ایک دن سہیل وڑائچ کے ساتھ
آپ ٹی وی دیکھتے ہوں اور سہیل وڑائچ سے آگاہ نہ ہوں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
ہم جیسے بے وقعتوں کو کہ جن کا تھانے کچہری میں کوئی واقف بھی نہیں ”کیا یہ کھلا تضاد نہیں“ کہتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے پولیس والے دھر ہی نہ لیں کہ اس کے استعمال کے جملہ حقوق تو کب کے سہیل وڑائچ کے نام محفوظ ہوچکے۔
ہمارے ایک بزرگ نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ تضاد پہلے اس قدر کھلا نہیں ہوتا تھا۔ یہ تو سہیل وڑائچ نے سوال کر کر کے اسے اس قدر کھلا کر دیا ہے۔
خوشاب، ’خوش آب‘ سے ہے یعنی میٹھا پانی۔ سہیل نے شاید اپنی جنم بھومی کے نام کی لاج رکھی ہے کہ اس کے میٹھے پانی کی طرح انہوں نے بھی میٹھی طبعیت پائی ہے۔ ایک مشترکہ دوست تو یہ بھی کہتا ہے کہ خوشاب میں ان سے بڑا نام پیدا ہی نہیں ہوا۔ بڑے نام کا تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن سہیل سے بڑا بچہ شاید واقعی پیدا نہیں ہوا۔
صحت بچپن ہی سے کچھ ایسی تھی کہ جب لوگ اس کی پیدائش کی خبر سن کر والد صاحب کو مبارکباد دینے آئے تو ان کی گود میں سہیل دیکھ کر فرمائش کرتے رہے کہ اس کا چھوٹا بھائی دکھا دیں، نو مولود کو پیار دینا ہے۔ ایسے موقعوں پر والد صاحب کو ہزیمت سے بچانے کے لئے ان کے منجھلے چچا کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ مہمانوں کو یقین دلائیں یہی اپنا چھوٹا بھائی ہے۔
بہت سے دوست تو ان کے والد صاحب کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ اس کو بڑا ہو کر پہلوان بنانا، وہ بے چارے اپنے دوستوں کو سمجھاتے پھرتے تھے کہ یہ تو پہلے ہی بڑا ہے۔
’س‘ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے گھر والوں نے ان کا نام سہیل سرور سلیمان رکھا تھا۔ ذات کے البتہ ’وڑائچ‘ ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود پھیلتے اور نام سکڑتا چلا گیا۔
ان وڑائچوں میں دو ہستیاں ہی دوام کو پہنچی ہیں اور ان کی پہچان، ان کی شناخت کا باعث بنی ہیں۔ ایک وڑائچ طیارہ اور ایک سہیل وڑائچ۔ وہ تو بھلا ہو سہیل کا ، اپنی برادری کا نام روشن کیے ہوئے ہیں ورنہ ان نگوڑی ڈائیوو بسوں کے بعد وڑائچ طیارہ تو سڑکوں پر ناپید ہوتا چلا جا رہا ہے اور خال خال ہی نظر آتا ہے۔
”ایک ہو پر نیک ہو“ کے مصداق اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور اس خاندانی روایت پر کار بند بھی رہے۔ اب ہمارا بھتیجا بھی ایک ہے اور نیک ہے۔
ایک زمانے تک انتہائی شرارتی تھے لیکن ایک روز شکایت لگ جانے پر اپنے چچا کو دل گرفتہ دیکھ کر ایسے بدلے کہ ساری شرارتیں دل میں ہی دبا دیں۔ یہ شرارتیں پھر کئی سال بعد سوالوں کی شکل میں باہر آئیں اور بے پناہ آئیں۔
تعلیم کے حصول کے لیے گھر والوں نے بچپن ہی سے گھر سے دور بھیج دیا تھا۔ شاید اسی کا اثر ہے کہ جس قدر اس زمانے میں گھر سے باہر رہے تھے اب اسی قدر گھر کے اندر رہتے ہیں۔
پہلے بھلوال اور پھر سرگودھا تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بھلا ہو سرگودھا کالج والوں کا کہ انہوں نے سہیل کا جثہ دیکھتے ہوئے انہیں میس کا بھی انچارج بنا دیا۔ ہمارا گمان ہے کہ یہ روایت ہمارے تعلیمی اداروں میں اسی وقت رکھی گئی تھی کہ میس انچارج کا چکھنے والا سالن لوگوں کے کھانے والے سالن سے زیادہ ہوتا تھا۔ ان دنوں ان کا سر کڑاہی میں ہوتا تھا اور پانچوں گھی میں (کاش میں نے یہ محاورتاً کہا ہو تا) ۔ آج بھی سہیل اپنے پھیلاؤ کا ذمہ دار میس کی ان ذمہ داریوں کو قرار دیتے ہیں۔
انگریزی میں ماسٹر ہیں لیکن مزاجاً اتنے سادہ ہیں کہ بہت سے لوگ اردو والا ماسٹر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ویسے ہیں بھی خاندانی استاد۔ نانا، دادا، والد صاحب، تیسری نسل ہے جو کسی نہ کسی طور تدریس سے وابستہ رہی ہے۔ سہیل مگر پڑھاتے پڑھاتے صحافت کی طرف جا نکلے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔ گھر والے تو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، کیا معلوم تھا لوگوں کے بجائے معاشرے کا ڈاکٹر جا بنے گا، مریض کے بجائے عوام کی نبض پر ہاتھ جا رکھے گا۔ عوام کے امراض کی اب ان سے بہتر کون تشخیص کون کر سکتا ہے!
آج تو صحافت میں بہت پیسہ آ گیا ہے۔ سہیل نے لیکن زندگی میں اور بہت سے مواقع میسر ہونے کے باوجود اپنے شوق کی تکمیل کی خاطر صحافت کو اس وقت اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تھا جب صحافیوں کی آمدنی کچھ اس طور تھی کہ چائے پینے کے بعد ایک پتی کے پیسے دیتا تھا تو دوسرا دودھ کے۔
اس قدر وسیع المطالعہ ہیں کہ شاید ہی دنیا کا کوئی ادبی شاہکار انہوں نے نہ پڑھ رکھا ہو۔ اگر ہم نے اپنی بھابھی دیکھ نہ رکھی ہوتیں تو خدا ناخواستہ ’ط‘ کی بات پر یقین ہی کر بیٹھتے کہ ہر وسیع المطالعہ شخص کے پیچھے ایک بد صورت بیوی کا ہاتھ ہوتا ہے۔
سہیل بھابھی سے بہت محبت کرتے ہیں۔ میرا دوست ’ط‘ بھی اپنی زوجہ محترمہ سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی وجہ کسی بھی اور آپشن کا نہ ہونا بتاتا ہے۔
اب تو کئی سال ہو گئے سہیل کو ٹی وی پروگرام ”ایک دن جیو کے ساتھ“ کرتے کرتے۔ اس کی وجہ جہاں یہ خود کچھ اور بتاتے ہوں گے ہمارا دوست ’ط‘ کہتا ہے کہ اس میں ان نازنینوں اور حسینوں سے انہیں براہ راست ہمکلام ہونے کا موقع بھی ملتا ہے جس کے بارے میں ہمارے جیسے طلب گار ”بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے“ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ اور تو اور کون سی ایسی نوکری ہے جو بندے کو میرا کے سوئمنگ پول تک لے جاتی ہو!
’ط‘ تو یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ ایسے پروگراموں، ایسے موقعوں پر سہیل کا چہکنا اور خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ اب حسد کا کوئی علاج تو ہو نہیں سکتا، سو ہم بھی سہیل کی طرح ان کو نظر انداز کر کے آگے بڑھتے ہیں۔
گفتگو کے دوران بعض اوقات ہونٹوں کو گولائی کی شکل دے دیتے ہیں۔ آخری دم تک لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان میں سے سیٹی نکلے گی لیکن نکل سوال آتا ہے۔
اپنے پروگراموں میں سہیل بڑی سی بڑی حساس بات بھی چہرے پر انتہائی معصومیت طاری کیے پوچھ جاتے ہیں۔ ایک اہم سیاسی رہنما سے کہ جن کی شادی ٹوٹ جانے کی افواہ ان دنوں گردش میں تھی پروگرام میں پوچھنے لگے بھابھی نظر نہیں آ رہیں۔ وہ تو کیمرہ آن تھا، نہیں تو ہمارا رہنما بھابھی دکھا سکتا یا نہیں سہیل کو دن میں تارے ضرور دکھا دیتا۔
سہیل جب بھی کسی کے گھر پروگرام کرنے جاتے ہیں تو ’اتفاقاً‘ ایک وقت کا کھانا ضرور بیچ میں آ جاتا ہے۔ مجھے ان کی یہ بات بھی بہت اچھی لگتی ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے اس قدر اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں کہ گمان ہی نہیں ہوتا اپنے گھر کھا رہے ہیں یا کسی اور کے۔ اوپر سے ان کا شمار ان مسلمانوں میں ہوتا ہے جو اسلام کے احکامات پر عمل کر سکتے ہوں یا نہ ہوں البتہ یہ زریں اصول کبھی نہیں بھولتے کہ کھانے کا برتن مکمل صاف کرنا اور انگلیاں چاٹ لینی چاہیے۔ سہیل کی بھی روز قیامت اس اصول کو اس قدر تسلسل اور انہماک سے نبھانے کے سبب بخشش کے واضح امکانات موجود ہیں۔

بیگم صاحبہ تو کھلے عام کہتی پھرتی ہیں کہ سہیل کو کھانے کی ہر وہ چیز پسند ہے جو موٹا کرتی ہے۔ ویسے اس میں سہیل کا بھی کوئی قصور نہیں، قدرت نے بھی سارا ذائقہ ان چیزوں میں رکھا ہے جو وزن بڑھاتی ہیں، موٹا کرتی ہیں، فشار خون بلند کرتی ہیں، کولیسٹرول میں اضافہ کرتی ہیں، شوگر میں مبتلا کرتی ہیں، تیزابیت پیدا کرتی ہیں، اور نہیں تو تبخیر معدہ کا باعث بن جاتی ہیں۔
اپنے سیاسی نظریات اور آراء اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ پتا ہی نہیں چلتا کس سیاسی رہنما یا جماعت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ ان کے کالم پڑھنے والے سیاستدان بھی آخر تک یہ نہیں جانچ پاتے کہ یہ ان کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت۔ ہمارے ایک واقف کار سیاستدان تو کالم پڑھنے کے بعد اس حوالے سے ٹاس کر لیتے ہیں۔ ان کو انٹرویو دینے والے سیاستدان بھی ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کی حمایت کی جا رہی ہے یا مخالفت۔ سہیل بھی اپنی نجی محفلوں میں دوستوں کو بتاتے رہتے ہیں کہ مجھے تو خود پتا نہیں چلتا کہ میں حمایت کر رہا ہو یا مخالفت۔
تحریروں میں ایسی جان بھر دیتے ہیں کہ ان پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ اپنے کالموں میں کبھی کبھی عالم ارواح میں بسنے والی ہستیوں کی جانب سے خط لکھ لاتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے ایک سیاستدان آنکھوں میں آنسو لیے اپنے بھائی صاحب کے پاس جا پہنچا کہ جنت سے ابا جی کا خط آیا ہے، سلام کہہ رہے ہیں۔
ڈیل ڈول کے اعتبار سے ٹرمپ سے خاصے مشابہ ہیں، خاص طور پر جب سوٹ پہن رکھا ہو اور عقب سے دیکھ رہے ہوں۔ کبھی کبھی تو گمان ہوتا ہے ان کا اور ٹرمپ کا درزی ایک ہی ہو گا، تبھی تو پیچھے سے دیکھنے پر فرق پتا نہیں چلتا۔ اگر فرق ہے تو بس اتنا کہ ٹرمپ کے پہلو میں میلانیہ ہوتی ہے اور سہیل محض اس کی آرزو ہی کر سکتے ہیں۔
”قاتل کون“ اور پھر ”غدار کون“ جیسے عنوانات سے تو کتابیں لکھ ہی چکے ہیں کچھ بعید نہیں کہ کسی روز ”تو کون تے میں کون“ بھی لکھ ڈالیں۔
سہیل کہتے ہیں اس سے پہلے کہ ہر خواہش پہ دم نکلتا، سب پوری ہو گئی ہیں، البتہ اب دل میں ایک ناول لکھنے کی خواہش باقی رہ گئی ہے۔ ان کا جثہ دیکھتے ہوئے ’ط‘ کہتا ہے کوئی ضخیم ناول لکھیں تو ہی بات بنے گی، اتنے بڑے ڈیل ڈول کے ساتھ دبلی پتلی کتا بیں کچھ جچتی نہیں۔ ناول کے پلاٹ کے حوالے سے مشورہ ہم دیے دیتے ہیں، دورافتادہ گاؤں میں پیدا ہونے والا ایک بچہ، مزاج پہ چھائی خامشی، کشف کی حدوں کو چھوتی معاملہ فہمی اور مستقبل بینی، موثر انداز بیان، دنیا بھر میں شناخت!
دفتری اوقات کے علاوہ بہت کم لوگوں سے گھلتے ملتے ہیں، کہتے ہیں کتابوں میں غرق رہنا اچھا لگتا ہے۔ سہیل کا تو پتا نہیں، ہمیں اپنے ایک رشتے کے چچا یاد آ گئے، مرحوم اپنی زوجہ محترمہ کے ’حسن اخلاق‘ کی بدولت کتابوں میں ہی غرق رہنا پسند کرتے تھے، ایک دن فرہنگ آصفیہ کے نیچے آ کر ایسا دم گھٹا کہ دوسری دنیا کو ہی سدھار گئے۔
حسن پرست آدمی ہیں۔ جوانی میں کئی عشق فرما چکے ہیں۔ کہتے ہیں وہ مرد ہی نہیں جس نے شادی سے پہلے کئی عشق نہ کیے ہوں۔ ’ط‘ اس سے جزوی اتفاق کرتا ہے۔ کہتا ہے وہ بھی مرد نہیں کہ جس نے شادی کے بعد کئی عشق نہ کیے ہوں۔ یار لوگ اس بات پر اچھا پھنس جاتے ہیں، خاص طور پر اپنی گھر والیوں کے سامنے، نہ اتفاق کر سکتے ہیں نہ اختلاف!
سہیل بتاتے ہیں لہجے کی عاجزی اور دھیما پن والد صاحب کی ہدایت کا اثر ہے، شادی کی دین نہیں۔ جو کمی رہتی تھی وہ البتہ شادی نے پوری کر دی ہے۔
معاملہ فہمی اور ذہانت اس قدر کہ آنے والے حالات کی ٹھیک ٹھیک پیشین گوئی کر سکتے ہیں۔ میں اپنے ایک دوست کو بتا رہا تھا کہ اگر سہیل صحافی نہ ہوتے تو جوتشی ہوتے، وہ نگوڑا حیرت سے پوچھنے لگا تو کیا سہیل جوتشی نہیں۔
انتہائی نرم دل آدمی ہیں کسی کو روتا دیکھ کر ان کا بھی دل بھر آتا ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنی شادی کی رخصتی میں اپنی بیگم سے زیادہ روتے ہیں۔ بعض تو لڑکی کے گھر والوں سے یہ بھی کہہ دیتے ہیں، آپ اپنی لڑکی رکھ لیں، میرا کیا ہے، ساتھ والوں کی لے جاتا ہوں۔
موسیقی سے شغف تو ہے لیکن محض پرانے گانوں، غزلوں اور قوالیوں کی حد تک۔ بتاتے ہیں کہ انہیں پرانے پنجابی گانے بھی خاصے پسند ہیں۔ سہیل کی تو موسیقی کے لیے بہت سی خدمات بھی ہیں کہ ان کو گاتا دیکھ کر بڑے بڑے بے سرے بھی حوصلہ پکڑتے ہیں۔ سہیل ایمان کی حد تک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ گانے کے لئے اچھی آواز اور سرکی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر یقین نہ آئے تو کبھی انہیں ان کا پسندیدہ گانا ”کہندے نے نیناں، تیرے کول رہنا“ گاتا سن لیا کریں۔ ویسے اگر سہیل صاحب ”نینوں“ پر انحصار کرنے کے بجائے یہ بات خود کہہ لیتے تو شاید اس کے ”کول“ رہنا ممکن ہو گیا ہوتا۔
مشہور آدمی ہیں، جہاں جاتے ہیں لوگ ان کے ساتھ سلفیاں بنانی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس قدر قد آور ہیں کہ کم ہی لوگوں کی سیلفیوں میں پورا آتے ہیں۔ کچھ منچلے تو ان کے ساتھ اب دو سلفیاں بناتے ہیں۔ ایک ناف تک اور دوسری ناف سے اوپر۔ بعد میں کہتے پھرتے ہیں یہ دیکھیں یہ میں نے سہیل وڑائچ کے ساتھ تصویر کھنچوائی ہے، یہ ٹانگیں اسی کی ہیں، یا یہ کہ تصویر میں نظر آنے والا یہ دھڑ سہیل وڑائچ کا ہے۔
کہتے ہیں میرے اندر اک عجیب طرح کی اداسی ہے۔ جوانی میں بلکہ بچپن میں ہی سنجیدگی کی چادر اوڑھ لی تھی۔ اندر اتنی اداسی اور چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ، سہیل کیا یہ کھلا تضاد نہیں!






