کیا ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں؟


کشمیریوں کی ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کے خلاف تحریک آج اپنے عروج پر ہے جس کا کریڈٹ کشمیر میں مسلح جدوجہد کرنے والے کسی گروپ کو نہیں بلکہ طلباء، تاجر، وکلاء اور اساتذہ سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عام کشمیری کو جاتا ہے جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر تسلیم شدہ، اپنا قانونی حق لینے کے لئے بھارتی جارحیت کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے قابض بھارتی افواج کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسے پوری دنیا میں ننگا کر رہے ہیں۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال محض مجاہدین کی مسلح کارروائیوں کی بدولت نہیں جیسا کہ ماضی میں بھارت واویلا کرتا رہا ہے اور تسلسل کے ساتھ پاکستان کو ساری صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام اور نہتے کشمیریوں کی حالیہ کوششوں اور قربانیوں نے مجاہدین کی مسلح کارروائیوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ بھارت کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا ہے اور بھارت جو پہلے کشمیر میں ساری صورتحال کو پاکستان کے حمایت یافتہ مجاہدین کے کھاتے میں ڈال کر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا تھا اب وہی بھارت کشمیریوں کی پر امن تحریک کے باعث دفاعی پوزیشن پر چلا گیا ہے اور عالمی سطح پر اخلاقی دباؤ کا شکار ہے۔

کیونکہ ایک طرف بھارت اس پر امن تحریک کو تشدد اور بربریت کے نت نئے بزدلانہ ہتھکنڈوں (جن میں پیلٹ گن کا استعمال اور کشمیریوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا شامل ہے ) سے نمٹنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف وہ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر میں داخلے سے روک رہا ہے جس سے دنیا بھر میں بھارتی سیکولرازم اور جمہوریت کا اصل روپ ایکسپوز ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے جس سے پاکستان کو بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے اور ایسے میں استصواب رائے کے حوالے سے بھارتی راہنماؤں اور اقوام متحدہ کے وعدوں کی پاسداری کا بھرپور انداز میں اعادہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔

لیکن پہلے ہمیں یہ سمجھنے اور طے کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں؟ پاکستان کے عوام کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے پالیسی ساز اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ تو ہیں مگر صرف بیانات کی حد تک جبکہ عملی طور پر صورتحال بالکل مختلف بلکہ بعض صورتوں میں تکلیف دہ ہے۔ المناک پہلو یہ ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے شروع سے لے کر اب تک خاص طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحفظ کو یقینی بنانے والے بھارتی آئین کے آرٹیکلز کے خاتمے اور کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کے بعد سے ہم مجرمانہ طور پر غیر سنجیدگی اور فریب کا شکار ہیں۔

قرائن و حالات سے انداز ہوتا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر ہم نے بالکل ایسے ہی بھارت کو مشغول (engage) کیا ہوا ہے جیسے امریکہ کو افغانستان میں کیے رکھا۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بھارت اور امریکہ نے پاکستان کو ان دونوں محاذوں پر انگیج کر رکھا ہے لیکن دونوں صورتوں میں مصیبت کا شکار کون ہے یہ ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ ہر طرف خون مسلم بہہ رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ابتدائی کشمیر آپریشن کے انچارج سردار شوکت حیات خان اپنی کتاب ”The Nation that Lost its Soul“ میں لکھتے ہیں کہ جب کشمیر میں لڑائی شروع ہوئی تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور پہنچے جہاں انھوں نے ایک میٹنگ میں شرکت کی جس میں پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان، گورنر پنجاب اور پنجاب کے چار وزراء شامل تھے، اس موقع پر انھوں نے بھارتی راہنما سردار پٹیل کا ایک اہم پیغام پہنچایا۔

اپنے پیغام میں پٹیل نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین طے پا جانے والے اصولی معاہدے کے تحت ہندوستان کی آزاد ریاستوں (princely states) کے سیاسی مستقبل کے لئے ان ریاستوں کو مذہبی اکثریت کی بنیاد پر ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس پیغام میں سردار پٹیل نے یہ رائے دی کہ پاکستان کو کشمیر کے بدلے جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی ریاست حیدر آباد دکن جس پر پاکستان کا دعویٰ تھا (لیکن جہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور ریاست کا پاکستان سے کوئی زمینی یا سمندری رابطہ نہیں تھا) ہندوستان سے سمجھوتہ کر لینا چاہیے۔

اس پیغام کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس آرام کے لئے چلے گئے۔ سردار شوکت حیات خان کے مطابق چونکہ وہ پاکستان کی طرف سے اس وقت کشمیر آپریشن کے انچارج تھے تو وہ اس سلسلے میں بات کرنے کے لئے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے پاس چلے گئے اور لیاقت علی خان کو بتایا کہ ہندوستانی فوج کشمیر میں داخل ہو چکی ہے اور پاکستان قبائلیوں یا باقاعدہ پاکستانی فوج کی مدد سے ہندوستانی فوج کو کشمیر سے بے دخل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

سردار شوکت حیات کے بقول انھوں نے وزیر اعظم کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہمیں سردار پٹیل کی حیدر آباد دکن کے بدلے کشمیر کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔ جس پر لیاقت علی خان نے کہا، ”سردار صاحب! کیا میں پاگل دکھائی دیتا ہوں کہ حیدر آباد دکن سے دستبردار ہو جاؤں جو پنجاب سے بڑی ریاست ہے اور اس کے بدلے کشمیر لے لوں جہاں محض چٹانیں اور پہاڑیاں ہیں۔“ ہم لیاقت علی خان کی پاکستان سے محبت یا نیت پر شک نہیں کر سکتے لیکن کسی راہنما کی سیاسی بصیرت پر بات کی جا سکتی ہے۔

سردار شوکت حیات مزید لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کے جواب نے مجھے حیران کر دیا کہ وہ جغرافیے اور زمینی حقائق سے کس حد تک ناواقف تھے جو کشمیر پر حیدرآباد کو فوقیت دے رہے تھے۔ یہ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات تھی۔ حیدر آباد کو حاصل کرنا قطعی طور پر ناممکن تھا جبکہ کشمیر کو حاصل کرنے کا ایک نادر موقع ہم کھو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ لیاقت علی خان پاکستان کے لئے کشمیر کی اہمیت سے بالکل ناواقف تھے۔

اس سے دلبرداشتہ ہو کر سردار شوکت حیات نے کشمیر آپریشن کے انچارج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ کشمیر کے معاملے میں ہماری غیر سنجیدگی اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی معاملہ ہے جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موجود ہے۔ چنانچہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اس معاملے میں ایسے لوگوں کو دخیل کریں اور فرنٹ پر رکھیں جو اچھی ساکھ رکھتے ہوں، حقیقی معنوں میں عالمی سطح پر اثر انداز ہونے والی شخصیات ہوں اور دنیا انھیں سنجیدگی سے لے جبکہ اس کے برعکس مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے ہم نے ایسے لوگوں کا سرکاری و غیر سرکاری سطح پر انتخاب کیا ہوا ہے جو خود عالمی سطح پر متنازعہ حیثیت رکھتے ہیں اور جن پر دہشت گردی و انتہا پسندی کو پروان چڑھانے جیسے الزامات ہیں، تو کیا یہ دانشمندی ہو گی کہ کشمیر جیسے حساس مسئلے کو ایسے لوگوں کے سپرد کیا جائے جنھیں دنیا میں غیر سنجیدہ لیا جاتا ہے اور جن کے اقدامات کی بدولت نہ صرف کشمیر کاز کو بلکہ بحیثیت ریاست الٹا پاکستان کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیں ایک سبق واضح طور پر سیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہے تشدد اور شدت پسندی سے ہر سطح پر گریز جس نے ہمیں بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور عام پاکستانی آج بھی اس کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ اگر مجاہدانہ کارروائیوں کے نتیجے میں کسی علاقے کو آزاد کرانا آسان ہوتا تو آج حیدر آباد دکن ریاست پاکستان کا حصہ ہوتی جہاں دو لاکھ سے زائد رضاکاروں نے قاسم رضوی کی قیادت میں اسے پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے مسلح کارروائیاں شروع کیں لیکن اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوئے اور بھارت نے ریاست حیدرآباد میں مسلمان مجاہدین رضاکاروں کی ہندوؤں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کو بنیاد بنا کر اپنی فوج بھیج دی اور ریاست پر قبضہ کر لیا۔

بھارت میں آزادی کی بہت سی پر تشدد تحریکیں چل رہی ہیں لیکن کشمیر کی تحریک کے سوا بھارت تقریباً اًیسی تمام تحریکوں پر سیاسی عمل کے ذریعے قابو پا چکا ہے تو کیا پاکستان اس وقت کا انتظار کر رہا ہے جب انڈیا کشمیریوں کو بھی سیاسی عمل کے ذریعے رام کر لے گا جو کہ اس معاملے میں ہمارے غیر سنجیدہ رویے اور سیاسی بصیرت کی کمی کے سبب کچھ بعید نہیں۔ اس سے قبل بھارت حیدرآباد دکن، گوا اور، مناوادر اور سکم سمیت کئی ریاستوں کو اپنی یونین کا حصہ بنا چکا ہے جبکہ ہم سیاسی نا پختگی، سیاسی اداروں کی کمزوری اور اکثر داخلی و خارجی معاملات میں شروع دن سے سول ملٹری تناؤ کے سبب نہ صرف آدھا ملک گنوا چکے ہیں بلکہ آج بھی داخلی و خارجی سطح پر مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے کشمیر کے معاملے میں ہماری گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے ورنہ جس طرح آرٹیکل 35 اے کے خاتمے اور کشمیر کے تاریخی سٹیٹس کی تبدیلی کے بعد مسئلہ کشمیر گرم ہوا تھا عالمی فورمز اور میڈیا پر ہمیں کشمیریوں کی حمایت میں تسلسل سے آواز بلند کرنے کی ضرورت تھی۔ جس طرح کشمیریوں کو پرامن طریقے سے اپنی تحریک چلانے کی وجہ سے عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے اس سے انھیں بھی ایک سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ اخلاقی سبقت برقرار رکھنے کے لئے وہ آزادی کی اس جدوجہد میں مسلح تشدد سے گریز کریں اور قانونی و اخلاقی طریقے سے اپنی جنگ جاری رکھیں ورنہ ماضی کی طرح بھارت ایک بار پھر کشمیر میں مجاہدین کی کارروائیوں کو جواز بنا کر اور عالمی برادری کے سامنے کشمیر میں دہشت گردی کا ڈھنڈورا پیٹ کراس کی آڑ میں اپنے اصل چہرے کو چھپانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں کرے گا۔

کشمیر پر ہمارا دیرینہ اور اصولی موقف ہے جسے نہ صرف بھارت بلکہ اقوام متحدہ نے تسلیم کر رکھا ہے اور وہ کشمیر میں استصواب رائے ہے۔ ہمیں کشمیر کے معاملے میں ان فرسودہ، غیر حقیقی اور غیر سنجیدہ رویوں سے بھی اجتناب کرنا ہو گا کہ کشمیری الگ ریاست چاہتے ہیں اور ایک الگ کشمیری ریاست کے قیام سے پاکستان کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ مسئلہ کشمیر کا سنجیدہ ترین پہلو انسانیت کا ہے، یہ چند ایک نہیں لاکھوں لوگوں کے مستقبل کا معاملہ ہے جسے کسی انا یا مسئلے کے کسی فریق کی پسند نا پسند کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔ ویسے بھی آج کشمیر کی ہر وادی میں پاکستان کا نعرہ گونج رہا ہے اور پاکستان کے جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں۔ ہمیں کشمیریوں کی محبت کا جواب محبت سے دینے کی ضرورت ہے۔ کشمیری پاکستان سے الحاق کے لئے سنجیدہ ہیں تو کیا ہم بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اتنے ہی سنجیدہ ہیں؟

Facebook Comments HS