فیض زندہ ہے


دسمبر کی چھٹیاں تھیں، سارا دن دھوپ میں بیٹھا جاتا اور طویل راتوں کو برداشت کیا جاتا۔ ایک دن خیال آیا کہ والد صاحب کی موٹی موٹی کتابیں دیکھی جائیں شاید کچھ اپنے مزاج کا پڑھنے کو مل جائے لیکن وہاں تو قرآن کی تفاسیر، اسلام کے سیاسی نظام پر مشتمل لٹریچر اور کچھ سیاسی نوعیت کی کتابوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ کافی مایوسی ہوئی لیکن ایک بار پھر کوشش کی تو ایک خستہ حال کتاب برامد ہوئی، جس پر جلی حروف میں درج تھا ”زنداں نامہ“ ، اور اس کے بالکل نیچے فیض احمد فیض لکھا تھا۔ قیمت ساڑھے چار روپے درج تھی، جو کتاب کے عمر رسیدہ ہونے کی چغلی کھا رہی تھی۔ کتاب کھولی تو معلوم ہوا کہ یہ فیض کے اس کلام کا مجموعہ ہے جو انہوں نے حکومت پاکستان کی قید میں لکھا تھا۔ میں نے مزید کتابیں اوپر نیچے کیں تو سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا ایک مجموعہ برآمد ہوا۔

ڈاکٹر اقبال کی بال جبریل، بانگ درا، ضرب کلیم وغیرہ تو گھر میں مل ہی جاتی تھیں لیکن والد صاحب کے ذخیرہ کتب میں فیض ایسے شاعر اور منٹو جیسے ادیب کا موجود ہونا میرے لیے حیران کن تھا۔ والد صاحب کے مزاج میں برصغیر کے سید مودودی اور مصر کے سید قطب کے افکار رچے بسے تھے۔ میرے نزدیک اس قسم کے لوگ روایتی ادب سے دور رہتے ہیں۔ سوچا والد صاحب سے پوچھا جائے لیکن پھر خیال آیا ابھی ہم اتنے لبرل نہیں ہوئے کہ گھر میں بیٹھ کر منٹو کے فحش افسانوں اور فیض کے لادین نظریات پر کوئی مکالمہ کرسکیں اور پھر والد صاحب کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں۔

آخر ایک دن ہمت کی اور پوچھا کہ آپ کی کتابوں میں فیض کی زندان نامہ پڑی ہے۔ کچھ جھجکتے ہوئے منٹو کا نام بھی لے دیا۔ جواب ملا کہ یہاں غالب کا دیوان بھی ہو گا کہیں، زمانہ طالبعلمی میں، ہم فیض سے بہت متاثر تھے اور آج تلک ہیں۔ باقی منٹو اس وقت کا فیشن تھا اور اس نے معاشرے کو بہترین مگر افسانوی انداز میں پیش کیا۔ مجھے کافی حیرت ہوئی کہ والد صاحب فیض جیسے سرخے سے آج تک متاثر ہیں اور منٹو کی واہیات تحریروں میں ان کو معاشرے کی ترجمانی نظر آتی ہے۔ میں نے سوچا والد صاحب کا ماضی ”تابناک“ نہیں تو ”دلچسپ“ ضرور ہونا ہے۔ مجھے ان کا ذخیرہ کتب ایسی مسجد لگا کہ جس کے ایک کونے میں چھوٹا سا میخانہ آباد ہو۔

قصہ مختصر کہ فیض کے ساتھ سلسلوں کا آغاز ہوا۔ بار بار پڑھا اور ہر بار ایک الگ احساس کے ساتھ۔ نویں کلاس میں کالج لائیبریری کارڈ بنا تو، فیض کو مزید پڑھنے کا موقع ملا، ”نقش فریادی“ کی پہلی نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت“ پڑھی تو اس کے سحر میں ایسا گرفتار ہوا کہ آج تک سر دھنتا ہوں۔ فیض کی اس پہلی سی محبت کے متعلق مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ محترمہ لائلپور (موجودہ فیصل آباد) کے چنیوٹ بازار کی رہائشی تھیں اور فیض کی بہن فیصل آباد بیاہی گئی تھیں تو وہیں سے ”معاملات“ کا آغاز ہوا۔

نظم ”رقیب سے“ پڑھی، بار بار سنی اور اس سے کہیں زیادہ سنائی لیکن جی نہ بھرا۔ اس نظم کا پس منظر یہ ہے کہ اس ”پہلی سی محبت“ کی شادی ہو گئی۔ جب کبھی میکے چکر لگا تو وہ اپنے دراز قد، خوبرو اور وجیہہ شوہر کے ہمراہ فیض صاحب کو ملنے آئیں تھیں۔ کچھ دیر میں واپس چلی گئیں، پھر اکیلے واپسی ہوئی۔ دریافت کیا ”تم نے دیکھا میرا شوہر کتنا خوبصورت ہے“ ۔ بس یہ جملہ ”رقیب سے“ کی وجہ بنا۔ ان کی تصنیف نقش فریادی انہی رومانی کیفیات کا اظہار ہے۔

نظم ”انتساب“ میں فیض نے کمال خوبصورتی سے اپنا کلام کارخانوں کے مزدوروں، ریلوے کے کلیوں، تانگے والوں اور ان کسانوں کے نام کیا کہ جن کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے جاتے ہیں، جن کی بیٹی اٹھا لی جاتی ہے، جن کے کھیت سے ایک انگشت پٹوار اڑا لیتا اور ایک سرکار کے کھاتوں میں چلی جاتی ہے۔ ان دکھی ماؤں کے نام کیا کہ جن کے بچے بھوکے سو جاتے ہیں۔ ان بیاہتاؤں کے نام کیا کہ جن کے جسم ریا کار محبتوں کی سیج پر سج سج کر اکتا چکے ہیں۔ ان مجبور اور لاچار طوائفوں کے نام جو کوٹھوں کی چلمنوں کے پیچھے مقید ہیں، روسا اور شرفاء کی تفریح گاہ بنی ہوئی ہیں۔ ایک ایک غزل ایک ایک نظم ایسا شاہکار کہ شرح لکھو تو قلم میں روشنائی کم پڑ جائے۔

کلام کا موضوع دکھی انسانیت ہے، بے چین الفاظ کسی تبدیلی، کسی انقلاب کی تلاش میں سرگرداں۔ 1911 میں جب پیدا ہوئے تو ملک میں برطانوی سامراج اپنے عروج پر تھا۔ ابھی بچپن تھا کہ روس میں لینن اور سٹالن اشتراکی انقلاب کی نوید سنا رہے تھے اور سرخ سویرے کا چرچا تھا۔ تعلیم کے لیے مرے کالج سیالکوٹ گئے، گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب اور پھر عربی ادب میں ماسٹرز کیا۔ یہیں سے فیض فیض بنے۔ ان دنوں انگریز سرکار تعلیمی اداروں میں روس نواز عناصر کی تلاش میں تھی لیکن ہاسٹل میں ان کے کمرے سے اشتراکی لٹریچر کی خفیہ ترسیل جاری رہی۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے والد پروفیسر ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر، جن کی بیوی ایک برطانوی شہری تھیں اور برطانوی کمیونسٹ پارٹی کی رکن تھیں۔ ایلس جارج، جو کہ ایم ڈی تاثیر کی رشتے میں سالی تھیں، اپنی بہن کی طرح بائیں بازو کے حلقوں بالخصوص برطانوی کمیونسٹ پارٹی میں کافی سرگرم تھیں۔ ایلس ان دنوں اپنی بہن کے ہاں ہندوستان آئی ہوئی تھیں، پھر دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ وہ واپس برطانیہ نہ جا سکیں۔ فیض اور ڈاکٹر تاثیر برطانوی ہند کی کمیونسٹ پارٹی کا اہم حصہ تھے اور کارل مارکسی نظریات کی جھلک ان کی ادبی کاوشوں میں نظر آتی تھی۔

یہیں سے ایلس اور فیض کو ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملا۔ دونوں کا مشترکہ رومان مارکس کے انقلابی نظریات تھے، روس کا اشتراکی انقلاب ان کی گفتگو کا موضوع رہتا۔ رفتہ رفتہ یہ نظریاتی دلچسپی، ذاتی دلچسپیوں میں بدل گئی، عہد و پیمان ہوئے، آخر کار دونوں رشتہ ازدواج کی صورت یک جان دو قالب ہو گئے۔ شادی کے وقت اسلام قبول کیا اور وہ ایلس جارج سے کلثوم فیض ہو گئیں۔ نکاح کی تقریب میں چوٹی کے کشمیری رہنما شیخ عبداللہ بھی شریک ہوئے۔ بعض کے مطابق ان دونوں کی داستان میں گورنمنٹ کالج لاہور کا رومان پرور ماحول بھی شامل تھا جہاں فیض استاد تھے اور ایلس ان کی شاگرد تھیں۔

فیض ہیلی کالج آف کامرس میں لیکچرار تھے، یورپ دوسری جنگ عظیم کی زد میں تھا اور روس پر نازی جرمنی نے حملہ کر دیا تھا۔ سلطنت برطانیہ اور سوویت روس کے درمیان اتحاد ہو چکا تھا، فیض نے ہیلی کالج چھوڑا اور برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ ان کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (موجودہ آئی ایس پی آر) میں جگہ دی گئی۔ وہ فوجی اخبار میں اتحادی افواج (برطانوی، روسی امریکی اور فرانسیسی افواج ) کے حق میں لکھتے۔ اسی طرح ترقی کر کے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔ پھر جنگ عظیم ختم ہوئی، روس اور مغرب کا اتحاد ختم ہوا جس کے ساتھ ہی فیض نے برطانوی ہندی فوج کو خیر آباد کہہ دیا۔

پاکستان بنا تو انجمن ترقی پسند مصنفین کا حصہ رہے، پطرس، منٹو، احمد ندیم قاسمی اور دیگر کے ساتھ محفل جمتی۔ فراز، منیر نیازی، ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم کے علاوہ روس، بھارت، چین، عالم عرب اور برطانیہ کی ادبی شخصیات سمیت ایک دنیا فیض کے متاثرین میں شامل ہوئی۔

1951 آیا وزیراعظم لیاقت علی خان کے حکم سے فوج کے ایک جنرل، کئی اعلٰی افسروں کے ساتھ فیض کو راولپنڈی سازش کے الزام میں دھر لیا گیا۔ پھر رہائی 4 سال بعد ہوئی۔ 1962 میں ان کو روسی دارالحکومت ماسکو میں بلا کر کمیونسٹ دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ”لینن انعام برائے امن” دیا گیا۔ سوویت روس میں فیض کو سرکاری سطح پر “ہمارا شاعر” کہا جاتا تھا۔ لندن میں فیض کو ادبی اور ترقی پسند محافل میں بلایا جاتا۔ ایوب خان کی فوجی حکومت میں ان کو اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جاتا کیونکہ وہ روس نواز سرخے تھے، اور ریاست پاکستان اپنے سفید دوستوں (امریکہ اور اتحادیوں) کو ناراض کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔

1970 کی دہائی میں بھٹو کی عوامی اور سوشلسٹ نظریات کی حامل حکومت آئی تو فیض آرٹس کونسل پاکستان کے سربراہ بنے اور کئی ممالک کے سرکاری دورے کیے۔ بھٹو دور میں پاکستان سرمایہ داری بلاک سے باہر نکلنے لگا اور اشتراکی حکومتوں (روس، چین، کیوبا ویت نام) سے راہ و رسم کا آغاز ہوا۔ اندرون ملک مزدوروں اور کسانوں کا حوصلہ بڑھا اور اشتراکی نظریات کو ملک میں پنپنے کا موقع بھی ملا۔ پھر فوجی بغاوت ہوئی اور “مرد مومن مرد حق ضیاالحق” کی من پسند شریعت کا نفاذ ہونے لگا تو فیض کو ملحد قرار دیا گیا حالانکہ اس لادین آدمی کی شہرہ آفاق نظم ہے

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

1978 میں فیض نے مجبور ہو کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی اور بیروت میں سکونت پذیر ہوئے۔ لبنان کا دارالحکومت بیروت ان دنوں فلسطینی مزاحمت کاروں کا مرکز تھا۔ وہاں فیض اور معروف ”پی ایل او“ کے سربراہ یاسر عرفات باہم دوست بن گئے۔ فیض وہاں آزادی فلسطین کے ترجمانی کرنے لگے۔ افریقی اور ایشیائی مصنفین اور ادیبوں کے ترجمان سہ لسانی میگزین لوٹس کے پہلے غیر عرب ایڈیٹر بنے۔ فیض کی نظموں کا مجموعہ ”میرے دل میرے مسافر“ یاسر عرفات کو خراج عقیدت ہے اور اس کے علاوہ فیض کے ایک نواسے کا نام بھی یاسر عرفات ہے۔ 1982 میں بیروت پر اسرائیلی جارحیت ہوئی تو فیض کو واپس پاکستان آنا پڑا۔ 1984 میں فیض کا انتقال ہوا۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل فیض ادب میں نوبل انعام کے لئے نامزد بھی ہوئے، لیکن نوبل انعام ایک ترقی پسند مارکسی، روس نواز سرخے اور سب سے بڑھ کر مغربی سرمایہ داریت کے خلاف قلم توڑنے والے شاعر کو کیوں دیا جاتا

آخر میں بابا اشفاق احمد کے یہ الفاظ کہ

”میں کبھی اکیلے بیٹھے بیٹھے، خاموش اور چپ چاپ، سوچا کرتا ہوں کہ اگر فیض صاحب حضور سرور کائنات کے زمانے میں ہوتے تو ضرور ان کے چہیتے غلاموں میں سے ہوتے۔ جب بھی کسی بد زبان، تند خو، بداندیش یہودی دکاندار کی دراز دستی کی خبر پہنچتی تو حضور ضرور فرماتے، آج فیض کو بھیجو، یہ دھیما ہے، صابر ہے، بردبار ہے، احتجاج نہیں کرتا، پتھر بھی کھا لیتا ہے۔ ہمارے مسلک پر عمل کرتا ہے ”۔
مزدوروں کا، کسانوں کا، مظلوموں اور دکھی انسانیت کا فیض آج تلک زندہ و تابندہ ہے۔
فیض زندہ ہے۔

Latest posts by فراست حسن، ٹیکسلا (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments