زنانہ یا کُھسرانہ؟
یہ کیا زنانہ سا آدمی ہے، یہ کھسرا کہاں سے آن ٹپکا؟ اب ایسے درمیانی جنس کے لوگ بھی اتنے بڑے عہدوں پہ بٹھائے جائیں گے؟ کراچی والو یہ آدھا مرد آدھی عورت قسم کا کمشنر کیا آرڈر پہ بنوایا ہے؟ اس کے متعلق تو شیخ رشید کا جملہ بڑا فٹ بیٹھتا ہے کہ یہ پرویز اور پروین ان ون ہے۔ آپ نے بھی یہ طنزیہ جملے پڑھے ہوں گے اور سوچا ہو گا کہ یہ کس کے متعلق بات ہو رہی ہے؟
کافی دنوں سے سوشل میڈیا پہ ناظم آباد کراچی کے اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار کے چرچے ہیں۔ عہدے کو دیکھا تو سوچا کہ شاید کمشنر صاحب سے کوئی بہت اچھا یا انتہائی برا کارنامہ سرزد ہو چکا ہے جس کی پاداش میں وہ ہر وال ہر اکاؤنٹ پہ نظر آ رہے ہیں۔ جلدی سے ادھر ادھر سے سن گن لی تو معلوم ہوا کہ حسب روایت میری قوم کو کمشنر صاحب کے کسی بھی اچھے برے کام سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ جنتا تو کمشنر صاحب کے لباس و اطوار پہ مصروف طنز و تنقید ہے۔
جلدی سے کمشنر صاحب کا نام سرچ انجن میں ڈالا تو ہنسی ٹھٹھا مذاق، طنز و تنقید کے بعد ان کی شخصی معلومات بھی سامنے آ گئیں۔ سوشل میڈیا کی اک یہی بات مجھے اچھی لگتی ہے کہ یہاں چھوٹے سے چھوٹا جملہ اور بڑے سے بڑا کارنامہ بھی کسی نہ کسی کونے کھدرے میں محفوظ رہتا ہے۔ یعنی عام انسانی یادداشت کے برعکس یہ کسی بھی فرد کی برائیوں کے علاوہ اچھائیاں بھی محفوظ رکھتا ہے۔
حازم بھنگوار کی تعلیمی قابلیت، کارنامے اور فنون لطیفہ سے متعلقہ مشاغل پڑھ کے اک دفعہ تو حیرت ہوئی کہ اس پر آشوب دور میں یہ شخص پاکستانی بیوروکریسی کی جانب کیسے آ گیا؟
کچھ تصاویر، کچھ ٹویٹس، کچھ ویڈیو کلپس نظر سے گزرے۔ قابلیت کے بعد کمشنر صاحب کے معقول اور دھیمے انداز گفتگو نے مزید حیران کیا۔ عام طور پہ ہمارے ہاں درجہ چہارم والوں کا لہجہ بھی کروفرانہ ہوتا ہے۔ کمشنر صاحب کی خدمت خلق سے متعلقہ تصاویر نے طبیعت پہ بہت اچھا اثر چھوڑا۔ یونہی مختلف ویڈیوز کلپس دیکھتے ہوئے کمشنر صاحب کے اک حالیہ انٹرویو کا چھوٹا سا کلپ سامنے آ گیا۔ جس میں وہ اپنے متعلق ہونے والے سوشل میڈیائی چرچے کی بابت گفتگو کر رہے تھے۔
میں سننے لگی اور سوچنے لگی کہ بس ابھی اچانک یہ شخص برس پڑے گا اور میمز بنانے والوں کو کھری کھری سنائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ کمشنر صاحب نے نہایت سلجھے انداز میں کچھ باتیں کہیں جن سے کئی سوال پیدا ہوئے۔ اصولاً ایسے سوالوں پہ ابحاث ہونی چاہئیں لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں مثبت عمرانیاتی مباحثے بہت کم ہوتے ہیں۔
کمشنر صاحب نے سب سے پہلے تو دو ٹوک انداز میں اپنا جینڈر مشخص کیا کہ وہ عورت ہیں نا ہی ٹرانس جینڈر یا خواجہ سرا۔ بلکہ وہ ایک مرد ہیں۔ پھر فوراً ہی کہا کہ جو لوگ مسلسل مجھے زنانہ کہہ رہے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا عورت ہونا برا ہے؟ کیا عورت ہونا طعنہ ہے؟
یہ ایک بہت بڑا اور کاٹ دار سوال ہے۔ ہمارے ہاں صدیوں سے مرد و زن کے سماجی روئیے اور مزاجی کلیے طے کر دیے گئے ہیں۔ جو بھی مرد یا عورت ذرہ برابر بھی ان طے شدہ معیارات سے ہٹے گا اس کو مخالف صنف یا درمیانی صنف ہونے کے طعنے ملیں گے۔ اس کا جینڈر مشکوک سمجھا جائے گا۔
مثال کے طور پہ اگر کسی مرد نے کوئی شوخ لباس پہن لیا یا کسی عورت نے خواتین کے لیے مروجہ لباس سے ہٹ کے کچھ پہن لیا تو ہم فوراً اسے کہیں گے کہ تم کیا کھسرا بنے ہوئے ہو۔
مرد اگر شریک حیات کے ساتھ پیار سلوک کے ساتھ رہے تو اس کو رن مرید کہا جائے گا۔ نرم مزاج اور صلح جو، رحم دل اور حساس ہو تو اسے زنانہ ہونے کے طعنے ملیں گے۔ کیا زنانہ ہونا کوئی گناہ ہے کہ جس کو طعنہ بنا لیا جائے؟
کھسرانہ کہہ کے ٹھٹھا اڑانے والے مرد حضرات نے آج تک کون سا فلسطین اور کشمیر آزاد کروا لیا ہے جو کسی کے لباس یا مختلف مزاج پہ ٹھٹھا کر رہے ہیں۔
دنیا میں جنسی تقسیم کے لحاظ سے یہی تین موٹی سی اقسام ہیں، مرد، عورت اور خواجہ سرا
عورت ہونا بھی پدرسری سماج میں طعنہ ہے اور ٹرانس ہونا بھی طعنہ اور ٹھٹھا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ کون سی خاص عقلی صلاحیتیں ہیں جو ان دونوں جینڈرز کے پاس موجود نہیں ہیں اور میمز بنانے والے، طعنہ دینے والے ٹولے کے پاس موجود ہیں؟
یا ایسے کون سے کارنامے ہیں جو اس معاشرے میں زنانہ کھسرانہ لوگ نہیں کر سکے اور باقی لوگ کر رہے ہیں؟ ہاں البتہ یہ دونوں اصناف جو آپ کو کمزوری اور بزدلی کی علامت نظر آتی ہیں وہ دراصل الفت و موانست، عفو و درگزر، رحم و عافیت اور حساسیت کا شاہکار ہیں۔ لوگوں کو ان کے لباس اور مزاج سے ہٹ کے قابلیت اور حساسیت کے پیمانے میں تولیں تو شاید دنیا میں صرف ایک ہی جنس باقی رہ جائے اور وہ ہے انسان۔ میرے عزیزو طعنہ تو کسی عیب پہ، گناہ یا برائی پہ دیا جاتا ہے۔ میں التماس کروں گی کہ عزت دینے کے نہیں تو کم از کم طعنہ دینے کے معیار ہی درست کرلو۔


