”جینا تو ہے“ ، ایک شاعر، ادیب اور آرٹسٹ کا قول


ارشد زمان کا تعلق ضلع مانسہرہ کے گاؤں بفہ سے ہے۔ ان کی عمر 43 سال ہے۔ وہ دو ہزار گیارہ سے ہزارہ یونیورسٹی میں ڈیس ایبل (سپیشل) پرسن کے کوٹہ پر درجہ چہارم پہ بھرتی ہوئے۔

ارشد زمان شاعر، ادیب اور آرٹسٹ ہیں۔ وہ بچپن میں پانچ سال کی عمر میں مسکولر ٹاسپی بیمار کی وجہ سے معذوری کا شکار ہوئے۔

ارشد زمان پانچ سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوا۔ انہوں نے یتیم اور نادار بچوں کے سکول ”ایس او ایس سکول ڈھویال“ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ایس او ایس ویلج کی جانب سے بھی ارشد زمان کا علاج کیا گیا، لیکن وہ صحت یاب نہ ہو سکے۔ بیماری کے باعث انہیں سکول چھوڑنا پڑا۔ ارشد زمان نے میٹرک کا پرائیویٹ امتحان دیا۔ بعد ازیں پرائیویٹ امتحانات ہی کے ذریعے 2017 میں انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔

ارشد زمان نے دو ہزار گیارہ میں ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سخاوت شاہ کا عکس (سکیچ) بنایا اور انہیں تحفہ کے لئے پیش کیا تو وائس چانسلر نے انہیں افراد باہم معذوری کے کوٹے پہ درجہ چہارم کی ملازمت دی۔

ارشد زمان کی شاعری کا ایک مجموعہ ”دکھ کے بادل“ کتاب کی شکل میں پبلش ہو چکی ہے، جو کہ Handicap international نامی این جی او کے تعاون سے پبلش ہوئی۔

ارشد زمان کی شاعری کی دوسری کتاب بھی تقریباً مکمل ہے، لیکن مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ پبلش نہیں ہو سکی۔

ارشد زمان شاعری میں ”الم“ بطور تخلص لکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں دکھ، درد اور شکوہ شکایت نمایاں ہیں۔

ارشد زمان نے ہزارہ یونیورسٹی کے کئی فیکلٹی ممبرز کے سکیچ بنائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیچ بنانا ایک مشکل کام ہے۔ ان کے مطابق ایک نارمل آرٹسٹ سکیچ بنانے پہ تین سے چار گھنٹے لگاتا ہے، لیکن ان کی معذوری اور خاص کر ہاتھوں کی بیماری کی وجہ سے وہ ایک سکیچ سات سے آٹھ گھنٹوں میں بنا لیتے ہیں۔

ارشد زمان کہتے ہیں دور جدید میں سکیچ بنانے کے لئے بہت سے اوزار مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جو کہ کافی مہنگے بھی ہیں۔ لیکن میں سکیچ کے لئے صرف پینسل کا استعمال کرتا ہوں۔

عمیر خان آباد کے چند سوالات اور ارشد زمان کے جوابات۔
عمیر خان۔
سر! تینتالیس سال آپ کی عمر ہے، زندگی میں کوئی ایسا واقعہ جس نے آپ کو بہت دکھی کیا ہو؟
ارشد زمان۔

ہمارے معاشرے میں افراد باہم معذوری کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ میرا بھی کئی چیلنجز سے گزر ہوا ہے۔ کچھ لوگ ہمیں دیکھ کر برے رویہ سے پیش آتے ہیں۔

ایک دفعہ میں لوکل ٹرانسپورٹ گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ ڈرائیور کو جلدی تھی۔ منزل پہ پہنچے تو مجھے اترنے میں مسئلہ تھا، آرام آرام سے اترنے پہ ڈرائیور نے غصے اور تضحیک آمیز لہجے میں کہا ”اس زندگی سے تو موت اچھی“ ڈرائیور کی یہ بات سن کے بہت تکلیف ہوئی۔ اس نے بجائے میری امید بندھنے کے میرے حوصلے گرا دیے تھے۔

عمیر خان۔

سر! آپ اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں گھریلو ضروریات و اخراجات کیسے پورا کرتے ہیں، اور باقی کام کاج کیسے کرتے ہیں؟

ارشد زمان۔

آج کے دور میں تو سبھی کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، خصوصی افراد کے لئے تو یہ مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں، افراد باہم معذوری کا چلنا پھرنا، کھانا پینا، اوڑنا بچھونا سب مشکل اور مہنگا ہے۔

اخراجات تو اپنی تنخواہ سے پورے کرنے کی کوشش کرتا ہوں، باقی سودا سلف میں اور بیگم کے آتے ہیں۔ کبھی بھاری یا طاقت سے بڑا کام ہو تو دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد لیتے ہیں۔

عمیر خان۔
معاشرے کا افراد باہم معذوری کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟
ارشد زمان۔

گاؤں اور دیہاتوں کے لوگ کم علمی کی وجہ سے خصوصی افراد کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں۔ جبکہ شہری لوگ افراد باہم معذوری پہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ ہر دو چند کا افراد باہم معذوری کے ساتھ غیر منصفانہ اور امتیازی رویہ ہے۔

کچھ لوگ دنیاوی و مذہبی تعلیم اور اخلاقی و انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے خصوصی افراد کو خصوصی اہمیت بھی دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افراد باہم معذوری کو معاشرے کے ساتھ چلنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

عمیر خان۔
آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے کی سب سے زیادہ موٹیویشن کس سے ملی؟
ارشد زمان۔

ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی، بالاکوٹ کالج کے مدرس اور میرے استاد ڈاکٹر محمد اشفاق احمد میری زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور تعلیم جاری رکھنے میں خاصی مدد کی۔ میرا آج اس مقام تک پہنچنے میں اشفاق صاحب کا بڑا کردار ہے۔ اب بھی میرا ان سے رابطہ ہوتا رہتا ہے۔

عمیر خان۔
آپ آرٹسٹ، ادیب اور شاعر ہیں۔ اپنے کچھ اشعار سنائیں؟
ارشد زمان۔
نظر میں، جگر میں، گماں میں کوئی ہے۔
میری روح اور جاں میں کوئی ہے۔
حقیقت کی دنیا میں کوئی نہیں ہے۔
خیالوں کے نازک جہاں میں کوئی ہے۔
واہ واہ، کمال است
مدتوں سے دکھ کے ساغر میں الم۔
میری کشتی کو کنارہ نہ ملا۔
ایسے بچھڑا وہ، بہت کی جستجو۔
میری آنکھوں کو دوبارہ نہ ملا۔

ارشد زمان کے حوالے سے ہم نے وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد سے بات کی تو انہوں نے ارشد زمان کے ہنر اور قابلیت پہ رشک کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ ارشد زمان نے میرا سکیچ بھی بنایا ہے اور مجھے تحفہ کے طور پیش کیا ہے۔ جس پہ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں سراہا۔

وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی افراد باہم معذوری (سپیشل سٹوڈنٹس) کو مفت تعلیم دے رہی ہے، اس کے علاوہ ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ بھی فری ہے۔ نئے تعمیر ہونے والے ہاسٹلز میں افراد باہم معذوری کے لئے الگ رومز بن رہے ہیں، جن میں مختلف سہولیات کے ساتھ اٹیچ باتھ روم ہوں گے ۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس اور دفاتر میں سیڑھیوں کے ساتھ سپیشل پرسنز کی سہولت کے لئے ریمپ بھی بنا دیے گئے ہیں۔

ارشد زمان کی شاعری اور آرٹ سکیچ کے حوالے سے آرکیٹیکچر ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہاجرہ انور کہتی ہیں کہ آرٹ خدا کے جانب سے تحفہ ہوتا ہے، بیماری کے باوجود ارشد زمان کی سکیچنگ کسی بڑے شاہکار سے کم نہیں۔ میم کہتی ہیں کہ اکثر سٹوڈنٹس بھی ارشد زمان کے تخیلاتی تخلیق کا ہنر سیکھنے کے لئے ان کے پاس آتے ہیں۔

ہاجرہ انور نے بتایا کہ آرٹ اینڈ ڈیزائن یا آرکیٹیکچر ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹس کو چار پانچ سال تک مسلسل پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے، لیکن ارشد زمان بغیر کسی آرٹ انسٹیٹیوٹ سے سیکھے اچھے فن پارے نقش کرتے ہیں، وہ بھی بغیر ماڈرن ایکویپمنٹس کے۔

ارشد زمان کی دوسری بیوی سے ایک بیٹا چہارم جماعت میں پڑھتا ہے۔ ان کی بیگم پاؤں کی بیماری کے باعث افراد باہم معذوری میں شامل ہیں۔

ارشد زمان کہتے ہیں کہ دنیا کی مشکلات اور زندگی کی جنگوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں گے، کیونکہ ”جینا تو ہے“ ۔

Facebook Comments HS