مجبوری


فاطمہ نہیں جانتی تھی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں اس کی زندگی ایک ایسا موڑ لینے والی ہے جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

یہ میں نے افسانے کے آخر سے کچھ لائن پہلے ہی آپ کی نظر کر دی ہیں۔ ابھی میں کراچی اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہوں۔ ٹرین کا سفر طویل ہے لہذا چلتے ہیں فاطمہ کی طرف۔

فاطمہ شامیر امجد اور شہناز کی اکلوتی بیٹی اور کل کائنات تھی۔ شامیر صاحب آرمی سے صوبیدار ریٹائر تھے اور شاعری سے بھی لگاؤ رکھتے تھے۔ شہناز سرکاری ٹیچر تھی۔ شامیر اور شہناز کی ملاقات ایک ریستوران میں ہوئی۔ جہاں شہناز اپنے والدین اور شامیر اپنے دوستوں کے ہمراہ آیا تھا۔ دوستوں کے اسرار پر شامیر اپنی لکھی ایک نظم سنانے لگا۔ پاس دوسرے ٹیبل پر شہناز بیٹھی تھی۔ شامیر کی خوبصورتی اور نظم کے الفاظ و لہجہ شہناز کے دل کو چھو گیا۔

جیسے تیسے شہناز نے شامیر سے اس دن ہمت کر کے نمبر لے لیا۔ باتیں ہوئیں اور بات شادی تک جا پہنچی۔ شادی کے ایک سال بعد خدا نے فاطمہ کی صورت میں ان دونوں کو ایک خوشی ایک تحفے سے نوازا تھا۔ دونوں بہت خوش تھے۔ زندگی گزرتی گئی اور فاطمہ باپ کے نقشے قدم پر چل پڑی شاعری سے اس کو بے حد محبت تھی۔ شامیر صاحب کی عمر اب چالیس سال ہو چکی تھی۔ جب باپ بیٹی کو وقت ملتا تو پھر گھر میں شاعری کی خوب محفل لگتی۔ جس سے شہناز بیگم مسکراتی بھی اور لطف اندوز بھی ہوتی۔

چھوٹا سا گھر چھوٹی فیملی چھوٹی چھوٹی خوشیاں یہ سب انتہائی سکون کے لمحے ہوتے ہیں اور میرے نزدیک یہی حقیقی زندگی بھی ہے۔ ٹرین تیزی سے اپنی منزل پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ درخت کھیت سب کچھ جیسے ٹرین کے پیچھے بھاگ رہا ہو۔ لیکن سچ پوچھیں تو میں بہت تھک گیا ہوں اور ٹرین سے بھی زیادہ جلدی مجھے ہے منزل پر پہنچنے کی۔ خیر اب وقت آ گیا تھا فاطمہ کا کسی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا داخلہ بھی ہو گیا۔ لیکن جب بات آئی ہوسٹل کی تو شہناز بیگم اور شامیر صاحب دونوں انتہائی دکھی ہو گے تھے اور اکلوتی اولاد کو خود سے دور کرنا ہوتا بھی مشکل ہے۔

لیکن یہ کڑوا گھونٹ تو ان سب کو پینا تھا کیوں کے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ چنانچہ فاطمہ نے اماں ابا کو سمجھایا کے میں کون سا ملک چھوڑ کر جا رہی میں تو بس دوسرے شہر ہی تو جا رہی ہوں۔ جب بھی وقت ملے گا میں گھر آ جایا کروں گی اور بابا اگر میں پڑھوں گی نہیں تو آپ کے سپنے کیسے پورے کروں گی۔ پولیس افسر کیسے بنوں گی۔ یہ سن کر شامیر میاں کے چہرے پر تھوڑی مسکراہٹ آئی اور ان دونوں کو فاطمہ کی دوری برداشت کرنے کا تھوڑا حوصلہ بھی مل گیا۔

شامیر میاں جا کر فاطمہ کو ہاسٹل چھوڑ کر آ گے دن گزرتے گے اب اس گھر سے خوشیاں ناراض ہو چکی تھی۔ کیوں کے گھر کی رونق یعنی فاطمہ گھر سے دور تھی۔ شامیر صاحب سگریٹ کی لمبی کش لے کر برگد کے پیڑ پر بیٹھی ایک گلہری کو دیکھ رہے ہیں شہناز نے دروازے پر دستک دی اور بنا کچھ بولے اندر چلی آئی۔ وہ بھی شامیر صاحب کے ساتھ اس گلہری کو دیکھنے لگی۔ پیڑ پر اس کا گھونسلا صاف نظر آ رہا ہے۔ وہ بچوں کو کھانا دے رہی ہے اور مختصر سا خاندان خوش نظر آ رہا ہے۔

اولاد کتنی پیاری ہوتی ہے نا؟ شامیر نے شہناز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا!

ہاں واقعی اولاد وہ واحد چیز ہے جس کی محبت میں انسان اپنی جان تک گنوا دینے سے گریز نہیں کرتا۔ شہناز نے دکھ بھرے لہجے میں جواب دیا۔

زندگی ایک مجبوری کا نام ہے اور یہاں ہمیں جینے کے لیے مشکلات کو گلے لگانا ہو گا۔ شہناز نے مزید کہا۔

اس کی آنکھوں میں ہلکے ہلکے آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی وجہ یہ تھی کے شہناز نے شامیر سے شادی کا فیصلہ اپنے والدین کے خلاف جا کر لیا تھا۔ شہناز کے والدین کی مرضی تھی۔ کے شہناز کا رشتہ اس کے کزن مطلب چچازاد بھائی عمار سے ہو جائے۔ عمار بھی ایک اسکول میں ٹیچر تھا۔ وہ انتہائی خوش مزاج لڑکا تھا۔ پورے محلہ کو وہ بہت پسند تھا۔ لیکن بس کہتے ہیں کہ دل تو پتھر سے بھی لگ جاتا ہے۔ شامیر صاحب کی سنائی ہوئی اس نظم میں نا جانے کیا تھا کے شہناز شامیر کے عشق میں گرفتار ہو گئی اور اپنے والدین کے خلاف جا کر شامیر سے شادی کا فیصلہ لیا تھا۔

شاید شہناز اپنے ابا اماں کو یاد کر رہی تھی اور ان کی یاد اور جدائی کے سبب اس کی آنکھیں بھر آئی تھی۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔ شامیر صاحب کی سگریٹ کا دھواں رقص کرتا آسمان کی جانب ایک بیل نما شکل بناتا اور ٹھیک اس طرح غائب ہو جاتا جس طرح ان کی زندگی سے خوشیاں اور سکون غائب ہو گیا تھا۔ گلہری اپنے بچوں کو کھانا دے چکی ہے اور اب درخت کی ایک شاخ پر بیٹھی کچھ سوچوں میں مصروف ہے۔

زندگی کتنی عجیب چیز ہے نہ جس کا تعلق مجبوری سے ہے اور اس مجبوری کی خاطر انسان کتنا کچھ قربان کر دیتا ہے۔ انسان اس زندگی میں سکون پانے کے لیے اپنا سکون برباد کرتا ہے۔ اپنی تکلیفوں کا سودا اپنے سپنوں اور پیسوں سے کر دیتا ہے۔

فاطمہ اپنی تعلیم پر خوب توجہ دے رہی تھی تاکہ وہ اپنے اور اپنے والدین کے سپنے پورے کر سکے۔

فاطمہ روز کچھ وقت بس سٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑی رہتی۔ اس دوران برابر سامنے ایک لڑکا بھی چوری چھپے فاطمہ کو دیکھتا رہتا۔

آخر ایک دن اس نے ہمت کی اور اسی بس سٹاپ پر فاطمہ سے اپنے پیار کا اظہار کر دیا فاطمہ اسے کوئی جواب دیے بنا وہاں سے چلی گئی۔ شام کو ہاسٹل میں جا کر فاطمہ نے اپنی دوست سے ساری بات شیئر کی اور دوست نے بھی ہاں کرنے کا بولا۔ کچھ دن بعد وہ لڑکا پھر اسی جگہ فاطمہ کے پاس آیا اور اپنا جواب طلب کیا۔ فاطمہ نے مسکراہٹ میں اسے گرین سگنل دیا۔ اب باتیں شروع ہو گئی تھی۔ وہ لڑکا دوسری یونیورسٹی کا تھا۔ فاطمہ کو بھی اب وہ پسند تھا۔ اسے سیاست سے بہت لگاؤ تھا اور اس نے دنیا کے حالات کو دیگر ملکی حالات پر آرٹیکلز بھی لکھے تھے۔ وہ ان دنوں ایک ناول بھی لکھ رہا تھا۔ جس کا ذکر اس نے فاطمہ سے کیا تھا۔ اب فاطمہ خوش تھی اور اسے اپنے والدین سے ملوانا چاہتی تھی۔

کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ شامیر اور شہناز گلہری کو دیکھ رہے ہیں۔

اتنے میں شامیر میاں کے فون پر کال آتی ہے۔ جس کی زور دار آواز خاموشی کا قتل کر دیتی ہے۔ شامیر میاں نے کال اٹھائی فاطمہ نے خیریت دریافت کی اور اپنے آنے کی اطلاع دی کہ یونیورسٹی میں چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ لہذا میں کل گھر آ رہی ہوں۔ یہ بات سنتے ہی شامیر میاں کے چہرے پر جیسے مسکراہٹ لوٹ آئی تھی۔ ٹھیک ہے بیٹی میں اور تمہاری ماں کل سٹیشن پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ اور باتیں ہوئی پھر کال ڈراپ کر کے شامیر نے شہناز کو خوشی کی خبر سنائی۔

اب جیسے خوشیاں واپس لوٹ آئی تھی۔ جتنی خوشی شامیر اور شہناز کو تھی۔ اس سے کئی زیادہ خوشی فاطمہ کو تھی اپنے والدین سے ملنے کی۔ رات کا کھانا کھا کر شہناز اور شامیر دونوں بازار کے لیے نکل گے تاکہ فاطمہ کے لئے کوئی اچھا تحفہ لے سکیں۔ رات نو بجے کو وقت وہ دونوں قریبی بازار میں پہنچے۔ شہناز نے فاطمہ کے لئے کپڑے اور چند اور ضرورت کی چیزیں خریدی۔ شامیر صاحب کو اردو ادب سے بہت محبت تھی اور فاطمہ بھی اب ان کے نقشہ قدم پر چل رہی تھی۔

اس لیے شامیر نے فاطمہ کے لئے گیبریل گارشیا مارکیز کی ایک کتاب ”وبا کے دنوں میں محبت“ خریدی۔ اب گھر آنے کے لئے شامیر اور شہناز ایک ٹیکسی پر بیٹھے اور گھر کی طرف روانہ ہو گے۔ راستے میں ٹیکسی ڈرائیور جس کی عمر چالیس برس کے قریب تھی۔ اس کے موبائل پر بار بار کال آئے لیکن وہ اسے دیکھ کر درگزر کر دے۔ جب شامیر صاحب نے پانچویں بار کال آنے پر اس ڈرائیور سے کہا کے بھائی خیریت ہے تم کال اٹھا لو شاید کوئی ضروری کال ہو۔ جس پر ٹیکسی والے نے کہا کے جناب میری آٹھ سال کی بیٹی ہے۔ میں روز نو بجے گھر چلا جاتا تھا۔ آج تھوڑی دیر ہو گئی۔

وہ میرے بنا نہیں سوتی اس لیے گھر سے بار بار کال آ رہی ہے۔ میں بس آپ کو ڈراپ کر کے گھر جاؤں گا۔ جس پر شامیر صاحب مسکرائے۔ اتنے میں ان کا سٹاپ آ گیا انھوں نے ٹیکسی ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا کرایہ دیا اور گھر میں داخل ہو گے۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ وہ فوراً بستر پر لیٹ گے۔ کمرے میں گپ اندھیرا تھا ہلکی ہلکی چاندی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ شامیر نے کہا یہ اولاد بھی کتنی پیاری ہوتی ہے نہ آج تم نے اس ٹیکسی والے کی باتیں سنی تھی شہناز نے ہاں میں جواب دیا لیکن اس کی آواز سے لگ رہا تھا کے اسے نیند آ گئی ہے چنانچہ شامیر صاحب بھی سو گے۔ صبح ہوئی اب کچھ گھنٹوں میں فاطمہ کو نکلنا تھا۔ ادھر شامیر میاں اور شہناز بیگم بھی مختصر ناشتہ کرنے کے بعد سٹیشن کے لیے نکل پڑے۔

فاطمہ نہیں جانتی تھی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں اس کی زندگی ایک ایسا موڑ لینے والی ہے جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

شامیر اور شہناز نے ٹیکسی لی اور سٹیشن کے لیے نکل پڑے۔

ٹیکسی سے باہر کا منظر نہایت دلکش تھا شامیر اور شہناز مکمل خاموشی کے ساتھ اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کے اب کچھ ہی دیر میں وہ اپنی فاطمہ سے ملے گے۔ وہ دونوں آج بہت ہی خوش تھے۔ کچھ ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد ٹیکسی ایک پل سے حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ہر طرف شور تھا کوئی ایمبولینس کو کال کرو جلدی کرو جلدی۔

Facebook Comments HS