مجبوری

فاطمہ نہیں جانتی تھی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں اس کی زندگی ایک ایسا موڑ لینے والی ہے جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ یہ میں نے افسانے کے آخر سے کچھ لائن پہلے ہی آپ کی نظر کر دی ہیں۔ ابھی میں کراچی اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہوں۔ ٹرین کا سفر طویل ہے لہذا چلتے ہیں فاطمہ کی طرف۔ فاطمہ شامیر امجد اور شہناز کی اکلوتی بیٹی اور کل کائنات تھی۔ شامیر صاحب آرمی

Read more

اداس مصور

کالے گھنے بادلوں نے شہر پر اندھیرا کیا ہوا تھا۔ شاید کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی تھی۔ بادلوں کی گرج ایک خوبصورت موسیقی بنا رہی تھی۔ جو اداس روحوں کے لیے سکوں تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بادل خدا سے خفا ہیں۔ یا خدا کے کسی فیصلے پر رضامند نہیں۔ بادلوں کا خفا ہونا بنتا بھی تھا۔ آج خدا نے اک اداس مصور کو اور بھی اداس کر دیا تھا۔ آج زندگی کے سارے رنگ کینوس پر

Read more

افسانہ: ایک پاگل

میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ رہا ہوں گلی میں بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں چچا ارشاد اپنی سبزی کی دکان پر بیٹھا آواز لگا رہا ہے۔ ”تازہ مال تازہ آ گیا جی تازہ مال جلدی آؤ جلدی پاؤ“ لیکن میں جانتا ہوں یہ تازہ مال 4 دن پرانا ہے۔ میں سگریٹ پیتے ہوئے یہ سارا منظر کھڑکی سے دیکھ رہا ہوں۔ سگریٹ ختم ہوئی تو میں بازار کی طرف نکل پڑا ہوں۔ رکشے والا آ کر پاس رکا

Read more

افسانہ: کچے رشتے

رات دو بجے کا وقت تھا۔ میں اپنے دکھوں اور تکلیفوں سے سمجھوتا کر کے گہری نیند سو رہا تھا۔ اچانک دروازے پر زور زور سے دستک ہوتی ہے۔ ارے یار یہ آدھی رات کو کون آ گیا۔ میں نے آنکھیں ملتے دروازہ کھولا لیکن حیرت کی بات تھی کے دروازے پر کوئی نہ تھا۔ اماں نے آواز دی ارے ناظم کون ہے دروازے پر میں نے بات کو ٹال دیا اور نیند کا مارا دوبارہ بستر سے لپٹ گیا۔

Read more