برصغیر پاک و ہند میں یورپی اقوام کی آمد ( 1498 سے 1857 تک )


یورپ یوں تو قدیم رومن سلطنت کے دور سے بعض اشیاء برصغیر پاک و ہند اور مشرقی ایشیا سے برآمد کرتا تھا۔ تاہم یہ تجارت بہت محدود پیمانے پر تھی۔ مگر 15 ویں صدی میں جب یورپ کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی تو وہاں گرم مصالحہ جات، ریشمی اور شوخ کپڑوں جواہرات، خوشبو جات، چاول اور شکر وغیرہ کی طلب بھی بڑھ گئی۔ 15 صدی کے آخیر تک ان اشیاء کی تجارت بالواسطہ عرب اور ترک تاجروں اور علاقوں کے ذریعے ہوتی تھی جو کافی مشکل اور مہنگی پڑتی تھی۔ اس لیے اہل یورپ مشرق کی طرف براہ راست بحری راستے کی تلاش میں تھے۔

یورپ کے نشاتہ الثانیہ دور ( 14 ویں صدی ) میں نئے تصورات و خیالات کے باعث مشرق کی طرف بحری راستہ تلاش کرنا ممکن سمجھا گیا۔ اسی سوچ کے تحت ہسپانیہ ” ( اسپین) کے ملاح“ کرسٹوفر کولمبس ”نے انڈیا کی طرف راستہ معلوم کرنے کی کوشش میں اتفاقا امریکہ دریافت کر لیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پرتگالی ملاح افریقی ساحل پر ہوتے ہوئے بحر ہند پہنچنے سے یہ اندازہ لگایا کہ یورپ سے براستہ سمندر انڈیا جایا جا سکتا ہے۔

انہی معلومات اور اندازے کی بنیاد پر انڈیا کی طرف بحری سفر کرنے والا پہلا یورپی پرتگال کا ”واسکوڈے گاما“ تھا جو 1498 میں چار بحری جہازوں کے ساتھ کلکتہ پہنچا۔ یوں مغرب اور مشرق کے درمیان تجارت پر ترکوں اور عربوں کی اجارہ داری ختم ہونے کا آغاز ہونے لگا

ابتداء میں پرتگالی پرامن انداز میں تجارت کرتے رہے مگر بعد میں بتدریج جارحیت پر اتر آئے۔ اپنے کمپنی گورنر الفانسو البقرقی ( Albuquerque ) کے زیر کمان پرتگالیوں نے 1510 میں گجرات میں ”گوا“ اور 1511 میں جزیرہ ملاکا ( ملائشیا ) پر قبضہ کر لیا۔ اور یوں شرق الہند (جنوب مشرقی ایشیا ) کی جانب بحری راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے پوزیشن میں ہو گئے۔

1515 میں ہرمز ( ایران ) اور دایو ( گجرات ) اور پھر مشرقی افریقہ کی بندرگاہوں پر قبضہ کرنے سے بیشتر بحر ہند پر ان کا تسلط ہو گیا۔ بحر ہند کے اندرونی تجارت کے ساتھ یورپ کی طرف کی جانی والی تجارت پر بھی پرتگالیوں کو اجارہ داری حاصل ہو گئی۔ حتی کہ مسلمان حاجیوں کو مکہ لے جانے جہاز بھی ان کے ہوتے تھے

تاہم 1540 کے بعد مذہبی تشدد پر اتر آئے مسلمانوں اور ہندووں کے ساتھ غیر کیھتولک عیسائیوں کو بھی ظلم کا نشانہ بنانے لگے۔ مشرقی تجارت پر اجارہ داری سے پرتگال کافی مال دار یو گیا مگر 1580 کے بعد اس کی طاقت بوجوہ زوال پذیر ہونی لگی۔ اسی اثنا برطانوی اور ولندیزی کمپنیاں بھی انڈیا سے تجارت کرنے لگیں

ولندیزیوں کی زیادہ تر توجہ جنوب مشرقی ایشیا میں ”مصالحہ جات کے جزائر“ پر مرکوز رہی جہاں سے انہوں نے پرتگالیوں اور انگریزوں کو بے دخل کر دیا۔ جس پر انگریزوں جنوبی ہندوستان کے ساحلوں پر 1611 میں سورت ( گجرات ) ، 1640 میں مدراس، 1661 میں بمبئی کے علاوہ 1686 میں دریائے گنگا کے ڈیلٹا (کلکتہ ) اور کئی دوسرے جگہوں میں نئی تجارتی فیکٹریاں ( بستیاں اور گودام ) قائم کر لیے۔ یہ کمپنیاں مقامی حکمرانوں سے زمین خرید یا کرائے پر لے کر قلعہ بند کر دیتے۔ پرتگالیوں کے برعکس برطانوی اور ولندیزی پروٹیسٹنٹ تھے اس لیے ان کو صرف تجارت اور دولت سے غرض تھی۔ ان کو مقامی باشندوں کے عقائد سے مسئلہ نہیں تھا

فرانسیسی کی آمد۔ 1660 میں فرانس کی حکومت کی قائم کردہ ”فرانسیسی انڈیا کمپنی“ نے مدراس کے قریب ’پانڈی چری ”،“ ماہے ”اور“ چندر نگر ”میں تجارتی فیکٹریاں تعمیر کر لیں۔ اگرچہ برطانیہ اور فرانس نے انڈیا میں اپنی کمپنیوں کے درمیان پرامن تعلقات قائم رکھنے ہر اتفاق کیا تھا مگر 1741 میں“ جوزف ڈو پلے ”کا“ پانڈی چری ”میں فرانسیسی فیکٹری کا گورنر بننے سے حالات تبدیل ہو گئے۔ اس نے ہندوستانی سپاہیوں کو یورپی طرز پر تربیت دے کر بھاری توپ خانے سے مسلح کیا اور ان کو فرانسیسی افسروں کے کمان میں رکھا۔

اسی دور میں مغل اور مرہٹہ سلطنتیں زوال پذیر تھیں اور مختلف صوبوں میں مقامی حکمرانوں میں اقتدار کی کشمکش ہو رہی تھی۔ ”ڈو پلے“ نے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ پلان بنایا کہ ان میں سے کسی ایک کا ساتھ دے کر اس کے مخالف کو شکست دینے میں اس شرط پر مدد دے کہ حکمران بننے کے بعد اس کے عوض کمپنی کو زمین، پیسہ اور تجارتی مراعات دے گا

ہندوستان کے باہمی برسرپیکار علاقائی حکمران فرانسیسی کمپنی کے کرائے کی فوجیوں پر تکیہ کرنے لگے

اسی دوران برطانیہ نے بھی اپنے تجارتی مراکز کی حفاظت کے لیے سپاہیوں کی جدید تربیت اور مسلح ہونے پر توجہ دی۔

فرانسیسی اور انگریز کمپنیوں میں کشمکش کا آغاز۔

1748 میں حیدرآباد دکن کے ناظم کی موت کے بعد اس کے بیٹے ”ناصر“ اور پوتے ”مظفر“ میں تحت نشینی کی جنگ شروع ہوئی

اسی طرح ”کرناٹک“ میں نواب کے بیٹے ”محمد علی“ اور داماد ”چندا صاحب“ کے درمیان تخت کے لیے رسہ کشی ہو رہی تھی۔ ”ڈوپلے“ نے یہاں ”چندا صاحب“ کو نواب بنانے اور اس کے بعد اس کی مدد سے حیدر آباد دکن میں ”مظفر“ کو برسراقتدار لانے کا منصوبہ بنایا جس کے بعد اس کے خیال میں جنوبی ہند میں فرانسیسی اثر بڑھ جانے سے انگریزوں کو وہاں سے بے دخل کرنا ممکن ہو جائے گا۔

1751 میں فرانسیسی منصوبہ کامیاب ہوتا نظر آنے لگا تھا۔ محمد علی کو شکست دے کر ”چندا صاحب“ کرناٹک کا نواب بنا دیا گیا۔ محمد علی ”ترچناپلی“ فرار ہو گیا جہاں اس کی فوج سمیت محاصرہ کر لیا گیا۔

ان حالات کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھ کر انگریز متحرک ہو گئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک فوجی افسر رابرٹ کلائیو کی قیادت میں کمپنی کے سپاہیوں نے کرناٹک کے دارالحکومت ”ارکا ٹ“ پر قبضہ کر لیا۔ جس پر چندا صاحب ”ترچنا پلی“ کا محاصرہ اٹھا کر ”ارکا ٹ“ کی بازیابی کے لیے دور پڑا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ وہ جلدی فوت ہو گیا جس کی جگہ کلائیو نے ”محمد علی“ کو کرناٹک کا نواب بنا دیا مگر اصل اختیارات انگریزوں کے پاس رہے

اس کامیابی سے پورے دکن میں انگریز ایک بڑی طاقت سمجھے جانے لگے۔

حیدر آباد دکن میں تخت نشینی کے لیے باہمی متحارب دونوں دعویدار (ناصر اور مظفر ) قتل ہو گئے اور فرانسیسیوں نے وہاں اپنا پسندیدہ بندہ ”صلابت جنگ“ کو نواب بنا دیا تاہم یہاں برطانوی کمپنی نے کوئی مداخلت نہیں کی

ان دنوں میں انگریزوں کے مقابلے میں فرانسیسی بہتر پوزیشن میں تھے مگر اسی دوران ”ڈوپلے“ کو واپس فرانس بلایا گیا (جہاں وہ ایک بھکاری کی حیثیت میں مرا ) ۔ اس کے بعد ہندوستان میں قائدانہ رول انگریزوں کے ہاتھوں میں آنے لگا۔

جنگ پلاسی 1757۔ بنگال میں فرانسیسی زیادہ مستحکم پوزیشن میں تھے۔ اس دور میں بنگال مغل سلطنت سے عملاً آزاد تھا۔ اس کے نوجوان حکمران نواب سراج الدولہ نے برطانوی کمپنی کو اپنے ہیڈ کوارٹر ’کلکتہ ”میں تعمیر کردہ غیر قانونی قلعہ بندیاں گرانے کا حکم دیا۔ انکار پر 1756 میں کلکتہ پر قبضہ کر لیا۔ مگر کلائیو نے مدراس سے فوج لے کر قبضہ ختم کرایا۔

کلائیو نے اسی دوران ”چندر نگر“ میں فرانسیسیوں کے بڑے مرکز پر بھی قبضہ کر لیا اور اس کے بعد سراج الدولہ کو تخت سے اتارنے کے لیے اس کے سپہ سالار میر جعفر سے یہ ساز باز کر لی کہ جنگ کے دوران وہ نواب کا ساتھ چھوڑنے پر اس کی شکست کے بعد نواب بنا دیا جائے گا۔

کلائیو نے سراج الدولہ پر انگریز کمپنی کے خلاف فرانسیسیوں سے مل کر منصوبہ بندی کرنے کا غلط الزام لگا کر 1757 کو پلاسی میں نواب کی فوج پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ کلائیو کے 3 ہزار کے مقابلے میں نواب کی فوج 70 ہزار تھی مگر میر جعفر کی غداری کے باعث شکست کھائی۔ اس جنگ میں کلائیو کے صرف 20 سپاہی مرے جبکہ نواب سراج الدولہ کو پکڑ کر قتل کیا گیا۔

بنگال کی لوٹ مار۔

میر جعفر کو نواب بنانے سے کمپنی نے بھاری رقوم اور اپنے تاجروں کے لیے ناجائز مراعات کے حصول سے بنگال کی لوٹ مار شروع کردی جس سے بنگالی تاجر اور عام لوگوں کی حالت بد تر اور برطانوی امیر تر ہو گئے۔ 1760 میں کلائیو ایک امیر ترین شخص کی حیثیت سے برطانیہ واپس چلا گیا۔

اس کی جگہ آنے والے نئے گورنر نے میر جعفر کی جگہ اس کے داماد میر قاسم کو نواب بنایا مگر جب اس نے کمپنی کی مراعات واپس لینے شروع کیا تو اس کو ہٹا کر میر جعفر کو پھر سے لایا گیا۔ اس پر میر قاسم نے نواب اودھ اور مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی سے مدد مانگی۔ ان تینوں کی افواج نے 1763 میں ”باکسر“ ( پٹنہ سے 130 کلومیٹر مغرب میں بنگال کا ایک قصبہ ) میں انگریزی فوج پر حملہ کیا مگر سخت شکست کھائی۔ اودھ کو کچل دیا جبکہ مغل بادشاہ سے سلطنت کی حفاظت کے عوض بنگال، بہار اور اوڑیسہ کی دیوانی ( محصول لینے کا اختیار ) حاصل کر لی

باکسر کی لڑائی ہندوستان میں انگریزی اقتدار کا نقطہ آغاز تھا۔ (اس کے بعد سے کمپنی نے بتدریج ہندوستان کے بڑے حصوں پر اقتدار حاصل کرنا شروع کیا جن کے انتظام کے لیے پریزیڈینسیز تشکیل دی گئیں ) ۔

مشرقی صوبوں کے انتظام کے لیے 1765 سے بنگال (کلکتہ ) پریزیڈینسی قائم کی گئی

کمپنی اہلکاروں کے ہاتھوں بے پناہ لوٹ مار سے 1765 میں بنگال کی حالت بے حد دگر گوں ہو گئی۔ حالات کی بہتری کو کلائیو کو دوبارہ بلایا گیا۔ جس نے کمپنی کے اہلکاروں کی نجی تجارت۔ پر پابندی لگا دی۔ رشوت ستانی کو ختم اور ہندوستانیوں کے زیر استعمال اشیاء پر ٹیکس کم کر دیا۔ دو سال تک اس کی موجودگی میں حالات بہتر ہونے لگے مگر 1767 میں اس کے واپس جاتے ہی کمپنی کے تاجر اور فوجی افسران سابقہ غیر قانونی ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ جس کی وجہ سے 1770 میں بنگال اور کمپنی تقریباً دیوالیہ ہو چکے تھے۔

1772 میں حالات کا جائزہ لینے کے لیے ”وارن ہیسٹنگز“ کو نیا گورنر بنا کر بھیجا گیا اس کی رپورٹ یہ تھی کہ کہ برطانیہ سے تین گنا بڑی آبادی رکھنے والی ریاست کا انتظام لالچی تاجروں کے ہاتھوں میں نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے مشورے پر برطانوی پارلیمنٹ نے 1773 میں یہ ایکٹ پاس کیا کہ بنگال میں مقامی نظامت کی جگہ کلکتہ کا کمپنی گورنر ہندوستان میں تمام برطانوی مقبوضات کا ”گورنر جنرل“ ہو گا جس کی معاونت چار افراد اور برطانوی سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل کونسل کرے گی۔

”وارن ہیسٹنگز“ جو پہلا گورنر جنرل بنا۔ برطانوی ہندوستان کا اصلی بانی تھا اس نے نجی تجارت۔ رشوت اور حصول تحائف پر پابندی لگائی۔ بدعنوان اہلکاروں کو سزا دینے کے اس کے پاس آزاد عدالتی اختیارات تھے۔ اس نے مقامی کے بجائے برطانوی افسران مال کی تقرریاں کیں اور کمپنی کے انتظام کو مستحکم کیا۔

1773 تک زیریں گنگا میدانوں ( آسام، بہار، اوڈیشہ، تریپورہ، اتر پردیش، مغربی بنگال) کے بڑے حصے پر اصل اقتدار کمپنی کو حاصل ہو گیا تھا۔ یہ علاقے بنگال پریزیڈینسی کے تحت رکھے گئے۔ اس کے ساتھ بمبئی اور مدراس کے اردگرد بھی توسیع کی جانے لگی۔

1784 برطانوی وزیر اعظم ”ولئیم پٹ“ کی حکومت نے پٹ ایکٹ ”پاس کیا جس کے تحت آئندہ 65 سال تک ہندوستان پر حکومت کرنی تھی۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے لیے ہندوستان جیسے وسیع ملک پر حکومت کرنا مشکل کام تھا اس لیے اس ایکٹ کے تحت یہاں ایک دوہرا، نظام قائم کیا گیا۔ اس کے مطابق کمپنی کو صرف تجارت تک محدود کر دیا گیا جبکہ انتظامیہ اور نالیہ کے شعبے برطانوی کابینہ کے سینیئر وزیر کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی کے کنٹرول میں دیے گئے۔ اگرچہ گورنر جنرل کمپنی کا ملازم ہوتا تھا مگر عملی طور پر اس کی تقرری لندن کے کنٹرول بورڈ کرتا تھا اور اس کو جواب دہ تھا۔ کمپنی اپنے افسران کی تقرری کر سکتی تھی مگر اس کی توثیق حکومت سے لینی ضروری تھا

اگرچہ اس ایکٹ میں ہندوستان میں مزید علاقائی توسیع نہ کرنے کی ہدایت بھی تھی۔ مگر صدی کے اخیر سے مزید ہندوستانی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کھلی تگ و دو شروع کی گئی۔ اس دور میں ہندوستان نسل، مذہب، ذات پات اور روایتی جھگڑوں کے باعث اتنا منقسم تھا کہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف متحد نہیں ہوسکا۔ حتی کہ ہندو مرہٹہ ریاستیں ایک قوم ہونے کے باوجود باہم دست و گریباں تھیں۔

ایکٹ کے بعد 50 سال کے عرصے میں انگریزوں کا مقامی حکمرانوں سے اور مقامی حکمرانوں کا باہمی لڑائیاں ہوتی رہیں۔ جن میں سب سے اہم 1769 سے 1799 تک میسور اور 1803 سے 18 18 تک مرہٹوں سے لڑنی والی جنگیں تھیں۔

میسور کے حکمران ٹیپو سلطان نے اگرچہ انگریزوں کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔ مگر انگریز اپنے جدید ہتھیاروں اور تنظیم کے علاوہ اندرونی غداروں کی مدد سے بالآخر کامیاب ہوئے۔ اور ریاست میسور کے بعض حصے مدراس پریزیڈینسی میں شامل کر لیے

اسی طرح مرہٹوں کو شکست دینے پر ان کے کئی علاقے ملحق کر لیے۔
ان فتوحات کے بعد دریا ستلج کے جنوب کے بڑے علاقوں پر ان کا کنٹرول ہو گیا۔
یہ تسلط تین طریقوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔
1۔ جنگ میں براہ راست فتح اور قبضہ

2۔ معاہدات کے تحت مقامی ریاستیں کو زیر تسلط بنانا۔ فوجی خطرے میں گرے کسی ریاستی حکمران کو تحفظ دے کر ریاست کا انتظام چلانے کے لیے وہاں برطانوی ریزیڈینٹ ( سینئیر افسر ) کو تعینات کر لیتے تھے۔ ریاستی حکمران کو ایک حد تک اندرونی اختیار حاصل ہوتا۔ دفاع اور خارجی معاملات کمپنی کے ہاتھ میں ہوتے

3۔ لیپس ڈاکٹرائن۔ 1834 سے کمپنی نے یہ اصول اختیار کیا کہ کسی اتحادی ( زیر حفاظت ) ریاست کے حکمران کا اولاد نرینہ کے بغیر مر جانے یا نا اہل ہونے پر اس کی ریاست کو اپنے مقبوضات میں شامل کر لیا جاتا

اس کو ”لیپس ڈاکٹرائن“ کہا جاتا تھا۔

گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی ( 1848 تا 1856 ) نے اس اصول پر شدت سے عمل کیا۔ اور اپنے دور میں سات ریاستوں کو کمپنی مقبوضات میں شامل کرا دیا۔

اس سے پہلے ( 1801 سے 1848 تک) شمال مغربی صوبہ جات ( روھیل کھنڈ، گورکھ پور اور دواب) دہلی۔ آسام اور سندھ بھی مختلف حیلوں سے مقبوضات میں شامل کر دیے گئے تھے۔

کمپنی کی براہ راست زیر کنٹرول مقبوضات آوائل میں تین پریزیڈینسی ( انتظامی علاقائی گروپ ) مدراس، بمبئی۔ بنگال ( کلکتہ ) کے تحت تقسیم تھے۔ بعد میں ایک چوتھی پریزیڈینسی ”آگرہ“ بھی قائم کی گئی جس کا نام تبدیل کر کے شمال مغربی صوبہ جات رکھا گیا ) ۔

پریزیڈینسی کی انتظامیہ ایک گورنر اور اس کے کونسل پر مشتمل تھی۔ 1834 میں ”جنرل قانون ساز کونسل“ کے قیام سے پہلے ہر پریزیڈینسی کو اپنے اپنے علاقوں کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار تھا۔

ماتحت ریاستوں کو اتحادی کہا جاتا تھا۔ یوں تو ایسی ریاستوں کی تعداد 586 تھی مگر ان میں صرف 21 حکومتی ڈھانچہ رکھتی تھیں

ان میں اہم ریاستیں ”کوچین“ ( کیرالا۔ جنوبی ہند کے آخری سرے پر واقعہ ریاست ) ۔ جے پور۔ حیدر آباد، میسور، وسطی ہند ایجنسی ( مالوہ) کچھ ( گجرات ) راجپوتانہ، بہاول پور اور تراونکور تھیں۔

1818 تک برطانوی کنٹرول سے باہر رہ جانی چار صوبوں ( لاہور۔ ملتان۔ شمالی مغربی سرحدی صوبہ ( موجودہ خیبر پختونخوا ) اور کشمیر) پر مشتمل پنجاب کی ”سکھ ریاست“ تھی۔ جو اس کے حکمران رنجیت سنگھ کے تحت ایک مضبوط فوجی طاقت تھی۔ انگریزوں کے ساتھ اس کے تعلقات نسبتاً پرامن اور دوستانہ رہے۔ اور اس کی وفات ( 1839 ) تک پنجاب پوری طرح آزاد تھا۔ تاہم اس کے بعد انگریزوں اور سکھوں میں اس کی جانشینی کے مسئلہ پر اختلافات بالآخر جنگ کے باعث بنے۔ پہلی جنگ ( 1845 ) میں سکھوں کا پلہ بھاری رہا مگر دوسری جنگ ( 1848 ) سکھ ہار گئے۔ اور یوں تمام پنجاب بشمول شمال مغربی سرحدی صوبہ اور کشمیر پر بھی انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ کشمیر کو معاہدہ امرتسر ( 1950 ) کے تحت ہندو ڈوگرہ راجہ کو فروخت کر کے ماتحت ریاست کا درجہ دیا۔

1854 میں ”ناگاپور“ اور 1856 میں اودھ کا بھی الحاق کر دیا۔ یوں 1600 ع میں بنیادی طور پر تجارت کی غرض سے آئی گئی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی 1856 تک پورا ہندوستان ( فرانس اور پرتگال کے چند ایک ساحلی مقبوضات کے سوا ) پر بلاواسطہ یا بالواسطہ تسلط جما گئی۔

1857 میں کمپنی حکومت کے خلاف ہندوستان کے مختلف علاقوں کے مسلمان اور ہندو نے آزادی کی جنگ شروع کی۔ مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

اہل ہند کی جنگ آزادی کے ناکام ہونے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے ”1858 انڈیا ایکٹ“ سے کمپنی اور اس کی حکومت کو تحلیل کر کے ہندوستان کو براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت کر دیا۔ اگست 1947 میں اپنی آزادی تک ہندوستان سلطنت برطانیہ کا حصہ رہا۔

Facebook Comments HS