کیا یہ ایک خواب تھا؟ (موپاساں کی ایک کہانی)
میں اسے دیوانگی کی حد تک پیار کرتا تھا۔ آدمی کیوں پیار کرتا ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ پیار میں آدمی کی آنکھوں میں صرف ایک ہی تصویر ہوتی ہے۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال ہوتا ہے۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی نام ہوتا ہے۔ ایک ایسا نام جو مسلسل ٹھنڈے چشمے کے پانی کی طرح روح کی گہرائیوں سے اٹھ کر ہونٹوں تک پہنچتا ہے اور جسے پیار کرنے والا بار بار دہراتا ہے اور ہر لمحے سرگوشیوں میں ایک دعا کی طرح اس نام کا ورد کرتا رہتا ہے۔
آپ میری کہانی سنیں گے؟ محبت کی ایک ہی تو کہانی ہوتی ہے۔ میں اسے ملا۔ اور ایک ہی نظر میں مجھے اس سے پیار ہو گیا۔ بس۔ پھر ایک سال پل بھر میں گزر گیا۔ سارا سال میں اس کی دل گدازی پر ، اس کے جسم کے نیم گرم لمس پر ، اس کے ہونٹوں سے نکلے ایک ایک لفظ پر ، ایسے جیا کہ بس اسی کا ہو رہا۔ میں اس کا اسیر بن گیا تھا۔ ہر وقت اس کے پیار کے نشے میں مخمور رہتا۔ اس کے تصور میں دن اور رات کا فرق بھی مٹا بیٹھا تھا۔ معلوم نہیں یہیں تھا بھی یا کسی اور دنیا میں بس رہا تھا۔
اور پھر وہ اچانک میرا ساتھ چھوڑ گئی۔ مجھے نہیں پتہ کیا ہوا۔ اتنا یاد ہے کہ ایک رات شدید طوفان آیا تھا۔ جھکڑ چل رہے تھے۔ بڑے زور کی بارش ہوئی تھی۔ وہ گھر میں داخل ہوئی تو بارش کے پانی میں شرابور تھی۔ اگلی صبح وہ بستر سے نہ اٹھ سکی۔ پہلے کھانسی ہوئی۔ پھر بخار۔ ڈاکٹر آتے، نسخے لکھتے اور اسے دیکھ کر چلے جاتے۔ اس کا پورا جسم تپ رہا تھا۔ وہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتی لیکن اتنی کمزور آواز میں کہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہہ رہی ہے۔
میں ہر بات بھول چکا ہوں۔ کچھ یاد نہیں۔ اور پھر وہ دم توڑ گئی۔ مجھے صرف اس کی وہ ایک آخری، ہلکی، کمزور سی سسکی یاد ہے۔ نرس نے میری طرف دیکھ کر صرف ”آہ“ کہا اور میں سمجھ گیا کہ وہ اب اس دنیا سے جا چکی ہے۔
ایک دھندلی سی یاد ہے۔ پڑوسیوں نے ایک پادری کو بلایا کہ آخری رسومات ادا ہو سکیں۔ اس نے مجھ سے پوچھا کیا یہ آپ کی مسٹرس تھی؟ مجھے لگا جیسے وہ اس کی توہین کر رہا ہو۔ وہ تو مر چکی تھی۔ اب کسی کو کیا حق تھا کہ اس کے بارے میں ایسی بات کرے۔ میں نے غصے میں پادری کو گھر سے نکال دیا۔ ایک اور پادری کو بلایا گیا۔ اس نے نہایت شفقت سے اس کی آخری رسومات ادا کیں۔ جس انداز سے اس پادری نے اس کا ذکر کیا، میری ہی نہیں سب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
دوستوں اور ہمسایوں نے مجھ سے جنازے اور دفن کے انتظامات کے بارے میں پوچھا۔ میں کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ بس اتنا یاد ہے جب انہوں نے تابوت کو بند کرنے کے لئے اس میں آخری کیل ٹھونکی تو میرے منہ سے ایک چیخ نکلی تھی۔ میں نے کہا تھا۔ یا خدایا۔ یا خدایا۔ یہ کیا ہوا؟ میرے خدا، یہ تو نے کیا کیا؟
تابوت قبر میں اتارا گیا۔ اب وہ منوں مٹی کے نیچے دبی ہوئی تھی۔ میں وہاں ٹھہر نہ سکا۔ سارا دن میں گلیوں میں بلا مقصد پھرتا رہا۔ رات گئے گھر لوٹا۔ اگلی صبح میں پیرس چھوڑ کر لمبے فرار کے سفر پر روانہ ہو گیا۔
کل پورے ایک سال کے بعد میں پیرس واپس آیا ہوں۔ جیسے ہی میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنا کمرہ دوبارہ دیکھا، ہمارا کمرہ، ہمارا بستر، ہمارا فرنیچر۔ ان چیزوں نے اس کی یاد ایسے دلائی کہ نئے صدمے کے تھپیڑوں نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ میں نے سوچا کہ کمرے کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کر لوں۔ مجھے کمرے کی ہر چیز اس کی یاد دلا رہی تھی۔ ان دیواروں نے اسے اپنی پناہ میں لیا تھا۔ جن میں اب بھی اس کے سانسوں کی کوئی رمق باقی ہو گی۔ کمرے میں مزید رکنا میرے لئے مشکل ہو رہا تھا۔ میں نے اپنا ہیٹ اٹھایا۔
ابھی راہداری میں پہنچا تھا کہ مجھے وہ قد آدم آئینہ نظر آیا جو اس نے خاص طور پر اپنا سراپا دیکھنے کے لئے لگوایا تھا۔ وہ ہمیشہ باہر نکلنے پہلے اچھی طرح اطمینان کرنا چاہتی تھی کہ چوٹی سے ایڑی تک وہ بالکل ٹھیک ٹھاک خوب بنی ٹھنی لگ رہی ہے۔
میں اس آئینے کے سامنے جس نے اتنی مرتبہ اس کے خوبصورت جسم کی عکاسی کی تھی، منجمد سا ہو کر رہ گیا تھا۔ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ اب بھی اس کا عکس آئینے میں محفوظ ہو گا۔ میری نگاہیں آئینے کی ہموار، چمکدار سطح پر مرتکز تھیں۔ اس آئینے میں ہمارے پیار کی جھلک نمایاں تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر آئینے کی سرد سطح کو چھوا۔ اوہ میرے خدا میں اب کیوں اتنا تڑپ رہا ہوں۔ اس آئینے کو دیکھ کر ۔ اسے یاد کر کے۔
غیر ارادی طور پر ، بغیر خواہش کیے ، میں جیسے خود بخود قبرستان پہنچ گیا۔ اس کی قبر سادہ سی تھی۔ ایک سنگ مر مر کا صلیبی کتبہ جس پر لکھا تھا:
اس نے پیار کیا، اسے پیار ملا اور اس کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔
وہ یہاں ہے۔ اس زمین کے نیچے۔ اب تو اس کا جسم بھی مٹی کا حصہ بن چکا ہو گا۔ میں اس عذاب کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ کتنی دیر تک پتھر سے ڈھکی قبر پر اپنا ماتھا ٹیکے زار و قطار روتا رہا۔
اب اندھیرا ہونا شروع ہو گیا تھا۔ مجھ پر جیسے دیوانگی کا عالم طاری تھا۔ اسی پاگل پن میں میں نے فیصلہ کیا کہ ساری رات اس کی قبر پر رو رو کر گزاروں گا۔ لیکن اگر کسی نے دیکھ لیا تو ؟
اگر میں پکڑا گیا تو ؟
میں خاموشی سے اٹھا اور اس شہر خموشاں کی روشوں پر چلنا شروع کر دیا۔ کبھی ایک حصے میں جاتا کبھی دوسرے میں۔ گھومتے گھماتے میں ایک ایسے حصے میں جا پہنچا جہاں قبریں انتہائی پرانی ہو چکی تھیں۔ ان میں مدفون لاشیں کب کی خاک میں مل چکی تھیں۔
اس حصے میں پھولوں کی وہ کیاریاں ہیں جن کو کبھی پانی نصیب نہیں ہوتا۔ جہاں صنوبر کے وہ تن آور درخت ہیں جن کی زرخیزی انسانی لاشوں سے ہوتی ہے۔
میں تنہا تھا۔ مکمل تنہا۔ دور دور نہ آدم نہ آدم زاد۔ کم از کم زندہ تو نہیں۔ میرے سوا۔ اور میں بھی کتنا زندہ تھا۔ مردوں سے بھی گیا گزرا۔
میں ایک درخت کے تنے سے لگا انتظار کرتا رہا۔ جیسے کشتی غرقاب ہونے کے بعد ڈوبنے والا کسی تختے سے چمٹ کر زندگی کی آس لگائے بیٹھا ہو۔
جب مکمل تاریکی چھا گئی تو میں اپنی پناہ گاہ سے نکلا اور خاموشی سے، نہایت احتیاط کے ساتھ، پھر قبروں کے درمیان چلنے لگا۔ میں اندھیرے میں اس کی قبر ڈھونڈ رہا تھا۔
میں نے دونوں بازو سیدھے سامنے کی طرف بڑھائے ہوئے تھے اور پتھر کے کتبے میرے ہاتھ، میرے پاؤں، میرے گھٹنے، حتی کہ میرے سر تک سے ٹکرا رہے تھے لیکن مجھے اس کی قبر نہیں مل رہی تھی۔
میں ہاتھ لگا لگا کر اندھوں کی طرح راستہ ٹٹول رہا تھا۔ میں کبھی کسی صلیب کو ، کبھی لوہے کے جنگلے کو اور کبھی مصنوعی پھولوں کے گلدستوں کو چھو کر اندازہ کرتا کہ شاید یہ اس کا مدفن ہو۔ میں نے ہاتھوں کی انگلیاں سیدھی کی ہوئی تھیں اور ان کو پتھریلے کتبوں پر کھدے ہوئے حروف کے لمس سے نام پڑھ کر دیکھتا کہ پتھر کی صلیب پر اس کا نام تو نہیں لکھا۔ کیسی ہولناک رات تھی یہ بھی۔ تاریکی میں اس کی قبر نہ مل سکی۔
چاند بہت پہلے نکل کر ڈوب بھی چکا تھا۔ میں قبروں کی روش کے درمیان دھیرے دھیرے چلتا ہوا ڈر سے کانپ رہا تھا۔ تھکاوٹ سے میرا برا حال تھا۔ میرے گھٹنے جواب دے چکے تھے۔ میں ایک قبر پر جا کر بیٹھ گیا۔ کافی دیر بیٹھا رہا۔ دل اس قدر زور زور سے دھڑک رہا تھا کہ میں اس کی دھڑکن کو سن سکتا تھا۔ لیکن صرف دل کی دھڑکن ہی نہیں، اب میں ایک اور آواز بھی سن رہا تھا۔
لیکن یہ کیا؟ یہ کیسی آواز تھی؟ ایک گمنام سا شور۔ کیا یہ میرا وہم تھا؟ یا یہ پر اسرار آواز اس پتھر کے نیچے سے آ رہی تھی جس پر میں بیٹھا تھا۔ جس کے نیچے کوئی لاش دفن تھی۔
مجھے معلوم نہیں میں کتنی دیر اسی طرح بیٹھا رہا۔ میں خوف سے مفلوج ہو گیا تھا۔ ڈر نے مجھے ہوش و حواس سے محروم کر دیا تھا۔ میں چیخنا چاہتا تھا۔
اچانک مجھے یوں لگا جیسے پتھر کی سل جس پر میں بیٹھا ہوا تھا ایسے حرکت کر رہی ہے جیسے کوئی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا ہو۔ میں ایک چھلانگ لگا کر اٹھا تو دیکھا کہ قبر کی سل آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھ رہی ہے۔ مجھے کچھ اور یاد ہو یا نہ ہو، یہ ضرور یاد ہے کہ پتھر اوپر اٹھا اور قبر میں سے ایک جھکی ہوئی کمر والابرہنہ ہڈیوں کا ڈھانچا نکلا جو پتھر کو ہٹا رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک صلیب تھی۔ حالانکہ رات تاریک تھی لیکن صلیب پر گڑے الفاظ جیسے چمک رہے تھے۔ ان پر لکھا تھا:
یہاں جیک آلیوانت کا جسد خاکی آرام کر رہا ہے جو باون سال کی عمر میں خدا کو پیارا ہوا۔ وہ ایک قابل احترام شخص تھا جو اپنے خاندان سے پیار کرتا تھا اور انتہائی انسان دوست تھا۔
لاش نے اپنی کھوکھلی آنکھوں سے وہی الفاظ پڑھے۔ پھر اس نے قبر کے پاس پڑا ایک پتھر ہاتھ میں اٹھایا اور صلیب پر لکھے الفاظ کو رگڑ رگڑ کر مٹانے لگا۔ جب الفاظ مٹ گئے اور صلیب کی سطح ہموار ہو گئی تو اس نے اپنے لمبے لمبے ناخنوں والی اس پتلی سی ہڈی سے جو کبھی اس کے دائیں ہاتھ کی انگلی تھی، لکھنا شروع کیا۔ الفاظ پتھر پر ایسے کندہ ہو رہے تھے جیسے وہ کاغذ پر لکھ رہا ہو۔
ًیہاں جیک آلیوانت دفن ہے جس کو باون سال کی عمر میں موت آئی۔ اس نے وراثت کے لالچ میں اپنے باپ پر اتنے ظلم کیے کہ وہ ان کی تاب نہ لا کر وقت سے پہلے ہی چل بسا۔ اس نے اپنی بیوی کو شدید اذیت پہنچائی۔ بچوں پر ظلم و ستم کیا۔ ہمسائیوں کو دھوکے دیے۔ اور کاروبار میں ہر طرح کی بے ایمانی کی۔ آخر کا ر ایک ذلت کی موت مرا۔ ً
یہ لکھ کر وہ کچھ دیر ساکت کھڑا اپنے لکھے الفاظ پڑھتا رہا۔ پھر دوسری قبروں کی جانب مڑا۔ اب ایک ایک کر کے قبروں سے پتھر اٹھنے شروع ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ سب قبریں کھل چکی تھیں۔ لاشیں باہر نکلیں۔ ہر ایک نے اپنی اپنی قبر کے کتبوں کو کھردرے پتھروں سے رگڑ رگڑ کر وہ سب جھوٹ مٹا نے شروع کر دیے جو ان کے رشتے داروں نے کتبوں پر لکھوائے تھے۔ اب ان کی جگہ سب جھوٹ کی بجائے سچ لکھ رہے تھے۔
میں نے ان کتبوں پر پڑھا کہ بلا امتیاز ہر ایک شخص نے اعتراف کیا کہ زندگی میں اس نے اپنے خاندان اور پڑوسیوں پر زیادتیاں کیں۔ ہر ایک نے قبول کیا کہ وہ اپنی زندگی میں منافق، کمینہ، بے ایمان، جھوٹا اور دھوکے باز تھا۔ انہوں نے چوریاں کیں۔ جس کو لوٹ سکتے تھے لوٹا۔ ہر برے کام کے مرتکب ہوئے۔
یہ نامور والدین، یہ وفادار بیویاں، یہ پاک صاف نوجوان بیٹیاں، یہ ہونہار بیٹے، یہ ایماندار بیوپاری۔ یہ مخلص سیاست دان جن کو بے داغ سمجھا جاتا تھا۔ اب اپنے اپنے کتبے پر سچ لکھ رہے تھے۔ خوفناک سچ۔ ایسا مقدس سچ جس سے ان کے سب عزیز و اقارب یا تو لاعلم تھے یا انہوں نے اپنے آپ کو اور دوسروں کو ساری عمر دھوکا دیا اور ان سچائیوں سے لا علمی کا اظہار کرتے کرتے زندگی گزار دی۔
مجھے خیال آیا کہ شاید اس نے بھی اپنے کتبے پر کندہ الفاظ مٹا کر کچھ اور لکھا ہو۔ اور اب میں ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر اس کی قبر کی طرف بھاگا۔ مجھے یقین تھا کہ لاشوں کی بھیڑ کے باوجود اسے تلاش کرنے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوگی۔ اور یہی ہوا۔ میں اسے فوراً پہچان گیا۔ میں اس کی جانب بڑھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی سنگ مرمر کی صلیب تھی۔ جس پر میں نے اسی رات یہ تحریر پڑھی تھی۔
اس نے پیار کیا، اسے پیار ملا اور اس کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔
اب اس پر لکھا ہوا تھا۔
ایک رات وہ اپنے چاہنے والے سے بے وفائی کر کے واپس گھر آ رہی تھی جب اسے ایک طوفان نے گھیر لیا۔ بارش میں شرابور ہونے کے بعد شدید سردی سے وہ بیمار ہوئی اور مر گئی۔ ً
لوگ بتاتے ہیں کہ گور کن نے اگلی صبح مجھے اس کی قبر پر بے ہوش پایا


