عبید صدیقی: بہت یاد آتے ہیں مر جانے والے

بچھڑ جانے کے بعد ملنے پر یقین نہیں کرنے والے عبید صدیقی ہمارے درمیان سچ مچ نہیں رہے۔ جانے کس وقت رات کی خاموشی اور تاریکی میں وہ چپ چاپ اس دنیا سے چلے گئے، نہ کسی سے کچھ کہا نہ سنا۔ اب وہ محض یادوں کے زندان میں قید رہیں گے، شاید یہ شعر انھوں نے اپنے ہی لئے کہا تھا۔
بچھڑیں گے اگر ہم تو دوبارہ بھی ملیں گے
مجھ کو تو بھروسا نہیں کیا تجھ کو یقیں ہے
عبید صاحب سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انور جمال قدوائی ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں ماسٹرز میں داخلے کے لیے انٹرویو پینل کے سامنے پیش ہوا۔ انہوں نے اپنی بھاری آواز میں مجھ سے پوچھا کہ میں یہ کورس کیوں کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس وقت کیا جواب دیا یہ تو یاد نہیں لیکن ان کی مسکراہٹ اب بھی یاد ہے جو اس بات کا عندیہ تھی کہ وہ میرے جواب سے مطمئن تھے۔ انٹرویو پینل میں ان کی موجودگی اور سوالات نے مجھے خود اعتمادی بخشی اور اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا حوصلہ ملا۔
عبید صاحب اردو کے عمدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر کے طور پر ، انہیں بجا طور پر ایک سخت منتظم کے طور پر دیکھا جاتا تھا، باوجود اس کے ان کے سینے میں ایک مہربان اور حساس دل ہمیشہ دھڑکتا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک لڑکی لفٹ میں پھنس گئی، عبید صاحب بہت بے چین ہو گئے بار بار لڑکی کو باہر سے تسلی دیتے کہ گھبراؤ نہیں ہم سب یہیں پر ہیں اور یہ کہ انجینئر ابھی فوراً آ رہا ہے۔ جب تک انجینئر آ نہیں گیا وہ وہیں پر رہے، جب لڑکی باہر نکلی تو سکون کا سانس لیا۔
عبید صاحب ایک ذمہ دار منتظم اور مشفق استاد بھی تھے۔ انھوں نے ہمیں چند دن ریڈیو پڑھایا تھا، مگر جو کچھ بھی پڑھایا تھا اب تک یاد ہے۔ عبید صاحب شاعری اور صحافت دونوں سے کما حقہ نباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جہاں ایک طرف صحافت کے پروفیسر کے طور پر صحافی گڑھے وہیں دوسری جانب بحیثیت شاعر انھوں نے اپنے مجموعہ کلام ”رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے“ کی شکل میں یادگار ادبی سرمایہ چھوڑا۔ شاعری اور صحافت دونوں میں عبید صاحب کے کارناموں نے انہیں ایک متاثر کن شخصیت بنا دیا تھا۔
بی بی سی سے وابستہ رہنے والی نعیمہ احمد مہجور عبید صدیقی کو گزشتہ تیس برسوں سے جانتی تھیں۔ ان کے بقول عبید صدیقی آل انڈیا ریڈیو میں پروگرام ایگزیکٹو بننے کے بعد سری نگر گئے جہاں ان کی ملاقات نعیمہ احمد سے ہوئی۔ نعیمہ بتاتی ہیں کہ عبید ایک صحافی سے زیادہ ایک ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ ’ان کے سری نگر آنے کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ کشمیری شاعروں اور ادیبوں کو باقاعدگی کے ساتھ ریڈیو سری نگر میں بلایا جانے لگا‘ ۔
وہ کہتی ہیں کہ ’عبید ریڈیو پر زیادہ تر غیر سیاسی مباحثے بھی کرایا کرتے تھے لیکن کشمیر ایک ایسا خطہ ہے کہ جہاں غیرسیاسی اور ادبی محفلیں بھی سیاسی بن جایا کرتی ہیں۔ اور ایسا ہی عبید صدیقی کے پروگراموں میں ہوا کرتا تھا۔‘ انھوں نے یہی انداز بی بی سی میں شمولیت کے بعد بھی اپنایا۔ بی بی سی میں بھی وہ انگریزی مراسلوں کے اردو میں ترجمے پر ہی اکتفا کرتے تھے، وہ اوریجنل جرنل ازم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے تھے۔ ’نعیمہ کہتی ہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
عبید صدیقی 27 مئی 1957 ء کو مغربی یو پی کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی میں حاصل کی اور اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے، شعبہ اردو میں ایم اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا تھا اور سری نگر اسٹیشن سے وابستہ ہوئے۔ 1988 ء میں ان کا انتخاب بی بی سی لندن کی اردو سروس کے لیے ہوا اور 1996 ء تک بی بی سی میں خدمات انجام دیتے رہے۔ لندن سے واپسی کے بعد این ڈی ٹی وی میں شمولیت اختیار کی اور میگزین ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ 2004 ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایم سی آر سی شعبے سے بطور پروفیسر وابستہ ہوئے۔
بی بی سی نے ان کے انتقال پر جو خبر شائع کی ہے، اس سے ان کے دوستوں کی نگاہ میں ان کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے انتقال پر ان کے دوست راشد اشرف کہتے ہیں ’وہ ہمیشہ اپنی طبیعت میں کبھی بھی چین سے نہ بیٹھ سکے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک بہت ہی معروف شعر کہا تھا جس کا مصرعہ تھا‘ : ’زندگی ریت کی دیوار بناتے گزری۔
بی بی سی میں ان کے دور کے ایک ساتھی یاور عباس بتاتے ہیں کہ ’عبید کے دوست بہت کم تھے لیکن جو بھی دوست تھے وہ ان سے ہر حال میں دوستی نبھایا کرتے تھے۔ ‘ یاور عباس نے عبید صدیقی کی زندگی کے بارے میں کہا کہ وہ ایک اسکاٹش ادیب رابرٹ لوئیس سٹیونسن کے ناول ’ڈاکٹر جیکل اینڈ ہائیڈ‘ کے کردار کی مانند تھے جو دوہری شخصیت اور لا ابالی پن کی صفات کی وجہ سے کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ سکتے تھے۔
رضا علی عابدی نے روزنامہ جنگ ( 17 جنوری 2020 ) میں ان کی وفات پر تعزیتی مضمون ’ایک روشن دماغ تھا نہ رہا‘ کے عنوان سے جو کالم لکھا ہے، اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں :
”عبید صدیقی نے عجب مزاج پایا تھا۔ اپنی رائے قائم کرتے تھے تو اس رائے پر ڈٹ کر کھڑے ہوتے تھے۔ جو لوگ پسند تھے ان سے بہت قریب تھے لیکن جو لوگ اس سے مختلف ہوتے، ان سے فاصلہ رکھتے اور وہ بھی غضب کا فاصلہ۔ بے حد حساس، بہت زود رنج، نازک مزاج اور شکست تسلیم کرنے سے صاف انکار۔ بی بی سی سے خفا ہوئے تو استعفیٰ دے مارا۔ احباب نے اور گھر والوں نے لاکھ سمجھایا، کسی کی ایک نہ سنی، ساقی فاروقی اور ارشد لطیف سے بہت قریب تھے لیکن اپنی رائے پر ان کو بھی اثر انداز نہیں ہونے دیتے تھے۔ جب نئے نئے لندن آئے تو ارشد لطیف کے ساتھ اپنے لیے مکان تلاش کرنے نکلے۔ انہوں نے مشرقی لندن کے پاکستانی علاقے میں ایک مکان دکھایا جہاں نہاری کی دیگیں کھنک رہی تھیں اور گرم جلیبیاں تلی جا رہی تھیں، سخت برہم ہوئے اور بولے کہ اگر یہیں رہنا تھا تو دلی میں کیا برے تھے۔“
اس مضمون کے ابتدا میں رضا علی عابدی نے لکھا ہے کہ:
”بی بی سی کی ملازمت کے دوران وہ ترقی کی راہ پر چل نکلے تھے اور انہیں اپنی لیاقت، قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر دور تک جانا تھا کہ ایک روز جی میں جانے کیا آئی کہ استعفیٰ دیا اور واپس ہندوستان چلے گئے۔ احباب نے سمجھایا، قرابت داروں نے منایا مگر پسپا ہونا انہیں آتا ہی نہ تھا۔ مجھے یاد ہے، ان کے جانے سے پہلے ان کے احباب نے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جس کی خاص بات یہ تھی کہ مشاعرے میں تنہا عبید پڑھیں گے۔ خدا جانے کیسا سماں بندھا تھا اور لوگوں پر کیا کیفیت طاری تھی، حاضرین نے ان کے ایک ایک مصرعے پر دل کھول کر داد دی اور تعریف و توصیف کا مسلسل اتنا شور ہوتا رہا کہ ایک بار خود عبید نے حیرت کا اظہار کیا۔ یہ شاید ان کے لیے شہر والوں کا الوداعی خراج تحسین تھا“ ۔
لندن میں قیام کے دوران عبید صدیقی نے مغربی معاشرے، تہذیب اور سیاست سے آگاہی حاصل کی۔ اس تجربہ نے مغرب کے بارے میں ان کے زاویہ نگاہ کو بدل دیا اور مغربی معاشرہ کے بارے میں ان کی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا۔ ان کے ساتھ رضا علی عابدی، اطہر علی، وقار احمد، آصف جیلانی، سارہ نقوی، شاہد ملک، صغریٰ شہاب، شفیع نقی جامی، عارف وقار، یاور عباس اور راشد اشرف جیسے کئی دوسرے ادیب اور فنکار بھی شامل ہوئے۔ افتخار عارف کی سربراہی میں لندن میں اردو مرکز ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا جہاں روزانہ ادبی محفلیں اور مشاعرے ہوتے تھے۔ ان محفلوں کا حصہ بننے والوں میں ساقی فاروقی، صادقہ شبنم، جتندر بلو، مصطفیٰ علی خان شہاب، محسنہ جیلانی اور ارشد لطیف شامل تھے جنہوں نے لندن کی ادبی زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے۔
2010 میں شعری مجموعہ کی اشاعت سے چند روز قبل والدہ کے انتقال نے ان کے دل کو گہرا زخم دیا۔ اس غم میں انہوں نے اپنے دکھ اور درد کو انڈیلتے ہوئے چند خوبصورت غزلیں کہیں جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ جب میں نے ان کے اشعار پڑھے تو مجھے یوں لگا جیسے میرا اپنا دل بیٹھا جا رہا ہے اور ان کے دکھ میں شریک ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ ان کے یہ اشعار اپنی مرحومہ والدہ کے لیے ان کی بے نہایت محبت کا ثبوت تھا اور ہماری زندگیوں میں ماں کی اہمیت کی یاد دہانی بھی، چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
دکھانا تھا یہ دل دکھایا نہیں
کہ تم سو گئے تھے جگایا نہیں
بہت دیر تک سامنے میں رہا
مگر پاس تم نے بلایا نہیں
بہت آج آنکھوں کو دقت ہوئی
کبھی تم نے رونا سکھایا نہیں
عبید صاحب مشاعروں میں شاذ و نادر ہی شریک ہوتے تھے۔ حالانکہ علی گڑھ میں طالب علمی کے زمانے سے وہ شاعری کر رہے تھے، معروف شاعر شہریار کی رہنمائی اور دیگر نامور شعرا جیسے فرحت احساس، آشفتہ چنگیزی اور مہتاب حیدر نقوی ان کے احباب میں تھے۔ ان کے یہ چند اشعار دیکھیں :
شام ڈھلے آنکھوں میں آنسو لانا مت
میں جلدی لوٹ آؤں گا گھبرانا مت
رم جھم کرتی بادل جیسی آنکھیں یاد آتی ہیں
دیکھو اگر کوئی دامن کھینچے، عزم سفر مت کرنا
اک یاد وہ ہوتی ہے سہانی نہیں ہوتی
اور اس پہ ستم یہ کہ بھلانی نہیں ہوتی
عبید صاحب کی شاعری میں غیر معمولی ندرت دکھائی دیتی ہے۔ ان کے الفاظ بے عیب طریقہ سے روزمرہ کی زندگی کے جذبات اور کہانیوں کو سمیٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس سے قارئین کو دوسروں کے تجربات سے ہمدردی اور اس سے جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ ذرا یہ اشعار دیکھئے :
کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی
زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی
عمر رواں کے روز تقاضے نئے نئے
جو کام رہ گیا وہ کبھی ہو نہیں سکا
سنے گا کون اب یہ داستانیں
حقیقت خود حکایت ہو گئی ہے
ان دنوں محکوم کرتے ہیں اسی پر گفتگو
کس لئے پیدا ہوئے تھے اور کیا کرنے لگے
عبید صاحب کی زندگی میں بہت نشیب و فراز تھی۔ ان کے لچکدار جذبے کے باوجود ان کی شاعری اکثر اس درد اور جدوجہد کو ظاہر کرتی ہے جس کا انھوں نے تجربہ کیا۔ انھوں نے مشکلوں کا مقابلہ ہمت کے ساتھ کیا، اپنی پریشانیوں کا اپنے پر امید نقطہ نظر پر سایہ نہ پڑنے دیا۔ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے ہمیں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہمت اور استقامت کا سبق دکھایا۔
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
اپنی پسند کی زندگی گزارنے کی قیمت ہر ایک کو چکانی پڑتی ہے، عبید صاحب بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں رہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ ایک ایسے شخص کی بہترین مثال تھے جس نے سمجھوتہ کرنے اور اپنی زندگی کو اپنی شرائط پر گزارنے سے انکار کر دیا، دنیا چاہے جو سوچے، اس سے انھیں کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔ انہوں نے دوست اور دشمن یکساں بنائے لیکن اپنے منفرد طرز زندگی سے کبھی منحرف نہ ہوئے۔ اگرچہ اس طرز زندگی کو باغیانہ سمجھا جاتا تھا لیکن وہ اپنی شرائط پر زندگی گزارنے پر اٹل تھے اور کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آئے۔ اس کا اثر ان کی شاعری میں بھی تھا، یہ اشعار دیکھیں :
میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوں
اور یہ بھی جان لو کہ بے دام کر رہا ہوں
اس سے غرض نہیں ہے بولی لگے گی کیسے
جو کام کرنا ہے بس وہ کام کر رہا ہوں
عبید صدیقی کا شعری مجموعہ ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ لفظوں کی تاثیر اور زبان کے حسن کی تلاش ہے۔ خوشی کے روح پرور لمحات سے لے کر مایوسی کی گہرائیوں تک صدیقی زندگی کی باریکیوں کو شاعرانہ کمال کے ساتھ سمیٹتے ہیں۔ ہر نظم اور غزل کے ساتھ، صدیقی ہمیں دریافت، عکاسی اور ربط کے گہرے سفر پر اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اپنی شاعری میں عرض حال کے تحت وہ لکھتے ہیں :
”اپنی شاعری کے بارے میں کسی خوش فہمی (یا غلط فہمی) میں مبتلا نہیں ہوں۔ گزشتہ بارہ تیرہ برس کے دوران بھلے ہی شاعری نہ کی ہو لیکن شاعری، بالخصوص آزادی کے بعد کی جانے والی غزلیہ شاعری کا مطالعہ بدستور جاری رکھا۔ شاعری کا ایک سنجیدہ قاری ہونے کے ناتے یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے عہد کے کسی بھی شاعر کے لئے اردو غزل کی تاریخ میں اپنی کوئی مخصوص جگہ بنانا اگر ناممکن نہیں تو حد درجہ دشوار ضرور ہے۔ میں شعر کہتے وقت دو باتوں کا خاص طور پرخیال رکھتا ہوں۔ اول یہ کہ میرا کہا ہوا ہر شعر میرا اپنا ہو اور اس میں میری شخصیت کا عکس نظر آئے، جبکہ دوسری کو شش یہ ہوتی ہے کہ میرے اشعار سنتے یا پڑھتے وقت کسی کو اکتاہٹ اور بیزاری محسوس نہ ہو“ ۔
( ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ صفحہ 21 )
یہ ایک ایسے شاعر کا اعتراف ہے جس نے شہریار، افتخار عارف، ساقی فاروقی، مظہر امام، محمود ہاشمی اور فرحت احساس جیسے شعرا کی ہم راہی میں اپنا شعری سفر طے کیا ہو۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک سچے فنکار تھے۔ فرحت احساس نے ان کے مجموعہ کلام ”رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے“ کے دیباچے میں ”دیکھو پھول کیسا کھلا“ کے عنوان سے عبید صدیقی کی شعری کائنات کو روشن کیا ہے۔ وہ ایسے جذبے اور بصیرت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ان کے لفظوں کی خوبصورتی دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں :
”علی گڑھ کی سنہری 1970 کی دہائی کا آخری باضابطہ مفرور شاعر بھی بالآخر پکڑا گیا اور اس کا سارا مال ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ کی صورت میں برآمد کر لیا گیا۔ 1970 کے اوائل میں مسلم یونیورسٹی میں تخلیقیت کا جو حلقہ نور پیدا ہوا تھا، عبید خواب گزینوں اور ماورا نصیبوں کے اس حلقے کے ایک لازمی جز تھے، لیکن کچھ اس طرح کہ ان کی آنکھ باہر کی طرف بھی کھلی رہتی تھی۔ یہی چشم بیروں بیں آگے چل کر ان کا ایک بڑا اثاثہ ثابت ہوئی۔
ایک دریچہ جس نے انھیں خارجی دنیا کی بنتی بگڑتی شکلوں کے درمیان، باطن میں موجود ان کے اصل عکس کی بنیاد پرایک نئی ترتیب پیدا کرنے کی راہ دکھائی۔ عبید کے ہاں ان دنوں ایک خاص قسم کی تیزی و تندی اور شعلگی ہوا کرتی تھی جو شاید ان کے خاندانی پس منظر اور ان کے خلقی عناصر کی عطا تھی۔ یہ شعلگی آج بھی برقرار ہے مگر اب آگ میں روشنی کا عنصر زیادہ ہو گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور وجودی قدر جو عبید سے خاص ہے، ان کی مفاہمت نا آشنا صداقت مزاجی اور صداقت طلبی ہے جس نے انھیں اس دنیا میں رہتے بستے اور اسے اختیار کرتے ہوئے اس سے دور رہنے اور اس پر حملہ زن ہونے کی طاقت دی ہے۔ لیکن اس سب سے بڑھ کروہ دریائے افسردگی بھی ان میں سے ہو کر بہتا ہے جو اس پورے حلقے کی جائے پیدائش رہا ہے، دریائے افسردگی جو وجود کے خاکی کناروں کو سیراب کرتا ہے اور انھیں بہا بھی لے جاتا ہے۔“
( ’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘ صفحہ 213 )
عبید صدیقی کا تخلیقی رویہ واقعی فرحت احساس کے بیان میں سمایا ہوا ہے جس سے ان کے جذبات کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ عبید صدیقی نے خود لکھا ہے کہ فرحت احساس کو اپنی ادبی اور جذباتی زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس تعلق کے گہرے معنی کو الفاظ میں بیان کرنا واقعی مشکل ہے۔
اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی
مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا
گرمی سی یہ گرمی ہے
مانگ رہے ہیں لوگ پناہ
میں پہلے بے باک ہوا تھا جوش محبت میں
میری طرح پھر اس نے بھی شرمانا چھوڑا تھا
میں بس یہ کہہ رہا ہوں رسم وفا جہاں میں
بالکل نہیں مٹی ہے کمیاب ہو گئی ہے
عبید صاحب کی زندگی میں وصال کی بہاروں کے بعد ہجرتوں کی خزائیں آئیں۔ انھوں نے بدلتے موسموں کو بڑی ہمت اور عزم کے ساتھ قبول کیا۔
سر شام تاروں کی چھاؤں میں اکثر
بہت یاد آتے ہیں مر جانے والے
کسے پتہ تھا کہ سر شام تاروں کی چھاؤں میں بیٹھ کر دوسروں کا ماتم کرنے والا ہمیشہ کے لئے خود ہی افق پار چلا جائے گا۔
9 جنوری 2021 کی ایک سرد اور دھند میں لپٹی صبح کو انھوں نے دہلی میں آخری سانس لی۔ ان کی عمر 62 برس تھی۔ ان کی تدفین جمعہ 10 جنوری کی صبح 10 بجے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں عمل میں آئی، جہاں انہوں نے اپنی منفرد شوخی اور تیز ذہانت سے طلبہ کو پڑھانے اور متاثر کرنے میں کئی سال گزارے تھے۔ ان کی زندگی مشکلات سے بھری ہوئی تھی اور ان کا سفر آخرت بھی مختلف نہیں رہا۔


