جمہوریت کیسی ’کہاں کی سیاست!
آزادی اور غلامی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آزادی اپنے راستوں اور منزل کا تعین کرتی ہے جبکہ غلامی کارواں اور منزل کا ایندھن ہوا کرتی ہے۔ ریاستوں کی تشکیل میں غلاموں کا کردار تو ہوتا ہے لیکن یہ ریاستیں غلاموں کے لیے نہیں ہوتی، ریاستیں آزادی کے بطن سے جنم لیتی ہیں اور آزادی کے لیے کسی نظریے کا ہونا ضروری ہے۔ آزادی اور غلامی کا یہاں جو بنیادی فرق بیان کیا گیا ہے وہ خالصتاً میری ذہنی اختراع ہے یا پھر ایسا ہے کہ یہ تشریح سیاسی فلسفے اور نظریات کا نچوڑ ہے۔
اس امر میں کوئی بحث نہیں کہ پہلے ”سوچ“ جنم لیتی ہے اور اس سوچ سے ”ارادے“ کا ظہور ہوتا ہے جبکہ ارادوں سے ”وجود“ تخلیق پاتے ہیں۔ سوچ سے وجود تک سفر کو ”منزل“ کہتے ہیں۔ جہاں تک پاکستانی ریاست اور اس مروجہ سیاسی نظام کا معاملہ ہے تو وہ قطعی اس سوچ اور نظریہ کے عین مطابق نہیں ہے جس سوچ اور نظریہ کی روشنی میں پاکستان ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا، پاکستانی ریاست کا تصور ریاست اور مروجہ سیاسی نظام یعنی طرز سیاست ایک دوسرے کے متصادم ہیں، یہی وجہ ہے کہ ریاست کو چلانے کے لیے ”آئین“ ہونے کے باوجود ریاست کا کاروبار حکومت خالصتاً سیاسی انداز میں چلانے کی بجائے اس میں آمرانہ رویے کی آمیزش نمایاں رہی ہے جس کی وجہ سے اس وقت ریاست کا سیاسی نظام ”آلودہ“ ہو چکا ہے اور اس طرح کے آلودہ سیاسی نظام سے جس طرح کی جمہوریت جنم لے سکتی تھی وہی یہاں رائج ہے۔
پاکستانی ریاست میں ”پارلیمانی نظام“ رائج ہے جبکہ یہاں وقفے وقفے سے ”صدارتی نظام“ کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے، حالانکہ جنرل (ر) ایوب خان سے لے کر جنرل (ر) پرویز مشرف تک مارشل لاء اور نیم مارشل لاء کے لبادے میں صدارتی طرز حکومت کو ہی اپنایا گیا ہے جبکہ جنرل ضیاء الحق نے تو اپنی مطلق العنان حکومت کو قائم رکھنے کے لیے آئین میں 58۔ 2 (B) جیسی شق بھی شامل کی جو پارلیمانی نظام کے لبادے میں صدارتی نظام کی ہی ایک شکل تھی، آئین کی یہ شق صدر مملکت کو یہ اختیار دیتی تھی کہ وہ جب چاہے قومی اسمبلی کی بساط لپیٹ دے۔ اس طرح یہ کہا جانا حق بجانب ہو گا کہ پاکستانی ریاست کی ”ناکامی“ کے پیچھے پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام کو ہونا یا نہ ہونا کار فرما نہیں ہے۔ اس بحث کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی ریاست کو اسی طرح دھکیلا جاتا رہے گا۔ ؟
جی ہاں پاکستانی ریاست کو دھکیلا ہی تو جا رہا ہے جو بغیر کیسی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے چلائی جا رہی ہے اور اس ضمن میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ”ریاستی آئین“ پر سیاسی اور غیر سیاسی قوتیں نیک نیتی اور امانت داری سے عمل پیرا نہیں ہیں، یا پھر ایسا ہے کہ ریاستی آئین میں اسقام و ابہام اس قدر پائے جاتے ہیں کہ وہ ہر ایک قوت کو اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آئین میں یہ نقائص دانستہ رکھے گئے ہیں یا پھر دور اندیشانہ سوچ کا فقدان اس عمل میں حائل رہا ہے، اس بحث سے ہٹ کر یہ امر بھی اپنے اندر کھلی حقیقت رکھتا ہے کہ آئین جیسا بھی ہو اگر اس پر عملدرآمد ایمانداری اور دیانت داری سے ہو گا تو اس کے ثمرات ملے گے لیکن عملدرآمد میں نیک نیتی کا فقدان ہو گا تو پھر نتائج بھی بھیانک ہی نکلے گے۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ پارلیمنٹ آئین تشکیل دیتی ہے اور ملک کے کاروبار حکومت کی رہنمائی کرتی ہے اور اس کے لیے ایک سیاسی اصول وضع کرتی ہے، پارلیمنٹ کو اپنے اسی کردار کی وجہ سے ریاست کے دیگر ستونوں میں ”بالادستی“ حاصل ہے۔ لیکن یہاں اس کے الٹ ہے اور ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ پارلیمان یعنی سیاست دان اپنی سیاسی و آئینی لڑائی کو پارلیمنٹ میں لڑنے کی بجائے ”عدالتوں“ میں گھسیٹ رہے ہیں، یعنی ہر آئینی اقدام کا معاملہ متنازعہ بنا کر عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اس طرح سیاست دان خود کو پارلیمنٹ کو جوابدہ ہونے کی بجائے عدلیہ میں جوابدہی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، یہی وہ نقطہ ہے جس پر لاکر اس بحث کو سمیٹنے کی کوشش ہے۔ جس طرح بالا سطور میں آزادی اور غلامی کے درمیان بنیادی فرق کی تشریح کی گئی ہے اسی طرح امر کی بھی تشریح کرنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ ملکی سیاست کے اہم ایشوز پارلیمنٹ کی بجائے عدلیہ کے ذریعے حل کرنے کی بدعت سیاسی نظام میں سرایت کرچکی ہے اور یہ سیاسی بدعت اس حد تک عام ہو چکی ہے کہ اب اسے آئین کے متوازی کوئی آئینی عمل ہی تصور کیا جانے لگا ہے۔
بظاہر اہل سیاست اپنے سیاسی و آئینی ایشوز عدلیہ میں لے کر آرہے ہیں، درحقیقت وہ اپنے اس متواتر عمل سے پارلیمنٹ کو ہی عدلیہ میں لے آئے ہیں، اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ خود انصاف کی متلاشی ہے اور وہ خود ایک ایسے آئین کی تشریح چاہتی ہے جو خود اس کے ہاتھ بنایا ہوا ہے، اگر میں ادب اور مذہب پر کوئی کالم لکھ رہا ہوتا تو اسے ”بت پرستی“ سے تعبیر کرتا، لیکن میں یہاں اس کے لیے ”سیاسی صنم“ کی اصطلاح استعمال کرنا پسند کروں گا۔
یعنی ہمارے سیاست دانوں کی مثال ایسے ہی بت پرستوں کی سی ہے جو اپنے ہاتھ بت بناتے ہیں اور پھر اس کی پوجا کرتے ہیں اور پوجا کے طور طریقے دیومالائی داستانوں میں تلاش کرتے ہیں۔ اب ایسے میں آپ ہی فیصلہ کریں کہ ایسی پارلیمنٹ جو خود انصاف کے لیے ہر روز عدلیہ کے کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہے اور اپنی رسوائی کو رونا روتی ہے، وہ کیسے بالادست ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ملکی طرز سیاست ہے جو سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے عدلیہ سے فیصلہ لینے کو اہمیت دیتی ہے۔ تو پھر بتائیں کہ ایسی سیاست اور ایسی پارلیمنٹ کے ذریعے جو نظام حکومت تشکیل پائے گا اسے کس طرح سے ”جمہوریت“ کا نام دیا جائے گا۔ ایسے میں غالب کا یہ شعر پاکستانی سیاست اور جمہوریت کی ”روداد“ پر عین صادق آتا ہے۔
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو


