تسلسل کہانی


آج کھانا کچھ زیادہ بچ گیا ہے ۔ اپنے برتن میں رکھے ہوئے کھانے کو دیکھ کر اس نے سوچا۔ آج گھر جانا چاہیے منورہ دیکھ رہا ہو گا۔ یکایک کچھ لفظ اس کے کان میں گونج اٹھے۔ ”آپا تم آنے میں بہت دیر کرتی ہو۔ مجھے نیند آتی ہے۔“ شکایتی لہجہ کی تلخی اس کے ہونٹوں پر گھل گئی اور لفظ سنسناتی ہوئی گولیوں کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔

نو بج گئے ہوں گے۔ اس نے سوچا اور جلدی جلدی پلیٹوں کے چہرے صاف کرنے لگی۔ ”دیکھ جلدی سے برتن صاف کردے اور کھانا کھا کر سوجا۔ باورچی خانہ میں بستر رکھا ہوا ہے“ بی بی جی۔ نے کہا ”بی بی جی آج میں گھر جاؤں گی“ ۔ اس نے کہا ”لیکن صبح تجھے آنے میں دیر ہو جائے گی۔ جب بھی تو گھر جاتی ہے تو دیر سے آتی ہے۔ کیا بہت دیر تک سوتی رہتی ہے۔“ ”نہیں بی بی جی صبح جلد ہی اٹھ جاتی ہوں۔ پر آنے ڈر لگتا ہے۔ راستہ میں کتے بھونکتے رہتے ہیں۔

“ ”تیرے بابا کی طبیعت کیسی ہے“ ۔ ”ویسی ہی ہے کچھ کھایا پیا نہیں جا رہا ہے۔ پیٹ میں بہت درد رہتا ہے“ ۔ اکثر منو بہن کی راہ دیکھتا ہے۔ بھوک اور آس اس کی آنکھوں میں انتظار کے دیے جلائے رکھتے۔ کبھی کبھی بہت دیر ہو جانے پر وہ مایوس ہو کر سو جاتا۔ اٹھانے پر جھنجھلا جاتا۔ آپا تم آنے میں بہت دیر کرتی ہو۔ مجھے نیند آتی ہے ”۔“ ایک تلخی سی اس کے ہونٹوں پر گھل کر رہ جاتی اور جواب میں کچھ نہ کہتی۔ پہلے وہ اس کے ساتھ ہی کام پر آیا کرتا تھا لیکن بعد میں مالکن نے منع کر دیا۔

اس کی ایک عادت بڑی خراب تھی۔ تجسس اسے ہر چیز کو چھو کر دیکھنے پر اکساتا رہتا تھا۔ یہی بات مالکن کو پسند نہیں تھی۔ کبھی صوفہ پر جا بیٹھتا تو کبھی آئنہ میں اپنا چہرہ دیکھنے لگتا۔ کبھی گلدان میں سجے پھول اٹھا لیتا تو کبھی ایش ٹرے سے کھیلنے لگتا۔ ایک دن اس نے ایک گلدان توڑ دیا۔ مالکن نے کچھ کہا تو نہیں ہاں اسے منع کر دیا کہ ساتھ نہ لایا کرے۔ ”تیرے بابا نے تو تجھے یہیں رکھ لینے کو کہا تھا۔ بی بی جاتی ہوئی بولیں۔

دیکھ صبح ذرا جلدی آنا۔ صاحب کو جلدی جانا ہے۔“ بی بی جی چلی گئی اور اسے خیالوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ گئیں۔ وہ شعور کی اس سیڑھی پر تھی جہاں لڑکیاں مرد ذات کو لاشعوری طور پر پرکھنے لگتی ہیں اور پہلا شخص جسے وہ اکثر پرکھتی ہیں وہ باپ ہوتا ہے۔ اس طرح اسے اپنے باپ کے سپنوں، ان کی بے بسی اور ناکامیوں کا ادراک تھا۔ بابا تم نے جو کچھ سوچا اور کہا اگر وہ پورا ہوجاتا تو پھر کیا تھا۔ پہلے تم کتنا کما کر لاتے تھے۔ لیکن سب مہنگائی کی نذر ہوجاتا۔

تم خود پیسے بہت خرچ کرتے تھے۔ گھر لوٹتے وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز لے آتے۔ میرے لئے منو کے لئے اماں کے لئے۔ اماں پہلے تو بہت جھنجھلاتی ”یہ کیا پیسے خرچ کرتے رہتے ہو۔ کچھ برے وقت کے لئے بھی اٹھا کر رکھو۔ تم بچوں کی عادت بگاڑ رہے ہو۔ دیکھنا یہ چٹورے ہوجائیں گے“ ”بچے ہیں کھانے دو ۔ اگر یہاں نہیں تو پھر کس کے گھر کھائیں گے۔“ تم کہتے۔ پھر اماں خود بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر تمہاری لائی ہوئی چیزیں مزے لے کر کھانے لگتی۔

تم ہمیں کتنا چاہتے تھے۔ یوسف کا باپ ہمیشہ رات کو سیندھی پی کر آتا تھا اور اپنی بیوی کی پٹائی کرتا تھا۔ اگر یوسف کچھ فرمائش کرے تو اسے بھی پیٹ کر رکھ دیتا تھا۔ لیکن تم نے ہمیں کبھی ہاتھ نہیں لگایا نہ ہی تم نے کبھی سیندھی پی۔ تم دو سروں سے کتنے مختلف تھے۔ جب ہم ذرا بڑے ہو گئے تو تم نے ہمیں اسکول میں داخل کرا دیا۔ بستی کا کوئی بھی بچہ پڑھنے نہیں جاتا تھا۔ ذرا کام کرنے کے قابل ہوتے ہی لڑکیاں کسی بڑے گھرمیں برتن مانجھنے لگ جاتیں اور لڑکے سائیکلوں کی دکان پر نوکر ہو جاتے۔

اماں جھنجھلاتی ”انہیں پڑھانے سے کیا فائدہ“ ۔ ” دو حروف سیکھ جائیں تو اچھا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی چاہتا ہوں کہ منو کو بڑا ہو کر میری طرح رکشہ نہ چلانا پڑے۔“ اماں منہ میں منہ میں بڑبڑانے لگتی۔ ان کا خیال کچھ اور تھا۔ جب حال ہی سانس لینے کی فرصت نہ دے تو مستقبل کی کون سوچے وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بوجھ ہلکا ہو۔ پڑھائی میں تو الٹے پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ جب پیٹ کو ہی بس نہ ہوتو پڑھائی کو کہاں سے پیسہ آئے۔ تم ہمیں پڑھتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔

منو پڑھائی میں بہت تیز تھا۔ اک دن رات کو تم نے مجھ سے کہا۔ حلیمہ ذرا نفیس دودھ ہوٹل سے دودھ تو لے آ ”۔ منو نے فوری ٹوک دیا ابا وہ نفیس دودھ ہوٹل نہیں دودھ گھر ہے۔ گ …… ہ ……ر اس نے ہجے کر کے انہیں سمجھایا۔ یہ سن کر تم خوشی سے جھوم جھوم گئے اور جیب سے ایک روپیہ اور نکال کر دیے اور ان پیسوں کی جلیبی لے کر آ۔ اماں جل گئی -“ دو حروف پڑھ کر یہ ڈاکٹر ہی تو بن جائے گا ”زندگی یوں ہی گزر رہی تھی۔ دکھ بھی تھے، سکھ بھی تھے۔

لیکن باہم گتھے ہوئے پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ دکھ ہے اور یہ سکھ ہے۔ زندگی ہنستے روتے گزر رہی تھی۔ لیکن ایک تمہاری بیماری سے زندگی بدل جائے گی یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ گرما کے دن تھے شام کو بھلے چنگے سوئے تھے۔ لیکن صبح جب اٹھے تو تمہارا جسم بھٹی کی طرح سلگ رہا تھا۔ تمہیں لو لگ گئی تھی۔ پاس کے سرکاری دواخانہ سے تمہارے لئے دوا کے نام پر رنگین پانی آنے لگا۔ ڈاکٹر گولیاں لکھتا لیکن دینے والا صاف ٹال جاتا کہ یہ گولیاں نہیں ہے۔

خانگی ڈاکٹر کو بتانے کے لئے گھرمیں کچھ نہ تھا۔ تم کماتے ضرور تھے لیکن سب کچھ خرچ ہوجاتا تھا۔ تم خود کہا کرتے تھے ’کل کا کل دیکھا جائے گا۔ جب تک ہاتھ پاؤں میں دم ہے کمائیں گے‘ کھائیں گے۔ تم نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی جسم میں جان ہوتے ہوئے بھی ہاتھ پاؤں بے جان ہو جاتے ہیں۔ اور انہیں دو وقت کی روٹی کے علاوہ بھی کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے۔ تم نے اس دن کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہ تھا جس دن جسم میں جان ہوتے ہوئے بھی ہاتھ پاؤں بے جان ہوجائیں گے۔

رنگین پانی پی پی کر ٹھیک ہونے میں تمہیں ایک مہینہ لگ گیا۔ تمہیں آرام کی ضرورت تھی۔ رہا سہا خون بھی اس بیماری نے نچوڑ لیا تھا۔ تم پھر رکشہ چلانے لگے۔ تمہاری ساری قوت بیماری پی چکی تھی۔ اب تمہیں پیٹ کے درد کی شکایت ہو گئی اور تم سرکاری دواخانہ جاتے اور وہ لوگ ہاضمہ کی دوا دے کر بڑھا دیتے تھے۔ ایک دن تم دوا لانے جا رہے تھے۔ ایک بھکاری نے گلی میں آواز لگائی۔ یہ بھکاری روز گلی میں آتا تھا لیکن کسی گھر پر کھڑا ہو کر گھر والوں کو شرمندہ نہیں کرتا تھا۔

آواز لگاتا ہوا گلی سے گزر جاتا۔ میں سوچا کرتی تھی یہ آدمی ضرور پاگل ہے۔ ورنہ اس کا اس گلی میں کیا کام۔ لوگ اس کی جھولی میں خالی برتن تو جھٹکنے سے رہے۔ تم نے اس کی آواز سنی اور غصہ میں آ کر شیشی زمین پردے ماری۔ اس کے بعد تم کبھی سرکاری دواخانہ نہیں گئے۔ زندگی اک نئے ڈھب پر چل نکلی اب جس دن تمہارے پیٹ میں درد نہیں رہتا اس دن تم رکشہ چلانے جاتے اور جس دن درد رہتا گھر میں پڑے رہتے۔ اماں بھی اک جگہ کام کرنے لگی۔

مجھے اور منو کو اسکول سے اٹھوا لیا گیا۔ پھر بھی اگر پیسے کم پڑتے تو دادی اپنی مالکن کے پاس سے آنے والے تنخواہوں کے پیسے مانگ لاتی۔ وہ مشقتیں جن کے بارے میں یقین نہیں تھا کہ وہ انہیں پورا کر بھی سکے گی یا نہیں۔ وہ بہت ضعیف ہو چکی تھی۔ بس ان پیسوں کی ادائی اس کے جینے کی لگن بن گئی۔ اگر پیسے ادا کرنا ہے تو اک مہینہ اور جینا چاہیے لیکن پیسہ ادا ہونے سے پہلے ہی اور پیسوں کی ضرورت پڑ جاتی اور وہ اپنے لئے ایک اور مہینہ کی سزا بڑھوا لیتی۔

دادی پہلے مالکن کے گھر ہی میں رہا کرتی تھی۔ جب سے تم بیمار ہوئے تھے اک بے چینی اسے یہاں گھسیٹ لاتی تھی اور اسی بہانہ کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز اپنے ساتھ لاتی تھی۔ جب بھی بی بی جی کوئی اچھی چیز دیتے، خود کھانے کی بجائے وہ چیز لاکر تمہیں کھلا دیتی۔ گھرمیں جگہ کی تنگی تھی اور بستر بھی برابر نہیں تھے۔ اماں جھنجھلاتی یہ بڑھیا بھی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ اچھا خاصہ وہاں رہتی تھی اب یہاں گھستی چلی آتی ہے۔ کہتی ہے وہاں دل نہیں لگتا۔

یہ یہاں آ کر کون سا تیر مارے گی۔ اور یہ بیٹا بھی کہتا ہے اماں تم آجاتی ہو تو کو ایک ڈھارس بندھ جاتی ہے جیسے ساری عمر اماں کو لگ کے سوتا رہا ہے۔ سردیوں میں اماں کے سر سے دادی کا بوجھ بھی ہلکا ہو گیا۔ یہاں وہ سردی برداشت نہ کر پائی اور ایک رات اس کا نحیف و ناتواں جسم سردی و گرمی سے بے نیاز ہو گیا۔ دادی کے کفنانے دفنانے کے پیسے نہیں تھے۔ تم جا کر صاحب کے قدموں میں گر گئے پھر مالکن نے پیسوں کا انتظام کر دیا۔

تم اپنی بے بسی پر بہت روئے بہت روئے۔ دادی کے مرنے سے تمہاری رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی۔ یوں لگا جیسے تم پہلی بار یتیم ہوئے ہو۔ یہ سچ بھی تھا۔ باپ کے مرنے پر تم یتیم نہیں ہوئے تھے۔ اس دن تو تم نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھا تھا۔ ماں کے مرنے پر یتیم ہو گئے تھے کہ اک سہارا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا۔ رفتہ رفتہ تمہاری بیماری بڑھتی گئی۔ تمہارا پیٹ پھول گیا اور پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔ تم رکشہ چلانے سے بالکل معذور ہو گئے۔

اماں کے لئے دوسرا بوجھ میں بنی۔“ اسے کہیں نوکر رکھا دو بارہ برس کی ہو گئی۔ یہاں پڑی پڑی روٹیاں توڑتی رہتی ہے۔ ”اماں کہتی۔“ میں نے نہیں چاہتا کہ میرے جیتے جی میرے بچے برتن مانجتے پھریں در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے تو ابھی عمر پڑی ہے۔ ”تم ماں سے الجھ جاتے۔ پتھر پڑے ایسے لاڈ پر “ کیا دنیا میں تو ہی اک باپ ہے ”۔ ماں بڑبڑاتی تم سن کر بھی انجان ہو جاتے۔ جب تم نے دیکھا کہ اماں خود میرے لئے نوکری ڈھونڈ رہی ہے تو تم مجھے دادی کے مالکن کے پاس لے جاکر بھیک مانگنے کے انداز میں گڑگڑا کر بولے“ بی بی جی آپ میری بچی کو رکھ لیجیے۔

اسے پال لیجیے میں زندگی بھر آپ کا احسان نہیں بھولوں گا۔ اب یہ بڑی ہو گئی ہے۔ غلط ہاتھوں میں پڑ گئی تو ہم لٹ جائیں گے۔ ”بی بی جی نے مجھے اپنے پاس رکھ لیا۔“ پھر تمہاری دیکھ بھال کون کرے گا ”۔ میں نے پوچھا تھا۔“ میرا کیا ہے بیٹی گھرمیں پڑا رہوں گا ”تم نے کہا تھا۔ P5 اپنی شکست سے سمجھوتہ کرنے انسان کو کتنے فریب کھانے پڑتے ہیں۔ تم یہی سمجھتے رہے کہ بی بی نے مجھے پال لیا ہے۔ تمہیں نہیں پتہ تھا کہ اماں چوری چھپے آ کر میری تنخواہ لے کر جایا کرتی ہے۔

تنخواہ لے کر وہ اکثر کہتی“ اس کا کیا ہے بی بی جی وہ تو سٹھیا گیا ہے۔ برتن مانجھنا، جھاڑو جھٹکا کرنا یہ تو ہماری قسمت ہے۔ ”اک دن بی بی جی کے رشتہ کے بھائی جو ڈاکٹر تھے گھر آئے تو انہیں دیکھ کر میں نے ڈرتے ڈرتے بی بی جی سے پوچھا“ میں بابا کو لے کر آتی ہوں۔ صاحب کو دیکھنے کو بولیے، اگر صاحب دیکھتے بولے تو میں بابا کو لے کر آتی ہوں۔ ”“ جا لے کر آ ”۔“ انہیں کل دواخانہ عثمانیہ لے کر جاؤ۔ وہاں میرے اک دوست ہیں انہیں چھٹی لکھ دیتا ہوں۔

اس آدمی کو ٹائیفائیڈ ہوا تھا۔ مناسب علاج اور غذا نہ ملنے کی وجہ سے آنتیں اینٹھ گئی ہیں۔ ”اماں تمہیں دواخانہ عثمانیہ لے کر گئیں۔ تین دن مختلف معائنوں میں گزر گئے۔ روزانہ رکشہ کا کرایہ ہی چار روپیہ ہوتا۔ چوتھے دن اماں بولیں۔ اتنے پیسے کہاں سے لاؤں وہی چار روپے ہوں تو ایک دن گھرکا خرچ چل سکتا ہے۔ تم اپنی بے بسی پر مسکرا دیے۔ دادی کی موت پر تم اپنی بے بسی پر بہت روئے تھے۔ ان آنسوؤں کی بے بسی اور اس بے بسی کی مسکراہٹ کے بیچ کا فاصلہ پاٹنے کے لئے تمہیں تجربوں کی کئی کھائیوں سے گزرنا پڑا۔

تمہاری یہ بے بسی کی مسکراہٹ بہت دن تک کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی۔ اور اب بھی ……کھٹکتی …… ہے۔ “ آپا ”اچانک اس کا بھائی آ کر اس سے لپٹ گیا۔ وہ گرتے گرتے بچی۔ اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ وہ زار و قطار رو رہا تھا۔ اس کے پیچھے ہی صفیہ بھاگتی ہوئی آئی۔“ حلیمہ جلدی چل۔ تمہارے باوا مر گئے۔ جلدی چل۔ تمہاری اماں بہت رو رہی ہے۔ ”“ آپا جلدی چلو …… ”اس کا بھائی اس سے بری طرح لپٹ گیا۔“ آپا جلدی چلو ابا مر گئے۔ اماں بہت رو رہی ہیں۔ ”اس نے بھائی کو اپنے سینے سے بھینچ لیا اور بے یقینی سے صفیہ کی طرف دیکھنے لگی۔ اطراف میں کھڑی ساری پرچھائیاں دھندلا گئیں۔ کھوئے ہوئے انداز میں اس نے کہا“ ابا مر گئے ’انہیں تو ایک دن مرنا تھا۔ لیکن اماں …… اماں کیوں رو رہی ہے ”۔

Facebook Comments HS