وہ ہم سے بہتر ہیں


ہمارے معاشرے میں اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ دیگر مذاہب کے تمام افراد اپنے اپنے عقائد اور روایات رسم و رواج پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ ان کا عبادت کرنے کا انداز بھی ہم سے مختلف ہوتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے کی بہت سے افراد نظر سے گزرے جو کسی اہم وجوہات کی بناء پر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ جب اس قسم کے افراد پر ریسرچ کی گئی کے سب سے زیادہ اسلام قبول کرنے والے افراد کا تعلق کن ممالک سے تھا۔

ان میں سرفہرست جو ممالک آئے وہ امریکہ اور یورپ ہے۔ یعنی ان افراد نے زیادہ اسلام قبول کیا جن کے اردگرد اسلامی تعلیمات موجود نہیں تھی نہ وہ بچپن سے کوئی پریکٹیسنگ مسلم تھے۔ بلکہ کچھ واقعات نے معجزات کی شکل اختیار کی اور ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جب زیادہ تر اسلام قبول کرنے والوں سے پوچھا گیا آپ نے اسلام کیوں قبول کیا تو جواب ملا کیونکہ وہ شروع سے ہی اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب اپنے مذہب میں جب نہیں تلاش کر سکے تو انہوں نے دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا اس دوران انہوں نے جب قرآن کا مطالعہ کیا وہاں جوابات موجود تھے۔

ان تمام جوابات نے ہمیں یہ بتایا کہ بہت سی باتیں جو ان کی کتابوں میں بھی بیان کی گئی ہیں وہ قرآن میں بھی موجود ہیں۔ جہاں ایک اللہ کا تذکرہ ہے اس میں دیگر مذاہب میں کہیں کہیں تضاد ہے۔ مگر بہت سے مذہبی کتابوں میں بھی ایک اللہ کے متعلق بات کی گئی ہے اور آخری رسول کی جن کی آمد کی کی موجودہ کتب کے بعد ہوگی وہاں موجود ہے کہ یہ آخری نبی کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے گھروں کے افراد کو کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی آخری نبی کا تذکرہ ہے جو بہت سے لوگ چھپاتے ہیں۔

جن پر تمام تر سچائیاں ظاہر ہوجاتی ہیں وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب بہت سے غیر مسلم جب اسلام قبول کرتے تھے ان کے مذاہب کے دیگر افراد کہتے تھے مسلمانوں نے زبردستی ان کو مجبور کیا تو ان افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ مگر آج جدید دور میں انٹر نیٹ سوشل میڈیا ویب سائٹس بھری پڑی ہیں ایسے افراد کے انٹر ویوز سے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہے جس کی وجہ سے یہ افراد مسلمان ہو گئے۔ اگر کسی کا اتفاق ہو سعودی عرب جانے کا عمرہ یا حج کے لئے وہاں آپ کو دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمان نظر آئیں گے ان میں بہت سے ایسے مسلمان بھی موجود ہوتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اللہ نے ان کو اپنے گھر کی حاضری کا شرف دیا۔

وہ افراد جنہوں نے تحقیق اور ریسرچ کے بعد اپنا مذہب تبدیل کیا وہ ان افراد سے زیادہ مذہب پر عمل پیرا ہیں جو پیدائشی طور پر مسلمان ہیں۔ ان کی مثال اللہ کے نزدیک حضرت ابراہیم سی ہے جنہوں نے اللہ کی کھوج میں صحیح مذہب تک رسائی حاصل کی اور آخر کار اپنے رب کو پا لیا۔ ایسے ہی بہت سے افراد جو اہم وجوہات کی بناء پر اسلام قبول کر چکے ہیں اللہ کے نزدیک ان کے پہلے اعمال جو اسلام میں داخل ہونے سے قبل وہ کر چکے ان پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔

ان سے اسلام میں داخل ہونے کے بعد کے اعمال اور معاملات کا حساب ہو گا۔ پہلی زندگی سے متعلق گناہوں پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ہر ایک عمل کا حساب ان سے بھی پورا پورا لیا جائے گا۔ اللہ کے نزدیک اسلام قبول کرنے والے افراد ایسے ہیں جیسے پہلے دن پیدا ہونے والا کوئی بچہ جس نے اسلام کی تلاش کی اس بات کی جستجو کی کہ وہ اسے پہچانے اور آخر کار وہ مسلمان ہو گیا۔ یہ افراد اپنے عمل اور عبادات میں ان مسلمانوں سے بہتر ہیں جو پیدائشی مسلم ہیں۔

ایسے افراد نمازوں کا اہتمام صحیح وقت پر کرتے ہیں رمضان میں روزے رکھتے ہیں۔ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اللہ کے گھر کا حج اور طواف کرتے ہیں اپنے معاملات تمام انسانوں کے ساتھ بہترین رکھتے ہیں۔ ایسے افراد پر اللہ کی خاص رحمت اور فضل ہے جنہوں نے اپنے رب کو پا لیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تمام مسلمانوں کو بھی صحیح طریقے سے اپنے مذہب پر چلنے کی توفیق دیں آمین

Facebook Comments HS