پاکستان پیپلز پارٹی کی کراچی میں کامیابی

پیپلز پارٹی دور کے ترقیاتی کاموں کی لسٹ تصدیق کے لیے رکھ رہا ہوں، ان میں سے اگر کوئی منصوبہ نامکمل ہے تو آگاہ کریں۔
پی پی پی کے پچھلے 8 سالوں میں سندھ میں چند بڑے پراجیکٹ۔
سندھ میں 10 ہزار بے گھر مکمل تعمیر کے بعد حوالے کیے گئے ہیں۔ اور پچاس ہزار پلاٹ مفت بانٹے جا رہے ہیں۔
ہزاروں کسانوں کو قسطوں پر ٹریکٹرز دیے گئے اور کسانوں کو ہر ٹریکٹر پر دو سے تین لاکھ فی کس سبسڈی دی گئی۔
کراچی۔ نواب شاہ۔ سکھر اور جامشورو میں ریجنل بلڈ سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جن میں دو لاکھ بلڈ بیگز کی گنجائش ہے
لیاری ڈگری کالجز کا قیام
ٹنڈو الہ یار میں ملٹی پرپز اسپورٹس ہال کی تعمیر
نواب شاہ میں شہید بے نظیر بھٹو یونی ورسٹی کا قیام
لاڑکانہ میں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کا قیام
ٹنڈو جام محمد میں بے نظیر بھٹو کارڈیک کیئر اسپتال کا قیام
لاڑکانہ میں کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے علاج کے لیے مفت اسپتال کا قیام
سیہون شریف میں کارڈیو دل بڑا ہاسپٹل
دادو میں ہاکی کا اسٹیڈیم
دادو پیر الہی بخش لا کالج
کراچی میں شہید منور حسین سہروردی انڈر پاس کی تعمیر
لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں ڈینٹل ٹیچنگ یونٹ کا قیام
کراچی میں پاکستان کے پہلے آٹزم سینٹر کا قیام
کراچی میں پاکستان کے پہلے ریپ سے متاثرہ خواتین کی بحالی کے سینٹر کا قیام
کے ٹی بندر پر 1320 میگا پاور پلانٹ کا منصوبہ تعمیر ہو رہا ہے
دراوت ڈیم کی تعمیر۔ اس ڈیم کی تکمیل سے 50، 000 ایکڑ زمین پر آبپاشی ممکن ہو گی اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں سماجی۔ اقتصادی ترقی آئے گی۔ یہ ڈیم 9300 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے جو کہ سیلابی پانی کا 121، 600 ایکڑ فٹ ذخیرہ کرے گا 820 فٹ طویل اور 141 فٹ اونچے ڈیم کی تعمیر کے دوران 4، 500 افراد کو روزگار کے مواقع ملے گا۔
تھر اسلام کوٹ میں ائرپورٹ کا افتتاح
تھر میں پینے کے صاف پانی کے فراہمی کے لئے 6 ROپلانٹ کی تنصیب جس سے روزانہ 150 ’دیہات کے 3 لاکھ افراد کو صاف پانی مہیا کیا جاتا ہے۔
شارع فیصل، یونیورسٹی روڈ اور طارق روڈ کراچی کی تعمیر
ٹھٹہ اور ٹنڈو محمد خان کو جوڑنے والا جھرک ملاکٹیار میں پاکستان کے سب سے بڑے پونے دو کلو میٹر طویل پل کی تعمیر
نوری آباد پر سو میگاواٹ کے گیس فائر پاور پلانٹ کی تکمیل
کراچی کے جناح اسپتال میں بارہ منزلہ کینسر کے علاج کا مرکز تعمیر کیا جا رہا ہے۔ علاج بالکل مفت ہو گا
لاڑکانہ میں دل کے امراض کے علاج کے سینٹر کا قیام
سندھ کے چھ کروڑ باشندوں کو جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو خدانخواستہ کسی معذوری یا جان جانے کی صورت میں سندھ حکومت متاثرین کو معاوضہ ادا کرتی ہے۔ سندھ میں رہنے والوں کی انشورنس ہے
نواب شاہ میں پاکستان کے پہلے بختاور کیڈٹ کالج کا قیام
ٹھٹہ اور سجاول کے اضلاع کے لیے پیپلز ایمبولینس سروس کا قیام
کراچی سرکلر ریلوے پر کام کا آغاز
ٹھٹہ سجاول روڈ پر ایک کلومیٹر طویل فور لین پل کی ریکارڈ مدت میں تعمیر
کراچی کے دو اضلاع میں چینی کمپنی کو صفائی کے کام کا ٹھیکہ
لاڑکانہ میں ماڈل اسکول کیڈٹ کالج کا قیام
لاڑکانہ میں گرلز ڈگری کالج کا قیام
لاڑکانہ میں شہید بے نظیر بھٹو لا کالج کا قیام
لاڑکانہ میں گڑھی خدا بخش اسٹیڈیم کا قیام
لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو ایگری کلچر کالج کا قیام
لاڑکانہ میں قائد عوام انجنیئرنگ یونی ورسٹی
لاڑکانہ میں نرسنگ ہاسٹل کا قیام
لاڑکانہ میں شہید شاہ نواز بھٹو لائبریری کا قیام
نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو گرلز ڈگری کالج کا قیام
لاڑکانہ میں ٹیکنالوجی کالج کا قیام
لاڑکانہ میں شیریں امیر بیگم بھٹو فلائی اور کی تعمیر۔
کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے کلفٹن فلائی اوور کی تعمیر
بی بی آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ
سکھر میں 200 بیڈ پے مشتمل بینظیر شہید سرجیکل ہسپتال کی تعمیر
سو میگاواٹ تک کے تھر کول پاور پلانٹ کا آغاز
سندھ میں بجلی کی پیداوار کے لیے سات ونڈ پاور ٹربائن کی تعمیر کی گئی ہے۔
سندھ میں انٹرنیٹ پر ٹیکس ختم کر دیا گیا۔ پہلے یہ ٹیکس ساڑھے انیس فیصد تک تھا
تھر میں موبائل اسپتال کا قیام۔
تھر میں چھ لاکھ سے زائد سیاحوں کی ساون میں آمد
کراچی میں جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے پانچ سو بستروں اور اٹھارہ آپریشن تھیٹرز پر مشتمل سینٹرلی ایئرکنڈیشنڈ بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کا قیام
کراچی کے ضلع ملیر میں آئی ٹی سٹی بن رہا ہے
کراچی میں وفاق کے تعاون سے گرین لائن جبکہ بلیو۔ گرین۔ ریڈ اور ایدھی لائنز کی تعمیر جاری ہے
سندھ میں بجلی کی ترسیل کے لیے سرکاری ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کا قیام۔
کراچی میں 38 کلومیٹر لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر
کراچی سے بلوچستان براستہ گوادر ایکسپریس وے کی تعمیر
کراچی کو پینے کا صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا کام
پرائمری سے سیکنڈری سکول تک مفت تعلیم
تھر کے عوام کو تھر کول پراجیکٹ کی سالانہ ایک لاکھ کے شیر کی فراہمی
تھر میں خواتین کو با عزت روزگار کے ذرائع فراہم کرنے کے سلسلے میں وزیر اعلی مراد علی شاہ کے خصوصی ہدایت پے تھر کول پراجیکٹ میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک میں تھر کے خواتین کو بطور ڈرائیور تعیناتی۔
سکھر میں آرٹس اینڈ ڈیزائننگ کالج کا قیام
سیہون شریف میں کارپٹ روڈز اور سولر لائٹ کا کام۔ تنصیب۔

