26 جنوری کا فلسفہ۔ اور مسلمان


1947 ء میں مذہب کی بنیاد پر ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم عمل میں آئی، جس کے نتیجہ میں ہند و پاک کے لوگوں کی نقل مکانی کا لامتناہی سلسلہ جاری ہوا، جس کے دوران نسل مسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، ان کے کارواں لوٹے گئے۔ ان کی خواتین کی عصمت دری کی گئی، انہیں تبدیلی مذہب پر مجبور کیا گیا، بالجبر ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کیے گئے۔ یہ تمام واقعات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں، ان کو پڑھیں تو آنکھیں اشک بار بل کہ لہو بار ہوجائیں، وہی مناظر اگر ذہن کے کینوس پر ابھر آئیں تو اس نظارہ سے انسانی روح کانپ اٹھے۔

یوں تو بھارت کو برطانیہ سے 15 / اگست 1947 ء میں ہی آزادی مل گئی تھی۔ تاہم، آئین کی بالادستی 26 / جنوری 1950 ء میں قائم ہوئی ہے۔ سرکاری سطح پر اسی کو جمہوریت کے اظہار کا دن قرار دیا جاتا ہے ، ہر برس 26 / جنوری کو ملک بھر میں جشن جمہوریت کا انعقاد کیا جاتا ہے ، فرحت و شادمانی کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ آج 26 / جنوری ہے تو آئیے! ہم اس پر مسرت موقع پر بصمیم قلب عہد کرتے ہیں کہ ہندوستان کے تابناک مستقبل کے لیے اپنے آباء و اجداد کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔

دسمبر 1929 ء میں لاہور شہر میں پنڈت جواہر لال نہرو کی زیر صدارت کانگریس کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی گئی تھی کہ اہل فرنگ 26 / جنوری 1930 ء تک ہندوستان کا اقتدار اعلیٰ ہندوستانیوں کے سپرد کریں اور اس سرزمین سے انخلاء کا راستہ اپنائیں۔ بصورت دیگر ان سے شدید مزاحمت کی جائے گی اور ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے پرچم لہرایا جائے گا۔ فرنگیوں نے اس تجویز پر عمل نہیں کیا۔ چناں چہ کانگریس اور ملی جماعتوں نے 26 / جنوری 1930 ء میں مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں غلامیت کی زنجیریں توڑنے کا عہد اور ایک خود مختار ریاست کا اعلان کر دیا۔ 1947 ء تک اس کو یوم جمہوریہ کی شکل میں منایا جاتا رہا۔ اس کے بعد نو آبادیاتی حکومت کے خلاف عوامی سرگرمی زور پکڑتی گئی۔

یہ جنگ کئی دہائیوں میں کامیابی کا سفر طے کرتے ہوئے انیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں داخل ہو چکی تھی۔ وہاں سخت معرکہ آرائی، ہندو مسلم اتحاد نے فرنگیوں کے اقتدار کا تختہ الٹ دیا تھا، ان سے صدیوں پرانی ریاست چھین لی تھی، فرنگی جگر دوز سانحہ کی تاب نہ لا سکے اور علم ازل میں لکھی ہوئی حریت کی گھڑی بھی آ پہنچی تھی۔ وہ ایک ایسی شب تھی کہ جب سارا جہاں میٹھی نیند کی آغوش میں تھا اور شکست خوردہ ایسٹ انڈیا کمپنی راہ فرار کی متلاشی تھی۔

کسے پتہ تھا کہ رونما ہونے والا یہ منظر تاریخ میں ناکامی کا استعارہ بن کر کھٹک رہا تھا۔ 1947 ء کی 14 /، 15 / اگست کی درمیانی شب، آئین ساز اسمبلی کا اجلاس برپا کیے ہوئے تھی، وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سر پر ہندوستان کے گورنر جنرل کا تاج سجا رہی تھی، اسی کے ہاتھوں جواہر لال نہرو کو اولین وزارت عظمی کا حلف دلا رہی تھی، دوسرے اراکین کی وزراء کی حیثیت سے تاج پوشی کر رہی تھی۔ وہیں قوم انگریز کے آہنی پنجوں سے ہندوستانیوں کو عارضی رہائی کے ملنے پر صبح نو خوشی کے شادیانے بجا رہی تھی۔

تاریخ گواہ ہے کہ برطانوی سامراج کے آمرانہ طرز عمل کے خلاف لڑی جانے والی پہلی جنگ میں مسلم قوم، خاص طور پر مسلم علماء صف آرا ہوئے ؛ نواب سراج الدولہ، ٹیپو سلطان شہید، شاہ ولی اللہ دہلوی، سید احمد شہید، مولانا قاسم نانوتوی، شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا محمد علی جوہرؔ، مولانا ابو الکلام آزادؔ، مولانا حسرت موہانیؔ، مولانا حسین احمد مدنی، جنرل شاہ نواز، سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خانؔ اور عبد القیوم انصاریؔ اور دوسرے مجاہدین نے حریت کی تحریک کو جلا بخشنے میں نمایاں کردار نبھایا تھا۔

گزرتے وقت کے ساتھ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور دیگر برادران وطن نے بھی مسلم قوم کے ساتھ شانہ سے شانہ ملایا اور سخت جاں معرکہ میں کود پڑے۔ اس طویل مدتی جنگ میں جو قربانیاں دی گئیں ہیں وہ ایک مکمل تاریخی دستاویز ہیں، جس کے بغیر تاریخ ہند کا باب ادھورا رہے گا۔ منزل تک پہنچنے میں کتنی ہی بھوک، پیاس، مصیبت اور بے شمار مسائل سے دوچار ہونا پڑا! کتنے ہی جسم گولیوں سے زخمی ہو گئے! لاتعداد حریت پسندوں کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا! یہ تصور ہی دل کو دہلانے کے لیے کافی ہے!

ملک آزاد ہوا تو تمام باشندے فرحاں و شادماں تھے۔ مجاہدین، دانشوران قوم اور اہل سیاست جیسے کل گزشتہ منصوبہ بندیوں اور جنگی مہمات کے دوران سر جوڑ کر بیٹھتے تھے، آج بھی آئندہ کل کے لیے یکجا تھے اور جمہوریت کو رواج دینے کے لیے ایک لائحۂ عمل ترتیب دے رہے تھے، ان کی شرکت کا راز، قدیم گنگا جمنی تہذیب تھی، عرصۂ دراز سے ان میں اخوت کا جذبہ پنپ رہا تھا، ان کے درمیان کئی بار ریشہ دوانیوں کی کوشش ہو چکی تھی۔ تاہم، ایسے لوگ خود ہی رسوائی کی عمیق غار میں جا پڑے۔

آج وطن عزیز کے حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں، مذہبی منافرت، تحفظ کا فقدان، تحمل کا خاتمہ، فرقہ وارانہ کشیدگی، ہجومی تشدد، دہشت زدگی کا ماحول ہے، انسانیت ہراساں اور یرغمال بنی ہوئی ہے اور مسلم قوم ملک کی بڑی اقلیت ہے، اس کی وطن دوستی کو مشکوک کیا جا رہا ہے، ہندوتو کے علم برداروں کی زبانوں پر ہندو ریاست کا قیام، جہاد محبت کا الزام اور نا زیبا کلمات ہیں، حال آنکہ ہندوتو کے علم بردار راجہ، جاگیردار اور اعلی ذات کے ہندو طبقہ نے خود کو انگریز کے خلاف مزاحمت سے دور رکھا تھا۔

ان کی دریدہ دہنی اور اس جنگل راج پر ارباب اختیار، اعلی کمان اور قانونی ادارے خاموش تماشائی ہیں۔ یاد رہے کہ ملک کی خوبصورتی اور استحکام کثرت میں وحدت والی تہذیب میں پنہاں ہے۔ مہاتما گاندھی کی فلسفیانہ سوچ کہ ایک ایسا سماج جہاں تمام مذاہب کے لوگ بے خوف و خطر کھلے آسمان تلے مل جل کر رہیں سہیں، ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔

جمہوری شجر کے سائے تلے!

قارئین! خیال رہے کہ آج یوم جمہوریہ یعنی 26 / جنوری ہے۔ ہم اس کے پس منظر میں کچھ گفتگو پچھلی سطروں میں کرچکے ہیں، اگلی سطروں میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ قانون کیا ہے؟ اس کا مدون کون ہے؟ اس کی بالادستی کب اور کیسے قائم ہوئی؟ اور 26 / جنوری کو یوم جمہوریہ سے کیوں موسوم کیا گیا؟ مختلف ادوار ؛ سمراٹ، راجہ، ملوک، سادات، مغل اور برطانیہ میں تخت نشین ملکہ نے صدیوں ہندوستانیوں کی گردنوں میں غلامیت کا طوق ڈالے رکھا۔ ان سلاطین کو جمہوری نظام یا اسلامی خلافت کی نہ سوجھی۔ ہاں! برطانوی عہد بوقت رخصت جمہوریت کا نظریہ خاک ہند میں ودیعت کر گیا۔ اس نظام حکومت میں قانون خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہاں قانون کے سلسلہ میں مختصر گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔

آئین اور تعزیرات مشمول قانون ہیں :

مسودہ کمیٹی

29 / اگست 1947 ء میں آئین کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کے لیے مسودہ کمیٹی تشکیل دی گئی اور اسی میں کئی ذیلی کمیٹیاں تھیں، آئین کی ترتیب کے لیے 200 / سے زائد اراکین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ؛ جواہر لال نہروؔ، راجندر پرساد، مولانا ابوالکلام آزادؔ، بیرسٹر آصف علی، خان عبد الغفار خان، محمد سعد اللہ، عبد الرحیم چودھری، بیگم اعزاز رسول، مولانا حسرت موہانیؔ، سنجے فاکے، چکر ورتی راج گوپال اچاریہ، ولبھ بھائی پٹیل، کنہیا لال مانیک لال، منشی واسو دیو والانکار، سندیپ کمار پٹیل، شیاما پرساد مکھرجی، نینی رنجن گھوش اور بلونت رائے مہتا کے نام قابل ذکر ہیں اور اینگلو انڈین، پارسی، عیسائی، گورکھا قبیلہ اور درج فہرست طبقات، درج فہرست قبائل کی نمائندگی کے فرائض بالترتیب فرینک انتھوی، پی ایچ مودی، ہریندر کمار مکھرجی اور اری بہادر کورنگ اور 30 / اراکین نے سر انجام دیے تھے۔

سربراہ

ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکرؔ ایک با معنی شخصیت کے مالک تھے، دلت سماج سے ان کا آبائی تعلق تھا، ان کے کمالات کی فہرست کافی طویل ہے، یورپی اور ایشیائی اقوام ان کی قابلیت کی معترف تھیں، انگریزی، مراٹھی اور سنسکرت زبان پر ان کو یکساں عبور حاصل تھا، ہندوستان کی سماجی تاریخ اور ورن نظام کی باریکیوں سے بخوبی واقف تھے، ہندو مذہب میں مقدس سمجھی جانے والی رگ وید، سام وید، یجر وید، اتھر وید، پران اور شاستر نامی کتابوں کے عالم باکمال تھے، دانشور کی حیثیت سے اپنے ہم عصر سیاست دانوں میں ان کو فوقیت حاصل تھی، یہی وجہ رہی ہوگی کہ ان کو مسودہ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

سیکولر

آئین کے اصل مسودہ میں مقتدر اعلی جمہوری جمہوریہ کے قیام کو عملی طور پر ہندوستان میں لایا گیا تھا، بیالیسویں ترمیم میں ملک کو مقتدر، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری جمہوریہ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان میں سیکولر ازم کے معنی ہیں کہ ریاست کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے، ریاست تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتی ہے، ملک کے ہر باشندے کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور سوشلسٹ کی اصطلاح پیداوار کے وسائل پر سماج کی نگرانی کے معنی میں استعمال کی گئی ہے۔

ڈھانچہ

آئین در اصل ریاست کا بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے، آئین میں ہندوستان کو ریاستوں کی یونین کا نام دیا گیا ہے، اس نظام میں تحریری آئین لازم ہے۔ آئین میں 22 / 24 / ذیلی، جلی ابواب قائم میں کیے گئے ہیں، 395 / دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مرکزی، ریاستی حکومت کے درمیان رابطہ، ان کے اختیارات کی تقسیم، مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصول، سیاسی نکات، صدر جمہوریہ کے ہنگامی اختیارات، پبلک سروس کمیشن، الیکشن کمیشن، فنانس جیسے اہم اداروں اور عوامی بنیادی حقوق و فرائض، حق مساوات، حق آزادی، استحصال کے خلاف، مذہبی آزادی، ثقافتی اور تعلیمی حقوق، پنچایت، میونسپلٹی، سرکاری زبانیں، درج فہرست اور قبائلی رقبے کی موضوعاتی تفصیلات درج کی گئی ہیں اور عدلیہ کو مکمل آزادی عطا کی گئی ہے۔

آئین پر عمل درامدگی عدالتوں کا فریضہ قرار دیا گیا اور ماورائے عقل قانون کی تشریح کا حق بھی سپریم کورٹ کو ہی تفویض کیا گیا ہے ۔ آئین ہند کو معطل نہیں کیا جاسکتا ہے، البتہ ترامیم کی گنجائش رکھی گئی ہے، قانون ساز اسمبلی (پارلیمنٹ) کے ایوان بالا، ایوان زیریں میں عوامی نمائندگی کی اکثریت ترمیم کا موقع فراہم کرتی ہے۔

قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے آئین کو 26 / نومبر 1949 ء میں تسلیم کیا گیا تھا، اسی دن کو آئین کی اہمیت اور امبیڈکر کے خیالات کی تشہیر کے لیے قومی یوم قانون یا یوم آئین ہند کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 26 / جنوری 1950 ء میں یہ نسخہ بھارت کے قانون کی شکل میں نافذ کیا گیا تھا۔ ہندی، انگریزی اصلی نسخوں پر مولانا حسرت علی موہانیؔ کے سوا قانون ساز اسمبلی کے تمام اراکین کے دستخط ثبت ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ آئین ہند دنیا کی ضخیم قانونی دستاویز ہے۔

تعزیرات ہند : دور فرنگ 1860 ء میں ایکٹ 45 وضع کیا گیا تھا۔ 26 / ابواب اور 511 /دفعات پر مشتمل ہے، اس میں تمام جرائم کی سزائیں متعین کی گئی ہیں، اس کی اہم غرض ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ہے، مجموعۂ تعزیرات ہند سے اس کو موسوم کیا گیا ہے، جو ریاست جموں وکشمیر کے علاوہ سارے بھارت میں نافذ العمل ہے۔ پولیس کنٹرول پینل (محکمہ انسداد جرائم، امن عامہ) کے ذریعہ مجرمین پر تعزیرات ہند کی دفعات لگائی جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS