سہارا سائیکیٹرک ریہیب سنٹر بٹ خیلہ کا کردار
نشے کی لعنت جتنی پرانی ہے، اتنا ہی نشے سے متاثرہ افراد کی بحالی (Rehabilitate) کا عمل قدیم ہے۔ جب سے انسان نے نشے کا آغاز کیا ہے، اسی وقت سے نشے سے متاثرہ افراد کی معاشرے میں بحالی کی سوچ نے جنم لیا ہے۔ ابتدا میں لوگوں کا خیال تھا کہ نشہ سماجی طور پر ناکامی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور ارسطو جیسے فلاسفر نے بھی نشہ کو انسان کی مرضی میں بے ضابطگی قرار دیا تھا، اس لئے اوائل میں نشے کے عادی لوگوں کی بحالی غیررسمی طور پر شروع کی گئی تھی۔ لیکن جب انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ کے ایک مایہ ناز فزیشن اور سیاستدان ڈاکٹر بنجمن رش نے نشے کو ایک بیماری قرار دیا اور یہ بھی واضح کیا کہ نشہ قابل علاج ہے تو اس کے بعد Rehabilitation Centres کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
ضلع مالاکنڈ میں گزشتہ چند سالوں میں نشہ سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع مالاکنڈ میں بھی آئس، ہیروئن اور چرس کے عادی لوگوں کو معاشرے میں باعزت طریقے سے بحال کرنے کے چھ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک سہارا سائیکائٹرک اینڈ ڈرگز ریہیب سنٹر (بٹ خیلہ) بھی ہے جہاں پیشہ ور ڈاکٹروں اور ماہر نفسیات و منشیات کے زیر نگرانی جدید طریقوں سے نشے کے عادی لوگوں اور نفسیاتی مریضوں کا مناسب علاج کر کے ان کو معاشرے میں اپنا مثبت رول ادا کرنے کے قابل بنا دیا جاتا ہے۔
اس مرکز کے چیف ایگزیکٹیو محمد بلال ماہر نفسیات و منشیات ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز میں سعود عالم ماہر نفسیات، منشیات، جنسیات اور ذہنی امراض، عیان علی خان ماہر نفسیات، محمد زکریا ماہر نفسیات و منشیات، مس ہما بی بی ماہر نفسیات اور ڈاکٹر حیدر علی میڈیکل سپیشلسٹ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ میں نے ان لوگوں کے نام بمعہ اہلیت عوام کے مفاد میں ظاہر کیے ہیں تاکہ ”نیم حکیم خطرۂ جان“ سے لوگ بچ سکیں۔
اس سنٹر میں مریضوں کا ابتدائی جائزے (Initial Assessment) کا طریقۂ کار ترقی یافتہ ممالک کی بحالی کے مراکز جیسا ہے۔ اس ابتدائی جائزے کی بنیاد پر مریضوں کے علاج کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا مریض نشے کی لت میں مبتلا ہے یا وہ مینٹل ہیلتھ ایشو کا شکار ہے۔
بحالی کے اس مرکز میں تقریباً تیس مریض زیر علاج ہیں اور ان کی بحالی کے لئے میڈیسن کے استعمال کے علاوہ بین الاقوامی طور پر مروجہ اور آزمودہ طریقہ کار کے تحت بھی کونسلنگ آزمائی جاتی ہے۔ مریضوں کو بحالی کی طرف راغب کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرایک مولوی صاحب روزانہ مرکز میں مریضوں کو نشے کی دنیا اور آخرت دونوں میں نقصانات اور نتائج بھگتنے سے آگاہ کرتے ہیں اور اس طرح مولوی صاحب کا وعظ اور نصیحت مریضوں کی عزت اور وقار کی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مرکز میں پیشہ ور ڈاکٹرز اور ماہر منشیات و نفسیات کام کر رہے ہیں جن کا نشے کے عادی افراد اور نفسیاتی مریضوں کو معاشرے میں بحال کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور اپنے اس پیشہ ورانہ علم اور تجربے کو موثر طریقے سے بروئے کار لا کر وہ معاشرے کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی انتظامیہ ڈاکٹروں، ماہر تعلیم، شعراء و ادباء اور سماجی کارکنوں کو مدعو کر کے مریضوں کے ساتھ بحث کرنے کا اہتمام کرتی ہے جو اپنے پیشہ ورانہ علم اور اظہار خیال کی مہارت (Communication Skills) کے ذریعے مریضوں میں نشے کو ترک کرنے کے عزم (Determination) کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مجھے بھی ان مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ بحث کرنے کا موقع دیا گیا۔ چونکہ میرا انگلینڈ میں این ایچ ایس کے ساتھ اس قسم کے لوگوں کو بحال کرنے میں معمولی سا واسطہ رہا ہے۔ اس لئے میں نے ان لوگوں کے ساتھ اپنا تجربہ، احساسات اور دل میں ان کے لئے درد کو شریک کیا۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ جب تک آپ خود مصمم ارادہ نہیں کرتے، آپ اس لعنت سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ اس لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لئے پرعزم رہنے کی ضرورت ہے اور پر عزم رہنے کے لئے آپ کو اپنی بیوی، بچوں، ماں، باپ، بہن، بھائیوں اور معاشرتی اقدار کو ذہن میں رکھنا ہو گا جو اس مصیبت سے نجات دلانے میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں، میں نے ان کے ساتھ اپنے سیگریٹ چھوڑنے کا واقعہ شیئر کیا۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ انگلینڈ کے ایک شہر لنکاسٹر میں میں جاب کرتا تھا۔ میرے ساتھ ایک انگریز بھی کام پہ ہوتا تھا۔ وہاں ہر دفتر کے باہر سیگریٹ پینے کے لئے ایک خاص جگہ (سموکنگ ایریا) بنائی جاتی ہے کیونکہ دفتر اور دوسرے عوامی مقامات (Public Places) میں سیگریٹ پینا غیر قانونی ہے۔ ایک دن جب میں سیگریٹ پینے کے بعد سموکنگ ایریا سے واپس جاب کی جگہ پہ چلا گیا تو اس نے بہت شائستگی سے میرے اور میرے آخری بچے کی عمر کے متعلق پوچھا۔
میرا اور میرے بچے کی عمریں جاننے کے بعد اس نے بہت موثر اور پرخلوص نصیحت کرتے ہوئے بتایا کہ آپ جب بھی سیگریٹ پینا چاہیں تو اپنے اس چھوٹے بچے کو ذہن میں رکھئے کیونکہ آپ کے بچے اور آپ کی عمر میں بہت بڑا گیپ ہے اور سیگریٹ کا ایک کش اس کے لئے مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس نصیحت آموز تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے میں سیگریٹ چھوڑنے کے قابل ہو گیا۔ میرا اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نشے کی لعنت سے نجات کا دار و مدار آپ کی نیت اور ارادے پر ہے۔ مرکز کی انتظامیہ کے تعاون، صحیح علاج معالجہ اور کونسلنگ کی حیثیت ثانوی ہے۔ آپ کا عزم اور ارادہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مشتاق احمد ریٹائرڈ سول سرونٹ نے ان بچوں اور نوجوانوں سے باتیں کیں۔ ان کا بحیثیت معلم اور منتظم لوگوں کو محرک (موٹیویٹ) کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ اپنے اس گر کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے مریضوں سے نشہ ترک کرنے کا تبلیغی اسٹائل پر حلف لیا جس میں مریضوں نے مثبت عزم کا اظہار کیا۔ ہم نے جس طریقے سے نشہ کے عادی مریضوں سے ان کی نفسیات اور حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انہیں احترام دیتے ہوئے جس مثبت اور نرم انداز میں ان کی کونسلنگ کی کوشش کی، ہمیں امید ہے کہ ہمارا یہ سیشن ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بن جائے گا۔
نشے کا کوئی ضمیر نہیں جو بھی اس کے نزدیک جاتا ہے، وہ اسے کھینچ کر اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے۔ نشہ کسی کی عزت، سماجی حیثیت، تعلیم اور دینداری کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ معاشرے میں نشہ پھیلانے کا مقصد تباہی پھیلانا اور لوگوں کو رسوا کرنا ہے۔ لیکن یہ تباہی نشہ نہیں یہ انسان خود پھیلا رہا ہے۔ انسان دوسروں کی تباہی اور بربادی کے لئے نشہ آور چیزوں کو عام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ انسان ہی ہے جس نے مال و دولت کی خاطر نشہ آور چیزوں کی فیکٹریاں بنائی ہیں۔
یہ انسان ہی ہے جو دولت کی حرص میں اندھا ہو کر نشہ آور چیزیں فروخت کرتا ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو اس ناپاک دھندا میں ملوث لوگوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے لئے قانون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہ انسان ہی ہے۔ جب تک ہم صدق دل سے اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مصمم عزم نہیں کرتے، اس وقت تک ہم اس کی تباہ کاریوں سے نہیں بچ سکتے۔ حکومت اور معاشرہ مل کر اس کے خلاف اگر موثر کارروائی نہیں کریں گے تو یہ سلسلہ اور بڑھ جائے گا اور ہمارے معاشرے کے خوبصورت اور تعلیم یافتہ نوجوان نشہ میں مبتلا ہوتے رہیں گے اور اس طرح ہم نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے محروم ہوتے رہیں گے۔


