سارے جہاں کا درد

جہاں دنیا کے شب و روز کو دیکھ کر، اسے سمجھنے کے لئے انسان نے مختلف پیمانے بنائے ہیں ان میں ایک کا اضافہ اور سہی۔ جانداروں میں سے ایک وہ ہیں جن کی زندگی مجموعی طور سے خوش نظر آتی ہے، دوسرے جو خوشی سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ جو زندگی سے مطمئن ہیں ان کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہیں محروموں کی کوئی بھی محرومیت نظر نہیں آتی، انہیں متاثر نہیں کرتی۔ یا ایسوں کی

Read more

اب کیا فردا کیا دیروز، کیسی آنے والی کل، کیسی گزری ہوئی کل

آصف فرخی سے میرے تعلقات پچھلے تقریباً چالیس سال پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس زمانے سے لے کر جب ان کی پہلی کتاب ”آتش فشاں پر کھلے گلاب“ جہان اردو ادب میں نمو دار ہوئی تھی، اس آخری ملاقات تک جو ان کے بے موقع انتقال سے تین چار دن پہلے فون پر ہوئی تھی۔

آصف ملن سار آدمی تھے لیکن فطرتاً سنجیدہ تھے، یار باش نہیں۔ اور یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا کیوں کہ جس آدمی نے اردو ادب کے ہر رکن کا بوجھ ہنسی خوشی اپنے سر پر اٹھا رکھا ہو وہ ہاہا، ہو ہو کی محفلوں کے لیے کیسے وقت نکال سکتا ہے! ہاں میں جب جب اسپتال میں داخل ہوا وہ دیکھنے ضرور آئے اور یہی رویہ ان کا رشتے داروں، ملنے والوں، دوستوں سے تھا۔ ہر ایک کی خبر گیری۔

Read more