عبداللہ حسین اور بیسویں صدی کی تاریخ
(1) عبداللہ حسین اور ہماری بیسویں صدی کی تاریخ۔ اداس نسلیں
عبداللہ حسین نے بیسویں صدی کے برصغیر، پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کی تاریخ کے اہم واقعات کو اپنے دو ناولوں ”اداس نسلیں“ اور ”نادار لوگ“ کا موضوع بنایا اور اپنے کرداروں کے ذریعے ان تاریخی واقعات پر انسانی زندگیوں کا رنگ چڑھایا ہے۔ ان میں سے وہ واقعات جو ہماری قومی تاریخ سے میل نہیں کھاتے، مثلاً بٹوارے سے پہلے جنگ عظیم، جلیانوالہ باغ اور قصہ خوانی بازار کے قتل عام اور بٹوارے کے بعد ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں لیبر یونینوں کا ابھرنا وغیرہ کا ہماری نصاب کی کتابوں میں سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں۔ جبکہ دوسری طرف آزادی کی تحریک، بٹوارہ، 1965 اور 1971 کی جنگوں جیسے واقعات کو ریاستی نظریے سے بیان کیا جاتا ہے ؛ عام، متنوع، پیچیدہ، انسانی زندگیوں کے احساسات اور تجربات کے بجائے یہ ریاستی تاریخیں فقط بڑے لیڈروں کے خیالات اور افعالات کے گرد ہی گھومتی ہیں۔
ایسے میں عبداللہ حسین کے دونوں ناول نہایت اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہماری بیسویں صدی کی تاریخ سے ان بھلا دی جانے والی انسانی زندگیوں کو اپنے کرداروں کے ذریعے زندہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ ان ناولوں کے کردار بیسویں صدی کے برصغیر، پاکستان، پنجاب کی کروڑوں زندگیوں کی بے بسی، نفرت، محبت، لالچ، افسوس، امید، اداسی، ناداری، بے چینی، خوف، بوریت، تنہائی اور حیرانی جیسے انسانی جذبات کے غماز ہیں ؛ وہ زندگیاں جو ہم سے پہلے گزریں لیکن جن کو ہماری قومی، ریاستی اور نصابی تاریخوں نے مفقود کر چھوڑا تھا۔
ان دونوں ناولوں کے کرداروں کی اپنی ایک انفرادی شخصیت، ایک ماضی اور سوچنے، سمجھنے، محسوس کرنے کے طریقے ہیں۔ اپنے انہی نہایت ذاتی خیالات، تجربات اور احساسات کی بنیاد پر یہ کردار تاریخی واقعات میں داخل ہوتے ہیں (یا زبردستی جھونک دیے جاتے ہیں ) ، اور دوسری طرف اسی انفرادی سطح پر ان واقعات سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔
”اداس نسلیں“ کے اہم کردار نعیم، اس کی بیوی عذرا اور اس کا چھوٹا، سوتیلا بھائی علی ہیں کہ جو بیسویں صدی کے شروع سے لے کر 1947 کے بٹوارے تک کے واقعات میں سے گزرتے ہیں۔
ناول کے شروع میں ہمیں ایک نو عمر نعیم سے متعارف کروایا جاتا ہے کہ جس نے پہلے اپنے چچا کے ساتھ کلکتہ میں رہ کر کیمبرج کا امتحان پاس کیا لیکن پھر واپس پنجاب اپنے گاؤں، روشن پور، لوٹ آیا اور اپنے باپ کے ساتھ کھیتی باڑی کرنے لگا۔ انہی دنوں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس میں نعیم بھی شامل ہوا۔ گاؤں سے ریکروٹمنٹ اور لاہور میں ٹریننگ کے بعد اسے باقی ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ بحری جہاز کے ذریعے ہندوستان سے یورپ بھیجا گیا جہاں وہ دو سال بیلجیئم کے نزدیک جرمن فوجیوں کے خلاف جنگ لڑتا رہا۔
اس دوران اس نے کئی اموات دیکھیں ؛ دوستوں کی، دشمنوں کی، بے رحم، پرسکون، مسخ شدہ، تکلیف دہ۔ خاص طور پر اپنے ایک ساتھی ٹھاکر داس کی موت وہ زندگی بھر نہ بھلا سکا۔ یورپ کے بعد وہ دو مہینے مشرقی افریقہ میں بھی جرمنوں کے خلاف لڑا جس کے دوران اس کا ایک بازو کٹ گیا۔ جنگ کے خاتمے پر وہ واپس اپنے گاؤں لوٹ آیا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد وہ کانگریس سے منسلک آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے ایک گروہ میں شامل ہوا لیکن ان کی تشدد بھری کارروائیوں کو دیکھ کر جلد ہی واپس گاؤں لوٹ آیا اور انگریزوں کے خلاف کسانوں کو منظم کرنے کے تحریک میں حصہ لینے لگا۔
ایک ایسے ہی جلسے کے دوران اسے پکڑ کر جیل میں قید کر لیا گیا۔ 1930 میں قصہ خوانی بازار میں ہونے والا قتل عام بھی اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آہستہ آہستہ ان سب واقعات کا اثر نعیم کی جسمانی اور ذہنی صحت پر ہونے لگا اور بٹوارے کے دوران ہونے والے فسادات اس کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔ تاریخ کے ان سب اہم واقعات کو ہم نعیم جیسے انسان کے نکتہ نظر سے دیکھتے، سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔
نعیم کی طرح اس کی بیوی عذرا بھی چند اہم تاریخی واقعات میں شامل ہوئی۔ عذرا کے آبا و اجداد نے روشن پور گاؤں کی بنیاد رکھی، اور اس کے والد، روشن آغا، گاؤں کے مالک تھے لیکن عذرا نے اپنے خاندان اور طبقے سے باہر نکل کر نعیم سے محبت اور شادی کی۔ وہ نعیم کے ساتھ جلیانوالہ باغ کے سانحے کی تفتیشی کمیٹی میں شامل ہوئی، 1921 میں پرنس آف ویلز کی کلکتہ آمد پر اور 1928 میں سائمن کمیشن کے خلاف لکھنو میں مظاہرے میں شریک ہوئی اور جب آغا خان سوئم فرانس سے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھنے دلی آئے تو سامعین میں وہ بھی نعیم کے ساتھ موجود تھی۔ اس جلسے میں جناح، سر شفیع اور مولانا محمد علی بھی سٹیج پر موجود تھے۔ بٹوارے کے بعد عذرا اپنے خاندان کے ساتھ لاہور ہجرت کر گئی۔ نعیم کی طرح عذرا کا کردار بھی ہمیں ان تاریخی واقعات کو ایک اور انسانی زندگی کے نکتہ نظر سے دکھاتا ہے۔
اسی طرح ناول کا تیسرا اہم کردار علی ہے جو اپنے باپ اور نعیم کے زیر سایہ بڑا ہوا۔ جب 1930 میں مہاتما گاندھی نے نمک سازی کا قانون توڑ کر ”سول نافرمانی“ کا آغاز کیا تو علی بھی گاؤں کے دوسرے جوانوں کے ساتھ پانی کو سوکھا کر نمک پیدا کرنے کے حربے آزمانے لگا۔ اس کی کاہلی کو دیکھتے ہوئے نعیم زبردستی اسے شہر میں ایک فیکٹری میں مزدوری کروانے لے گیا۔ وہاں علی کو لیبر یونین کی ہڑتال کا تجربہ ہوا۔ اسی طرح جب 1935 میں لاہور میں مسجد شہید گنج کا فساد ہوا تو علی اس میں بال بال بچا۔
اس نے دوسری جنگ عظیم میں بھی شامل ہونے کی کوشش کی لیکن کلکتہ میں ہی اس کا کورٹ مارشل ہو گیا۔ کلکتہ میں رہتے ہوئے ہی وہ اس زمانے کی بڑھتی ہوئی ہڑتالوں اور جلوسوں میں شامل ہونے لگا۔ بٹوارے کے اعلان کے بعد وہ نعیم اور اپنی بیوی عائشہ کے ساتھ امرتسر کی طرف جانے والے ایک قافلے میں شامل ہوا جس کو راستے میں کئی دفعہ لوٹا گیا۔ جب وہ اسٹیشن پہنچ کر لاہور والی گاڑی میں سوار ہوا تو اس کے ساتھ نہ نعیم رہا، نہ عائشہ۔
نہرو، گاندھی، جناح اور تحریک آزادی کے واقعات کی تفصیلات پر زور دینے کے بجائے ”اداس نسلیں“ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ اس سب کے دوران عذرا، نعیم، علی اور ناول کے دوسرے کرداروں جیسے لوگوں پر کیا بیت رہی تھی۔
(2) عبداللہ حسین اور ہماری بیسویں صدی کی تاریخ۔ نادار لوگ
جیسے ”اداس نسلیں“ کا زیادہ تر حصہ بٹوارے سے پہلے کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے، ”نادار لوگ“ کی کہانی بٹوارے کے بعد ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ”نادار لوگ“ کے اہم کردار دو بھائی اعجاز اور سرفراز ہیں۔ ان کے والد یعقوب اعوان کو انگریزوں کے دور میں اپنے گاؤں کے باقی جوانوں کی طرح زبردستی پہلی جنگ عظیم کے لیے ریکروٹ کیا گیا۔ ان جنگوں میں ہونے والے ظلم اور بربریت میں سے گزر کر جب وہ گاؤں واپس لوٹا تو اس کا سینہ، جنگ میں ایک زہریلی گیس کے حملے کی زد میں آ کر بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔
یعقوب اعوان جب تک زندہ رہا، تکلیف دہ، کھانسی بھری سانسیں لیتا رہا اور کسی کام کے قابل نہ رہا۔ پھر بٹوارے کی وجہ سے اسے اپنا گھر، کھیت، یار دوست، برادری سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان ہجرت کر جانا پڑا۔ ہجرت کے سفر کے دوران ہی اس کی بیوی بچہ جنتے ہوئے مر گئی۔ ”اداس نسلیں“ کے نعیم کی طرح جنگ اور بٹوارے کے مارے ہوئے یعقوب اعوان نے اپنے بڑے بیٹے اعجاز پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔
اعجاز نے اپنے متاثر زدہ باپ کو، چند موقعوں کے سوا، زندگی بھر کبھی ہنستے یا شکایت کرتے نہ دیکھا تھا۔ اپنے باپ کی اس حالت نے اعجاز کے اندر محبت، حفاظت، گہری ہم نوائی اور رحم کے احساس کو جنم دیا۔ یعقوب اعوان کی سادہ لوحی اور قناعت نے اس کے اندر ”سادگی اور بیش بہا عزم کا پودا“ سینچا۔ جیسے اعجاز نے اپنے دادا کو یعقوب اعوان کی حفاظت کرتے دیکھا، اسی طرح وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی سرفراز کی حفاظت کرنے لگا۔ نو عمر اعجاز نے خود بھی بٹوارے کے دوران اپنی گھوڑی زور آور کو اپنے سامنے مرتے دیکھا اور دھاڑیں مار مار کر رویا تھا۔ اس ماضی نے اعجاز کے کردار کو ایک خاص طرح سے تشکیل دیا۔
جیسے جیسے ناول بڑھتا ہے، اعجاز اپنی اسی انفرادی شخصیت کی بنیاد پر ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے واقعات میں حصہ لیتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں یونین کے لوگوں کے ساتھ صرف دوستی رکھنے کی بنیاد پر جب اسے نوکری سے فارغ کر دیا گیا تو آہستہ آہستہ وہ یونین کے کاموں اور جلسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا بھاشانی کے جلسے منعقد کروانے لگا اور ایم۔ پی۔ اے اور ایم۔این۔ اے اس کے پاس آ کر حلقے کے مزدوروں کی سپورٹ مانگتے۔
اس دوران سیاست اور طاقت کا جو چسکا اعجاز کو پڑا، اس نے اسے اپنے گھر بار اور زمینداری سے بھی دور کر دیا۔ لیکن ستر کی دہائیوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی یونین تحریکوں کے سب خوابوں اور امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ اعجاز کو بھی حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے یونین کے دفتر سے نکال دیا گیا۔ اب اعجاز کا اگلا ٹھکانہ صحافت تھا اور جلد ہی 1971 کی جنگ کے اوپر بنائی گئی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ اس کے ہاتھ لگ گئی۔ اس رپورٹ کو عام کرنے پر اسے اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
ہمارے ملک کی تاریخ کے ان سب واقعات کو کسی سیاسی، ریاستی یا مذہبی نکتہ نظر کے بجائے اعجاز جیسے انسان کے نکتہ نظر سے دکھایا گیا، ایک ایسا انسان جو خود بیسویں صدی کے پنجاب اور بٹوارے کی تاریخ سے پیدا ہوا۔
ماں باپ کی موت کے بعد اعجاز کے زیر سایہ پلنے والا چھوٹا بھائی سرفراز بھی ہمیں اس زمانے کے واقعات کو ایک اور انسانی زندگی کے زاویے سے دکھاتا ہے۔ ناول کے شروع میں ہی ہمیں جوان سرفراز کا کردار اپنے بچپن کی یادوں میں سے جنم لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تین سال کی عمر میں کسی مداری کے ریچھ کو چھونا، اپنے باپ کی موت کا دن، اپنے رشتہ دار دوست عباس سے مرعوبیت، پھر سکول کے دنوں میں اعجاز کا دل بہلانے کے لیے کئی سارے سوال پوچھنا اور پڑھائی میں محنت کر کے اعجاز کو خوش کرنا، سرفراز ان سب یادوں میں کھویا رہتا۔
یوں اعجاز کی طرح سرفراز کے کردار کو بھی ایک ذاتی ماضی نے تشکیل دیا ہے۔ جب وہ کالج میں داخلہ لینے شہر رہنے آیا تو 1965 کی جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران دو فوجیوں کی عوام میں عزت افزائی دیکھ کر اس نے خود بھی فوج میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ 1971 کی جنگ میں سرفراز کی تعیناتی مشرقی پاکستان میں ہوئی اور جنگ کے بعد باقی پاکستانی فوجیوں کے ساتھ اسے بھی بھارت میں جنگی قیدی بنایا گیا۔ قید سے رہائی کے بعد سرفراز نے بلوچستان میں ایک فوجی آپریشن میں حصہ لیا لیکن آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی چند غیر ضروری جانوں کے ضیاع پر وہ اپنے سینیئر افسر سے لڑ پڑا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے کورٹ مارشل کر کے واپس گھر بھیج دیا گیا۔
یہاں بھی ناول ہمیں دکھاتا ہے کہ کیسے ایک انسان، جس کی اپنی ایک انفرادی شخصیت ہے، ان تاریخی جنگوں میں شامل ہوا، اس نے کیا دیکھا، کیا سمجھا، کیا محسوس کیا اور کیسے متاثر ہوا۔
یوں عبداللہ حسین کے دونوں ناولوں نے ہم سے پہلے گزر جانے والے انسانوں کی زندگیوں کو ہماری ریاستی تاریخوں کی زد میں آ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو جانے سے بچایا ہے۔


