شہادت کا لالی پاپ


سولہ نومبر دو ہزار بائیس کی صبح ہمارے خاندان کے لیے ایک بہت بڑی اور بری خبر لے کر نمودار ہوئی۔ ایک رشتہ دار نے کال پر بتایا کہ آپ کا بھائی پرویز احمد خان چھ ساتھیوں کے ہمراہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہوا ہے۔ اب ابو، امی، بیوی اور دوسرے رشتہ داروں کو یہ اطلاع کیسے دی جائے کہ جواں سال اور ہنس مکھ پرویز احمد خان ہمیں روتا ہوا چھوڑ کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا ہے۔ بہت درد بھرے لمحات تھے۔ مگر ہونی کو ہم ٹال نہیں سکتے تھے لیکن ہمیں اس دن پتہ چلا کہ فطرت کتنی بے رحم ہے اور بے بسی کیا ہوتی ہے؟

بریکنگ نیوز میں بتایا جا رہا تھا کہ عباسہ خٹک لکی مروت کے پولیس موبائل پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے اے ایس آئی سمیت چھ کے چھ اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی شہید کیا گیا، ساتھ اس حادثے کی فوٹیج بھی اسکرینز پر چل رہی تھی جس میں سارے جوانوں کو چادریں اوڑھا کر چارپائیوں پر ڈال دیا گیا تھا۔ وزیراعظم نے مذمت کی اور پھر مذمتوں کا تانتا لگ گیا کہ ”ہمارے حوصلے اس سے پست نہیں ہو سکتے، ہم ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے“

شہدا کے لیے ایک ایک کروڑ فی بندہ پیکج کا اعلان بھی ہوا اور اس کے بعد پولیس لائن میں اجتماعی نماز جنازہ ادا کر کے میتوں کو پاکستانی جھنڈوں میں لپیٹ کر اور سلامی دے کر ایمبولینسز میں رکھ کر کہرام زدہ گھروں کو روانہ کر دی گئیں۔

ایک جیتا جاگتا اور زندگی کی رنگینیوں پر مر مٹنے والا بھائی جب ہم جھنڈا لپیٹے لاش کی صورت میں گھر داخل کر رہے تھے تو میری ہمت جواب دے گئی اور وہاں گھر کے باہر کھڑا روتا رہا کہ امی اور اس کے بیوی بچوں کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ میت قبرستان لا کر جب لحد میں اتارنے والے تھے کہ بہنوئی کا فون آیا کہ اگر آپ لوگوں کی اجازت ہو تو امی اور اس کے ساتھ بھائی جان کی سات سالہ چھوٹی بیٹی ایک بار پھر اس کی دیدار کرنا چاہتی ہیں، گو کہ عورت کا قبرستان آنا پشتون ثقافت کے خلاف تھا لیکن اجازت دے کر انہیں لایا گیا، بڑی دیر تک ماں سسکیوں میں اس سے باتیں کرتی رہیں کہ بیٹا! بڑی بے وفائی کی، آپ نے اس بار باغ کے لیے پودے لانے کا کہا تھا، بیٹیوں کے لیے کپڑے اور چوڑیاں لانے کا کہا تھا، پینڈا اکٹھا کھانے کا کہا تھا ”خیر مجھ سے مزید یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا اور بہنوئی کو اشارہ کر کے انہیں واپس لے جانے کا اشارہ کیا۔ میت کو دفن کیا اور پاکستانی جھنڈا اس پر لہرا کر ہم واپس آ گئے۔

تعزیت والے آتے رہے اور ہر کوئی اپنی فہم کے مطابق ایک گھڑی کہانی سنا کر چلتے ہوئے ہمیں اور ابو کو صبر دینے کی تلقین کرتے رہے، ابو مسلسل روئے جا رہا تھا کیونکہ حادثہ ناقابل برداشت تھا۔ کوئی آ کر کہتا کہ اس کا رزق ختم تھا، اسے ہر حال میں اسی لمحے موت آنی تھی، اس کی موت گولی لگنے سے لکھی گئی تھی۔ دوسرا کہتا کہ موت انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی لکھا جاتا ہے کہ اسے کب، کہاں اور کیسے مرنا ہے؟ تیسرا بیچ میں کود کر بتاتا کہ خدا اپنے نیک بندوں کو جلد ہی اپنی طرف بلاتا ہے تاکہ ان سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ کوئی کہتا کہ روز محشر کوئی بھی دنیا میں واپس آنے کو تیار نہیں ہو گا سوائے شہید کے، شہید کہے گا کہ اسے سو مرتبہ اس طرح شہید کر کے بھیجا جائے، شہادت کی موت میں جو مزہ ہے وہ دنیا اور آخرت کی کسی شے میں نہیں۔

خیر ہم سنتے رہے، ان کو جواب دینے کا یہ وقت نہیں تھا اور نہ ہی یہ لوگ ہمارا برا چاہ رہے تھے بلکہ یہ تو بے سوچے سمجھے وہ رٹے رٹائے جملے بول رہے تھے جو ہر ایسے موقع پر لوگ بول رہے ہوتے ہیں جو انہوں نے مولویوں سے جابجا وعظ و تبلیغ کرتے ہوئے سنے ہوتے ہیں۔

بڑی بچی سب کچھ جان کر بھی نہ روئی، صرف ایک بات پر وہ روتی ہے جب کوئی کہے کہ اس کے ابو فوت ہوئے ہیں، اس کا اصرار ہوتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ اس کے ابو شہید ہوئے ہیں کیونکہ شہید زندہ ہوتا ہے، کھاتا پیتا ہے، ہمارے پاس رہتا ہے، ہمیں ہر گھڑی دیکھتا ہے اور ہماری باتیں سنتا ہے لیکن ہم اس کا ادراک نہیں رکھتے، ماں نے ضبط غم کر کے یہ بات اس کے کانوں میں ڈال دی ہے۔

اس دن سے میرے ذہن میں کئی سوالات سر اٹھائے کھڑے ہیں کہ اگر اس کا رزق ختم تھا اور اسے ہر حال میں یہیں مرنا تھا تو ہم قاتل کو قاتل کیوں کہیں، اسے الزام کیوں دیں، اسے ایک نیک اور فرشتہ صفت انسان سمجھ کر اس کے گلے میں پھولوں کا ہار کیوں نہ پہنائیں کہ اس نے تو خدا کے حکم کی بجاآوری کی۔ دوسرا یہ کہ اگر اس کی موت بندوق سے لکھی گئی تھی تو ڈنمارک اور سویڈن جیسے ملکوں میں کسی کی موت بندوق سے کیوں نہیں لکھی گئی ہے، صرف پاکستان اور دوسرے جنگ زدہ ملکوں میں تھوک کے حساب سے بندوق سے موت کیوں لکھی گئی ہے، کیا اس مولویانہ تاویل میں کچھ گڑبڑ تو نہیں ہے یا یہ مولوی اور حاکم وقت کا گٹھ جوڑ تو نہیں ہے؟

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ اس مذاق پر مزید کتنے گھروں کو اجاڑا جائے گا۔ کیا وطن، مذہب، زبان، قومیت کے لیے خون بہانا ضروری ہے؟ کیا دشمنی پالنا ضروری ہے؟ کیا وطن کے نام پر نفرت پھیلانا ضروری ہے؟ کیا امن کے دین کی خاطر بدامنی ضروری ہے؟ کیا محبت اور امن کے دعویدار خون کے پیاسے ہو سکتے ہیں؟ کیا امن کے قاتل کو آپ امن کا علمبردار کہہ سکتے ہیں؟ امن اور پیار و محبت کے فلسفوں میں تو بوسے ہو سکتے ہیں، ہم آغوش ہونا ہو سکتا ہے لیکن آگ اور خون کا یہ کھیل ہر گز نہیں ہو سکتا۔

آگ اور خون کی ہولی کو امن اور محبت کا نام دینا، امن اور محبت کو الزام دینے کے مترادف ہے۔ کیا اس زمین پر سارے انسان اکٹھے محبت کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اگر زمین پر لکیریں کھینچنا اتنا ضروری ہے تو کیا الگ الگ وطن کے بعد دو بھائیوں کی طرح پیار و محبت سے نہیں رہا جا سکتا۔ کیا ہمارے ان جوانوں کی موت کسی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے جوانوں کی موت پر کسی کا دسترخوان چل رہا ہے اور ہمیں شہادت کا لالی پاپ دے کر بہلایا جا رہا ہے۔

جس طرح ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر کسی کے اپنے اپنے شہید بھی ہوتے ہیں۔ کیا اہل زر و اہل ہوس و اہل جبہ و دستار کے مقاصد پورا کرنے کے لیے موت کو خندہ پیشانی سے گلے لگانے کے لیے شہادت کا ڈھونگ تو نہیں رچایا گیا ہے کیونکہ دہشت گرد اور سیکیورٹی فورسز کے جوان دونوں کے ورثا کو شہادت کا لالی پاپ دے کر خاموش کیا جاتا ہے۔ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ شہادت کے نام ہر ہم کسی کے مذموم مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں

خیر ان سوالات کو میں شیطانی وسوسے سمجھ کر جھاڑ دیتا ہوں۔ فی الحال بھائی کے بچوں کو سمجھایا ہے کہ ابو ڈیوٹی دینے کے لیے کراچی گیا ہوا ہے اور والدین کو یہ تلقین کر رہے ہیں کہ شہادت ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتی، بچے تو ہماری بات کا یقین کر کے صرف ابو کے آنے کی تاریخ پوچھ رہے ہیں، جبکہ والدین کٹر مذہبی ہونے کے باوجود اور شہادت کے رتبہ سے آگاہ ہونے کے بعد بھی رو رہے ہیں کچھ تو گڑ بڑ ہے، ہماری بات میں یا ان کے یقین میں۔

Facebook Comments HS