” نیمگڑی خوبونہ“ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے ناول آدھے ادھورے خواب کا پشتو ترجمہ


”میں سوچ رہی تھی کہ چیزوں کی خوبصورتی، دلکشی اور قدرو قیمت ہماری ذات کے حوالوں سے بنتی ہے۔“
” نیمگڑی خوبونہ“

اور میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔ جب میں نے ”نیمگڑی خوبونہ“ جو کہ جناب شاہد صدیقی صاحب کے ناول آدھے ادھورے خواب کا پشتو ترجمہ ہے، پڑھنی شروع کی۔

جب لاہور میں شاہد صدیقی صاحب نے مجھے اپنی کتابوں کا تحفہ دیا تو ان میں ایک کتاب ان کے ناول ”آدھے ادھورے خواب“ کا پشتو زبان میں ترجمہ ”نیمگڑی خوبونہ“ کی عنوان سے تھا۔ شاہد صدیقی صاحب جن کا تعلق پنجاب سے ہے اور میرا اندازہ ہے کہ پشتو زبان سے ان کی زیادہ واقفیت نہیں ہے۔ ان کے ہاتھ میں پشتو زبان میں کتاب دیکھ کر ہی میری دلچسپی بڑھی۔ اور پھر جب معلوم ہوا کہ کسی نے ان کے اردو زبان میں شایع شدہ ناول کا ترجمہ کیا ہے تو میری دلچسپی مزید بڑھی۔

بہرحال، مجھے بے چینی تھی کہ اس ناول کو جلد پڑھوں اور دیکھوں کہ اس میں کیا خاص بات ہے۔ کہ اس کا پشتو اور دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ میں نے ناول پڑھنے کیلے اٹھایا تو عادت کے مطابق پہلے اس کے حجم پر نظر ڈالی۔ پھر کتاب کی ہیئت کا ایک تنقیدی جائزہ لیا۔ ایک سے لے کر 30 تک قدرے مختصر باب (چپٹرز) میرے لئے کشش کی ایک اور وجہ، کیونکہ بہت طویل چپٹرز سے بوریت ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ اگلا مرحلہ تھا ترجمہ کرنے والی شخصیت۔ کون ہے؟

کتاب پر لکھا تھا، مترجم : نوید جمال، لیکچرر پختو سانگہ مالاکنڈ پوہنتوون (لیکچرر پشتو سیکشن، مالاکنڈ یونیورسٹی) ، میں نے نام پہلے پڑھا۔ پھر ان کا مختصر تعارفی باب پڑھا۔ جس میں انہوں نے اپنی اس ناول میں دلچسپی کی وجہ بڑی خوبصورتی سے بیان کی تھی۔ پھر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کا تعارفی باب پڑھا۔ ایک منٹ! عبداللہ جان صاحب! آپ نے کیا کہا؟ نوید جمال صاحب رحمت شاہ سائل کے صاحبزادے ہیں؟ واقعی؟ اور میرے سامنے کہیں پر لکھا ہوا یہ جملہ گھوم گیا کہ جب آپ دل سے کچھ چاہتے ہیں تو قدرت آپ کو اس کی نشانیاں دکھا کر سامنے لاتی ہے۔

اتفاق کچھ یوں ہوا۔ کہ اس بار جب میں پاکستان گئی تو میری بڑی خواہش تھی کہ اپنے علاقے کے سب کے پسندیدہ عظیم شاعر رحمت شاہ سائل صاحب سے ملاقات کروں۔ شاعری سے لگاؤ اور خاص طور پر اپنی مادری زبان میں شاعری کے حوالے سے رحمت شاہ سائل میرے پسندیدہ شعرا میں شامل ہیں۔ ایک زمانے میں مجھے ان کے بارے میں جاننے میں دلچسپی ہوئی کہ اتنی خوبصورت اور گہری شاعری کرنے والا انسان کون ہے۔ میرے ذہن میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، یونیورسٹی سے فارغ شدہ انسان کی تصویر تھی۔

اور پھر مجھے معلوم ہوا کہ سائل صاحب نے چوتھی جماعت سے آگے نہیں پڑھا۔ اپنے معاشی حالات اور گھر کی ذمہ داریوں میں والدین کی مدد کرنے کی غرض سے انہیں اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی۔ اور تب مجھے اس بات کا یقین ہوا کہ ڈگری حاصل کرنے کے لئے تو کالج یونیورسٹی جانا ضروری ہے، لیکن تعلیم یافتہ ہونے کے لئے نہیں۔ انہوں نے اپنے طور پر کتابوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ وہ کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے۔ اور خود بھی انہوں نے نہ صرف شاعری کی بیشمار کتابیں تصنیف کی ہیں بلکہ نثر میں بھی بہت اہم موضوعات پر لکھی گئی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ایک بڑے شاعر کے علاوہ ایک متاثر کن شخصیت کے مالک رحمت شاہ سائل سے ملنے کی ہمیشہ دل میں خواہش رہی۔

اس بار پاکستان جانے پر میں نے ان سے ملنے کا ارادہ کیا۔ ان کا فون نمبر تلاش کیا۔ ایک دوست کو شامل ہونے کی دعوت دی۔ لیکن اپنی کچھ ناگزیر مصروفیات کی بنا پر اس بار میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اور اس ملاقات کو اگلی بار پر چھوڑنا پڑا۔

میری سائل صاحب سے ملنے کی خواہش، نوید جمال کا نام، سائل کا بیٹا، لاہور میں شاہد صدیقی کا تحفہ، ایسا لگا، جیسے یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں؟

اب میری دلچسپی کتاب میں مزید بڑھ چکی تھی۔

میں نے ناول پڑھنا شروع کیا۔ اور جیسے جیسے پڑھتی گئی، میں اس کتاب کو واپس نہیں رکھ پائی کیونکہ اس کی کہانی قاری کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔

تعلیم کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اس شعبے کے حوالے سے اپنے تجربات اور اپنے خوابوں کو نہایت خوبصورتی سے بنیاد بنا کر اس کہانی کا مرکزی پلاٹ تخلیق کیا ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار ”پروفیسر رائے“ کا کردار ایک غیر روایتی استاد کا ہے۔ جو اپنی طلسماتی شخصیت اور تنقیدی سوچ کی وجہ سے اپنے طالبعلموں میں بہت مقبول ہے۔ اور تعلیم کے ذریعے سوسائٹی اور قوم کی ذہنی ارتقا کو اہم سمجھتا ہے۔ پروفیسر رائے ایک مثالی کردار ہے۔

جو اگر کسی معاشرے کے تعلیمی نظام کا حصہ ہو تو پورے معاشرے کے ذہنی ارتقا کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کردار کے ساتھ قاری کی اس قدر اپنائیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کا ساتھ چھوڑنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ مثالی کردار، انسانی جذبات اور معاشرے میں موجود مزاحمتی عناصر کا امتزاج اس ناول کو حقیقی زندگی کے بہت قریب لے آتا ہے۔

ایک قوم کی ترقی میں تعلیمی نظام اور اونچی سوچ رکھنے والے اساتذہ کا مقام ہر چیز سے بالاتر ہے۔ اور پاکستانی معاشرے کے حوالے سے تو اور بھی اہم۔ اس کتاب کی کہانی میں وہ سارے عناصر شامل ہیں۔ جو ایک کتاب کو سبق آموز، تفریحی اور متاثرکن بناتے ہیں۔

اس کتاب سے چند اقتباسات کا اردو تراجم:
”ہر وہ چیز جس میں اپنی ذات کا رنگ اور حصہ شامل ہو جاتا ہے تو وہ ہمارے لئے خاص ہو جاتی ہے“ ۔
”تبدیلی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ کوئی تخلیق تکلیف کے بغیر وجود میں نہیں آتی“ ۔
”محبت اور غم،
خواب اور وسوسے
خواہش اور نارسائی،
تمنا اور ناکامی،
نہ جانے ان سب کا آپس میں کیا بندھن ہے، ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے ہیں ”

”میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان سے نرم سفید برف برس کر زمین میں جذب ہو رہی تھی۔ محبت کے جذبے کی مانند، جو خواہشات، خوابوں اور خیالوں کے آسمان سے برستی ہے، اور ہمارے وجود میں جذب ہو جاتی ہے۔ اور جب تک ہمیں اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے، یہ محبت ہماری ذات میں دور دور تک پھیل چکی ہوتی ہے۔ پھر چاہے باہر کی فضا کتنی بھی گرم ہو، لیکن اندر کا موسم امر ہو چکا ہوتا ہے۔ “

(یہ اقتباسات پشتو سے اردو میں ترجمہ کئیے گئے ہیں۔ اردو کے آدھے ادھورے خواب میں الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں )

میں شاہد صدیقی صاحب کو اس خوبصورت ناول کو تصنیف کرنے پر مبارکباد دیتی ہوں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالدہ نسیم

ڈاکٹر خالدہ نسیم کینسر کے امراض کی تشخیص کی ماہر ہیں۔ اور کینیڈا میں کنسلٹنٹ سرجیکل اور یورولاجک پیتھالوجسٹ کے طور پر پریکٹس کرتی ہیں۔ کینسر اور دوسرے امراض سے بچاؤ میں روزمرہ زندگی کے طور طریقوں کے اثرات میں ان کو خصوصی دلچسپی ہے۔

dr-khalida-nasim has 16 posts and counting.See all posts by dr-khalida-nasim