کابوس


وہ ایک تیز، چیختی ہوئی آواز تھی جو پھیلتی ہی چلی جا رہی تھی۔ اس قدر دھار دار کے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔ شاید اوزون کی تہہ آوازوں کے شور سے پھٹ گئی تھی وہ آوازیں جو رنگ برنگ تھیں۔ بے ہنگم موسیقی کی آواز جو رات کے خاموش اندھیرے میں کسی کے لیے فرط و مسرت اور دیوانگی کا باعث تھی تو کسی کے لیے سیاہ شور جیسی بد ہیئت و بے رنگ۔ ان سیاہ لفظوں کی آواز جس میں سازشوں کی سرگوشیاں تھیں کان در کان سفر کرتی بولنے والوں کے دلوں کو مزید کالش میں پوتتی اور دماغوں کو نفرت کے سیاہ رنگ سے بھرتی دلوں میں کہیں کسی کی بربادی کا تصور کر کے چسکورے بھرتی مسکراہٹ جگاتی۔

تو کہیں وہ آوازیں تھیں جو محبت کا عہد و پیمان لیے، سپنے بنتی پھول کھلاتی دلوں کو جوڑتی تو کہیں سماج اور اقدار پہ چوٹ لگاتی گھن آمیز تھیں۔ آوازیں تو وہ بھی تھیں جو سسکیوں میں بھیگی التجا بھری تھیں سارے دکھوں کو سمیٹے کسی سے رحم طلب کرنے کی صدا تو کہیں اس خالق کو پکارنے کی جو تخلیق کے بعد خون کے لوتھڑے کو بھول گیا تھا۔

وہ ہموار لہجوں کی زبان جو ایک خاموش کمپرومائز کر کے زمانے کے ساتھ ڈھل گیا کہ شاید یہی سکون ہے۔

آوازوں کے رنگ ہرے، پیلے، نیلے، گلابی، ارغوانی، آپس میں مل کے دھوئیں کہ مانند پھیل رہے تھے، کثیف دھواں کہ جس میں سانس لینا دوبھر اور کچھ دیکھ پانا نا ممکن تھا۔ آپ بھی کہیں گے آوازوں کے رنگ؟ تو ہاں نا۔ آوازوں کے رنگ ہوتے ہیں۔ اداسی کی آواز نیلے رنگ کی جو گہری ہو تو سیاہی مائل نیلی پاگل پن کی جانب جاتی سٹریس کی حدود کو چھوتی، وہ نفرت پھرے فقرے جو پیلے رنگ میں لپٹے کسی وجود کو اپنی طرح زرد کرنے کی آرزو میں ہوتے ہیں۔

محبت کی، ہنسی اور خوشی کی آواز گلابی، اغوانی اور سنہرے رنگ بکھیرتی ہلکی موسیقی سی حسین آواز، فائر ورک کی پھلجھڑیاں چھوڑتی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، بچے کے پہلے لفظ کی چاشنی جو سکون کے ہالے کی طرح ہر منظر کو خود میں سمیٹ لے۔ کسی دکھ میں گھرے انسان کو حوصلہ دیتی آواز اور ہاں سب سے بڑھ کے وہ دعا کے جس کا حرف بہ حرف قبول ہونے کا یقین ہو کیونکہ وہ ماں اور باپ کے منہ سے نکلی ہے۔ جس کی روشنی کا ہالہ اپنی لپٹ میں لے کے حفاظتی حصار بنا دے۔ دنیا انہیں رنگوں اور آوازوں سے تو بھری ہے۔

لیکن دھواں پھیلتا جا رہا ہے شور بڑھتا جا رہا ہے دم گھٹ رہا ہے کانوں کے پردے آوازوں کی تمیز سے آزاد ہو چکے ہیں بہت بھیانک آواز ہے دماغ پھر بھی کہتا ہے کہ خوشگوار آوازیں حسین رنگ کہاں گئے تو وہ سب کے سب بد ہیئت آوازوں تاریک رنگوں میں ڈوب گئے۔ سب کہیں اڑا جا رہا ہے اور آنکھیں حیران زبان گنگ ہے۔ جسم بے حس و حرکت کوشش کے باوجود کوئی جنبش نہیں ہونے پاتی۔ روم روم پسنے سے بھیگ رہا ہے لیکن بے بسی ہے کہ لپیٹ میں لیے جا رہی ہے۔ بھیانک، تکلیف سے بھرپور بوجھ ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ مکمل بے کسی ہے۔

Facebook Comments HS