سماجی انحطاط اور نیا شعور!


کبھی معاشرتی اخلاقیات کی تربیت گھر سے شروع ہوتی تھی، تھی اس لئے لکھا کہ یہ ماضی بعید کا قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ کیونکہ پڑھائی میں نالائقی دکھانے پر والدین ہمارے کان کھینچا کرتے تھے لیکن آج کل اساتذہ کے کھینچے جاتے ہیں، والدین تو ایک طرف اسکول کے پرنسپلز اور مالکان بھی اس میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے ہیں۔ بچے اب والدین سے کچھ نہیں سیکھتے کیونکہ تعلیم اداروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے تو دین کی تعلیم و تربیت گھر آنے والے ایک گھنٹہ کے قاری صاحب کے ذمہ ہے۔ رہ گئی تربیت تو وہ ہندی و انگریزی کارٹونز اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے ذمے ہے۔ جس سے ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو خود سے بھی بیزار ہے اور اردگرد کے ماحول سے بھی۔

ایک اور نیا رواج چل پڑا ہے، ملاحظہ فرمائیں :

چرسی تکہ، چرسی چائے، چرسی کڑاہی، ان حلال کھانوں کے بڑے بڑے بل بورڈز آپ کو مختلف شہروں میں آویزاں نظر آئیں گے جہاں عوام الناس ان سے لطف انداز ہوتے ہیں۔ ان کھانوں میں چرس کے اجزائے مقویات نہیں ہوتے لیکن تکے کے ساتھ ”چرسی“ لکھنے سے نام میں مقویات آ جاتے ہیں۔ کبھی ان اشیا کا نام لینا بھی ذکر ممنوعہ تھا، ہماری زبان سے کبھی کسی ایسی چیز کا نام نکل جائے تو گھر والے پہلے تو گھورتے، پھر مشکوک نگاہ سے ہماری جائزہ لیتے اور ڈانٹ ڈپٹ سے باور کرایا جاتا کہ ایسی اشیاء کا نام لینا بھی ممنوع ہے۔ مگر آج تو دھڑلے سے بڑے بڑے ہوٹلز کے بورڈز آپ کو کو دعوت چرسیات دیتے ہیں چاہے صرف لفاظی ہی کیوں نہ ہو۔

ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست کے ساتھ کھانے کا پروگرام بنا تو اس نے اپنے نوجوان اقرباء سے پوچھا کدھر جانا چاہیے؟ نوجوانوں نے بڑے پرجوش انداز میں چرسی تکہ کا ذکر کیا، ہم نے بھی اپنی ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کرتے ہوئے مسکرا کر حامی بھر لی۔ ریسٹورنٹ پہنچے تو بہت بڑے بورڈ پر نظر پڑی جہاں اس مقوی ممنوعہ چیز کا نام جگمگا رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ہمیں چڑا رہا ہو کہ سناؤ بچو میری چمک دمک دیکھ رہے ہو، آخرکار میرے نام کا چسکا اڑانے آ ہی گئے ہو تم بھی، آیا وڈا نیکوکار!

کھانے کا آرڈر دیا تو دوست سے رہا نہ گیا اس نے ویٹر سے پوچھ ہی لیا کہ کیا تکون میں چرس ہوتی ہے؟ بتلایا گیا کہ جی نہیں، اصل میں چرس کو نام بطور ”سواد“ استعمال کیا جاتا ہے یعنی چرسی تکہ مطلب سوادی تکہ، یہ منطق ہماری سمجھ میں تو نہیں آئی، البتہ کھانا کھانے کے بعد سبھی احباب اپنے اپنے حواس میں تھے اور کوئی بھی بے تحاشا ہنس نہیں رہا تھا جس پہ کسی قسم کا شبہ کیا جا سکے۔

اسی طرح ایک اور جگہ چرسی چائے والا بورڈ نظر آیا اور ساتھ ہی قلندری چائے بھی لکھا ہوا تھا، اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چرسی چائے قلندرانہ شان رکھتی ہے یا پھر یہ دونوں ذائقے الگ الگ ہیں۔

لگتا ہے اگلا قدم ”ام الخبائث“ کی جانب ہو گا اور اسے بھی اسی طرح کسی چیز سے منسوب کر کے سواد کا بندوبست کیا جائے گا۔ جیسے ہمارے کچھ دانشور کالم نگار آج بھی اپنے کالمز میں ان مشروبات کی کوالٹی پر بحث فرماتے نظر آتے ہیں اور ہم ان کی ایسی باتوں پر واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہیں کہ کیسا بطل جلیل ہے ڈنکے کی چوٹ پر اپنے اعمال کا بیان فرما کر ہمارے ایمان کو تازہ کرتے ہیں۔ منافقت نہیں کرتے بلکہ جو کچھ ہے جیسا ہے ویسا پیش کرتے ہیں۔ ہمارا پیمانہ بھی ماشاءاللہ دوسروں سے مختلف ہے جو جتنا بد اخلاق، بد تہذیب اور بے ادب ہو گا وہ اتنا ہی معروف ہو گا اور اس کے پیروکار اس کی بد تہذیبیوں اور بد اخلاقیوں میں سے سنہری اقوال ڈھونڈ ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں اور کتھارسس کا نام دے کر خود کو مطمئن کرتے پائے جاتے ہیں۔

اس اخلاقی انحطاط کو شعور کا نام دے کر خود فریبی میں مبتلا نوجوانان ملت سرشار ہیں، کسی کی تضحیک کرنا، طنز و تحقیر کرنا اور بے ادبی کرنا شعور کی منازل مقرر ہوئی ہیں۔ اور جو جتنا ان منازل کو طے کرتا ہے اتنا ہی معتبر قرار پاتا ہے۔

سچ وہ ہے جو کسی کو سنوار دے نہ کہ بگاڑ دے۔ ہم سچ نہیں بولتے بلکہ دوسروں کی تضحیک و تحقیر کرتے ہیں، اعتراض کریں تو فرماتے ہیں یہی تو سچ ہے جو کڑوا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں تو سچ کو میٹھا ہونا چاہیے نہ کہ تلخ و تند، سچ سے لوگوں کو سنوارنا ہے، تربیت کرنی ہے، اصلاح کرنی ہے یا پھر انہیں غصہ دلانا ہے، بدظن کرنا ہے۔

اب تو اختلاف رائے کی کوئی گنجائش ہی نہیں یا تو آپ ہمارے حامی ہیں، نہیں تو دشمن ہیں۔ میانہ روی اور رواداری مفقود ہے۔ ماضی قریب میں ہم نے مذہبی انتہاپسندی کو اوج کمال تک پہنچایا اور آج سیاسی انتہا پسندی سے ذاتی انتہا پسندی کا سفر جاری و ساری ہے۔ لگتا ہے یہ بھی کمال کو چھو کر ہی زوال پائے گا لیکن اس دوران ہمیں کیا کچھ کھونا پڑے گا اس کا کوئی اندازہ نہیں۔

ہم بحث نہیں کرتے بلکہ نیچا دکھاتے ہیں، سوال اس لئے سنتے ہیں کہ تڑاک قسم کا جواب دینا ہے جس سے اگلا نیست و نابود ہو جائے۔ تحقیق اور علم کی جستجو اتنی ہے کہ ایک دوست کو کالم شیئر کیا، کہنے لگا ”میں اتنا بھی ویلا نہیں ہوں“ ۔ یعنی ایک کالم نہیں پڑھا جاتا، کتاب کو تو ہاتھ لگانا ہی گناہ عظیم ہے۔ اب تو کسی کو کتاب گفٹ کریں تو ڈر لگتا ہے کہیں اگلا بندہ برا ہی نہ مان جائے۔

آج کا تند و تیز شعور ٹیکنالوجیکل ہے، سب کچھ فاسٹ اینڈ فیوریئس۔ ٹائم ہی تو نہیں ہمارے پاس، اس لئے سب کچھ روندتے چلے جا رہے ہیں، معاشرتی اخلاقیات کی دھجیاں اڑ رہی ہیں اور ہم اسے نئے دور کا شعور سمجھ کر مطمئن ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments