تیسری بیٹی
بھلے آدمی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، ۔ پہلے تو وہ عورتوں کے سروں پر ہاتھ رکھ رکھ کر انہیں وداع کرتا رہا۔ پر جب مردوں نے پچھاڑیں کھانا شروع کیں تو اس کی ہمت جواب دے گئی اور گھر کے اندر جا کر دروازہ بند کر دیا کہ اب میں کسی اور کی امانت، پیسہ اور قیمتی چیز نہیں رکھ سکتا کہ امانت کا اتنا بار اٹھانے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ راتوں رات گھروں کے گھر خالی ہو گئے۔ کسی گھر پر تالا تھا تو کسی پر صرف کنڈی۔ مردوں کے ساتھ عورتیں، لڑکے، لڑکیاں، شیر خوار بچے، یہاں تک کہ پورے پورے مہینوں سے بیاہتائیں موت کو سامنے دیکھ، اپنے اپنے گھروں اور پیاروں کی عافیت کی دعائیں مانگتی قافلوں کی صورت کدھر کو روانہ تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہ تھا۔ قیامت کا منظر تھا۔ کون کہاں جاتا تھا، کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ بے خبری سی بے خبری تھی۔
حالات جب اور زیادہ بگڑے، اپنے پرائے کی تمیز بالکل ہی مٹ گئی اور خون سے سرخ مٹی اور لاشیں گلی گلی دکھائی دینے لگیں تو اوباشوں کی ٹولی نے عبدالغفار کے گھر کا گھیراؤ کر لیا کہ سامان نکالو ورنہ کاٹ ڈالیں گے۔ یہ بدمعاش اسی کے قبیلے سے تھے۔ ان کا خدا بھی سانجھا تھا مگر یہ اندھی ڈائن جیسی نفرت کچھ نہیں دیکھتی اور نہ سوچنے کی مہلت دیتی ہے۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ جب عبدالغفار کے گھرکا لکڑی کا مضبوط دروازہ ٹوٹنے کو تھا تب اس نے اپنے پورے گھر میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جوان بیوی اور دو معصوم بیٹوں کے ساتھ خود بھی جل مرا۔ دیکھو ایسی وحشت میں یہ بھی ایک کردار تھا اور اب دوسرا کردار کیسے جیا، وہ سنو۔
وہیں پر، بس دو ایک محلے چھوڑ کر، ایک اور مسلمان رہتا تھا جس کا نام تمیزالدین تھا۔ بڑا صوم و صلوٰة کا پابند تھا اور محلے پڑوس میں اپنی خدا ترسی کے باعث پہچانا جاتا تھا۔ دیوار سے دیوار ملی تھی اس کی اور اس کے پڑوسی سردار جی کی۔ جن کی بیوی کو تیسری بیٹی کی پیدائش سے کوئی ایسا مرض لگا کہ وہ غریب چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی تھی۔ سو سردار جی نے باہر کا کام چھوڑا اور گھر میں ہی کسب کرنے لگے کہ اب ان پر گھر کی ذمے داری بھی آن پڑی تھی۔ کھانا بنانے، برتن، کپڑے دھونے اور گھر کے دیگر کام کاج کرنے کے ساتھ ساتھ وہی گھر والی کا بول و براز بھی صاف کیا کرتے تھے۔ ان کی تینوں بچیاں جو ابھی چھوٹی ہی تھیں مگر گھر سنبھالنے میں ان کی مدد کیا کرتی تھیں۔ جب انہیں لگا کہ اگر اب بھی انہوں نے یہ علاقہ نہ چھوڑا تو بہت برا ہو گا تب انہیں اس پریشانی میں سب سے پہلا خیال بھائی تمیزالدین کا آیا۔ دونوں کے گھر کے درمیان صرف ایک دیوار تھی جس پر سردار جی جب بھی کوئی اچھی چیز بناتے تھے، پیالے میں ڈال کر رکھ دیتے تھے۔ جو کبھی تمیزالدین تو کبھی اس کی بیوی اٹھا لیا کرتے تھے۔ وہ بھی جو اباً یہی کیا کرتے تھے۔ تعلق داری بنانے یا بڑھانے کے لیے دروازے کا استعمال تو دونوں گھرانوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔ برتن اٹھانے اور واپس رکھنے کے دوران دونوں پڑوسیوں میں بات چیت بلکہ ہنسی مذاق بھی ہو جاتا تھا۔
بہت سوچ بچار کے بعد سردار جی نے پرکھوں کی زمین چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی گٹھڑی باندھ کر ایک طرف کو رکھی اور تمیزالدین کے دروازے پر پہنچ کر بولے۔ بھائی تمیزالدین یہ میرے بندھے ہاتھ دیکھ۔ گھر تو چھوڑنا ہے پر ان نکی نکی جانوں کو کیسے سنبھال پاؤں گا۔ انسان کی کھال اوڑھے بھیڑیے باہر دانت نکوسے بیٹھے ہیں، دھیوں بھینوں کی لاج بچانا مشکل ہو گئی ہے۔ تو چاچا ہے ان کا۔ بچیاں تیرے سامنے ہی پیدا ہوئیں اور پلی بڑھی ہیں۔ بس اتنے دن ان معصوموں کو سنبھال جب تک میں کہیں کوئی آسرا، کوئی جھگی جھونپڑا کسی جگہ دیکھ لوں۔ میرا گھر بھی تیرے حوالے۔ پر جائی تیری کو اس حال میں کیسے چھوڑوں؟ اس کو کاندھے پر اٹھا کر مارا مارا پھرنا پڑے گا۔ ایک واہ گرو اور دوسرا تیرا ہی آسرا ہے۔ سمجھ اپنی جان، متاع، آبرو سب تیری چوکھٹ پر چھوڑے جا رہا ہوں۔ زندہ رہا تو آؤں گا ضرور۔
زار زار روتی سردارنی کا سر جھکا ہوا تھا۔ بچیوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ تمیزالدین اور اس کی بیوی بھی دل گرفتہ تھے۔ باری باری سب ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے۔ تینوں بچیوں کو تو دن لگ گئے یہ سمجھنے میں کہ اب وہ اپنے گھرمیں بھی نہیں جا سکتیں اور انہیں ماں باپ کے بغیر چاچا تمیزالدین کے گھر میں رہنا ہو گا۔ اور یہ کہ نہ جانے ان کے ماں باپ کبھی واپس آئیں گے بھی کہ نہیں۔ یوں سردار جی اور سردارنی نے اپنی تینوں بیٹیاں تمیزالدین کے گھر یعنی اپنے نہایت قریبی بھروسے والے بھائیوں جیسے دوست کے ہاں چھوڑیں کہ حالات کسی طور بچیوں کو ساتھ لے جانے کے لئے سازگار نہ تھے۔ بیمار بیوی کو کس کے حوالے کرتے اور اس کو ساتھ کس طرح لے جاتے یہ سوال خود بہت بڑا تھا۔ بہر حال روتے بلکتے ان دیکھے سفر کو روانہ ہوئے کہ جیسے ہی حالات ٹھیک ہوں گے تو اپنی بچیاں واپس لینے کے لئے آئیں گے۔
آگ اور خون کی ہولی میں حالات کیا خاک ٹھیک ہونے تھے مگر جب ایک کی جگہ دو ملک ہو گئے تو کم از کم یہ راستہ کھل گیا کہ ٹرین یا بس سے ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کیا جائے۔ یہ سفر بھی خطرے سے خالی نہ تھے۔ آدمی آدمی کو کاٹتا پھرتا تھا۔ وحشی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ مذہبی منافرت اور جنون نے گندم اور پانی تک کو مذہبی رنگ دے دیا تھا۔ آتی جاتی ٹرینیں لاشوں سے بھری ملتی تھیں۔ لڑکیاں درندوں کی وحشتوں کا شکار تھیں۔ انسانی اقدار جتنی پست تھیں، اتنی ہی موت ارزاں۔ پتہ نہیں کس طرح سردار جی اپنا آپ سنبھالے اس دن کا انتظار کر رہے تھے کہ موقع ملے تو جاکر اپنی بیٹیاں واپس لے کر آئیں۔ بیوی تو صعوبتوں کی مار نہ سہ سکی تھی، سو اسے راہ میں ہی رب کے حوالے کیا۔ اب جب ان خوفناک حالات سے لڑتے، ایک لمبا سفر طے کر کے بیٹیوں کی محبت میں موت کے منہ میں دوبارہ آنے کو تیار ہوئے تو پہلے تو اپنے گھر کے کھلے دروازے کو دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ ایک لمحے جھجکے پھر قدام آگے بڑھایا۔ دہلیز پر ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ ایک لمبا تڑنگا آدمی سامنے آن کھڑا ہوا۔
”ابے اوئے کیسے گھر میں دندناتا ہوا چلا آ رہا ہے بے غیرت آدمی۔“
اس نے سردار جی کے سینے پر ہاتھ رکھ کے انہیں زور سے دروازے کے باہر دھکیلا۔ حادثوں کی مار سہتے وجود میں طاقت کم تھی۔ سردار جی نے گرنے سے بچنے کے لئے دروازہ پکڑنے کی کوشش کی مگر دھکے کے زور سے دہلیز کے باہر جا گرے۔
”سالے سکھڑے، ہمارے گھر میں گھستا ہے۔“
لمبے تڑنگے آدمی نے آستینیں چڑھائیں۔
”بھائی میری بات سنو۔“ سردار جی نے بولنا چاہا۔
”بھائی میں۔ بھائی یہ میرا گھر تھا۔ میں دروازے پر دستک دے کر یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ گھر میں کون رہتا ہے۔ گھر کا دروازہ کھلا تھا تو میں نے پیر اندر رکھ دیا کہ اپنا گھر دیکھوں۔“
”تیرا گھر؟ تیرے باپ کا گھر ہے سالے۔ چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا اگر ہمارے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا۔ دفع ہو جا جہاں سے آیا ہے۔ ناپاک کر دی ہے ہماری پاک زمین حرامزادوں نے۔“
نفرت اور غصے سے اس کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں۔ نہ صرف گھر کے اندر سے عورتیں اور بچے باہر جھانکنے لگے بلکہ آس پاس کے لوگ بھی، گھر گھر سے باہر نکل کر تماشا دیکھنے لگے تھے۔
”اپنے پڑوسی بھائی تمیزالدین سے پوچھ لو، بھائی ہے وہ میرا۔“ سردار جی نے گھبرا کر تمیزالدین کے دروازے کی طرف دیکھا۔
اس سے پہلے کہ ہنگامہ زیادہ بڑھتا، شور سن کر برابر والے گھر کا دروازہ کھلا اور تمیزالدین باہر نکلا۔
”بھائی تمیزالدین سمجھاؤ اس بھائی کو یار۔“ سردار جی کی آواز لڑکھڑا رہی تھی اور گلا رندھ گیا تھا۔
کیسے آئے ہو راجیندر سنگھ؟
تمیزالدین نے غصے سے پھنکارتے پڑوسی کو ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
” ہیں! کیسے آیا ہوں، مطلب؟“ سردار راجیندر سنگھ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
بچیوں کے منہ بولے چاچا کے منہ سے نکلے اس سوال نے سردار راجیندر سنگھ کو مزید حواس باختہ کر دیا۔ پہلے ہکا بکا ہو کر اس کا چہرہ دیکھا پھر بولے، ”ارے بھائی، بھائی تمیزالدین تمہیں تو معلوم ہے، کیوں آیا ہوں۔ کیا لینے آیا ہوں بھائی۔“
ایک منٹ۔ ”تمیزالدین نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور گھر کے اندر چلا گیا۔“
کچھ دیر کے بعد اچھی طرح سر ڈھکے، جسم کو چادر سے لپیٹے، اپنے منہ بولے چاچا کے ہمراہ دو خوفزدہ کمزور سی لڑکیاں باہر آئیں۔ سردار جی نے اپنی انگاروں کی طرح دہکتی آنکھیں اٹھا کر دروازے پر دیکھا جہاں ان کا جگری یار ان کی دو بچیوں کو جو اپنے قد سے ذرا اونچی نظر آ رہی تھیں، لے کر کھڑا تھا۔
دونوں بچیوں کے منہ سے، بیک وقت ”دار جی“ نکلا اور دونوں بلکتی باپ کے سینے سے جا لگیں۔
سردار جی کی آنکھوں سے لگاتار نکلتے آنسو ان کی داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔
”جسبیر کور کتھے اے؟“ انہوں نے دونوں بیٹیوں کو بازوؤں میں بھرتے ہوئے پوچھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

