہیں، مگر شاید آج ایسا کچھ ملے گا۔ کل دونوں بچوں کی حرکتوں سے لگ رہا تھا کہ مجھے کچھ سرپرائز ملنے والا ہے۔“ ایما جواب دے کر ہنس پڑی۔
”ڈاکٹر کل کچھ پیرنٹس مدعو کیے ہیں ہم نے اور ہال میں مدر ڈے کے حوالے سے کچھ سٹکرز اور تصاویر بھی لگائیں گے۔ کیا آپ کچھ وقت نکال سکیں گے۔ بس ایک چھوٹی سی تقریب رکھیں گے، سیمی فارمل سی، ہوم کے افراد کے لئے۔ سبھی ہوم سک تو ہوتے ہوں گے نہ؟“ ایما نے ریکویسٹ کی۔
”ہوں“ ۔ ڈاکٹر سائمن نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور بولا ”کل کا دن بچوں اور ان کی ماں کے ساتھ گزارنا ہے، لیکن کوشش کروں گا کچھ دیر تم سب کے ساتھ بیٹھ سکوں۔“
”کتنے سپیکرز بلائے ہیں؟“
”صرف دو۔ ایک تو جینڈر سٹڈیز کے پروفیسر راجر وٹس ہیں اور دوسرے سائکاٹری وارڈ کی ڈاکٹر انتونیا ہیں۔“ ایما جلدی سے بولی۔
” گڈ“ ۔ ڈاکٹر سائمن نے صرف ایک لفظ کہنے پر اکتفا کیا۔
دوسرے روز، ڈاکٹر انتونیا تو وقت پر آ گئیں مگر پروفیسر راجر وٹس نے اپنی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر فون کر کے آنے سے معذرت کر لی تھی۔ تین عدد مائیں اور دو سینیئر کپلز مہمان تھے۔ ان سب مہمانوں کا اس ادارے میں داخل مریضوں کے ساتھ تعلق تھا۔ ان خوش پوش مہمانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کی ان کے بیٹے یا بھائی کیوں کر اس موذی لت کا شکار ہو گئے۔ کئی مریضوں کے ورثا کے بارے میں تو کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا نہ ہی وہ خود ان کے بارے میں زیادہ کچھ جانتے تھے۔ لہذا ان کی فائل میں ان کی فیملی کے متعلق کوئی معلومات درج نہ تھی۔
مدر ڈے کی مناسبت سے ڈاکٹر انتونیا بہت اچھا بولیں۔ گھر اور خاندان کی اہمیت پر ان کے کئی مضامین مختلف جرنلز میں شایع ہو چکے تھے۔ یہی ان کا سبجیکٹ تھا۔ آج بھی انہوں نے نہایت خوبصورتی سے نفسیاتی اور سماجی طور پر صحتمند خاندانی نظام کی اہمیت پر زور دیا جس میں ہر شخص اپنی ذمے داری پوری کرے۔ پانچ سات منٹ کے اس لکچر میں مکمل خامشی طاری رہی۔ ریفریشمنٹ جاری تھا۔ ایما نے مہمانوں کو والینٹرلی اس موضوع پر اظہار خیال کے لئے کہا مگر کوئی بھی آگے آ کر بات کرنے کا حوصلہ نہ کر سکا۔
ایما نے ڈاکٹر سائمن کی طرف ملتجی نظروں سے دیکھا۔ صورتحال کو بھانپ کر ڈاکٹر سائمن نے مائک تھام لیا۔ پہلے انہوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ پھر اس سینٹر میں رہنے والوں کو اس مختصر مگر اہم تقریب میں شرکت کرنے پر اور اس دن کی مناسبت سے ان کی توجہ کو سراہا۔ ڈاکٹر سائمن بغیر کسی تیاری کے تھے۔ مگر دوسرے سپیکر کے غیر حاضر ہونے کی وجہ سے انہیں کچھ نہ کچھ کہنا تھا تاکہ لوگ مزید کچھ دیر یہاں بیٹھیں۔
ری ہیبیلیٹیشن سینٹر کا ہر شخص اس ہال میں موجود تھا اور یہی یہاں کی انتظامیہ کی کامیابی تھی کہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی، مگر ہر شخص اپنی مرضی سے یہاں آ کر مقررین کی باتیں سننے بیٹھا تھا۔
ڈاکٹر سائمن بولے، آج جب ہم سب اپنی اپنی ماؤں کو یاد کر رہے ہیں، ان کا ذکر کر رہے ہیں، میں اپنی ماں کو بہت مس کر رہا ہوں۔ بڑا عجیب لگتا ہے ماضی کو یاد کرنا یا ماضی میں رہنا مگر ماضی سے کٹ کر آپ بھلا کیسے جی سکتے ہیں۔ ماضی ہمارے صحیح الدماغ ہونے اور زندہ ہونے کی علامت ہے۔ تصور کریں کہ اگر اچانک ہم سے ہمارا ماضی چھین لیا جائے تو ہماری حیثیت تو بالکل ایک نوزائیدہ بچے کی سی ہو جائے گی۔ اور اس عمر میں، اس ڈیل ڈول اور چہرے مہرے کے ساتھ، بغیر یادداشت کے ہمیں کیا لوگ نارمل لوگوں میں شمار کریں گے۔
اس لئے اپنے ماضی کو قبول کیجئے، اس سے محبت کیجئے یا نہ کیجئے مگر اس سے سیکھئے۔ خواہ وہ اچھا ہے یا برا۔ وہ آپ کا ہے اور اس کے بغیر آپ ادھورے ہیں۔ اسی طرح آپ کی زندگی میں جو لوگ آپ کو قدرت کی طرف سے ملے ہیں ان کی قدر کیجئے کہ ان کے بغیر آپ کی زندگی نہایت مشکل ہو سکتی تھی، بالخصوص ماں کی۔ جو آپ کی پہلی نرس، آپ کی پہلی پناہ گاہ، آپ کی پہلی دوست، استاد، سبھی کچھ ہوتی ہے۔ اس کی محبت غیر مشروط ہوتی ہے۔ وہ آپ کی طرف اٹھنے والی ہر غلط نگاہ کا سامنا کرتی ہے۔
وہ آپ کی ڈھال ہوتی ہے۔ اور تاعمر آپ کے لئے ایک سائبان بن کر رہتی ہے۔ آپ کو ایک بے بس گوشت کے لوتھڑے سے ایک صحتمند اور مضبوط انسان بناتی ہے۔ اور کیسا المیہ ہے کہ ہم میں سے کئی لوگ اس کی طرف سے بخشی ہوئی طاقت اور صلاحیت کو اسی کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اسی کو سکھانے اور پڑھانے لگ جاتے ہیں جس نے ہمیں بولنا اور اس دنیا میں اٹھنا بیٹھنا سکھایا ہوتا ہے۔ وہ جو خود بھوکی رہ کر ہمیں کھلاتی ہے ہم اس پر چار پیسے خرچ کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
وہ جو ہماری بیماری میں پوری پوری رات جاگ کر ہماری تیمارداری کرتی ہے، اسے اس کی بیماری میں ہم تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ جس کے ساتھ ہمارا احساس، محبت اور عقیدت کا رشتہ ہونا چاہیے، ہم اس سے اس کی قربانیوں اور مہربانیوں کا حساب مانگتے ہیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، جب ہم ایسے بے لوث اور عظیم رشتے کے منکر ہو سکتے ہیں تو پھر ہمارا کیا اعتبار۔
ایک لمحے کے توقف کے بعد ڈاکٹر نے اپنی گہری نظروں سے ایک بار مختصر سے مجمع کو دیکھا اور ناک پر چشمہ فٹ کرتے ہوئے بولا:
آپ لوگوں میں سے کس کس کو ڈر لگتا ہے؟ اور کیا ڈر کی نوعیت آپ مجھے بتا سکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں چھوٹے چھوٹے نامکمل جملے اور بد بداہٹیں سنائی دی تھی۔ کچھ چہروں پر بولنے کی خواہش جنم لیتی نظر آئی مگر کوئی واضح جواب نہ پا کر ڈاکٹر نے پھر بولنا شروع کیا،
”جس طرح ہم سب کے خواب ہوتے ہیں۔ خواہشیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے ڈر بھی ہوتے ہیں۔ جب انسان چھوٹا ہوتا ہے، ڈر اسے خوفزدہ کرتا ہے، ڈراتا ہے، اس پر حاوی ہو جاتا ہے مگر جب انسان آہستہ آہستہ اپنے ڈر کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ڈر کی کمزوری کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تب دراصل وہ بہادری سے جینا سیکھ رہا ہوتا ہے۔“
”ڈاکٹر آپ کا ڈر کیا ہے؟“
ڈاکٹر سائمن ایک لمحے کے لئے خاموش ہوئے تو ایما نے مسکرا کر مختصر سوال کیا۔
” میرا ڈر؟“
ڈاکٹر مسکرایا اور بولا: ”اندھیرا میرا ڈر ہے۔ تاریکی مجھے ڈراتی ہے۔“
”کیا ہمیشہ سے؟“ ایما نے پھر پوچھا۔
”ہوں۔“ ڈاکٹر نے ہنکارا بھرا اور بولا، ”شاید ہمیشہ سے۔ کیونکہ وہ پہلی یاد جو مجھے اپنے شعور کی ابتدائی منزل پر اپنی جزئیات سمیت یاد ہے، وہ ڈر ہے۔ مجھے اب بھی جاڑے کی وہ سرد ترین راتیں یاد ہیں جب میں گھر میں موجود اس شخص کی چنگھاڑ سنتا تھا جس سے میری ماں کسی خوفزدہ میمنے کی طرح کپکپاتی آواز میں رحم کی بھیک مانگا کرتی تھی۔ مگر اس آدمی کا غصہ اور وحشت پورے گھر میں ناچ رہے ہوتے تھے۔ میں اپنے لرزتے جسم کو لحاف میں سکیڑنے کے باوجود شانت نہیں کر سکتا تھا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی اونچی ہوتی ہوئی آواز اور شدید غصے کی حالت میں میری ماں پر حملہ آور ہونا، اسے بالوں سے گھسیٹ کر رگیدنا، گالیاں دینا، برتن توڑنا اور لرزتے لفظوں میں ماں کی التجائیں کرنا۔ میں آج بھی، اس عمر میں، گھپ تاریکی میں بھی، بستر میں اپنا چہرہ چھپائے بھی سب کچھ دیکھ سکتا ہوں۔
پھر آہستہ آہستہ ان ڈراؤنی آوازوں اور سایوں نے بے چہرہ انسانوں کا روپ دھار لیا اور ہر شام میرے بستر پر لیٹتے ہی وہ چھوٹے بڑے سائے مجھ پر جھپٹنے لگ جاتے۔ کبھی مجھے اپنی ناک سے خون بہتا محسوس ہوتا، کبھی میرا ماتھا پھٹا ہوتا، کبھی مجھے اپنا بازو ٹوٹا ہوا لگتا تو کبھی آنکھ پھوٹتی دکھائی پڑتی۔ پوری رات یدھ ہوتا تھا تاریکی میں اور صبح ہوتے ہی میں جسمانی طور پر صحیح سلامت اپنے بستر سے نکل آتا تھا۔ مگر رات بھر کا یہ خوفزدہ کر دینے والا دنگل میرے چہرے اور جسم پر صاف دکھائی پڑتا تھا۔ ماں کی سوجی آنکھ، پھٹے ہونٹ، چال میں لنگڑاہٹ میں صبح اٹھتے ہی محسوس کر لیا کرتا تھا۔ صبح ناشتہ کرتے ہوئے اور اسکول میں میرے ذہن میں ماں کا خوفزدہ چہرہ اور اس کی زخم ہوتے کیونکہ یہی زخم رات کو مجھے لگنے ہوتے تھے۔
ماں ہمیشہ خاموش رہتی تھی۔ صرف ضرورت کے وقت بات کرتی تھی۔ مجھے اسکول چھوڑ کر خود کسی نوکری پر جاتی تھی پھر واپس آ کر مجھے اسکول سے لے کر ایک سٹڈی کلب میں ڈراپ کرتی تھی اور پھر شام کو آ کر مجھے وہاں سے گھر لے جاتی تھی۔ جب میں بہت چھوٹا تھا اس وقت تو مجھے کسی بات کا احساس نہ تھا مگر جب میں تھوڑا سمجھدار ہونے لگا تو مجھے لگا کہ لوگوں کی نظروں میں میری ماں کے لئے نفرت ہے اور پھر بچوں کی ماؤں نے بھی اپنے اپنے بچوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ میرے ساتھ نہ کھیلیں۔
مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مجھے احساس دلایا جاتا کہ یہ سب کچھ میری ماں کے بھڑکتے رنگوں کے کپڑوں اور ضرورت سے زیادہ گہرے میک اپ کی وجہ سے تھا جسے لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔ مگر میرے لئے وہ میری ماں تھی اسے پورا حق تھا کہ وہ کیا پہننا پسند کرتی تھی۔ یا کیسا میک اپ کرنا چاہتی تھی۔ ایسا کوئی قانون تو تھا نہیں کہ کیا چہرے پر لگانا ہے کیا نہیں اور یہ کہ صرف اسی طرح کا لباس پہنا جائے جسے لوگ پسند کریں۔
ایسا نہیں ہے کہ مجھے کبھی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ لوگ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ مگر میرا دل چاہتا تھا کہ لوگ اس کو اس طرح چاہیں جس طرح میں چاہتا ہوں۔ مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ میری ماں میری واحد دوست، واحد سہارا ہے اور مجھے اس سے بہت محبت تھی۔ میں اندازہ لگانے لگ گیا تھا کہ ماں کی وجہ سے میرے اسکول کے دوست اور ساتھی بھی مجھ سے دور رہنے لگے ہیں۔ کچھ ٹیچرز بھی کبھی کبھی میری ماں کے لئے عجیب جملے کہہ جاتے تھے، حالانکہ ان کی ان باتوں کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر مجھے کبھی حوصلہ نہیں ہوا کہ میں ان نہ سمجھ میں آنے والے جملوں کے بارے میں ماں سے کوئی بات کرتا۔
لیکن اسکول ختم ہوتے ہوتے میں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ میں ایک دن اپنی ماں سے اس بابت ضرور بات کروں گا کہ وہ کیا کام کرتی ہے یا صبح شام کہاں جاتی ہے اور یہ کہ میرے باپ کے مرنے کے بعد کیا اس نے اس آدمی سے دوسری شادی کی تھی یا یہ کہ میرے دوسرے رشتے دار، یعنی اس کے بہن بھائی یا ماں باپ کہاں ہیں۔ مگر مجھے یہ سارے سوالات پوچھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ اور ایک دن میری ماں نے مجھے میرے سوالوں سمیت اس اسکول میں داخل کروا دیا جس کے ہاسٹل میں مجھے رہنا تھا۔
جب میں ہاسٹل میں تھا تب مجھے ماں کی بہت یاد آتی تھی اور میری بڑی خواہش تھی کہ وہ مجھے ملنے آئے۔ دن ہفتوں مہینوں اور سالوں میں بدل جاتے۔ جب سب بچے ہاسٹل سے گھروں میں چلے جاتے تھے اور میں اکیلا رہ جاتا تھا تب تنہائی مجھے کاٹنے کو دوڑتی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ ہاسٹل وارڈن کو بھی اچھا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ صرف ایک بچے کے لیے پورے ہاسٹل کی نگرانی کرے۔
کئی بار میرا دل چاہتا کہ ٹرین پکڑ کے اپنے شہر چلا جاؤں جہاں میں نے اپنا بچپن تھوڑا بہت ہی سہی، مگر گزارا تھا۔ جہاں ہمیشہ میرے اس سوال کے جواب میں کہ میرا باپ کون ہے، میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ جب میں بہت چھوٹا تھا تب میرا باپ ہارٹ اٹیک سے مر گیا تھا۔ مگر جب وہ مجھے ایک اجنبی شہر کے ہاسٹل چھوڑنے آئی تب مجھے گلے لگا کر نم آنکھوں سے بولی تھی، ”میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔ تمہارا باپ ہارٹ اٹیک میں نہیں مرا تھا۔
وہ شاید اب بھی زندہ ہو، مگر دنیا کے اس ہجوم میں کہیں کھو چکا ہے۔ اس کے لیے مجھے تم معاف کر دینا۔ میں اب اس جگہ کو چھوڑ دوں گی۔ یہ شہر، یہ گھر، یہ لوگ سب کچھ چھوڑ دوں گی۔ میں یہاں صرف تمہارے لیے رہ رہی تھی تاکہ تم اپنا اسکول اچھی طرح سے مکمل کر کے کسی دوسرے شہر میں اچھے ہاسٹل میں شفٹ ہو جاؤ۔ جہاں تم اچھی تعلیم حاصل کر کے کامیاب انسان بنو۔ اگر کبھی تم لوٹ کر اس شہر میں آؤ گے تب بھی تم مجھے وہاں نہیں پاؤ گے۔ مگر تمہاری تعلیم کا پورا خرچہ تمہیں ہر مہینے ملتا رہے گا۔
میرے لئے یہ دونوں باتیں برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ برس تھی۔ میں ماں کے ساتھ لپٹ کر رونا چاہتا تھا۔ اس کے ساتھ واپس اپنے گھر جانا چاہتا تھا۔ اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔ مگر میں کچھ بھی نہ کر سکا۔ میں تنہا، اکیلا اور اداس رہ گیا۔ کچھ خیال تھا تو یہ کہ اب یہ ہاسٹل ہی میری واحد پناہ گاہ ہے اور اب میں کبھی اپنے گھر واپس نہیں جا سکوں گا اور دوسرا یہ کہ جسے میں اب تک اپنا گھر سمجھتا رہا وہ میرا نہیں ہے۔
پھر کبھی واپس اس شہر اور گھر میں جاؤں گا تو میری ماں نہیں ہو گی۔ یہ سب اپنی جگہ مگر سب سے بڑھ کر یہ جان لیوا خیال میری زندگی میں آسیب بن کر چمٹ گیا کہ میرا باپ زندہ تھا یا زندہ ہے اور اسی دنیا کا باسی ہے مگر وہ کون ہے اور کہاں ہے، مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ تو کیا میں کبھی اس کے بارے میں جان پاؤں گا؟ تو وہ آدمی کون تھا، جس کی دہشت نے میرا کومل بچپن اور میری ماں کا سارا جوبن چاٹ لیا تھا۔
میں اپنے پورے قد سے کھڑا تھا۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں تھا۔ میرا وجود اس دن کرچیوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ یہ سب سننے کے بعد میں بہت زیادہ تھک گیا تھا، پھر میں ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ ماں نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔ میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگایا۔ ماں کی آنکھوں کی نمی لمحہ بھر میں میرے ہاتھوں نے جذب کر لی تھی۔ مگر مجھے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا احساس تک نہیں تھا۔ ماں کے جانے کے بعد میرا دل چاہا دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ کاش ماں اپنے پہلے جھوٹ کو اپنی آخری ملاقات میں بھی نبھا جاتی تو میں بہتر طور پر جی پاتا۔
اس نئی زندگی کو شروع کرنے کے لئے اس نے مجھے جو کچھ کہا تھا، اس نے مجھے باور کروا دیا کہ اب مجھے اکیلے جینا ہے، اور بہت محنت کرنی ہے۔ تنہا زندگی گزارنے کے لئے میرے پاس سوائے کتابوں کے اور کچھ نہ تھا۔ ماں کی کہی بات پتھر پر لکیر تھی۔ میری معیاری تعلیم کا پورا خرچہ میرے اکاؤنٹ میں پہنچتا رہا۔ میری ضرورت کی ہر چیز مجھے میسر تھی۔ ”
مکمل خاموشی میں صرف ڈاکٹر سائمن کی آواز تھی۔ ہر لفظ کو جذب کرنے والی سماعتیں حیران و پریشان تھیں۔ ڈاکٹر سائمن اپنی دھن میں بولے چلے جا رہے تھے۔
”ماں نے ہاسٹل کے دروازے پر مجھے چھوڑ کر، خود تک پہنچنے کا ہر دروازہ بند کر دیا تھا۔ مجھے آج بھی معلوم نہیں کہ میری خاموش مزاج ماں آخر ایک پر تشدد اور بد زبان شخص کے ساتھ رہنے پر کیوں مجبور تھی؟ میرا باپ کون تھا۔ اس کی کوئی تصویر تک میرے پاس نہیں ہے۔ سوچتا ہوں اگر ماں اس جھوٹ کو اپنی آخری ملاقات میں بھی نبھا جاتی تو میں اس گرداب میں نہ پھنسا ہوتا کہ میرا باپ مرا نہیں بلکہ زندہ ہے اور یہیں کہیں اسی ملک میں رہتا ہو گا۔
شاید اس کی اپنی فیملی ہو گی اور وہ ان کے لئے ایک شاندار باپ ہو گا۔ مگر میرا دکھ اس سے سوا ہے اور وہ یہ کہ میری ماں کو اپنی محبت اور تربیت پر بھروسا کیوں نہیں رہا۔ شاید وہ مجھے بھی دنیا والوں جیسا سمجھتی تھی کہ جب میں ڈاکٹر بن کر باہر نکلوں گا تو اس بات کو برداشت نہیں کر پاؤں گا کہ میری ماں ایک سیکس ورکر تھی۔ مگر کیا کوئی بیٹا اپنی ماں سے صرف اس لئے نفرت کر سکتا ہے کہ اس کی ماں نے اسے پیشہ کر کے کھلایا، پلایا اور پڑھایا ہے؟
اس کے سر پر ہمیشہ چھت قائم رکھی اور اسے کبھی بھوکا نہیں سونے دیا؟ اور یہ سب کرنا اس کے لئے یقیناً آسان نہیں ہو گا۔ اس کی زندگی بہت تکلیف دہ رہی ہو گی۔ اس کی محنت کی کمائی سے میں ڈاکٹر بن چکا ہوں۔ کاش وہ آج زندہ ہوتی تو میں اس کی خدمت کرتا اور کی مشقت بھری زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔ مجھے میڈیکل کی سٹڈی کے دوران ہی علم ہو گیا تھا کہ میری ماں ایک اذیت ناک بیماری کا شکار ہو کر مر گئی ہے اور اسے کریمیٹ کر دیا گیا۔ اس کی وصیت کے مطابق میں نے اس کی راکھ میں ایک پلانٹ اگایا جواب ایک گھنا سرسبز درخت بن چکا ہے۔
خاموشی کے گہرے کنویں میں کچھ دبی دبی سی سسکیاں سننے کو ملیں۔ ایما نے مختصر سی تقریب کے آخری کلمات ادا کیے ۔ ڈاکٹر سائمن فیملی کو وقت دینے کا کہہ کر چلے گئے۔ مہمان بھی ریفریشمنٹ کے بعد جانے لگے۔ سینٹر میں مقیم کچھ لوگ اپنے بیڈز کی طرف چلے گئے اور کچھ نے لیونگ روم میں ٹیلی ویژن دیکھنے کو ترجیح دی۔ نائٹ اسٹاف رات کے کھانے اور دوا کے معاملات دیکھنے لگا۔
اگلا دن ہر روز کی طرح تھا۔ گھڑی کی سوئی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اوقات کار۔ کھانا، دوا، صفائی، ٹی وی، انڈور گیمز۔ روز مرہ کی زندگی اسی طرح جاری تھی۔ آج بھی انجلا نے فائل میں میسن کا ٹمپریچر نوٹ کیا اور دوسرے پیشنٹ کی طرف مڑی تب اچانک میسن نے اس سے سوال کیا۔
”کیا میری ماں ملنے نہیں آئی؟“
”نہیں“ ۔ انجلا نے جواب دیا اور دوسرے بیڈ پر بیٹھے پیشنٹ کا ٹمپریچر لینے لگی۔
” آج میسن کی آواز کی کرختگی قدرے کم تھی جب اس نے اپنی ماں کی بابت پوچھا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے۔“ انجلا نے ایما سے آج کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”حیرت ہے۔ مگر یہ کایا پلٹ کیسی؟“
میرا خیال ہے آج اس نے شدید غصہ بھی نہیں کیا۔ چلایا بھی نہیں ہے۔ اس کا بلڈ پریشر بھی نارمل آ رہا ہے، جو بہت اچھی خبر ہے۔
میسن نے تقریباً روز ہی اپنی ماں کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا۔ انجلا یا ایما میں سے جو بھی وزٹ پر ہوتا، اسے انکار میں ہی جواب دینا پڑتا۔
”ماں کا کوئی فون آیا؟“ یہ ایک اضافی سوال تھا جو میسن نے پوچھا۔
”تمہاری ماں کے پاس فون کی سہولت موجود نہیں ہے۔ بھول گئے؟“
خاموشی۔
”خط لکھو گے؟“ انجلا نے پوچھا۔
”یو نو، یو نو“ کے بعد پھر خاموشی۔
کوئی تین ایک دن کے بعد جیسے ہی انجلا ٹرالی لے کر کمرے میں داخل ہوئی، میسن گویا منتظر بیٹھا تھا۔
”مجھے خط لکھنا ہے۔“ وہ یک دم بولا۔
”اچھا۔ مگر کسے؟“
انجلا نے بغیر توجہ دیے، عام سے انداز میں پوچھا۔
”میں اپنی ماں کو خط لکھوں گا۔“
”اچھی بات۔ میں اس سلسلے میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں؟“
”میں سمجھا تم خوش ہوگی۔“ میسن آنکھیں نیچے کیے بولا۔
”اگر تم اپنی خوشی سے لکھنا چاہتے ہو تو لکھو میں خوش ہوں گی۔“
انجلا بولی۔
”میری خوشی کا تو مجھے پتا نہیں، مگر مجھے ماں سے بات کرنی ہے۔ اس سے ملنا ہے۔“
”او کے۔“ انجلا نے شانے اچکائے۔
”میں نے کہا نہ کہ مجھے اپنی ماں کو خط لکھنا ہے۔ مجھے اپنی ماں کو خط لکھ کر بلانا ہے۔ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔“
اس بار میسن کے لہجے میں تحکم اور غصہ تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
میل نرسز اس طرح کی جارحانہ صورتحال سے نبٹنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ مگر میسن نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا نہ ہی کچھ اور بولا۔ صرف چہرے کے تاثرات کو بگاڑے رکھا۔
”ٹھیک ہے، میں ایما سے کہتی ہوں وہ کھانے کے بعد تمہاری مدد کرے گی۔“ انجلا رسانیت سے بولی۔
اس طرح کے ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز میں بے شمار کہانیاں بنتی تھیں۔ کئی کہانیاں عجیب سے موڑ لے لیتی تھیں۔ ناقابل یقین واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہوتے تھے۔ عملہ ان تمام قصوں اور کہانیوں کے ساتھ خود کو وابستہ محسوس کرتا تھا۔ بلکہ اس طرح کے سینٹرز میں کام کرنے والوں کی اکثریت محض نوکری کرنے کے لئے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہوتی تھی۔
ایما میسن کے لئے پین اور پیپر لے آئی تھی۔ میسن کو بہت دیر لگی یہ مختصر جملہ کہنے میں کہ وہ اپنی ماں سے کچھ اہم بات کرنا چاہتا ہے اور اسے یاد کر رہا ہے۔ اس بات کو کہتے ہوئے میسن کے ہونٹ کپکپا رہے تھے اور اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔
ایما نے من و عن یہی سطر کاغذ پر تحریر کر دی۔
”بس؟“ ایما نے پوچھا۔
”اور بس، اور ہاں۔ سوری بھی۔“
اب کی بار میسن کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ دو آنسو اس کے لرزتے ہاتھوں پر گرے تھے۔
یہ ایک عجیب واقعہ تھا۔ سینٹر کے تمام عملے کے لئے اس خط کی بہت اہمیت تھی۔ میسن کی بوڑھی ماں کا بار بار سینٹر آنا اور نا مراد لوٹ جانا ہر ایک کو اداس کر دیتا تھا۔
”معلوم ہے ڈاکٹر، مدر ڈے والی تقریب کے بعد سے میسن نے اپنے اس جملے کو نہیں دہرایا اور نہ ہی کسی پر چیخا چلایا ہے۔“ انجلا اور ایما نے ڈاکٹر سائمن کو میسن کی والدہ کو خط لکھنے کی بابت بتاتے ہوئے کہا۔
”مگر ملاقات والے روز احتیاط ضروری ہے۔ “ ڈاکٹر سائمن نے سنجیدگی سے کہا۔
ایک عرصے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں اس قدر سناٹا چھایا تھا۔ گو کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ہم میں سے ہر ایک اس خط کا منتظر تھا مگر آج جب خط آیا تو گویا سب کو چپ لگ گئی۔ آنکھوں میں بار بار اترتی نمی کو ایک دوسرے سے چھپانے کی غرض سے ہر کوئی ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ اس خط کو، جو کہ دو ہفتے پہلے لکھے گئے خط کا جواب تھا، باری باری سب نے پڑھ لیا تھا۔
تھا ہی کتنا۔ دو سطریں!
”جولائی کی چار تاریخ کو مسز رہبل میسن کا انتقال ہو چکا ہے۔ لہذا یہ خط آپ کو آپ کے درج کردہ پتے پر واپس بھیجا جا رہا ہے۔“


