تیسری بیٹی


اس سے پہلے کہ کوئی بچی کچھ بولتی، تمیزالدین دو قدم آگے بڑھ کر راجیندر سنگھ کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولا۔

”دیکھو، سال سے اوپر ہو گیا ہے تمہیں یہاں سے گئے ہوئے۔ ٹھیک ہے نہ۔ اپنی جان پر کھیل کر حفاظت کی ہے میں نے ان کی۔ کھلایا پلایا ہے اتنا وقت میں نے ان کو۔ تو مجھے کیا ملے گا اس کے بدلے؟ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تین کے بجائے دو دوں گا۔ ان دو کو لے کے جانا ہے تو لے جاؤ۔ لڑکیاں۔ تین کے بجائے دو ملیں گی، بات ہے صاف۔“

”ارے بھائی یہ کیا کہہ رہے ہو؟ نہیں بھائی تمیزالدین، یہ مناسب نہیں۔ یہ ظلم ہے، قہر ہے، وعدہ خلافی ہے میرے بھائی۔“ سردار راجیندر سنگھ کو اپنی سماعت پر اعتبار نہیں آ رہا تھا۔ وہ ہکا بکا ر ہ گئے۔

”وعدہ خلاف ہوتا تو ایک بھی واپس نہ لوٹاتا۔“ تمیزالدین اپنے دروازے سے باہر نکل کر، رستے کے بیچوں بیچ کھڑا ہو کے زور سے بولا۔

”او نہ کر ویرا۔ پتہ ہے نہ سارا تجھے میری مجبوری کا۔ تو نے وقت دیکھا تھا نہ کیسا ظالم تھا ورنہ کون اپنی بچیاں کسی کے حوالے کرتا ہے۔“

”شکر کرو دو مل رہی ہیں، اپنے ساتھ لے جاتے تو یہ دو بھی نہ ہوتیں آج۔“
تمیزالدین کی آنکھ میں نام کی بھی مروت نہ تھی۔ وہ واپس اپنے دروازے پرجا کھڑا ہوا۔

دونوں بچیاں سہمی ہوئی تھیں۔ چادروں سے ڈھکے ان کے جسموں کی لرزاہٹ دیکھ کر راجیندر سنگھ کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔

”تمیزالدین بھائی تو باہر آ، بات کر میرے ساتھ۔ میں نے تیرے پاس اپنی تین بچیاں چھوڑی تھیں کہ وہ اپنے چاچے کے گھر میں حفاظت سے ہوں گی۔ اس لئے ان کو تیرے گھر چھوڑا تھا کہ تو ایمان والا ہے، وعدے کا پابند ہے، خیانت تیرے دین میں نہیں۔“

”اوئے تیری۔“
تمیزالدین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ”تو جاتا ہے یا۔“

راجیندر سنگھ نے اپنے سر پر دو ہتڑ مارے۔ آنسو بہاتی، لرزتی بچیوں نے باپ کو دائیں بائیں سے جکڑ کر اس کی گرتی پگڑی سنبھالی۔ وہ آگے بڑھ کر تمیزالدین کے پاؤں چھو کر اس سے التجا کرنا چاہتا تھا، کہ تمیزالدین کی کراری آواز گونجی۔

” کوئی ڈرامہ مت کرنا راجیندر سنگھ۔ تمہیں میں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ تمہیں میرا شکر گزار ہونا چاہیے کہ دو واپس کر رہا ہوں، وہ بھی صحیح سلامت۔“ ورنہ پتہ ہے نہ کیسی ہوا چلی ہوئی ہے۔ تمہارے حق میں یہی اچھا ہے کہ دونوں لڑکیاں لے کے جس راستے سے آئے ہو، اسی سے واپس لوٹ جاؤ۔ ورنہ یہاں کسی سے کوئی اچھی امید مت رکھنا۔ بہتر ہے چلتے بنو۔ ”

راجیندر سنگھ زمین پر آ رہا۔

”دار جی، دار جی“ ، دونوں بچیاں اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ڈگمگاتے قدموں سے راجیندر سنگھ جس وقت اٹھا، لوگوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہو چکی تھی۔ ان میں سے کسی کی آنکھوں میں دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ دو بچیوں کے ساتھ نے اسے مزید کمزور بنا دیا تھا۔ ہارے قدموں اور لرزتے وجود کے ساتھ اس نے اپنے آنسو صاف کیے۔ دونوں بچیوں کو بازوؤں میں بھرا اور واپسی کے لئے مڑا۔

”او یہ دو بھی اس کو کیوں دے رہے ہو واپس تمیزالدین؟“

اچھلتی چھچھلتی آوازوں اور ٹھٹول بازی میں وہ اوباش آواز سردار راجیندر سنگھ کے کانوں سے ٹکرائی جس نے ساری زندگی ان کے دماغ میں بازگشت کرنا تھی۔

”نہیں !“ لبنیٰ نے ناقابل یقین انداز سے کہا۔

”ہاں۔ سوچو۔ تین کے بجائے دو ملیں گی اور کیا ملیں گی تین کے بدلے؟ دو۔ اور وہ بھی بیٹیاں۔ جان نکال دیتی ہے نہ یہ بات۔ اور مت بھولو کہ بچیاں اپنے منہ بولے چاچا کے گھر تھیں۔ مذہب مختلف ہوا تو کیا ہوا۔ اور وہاں، جہاں کی میں بات بتا رہی ہوں، یہ بات حکم کی طرح دہرائی جاتی تھی کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ سب اپنے اپنے مالک، یعنی واہگرو، خدا یا بھگوان سے دعا مانگتے تھے کہ مالک دوست دشمن سب کی بچیوں کی حفاظت فرما۔“ یہ کہتے کہتے خالہ کا گلا رندھ گیا۔

”اور دیکھو یہ کہنا اور سوچنا ہی کتنا بڑا پاپ ہے کہ کسی کی تین بیٹیاں گھر میں رکھ کر اسے دو واپس کی جائیں اور تیسری بیٹی کو اجر یا منافع کے طور پر رکھ لیا جائے اور واپس نہ کیا جائے۔ لیکن پھر بھی اس بات کو مذہب کی آنکھ سے کبھی مت دیکھنا۔ ہر مذہب میں اچھے برے لوگ ہو تے ہیں۔ ایک واقعہ سنایا تھا کسی نے۔ سنانے والا ادھیڑ عمر آدمی تھا مگر ہجرت کے وقت وہ صرف دس برس کا تھا۔ جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک قدرے محفوظ راستے سے گزر رہے تھے تو انہوں نے ایک حاملہ عورت کو لاوارث حالت میں دریا کے کنارے بیٹھے پایا۔ وہ لوگ اس کو اپنے ساتھ لے گئے کہ مرنا ہے تو سبھی مریں گے۔ اس بے بس کو اس حالت میں لاوارث کیسے چھوڑ دیں۔ قسمت اچھی کہ وہ سب صحیح سلامت محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔

تین ماہ بعد اس عورت نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ پھر کوئی پانچ ایک سال کے بعد اس عورت کے والدین سے رابطہ ہوا۔ بیچ میں آگ اور خون کی سرحد بچھی تھی۔ مگر اس عورت کو سنبھالنے والے خاندان نے کہا، اب یہ ہماری بیٹی ہے تو ہم اسے بیٹیوں کی طرح رخصت کریں گے۔ اور پھر ان لوگوں نے اس عورت اور اس کی بچی کو تحفے تحائف دے کر بیٹیوں کی طرح رخصت کیا۔ عورت ہندو تھی اور اسے پناہ دینے والا خاندان مسلمان تھا۔ دونوں ماں بیٹیوں کو حفاظت اور عزت سے رکھا اور شان سے اس کے خاندان کے سپرد کیا۔ ہر انسان کا ایک انفرادی فعل و عمل ہے۔ کبھی وہ فرشتوں سے آگے نکل جاتا ہے تو کبھی شیطان کو شرماتا ہے۔ مگر آدمی وہی ہے جو دماغ ماؤف کرنے والے حالات میں بھی انسان بن کر سوچے۔

جب لوگوں کے دماغ تھوڑا سوچنے کے قابل ہوئے تو ٹولیوں کی شکل میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے لگے کہ بلوائیوں کے حملے بھی ذرا تھم گئے تھے۔ تب سکھوں کا ایک قافلہ پنجہ صاحب کے ساتھ والے گاؤں پہنچا جہاں تقسیم سے پہلے سکھوں کی بڑی آبادی رہتی تھی۔ ویسے تو وہ سب اپنے آبائی علاقوں کو دیکھنے آئے تھے مگر انہیں اس کنویں تک پہنچنا تھا جس کے اندر بلوائیوں کے خوف سے انہوں نے اپنی 73 معصوم لڑکیاں پھینک دی تھیں۔ ان بے بس لڑکیوں کی آہ و زاریاں، چیخیں، منتیں سب اس اندھی کے خوف کے آگے ماند تھیں کہ بھوکے درندے ان کی آنکھوں کی سامنے ان کی عزتوں کو تار تار کریں گے اور وہ کچھ نہ کر سکیں گے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود اس کنویں سے جلے سڑے گوشت کی بدبو آتی تھی۔ لڑکے آگے آگے تھے اور بزرگ پیچھے کہ ایک نوجوان جذباتی ہو کے باآواز بلند چلایا۔

”اوئے جھنڈا لاؤ۔ کنواں مل گیا، یہیں ہے۔“
او چھڈ پراں۔ جھنڈا لاؤ؟ کاہدا جھنڈا؟ ایک بزرگ تڑپ کر بولے۔
”قربانی کی یادگار ہے۔“ جوان خون نے پھر جوش مارا۔

”قربانی؟ کا ہدی قربانی؟ انساناں دی قربانی؟ دھیاں پینڑاں دی قربانی؟ رشتیاں دی قربانی؟ چشم فلک بھی رو پیئی ہوئے گی ایہہ ظلم ویکھ کے۔ معافی منگو ایناں کولوں جنہاں دی حفاظت نہیں ہو سکی ساڈے کولوں ہور ایناں نمانیاں نوں بے موت مار دتا۔“ بزرگ کی آوازمیں تلخی نمایاں تھی۔ ”

خالہ رات کے اس پہر گویا کوئی پاٹھ پڑھ رہی تھیں۔

یکے بعد دیگرے کتنے قصے سنا گئیں تھیں خالہ رات جاگ کر بتانے کو۔ مگر لبنیٰ کا دل ابھی تک سردار راجیندر سنگھ کی تیسری بیٹی پر اٹکا ہوا تھا۔

”خالہ وہ تیسری بیٹی؟ اس کا کیا ہوا؟ واپس ملی سردار جی کو؟“
”وہ لڑکی“ ، خالہ سرد آہ بھر کر بولیں۔

”سردار راجیندر سنگھ کا پھر کوئی پتہ نہ چلا پتر۔ ہو سکتا ہے غریب پھر واپس لوٹا ہو بیٹی سے ملنے، اس کو دیکھنے۔ پر تمیزالدین نے شہر بھی بدل لیا تھا۔ خط پتر کا زمانہ تھا تو پر کس کو کہاں کوئی پتر بھیجتا۔ باپ بیٹی کے نصیب میں ازلی جدائی لکھ دی تھی مقدر لکھنے والے نے۔ پتہ نہیں کیسے جیا ہو گا۔ اور کتنا جیا ہو گا غریب۔“

ہائے۔ لبنیٰ کی ہوک نے ماحول کو اور گمبھیر بنا دیا تھا۔
معصوم لڑکی خالہ کے بستر پر گہری نیند سو رہی تھی۔ مگر آج خالہ کو نیند کہاں آنی تھی۔
لبنیٰ کی آنکھوں سے بھی نیند روٹھی ہوئی تھی۔
”ہائے کیسے زندگی بتائی ہو گی اس لڑکی نے خالہ!“
لبنیٰ آزردہ سی ہو کر بولی۔

”جینا کوئی آسان ہے لبنیٰ، پر بندہ بڑی ڈھیٹ مٹی سے بنایا ہے اس نے، وہ جی جاتا ہے۔ تو خود کو دیکھ؟ جیسے تو جی رہی ہے کون جیتا ہے؟ جینا پڑتا ہے تو حیلے بہانے بھی سیکھ لیتا ہے دل۔ جس طرح زمین ماں ہوتی ہے، اس طرح باپ آسمان ہوتا ہے لڑکیوں کے لئے۔ جن بیٹیوں کی زمین چھن جائے تو وہ آسمان کی طرف دیکھتی رہتی ہیں۔ اور ہر مشکل میں انہیں لگتا ہے کہ ان کا باپ ان کی مدد کے لئے آ جائے گا۔ کئی بچھڑی بیٹیاں اور باپ بھری برساتوں میں ملتے تھے۔ پوچھو کیسے؟ غربت کے زمانوں میں، جب برساتیں رکنے کا نام نہ لیتیں، اور کچے گھروں کی چھتیں ٹپ ٹپ رونا شروع کر دیتیں تو لڑکیاں بالیاں، بانس کی تیلیوں سے اِک گڈا بناتی تھیں، اور ایک کپڑے کی تھیلی سی کے اس کو جھولے کی طرح اس گڈے کی کمر میں باندھ دیتی تھیں۔ پھر اس جھولے میں آٹا ڈال کر بانس کی تیلیوں سے بنے اس گڈے کو کسی دیوار یا دروازے کی اوٹ میں رکھ دیتی تھیں۔ پھر ساری لڑکیاں اپنے گھروں میں پانی ٹپکتا دیکھ کر، نم آنکھوں کے ساتھ برستے گرجتے بادلوں سے گزارش کرتیں۔ اے کمزوروں، ناداروں اور غریبوں کی سننے والے! یہ بڈھا بابا اپنی غریب بیٹی کو آٹا دینے جا رہا ہے۔ اگر بارش یونہی ہوتی رہی تو آٹا بھیگ جائے گا پھر وہ بے چاری اپنے بچوں کو کیا کھلائے گی؟“

”پھر۔ کیا بارش رک جاتی تھی خالہ؟“
لبنیٰ نے ایک عجیب سی کیفیت میں پوچھا۔
کوئی جواب نہ آیا۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے مڑ کے دیکھا۔
بارش عذرا خالہ کی آنکھوں میں اُمڈ آئی تھی مگر لہجے میں قطعیت بھر کے بولیں۔
”آہو۔“

”خالہ، تو کیا وہ تیسری بیٹی؟“ جملہ ادھورا چھوڑ کر، لبنیٰ نے خالہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر صبح صادق کی روشنی میں خالہ کی آنسو بھری آنکھوں میں جھانکا۔

خالہ نے زور سے لبنیٰ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں بھینچ لیا اور صرف اتنا ہی کہہ پائیں۔
”بس ہن ارام نال مرن دے کڑیے۔“

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3