مشکل نہیں بس سمجھنے کی بات ہے

کچھ عرصہ ہوا بیٹیوں کی پیدائش پہ بھی خوشیاں منانے کا رواج ہو گیا ہے۔ ورنہ عموماً یہ ہوتا کہ ادھر بیٹی ہوئی ادھر رونا پیٹنا ڈال لیا جاتا۔ بیٹی کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ ہوتا، محض اس لیے کہ وہ بیٹا نہیں ہے۔ جب بھی کسی گھر میں بیٹی پیدا ہوتی، تو ایسا لگتا یہاں کسی کی پیدائش نہیں فوتگی ہو گئی ہے۔ بیٹی مرتے دم تک والدین کے گھر اپنا جائز مقام کبھی حاصل نہ کر پاتی۔ ہمیشہ بوجھ ہی سمجھی گئی۔ ان لوگوں کی نفرت کا شکار رہتی، جن کی وجہ سے دنیا میں آئی۔
وہ ان رشتوں کے ہاتھوں تذلیل سہتی جن سے اس کا خون کا رشتہ ہوتا۔ باپ بھائی، دادا دادی چچا پھوپھی یہاں تک کہ ماں بھی اسے کوئی اہمیت نہ دیتی۔ لوگ بیٹی کے پیدا ہونے پر منہ بناتے۔ قریباً سب ہی کو بیٹے چاہیے ہوتے تھے۔ نسل بڑھانے والے بیٹوں کی تمنا رکھنے والوں نے جانے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا کہ بیٹا اکیلے تو نسل آگے نہیں بڑھا سکتا۔ اور پھر اس کہرام کا حصہ بننے والی تو سب سے زیادہ عورتیں ہی ہوتیں۔ ان روتی عورتوں نے شاید ہی کبھی سوچا ہو کہ آخر وہ خود بھی تو پہلے کسی کی بیٹی ہی تھیں۔
عورت ہو کر اپنی ہی صنف کے پیدا ہونے پر رونے کی وجہ کبھی نہیں سمجھ آئی۔ اور حیرت ہے کہ کوئی بھی اس حرکت کو معیوب نہیں سمجھتا تھا۔ باپ دادا کی گھر آمد پر بیٹی کو چھپنا پڑتا کہ کہیں اسے دیکھ کر انھیں غصہ نہ آ جائے۔ صنفی امتیاز عروج پہ تھا۔ ہر اعلی چیز بیٹے کا حق سمجھی جاتی۔ والدین اپنی بساط سے بڑھ کے اس پہ خرچ کرتے۔ یہ اس لیے ہوتا کہ بیٹے سے نسل چلنی ہے۔ ساری انویسٹمنٹ بیٹے پہ کی جاتی، کہ اس نے کما کر لانا ہے اور اسی نے ماں باپ کا سہارا بننا ہے۔ جبکہ بیٹی تو اگلے گھر چلی جائے گی۔ اس لیے اس پہ خرچ کرنا گھاٹے کا سودا سمجھا جاتا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ لوگوں کے روئیے بدلنا شروع ہو گئے جو محبت لوگ بیٹوں کے لیے رکھتے تھے وہ بیٹیوں کے لیے جاگنے لگی۔ بیٹیوں سے نفرت کرنے والے اچانک بیٹوں کے خلاف ہو گئے ہیں۔ بیٹیاں اچھی لگنے لگیں، بیٹے برے۔ آج کی سب سے اچھی بات یہ کہ بیٹی کے بغیر گھر نامکمل سمجھا جاتا ہے، جو کہ حقیقت ہے۔
لیکن معاملہ ایک بار پھر خراب ہے پلڑا پھر صرف ایک طرف کو جھکا ہے۔ لیکن یہ ایک دوسرا موضوع ہے جس پہ الگ سے لکھوں گی۔
گزشتہ دنوں محترم گل نوخیز اختر صاحب کا کالم ”تتلیاں اور درخت“ نظروں سے گزرا جس میں انھوں نے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ بیٹوں پر تبرا کرنے کا رواج بن گیا ہے۔ ”لوگ سمجھتے ہیں صرف بیٹیاں دکھ درد کی سانجھی جبکہ بیٹے لالچی ہوتے ہیں“ مزید لکھتے ہیں کہ ”بیٹیاں آنگن کی تتلیاں ہوتی ہیں تو بیٹے تناور درخت، رحم کیجیئے درختوں کا ذکر کرتے وقت محض نفرت کو مدنظر مت رکھیں“ ۔ ان کی بات سے پورا اتفاق ہے۔ جہاں کہیں محفل لگی ہو والدین بیٹوں کے خلاف باتیں کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ بیٹوں کے خلاف نہ بولے تو قیامت آ جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹیاں واقعی بہت محبت کرنے والی ہوتی ہیں۔ لیکن جن بیٹوں کے خلاف بولا جاتا ہے برے وہ بھی نہیں ہوتے۔ بس کہانی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کبھی کسی نے سوچا ہے کہ یہ سوچ کیوں پنپ رہی ہے، لوگ کیوں سمجھنے لگے ہیں کہ صرف بیٹی ہی ماں باپ کا احساس کرنے والی ہوتی ہے۔ اور بیٹے صرف جائیداد ہتھیانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ وہ بیٹے جن کے بارے یہ یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ماں باپ کو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی نظر والدین کی جائیداد پہ ہوتی ہے۔
اس کے پیچھے زیادہ تر عورت یعنی کسی دوسرے کی بیٹی کا ہاتھ ہوتا ہے ورنہ بیٹے برے نہیں ہوتے اور نہ ہی انھیں ماں باپ سے کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔ بیٹیوں کی طرح انھیں بھی والدین سے شدید محبت ہوتی ہے۔ بیٹیاں اس لیے اچھی ہوتی ہیں کہ شوہر کبھی ان کے والدین کے خلاف نہیں بولتے۔ عموماً مرد کسی طرح کی گھریلو سیاست میں نہیں پڑتے۔ آپ نے دیکھا ہو گا اکثر داماد بہت اچھے بیٹے بن کر دکھاتے ہیں۔ وہ بیوی کے میکے جانے پر اعتراض کرتے ہیں، نہ انھیں ان کے والدین کی خدمت سے منع کرتے ہیں۔ وہ سسرال کی جائیداد پہ نظر بھی کم ہی رکھتے ہیں۔ جبکہ عورتیں یہ دونوں کام کرتی ہیں۔
کیا ہے کہ ایک بیٹی جب کسی کی بہو بنتی ہے تو اس کے سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ زیادہ تر عورتوں کو اپنی سسرال اچھی نہیں لگتی نہ ہی وہ ساس سسر کو اپنے والدین جیسا سمجھتی ہیں۔ اس لیے ساس سسر کے خلاف شوہر کے خوب کان بھرتی رہتی ہیں۔ روزی روٹی کے سلسلے میں سارا دن گھر سے باہر گزار کے آنے والا مرد اکثر وہی دیکھتا ہے جو عورت اسے دکھاتی ہے۔ مرد کو گھریلو سیاست کا علم کبھی نہیں ہوتا۔ نہ وہ یہ جان پاتا ہے کہ کون کس کے خلاف سازش کر رہا ہے۔
کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ شوہر کو بار بار یہ باور کروایا جاتا ہے کہ اس کے والدین اس کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کر رہے ہیں۔ وہ بیٹوں (شوہر ) کو والدین کی خدمت سے روکتی بھی ہیں والدین کے پاس بیٹھنے، بہن بھائیوں سے تعلقات رکھنے پر اعتراض بھی کرتی ہیں۔ اور جائیداد میں اپنا حصہ مانگنے پہ مجبور بھی کرتی ہیں۔ کسی کے بیٹے ( شوہر ) کو بہت اچھی طرح سمجھاتی ہے کہ والدین اس کی ذمہ داری نہیں، ماں باپ کو دوسری اولاد سنبھالے۔ اسے ماں باپ کا نہیں صرف اپنے بیوی بچوں کا سوچنا چاہیے۔
یہ بہت بڑی سچائی ہے جو کوئی بھی عورت مانے گی نہیں اور مردوں کی سمجھ میں تو کبھی نہیں آئے گی۔ بلکہ اس ظلم کا مرد کو کبھی پتہ بھی نہیں چلتا جو عورت اس کے ساتھ کر جاتی ہے۔
عورت کبھی نہیں سمجھتی جتنی محبت اور خلوص کا دعویٰ اپنے والدین کی لیے کرتی ہیں ویسی ہی محبت شوہر کے والدین بھی اس سے کرتے ہیں۔ اپنے والدین کی محبت میں بھاگ بھاگ کر میکے پہنچنے والی اکثر بیٹیاں، شوہر کے والدین کی آواز سننا بھی پسند نہیں کرتیں۔ پتہ نہیں ایک دل میں دو شدتیں وہ کس طرح رکھ لیتی ہیں۔ اپنے والدین کی ذرا سی تکلیف پر آبدیدہ ہو جانے والی بیٹیاں شوہر کے والدین کی تکلیف نہیں سمجھ پاتیں۔ ہر وقت ساس سسر کے خلاف کان بھرنے والی بہوئیں ہمیشہ یہ بھول جاتی ہیں کہ یہ بھی کسی کے والدین ہیں۔
اگر یہی بیٹیاں بہو بن کر شوہر کو اس کے والدین کے خلاف نہ کریں جتنی محبت اپنے والدین سے کرتی ہیں اس سے آدھی محبت ہی شوہر کے والدین سے کر لیں تو بیٹے کبھی برے نہ بنیں۔ اگر ہر بہو سچ میں بیٹی بن جائے تو شاید ہی کوئی بیٹا خود غرض ہو اور شاید ہی آپ کبھی والدین کو بیٹوں کے خلاف زہر اگلتے دیکھیں۔ کہ والدین بیٹی کے ہوں یا بیٹے کے وہ صرف اولاد کی محبت اور توجہ چاہتے ہیں۔ اس سے زیادہ انھیں اولاد سے کچھ نہیں چاہیے ہوتا۔ مشکل نہیں بس سمجھنے کی بات ہے۔

