انسانوں میں زومبی


یہ زومبی آپ کو دنیا کے کسی خطے میں نہیں مل سکتے ما سوائے پاکستان۔ ان کی ایک نسل یہاں پر ڈیرے جما کے بیٹھی ہے ان کی خوراک انسانی گوشت ہے ان کی آنکھوں میں ہر وقت بھوک اور ہوس کی نہریں بہتی ہیں۔ ان کی پاکستان میں دو بنیادی اقسام ہیں ایک مذہب سے سہارا لیتے لوگوں کو مرنے کے لیے اور دوسری قسم ریاست کے اداروں کو استعمال کرتے۔ لیکن دونوں کے اندر لوگوں کو اذیت اور موت کے گھاٹ اترنے والی خوبی مشترک ہے۔ ان میں سب کے اپنے اپنے ہیروز ہیں جن کو وہ دن رات پوجتے ہیں اور ان کی زندگیاں ان کے لیے مشعل راہ ہیں۔

مذہبی زومبی نے ننکانہ صاحب میں ایک معرکہ سر انجام دیا ہے جس میں ایک ماں کی گود اجڑی۔ اس کے لخت جگر کو اینٹوں اور ڈنڈوں سے مارا گیا۔ اس کی لاش کو گلیوں میں روندا گیا۔ اصل میں ان زومبیوں کے سر پر اسلام کا سہرا رکھا گیا ہے۔ اور وہ انسانوں کی جان لے کر اسلام کے ختم ہونے کے خطرے کو ٹالتے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں ان کا ہیرو 1929 کو ایک کافر کو مار کر سامنے آتا ہے اور اس سوچ کی روایت کی پختہ اینٹ رکھتا ہے اور آج تک اسی سوچ کے ہیروز یکے بعد دیگر آتے ہیں۔ یہ ہیروز ظلم، زیادتی، اور تشدد سے خود کو ہمکنار کرتے ہیں۔ ان کی اس خوبی کی وجہ سے معاشرے کی بنیاد اسی سوچ پر رکھ دی گئی ہے۔ پاکستان کے اندر اس گروہ نے 1990 سے لے کر آج تک 75 لوگوں کو مارا اپنے مسلمان ہونے پر فخر اور اسلام کا سر بلند کیا۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق 1947 سے لے کر آج تک 1400 کیسز ایسے سامنے آئے جو جھوٹ کی کہانی تھے۔

یہ کیسز ذاتی عداوت کی وجہ سے تھے اور جنت میں جانے کا شارٹ کٹ راستہ ہموار کرتے ہیں۔ ہجوم کی ایک اپنی سوچ ہوتی ہے جس کے پیچھے فلسفہ یہ کہتا ہے کہ جب ہجوم یہ باور کر لیتا کہ ملک کا انصافی نظام اس قبل نہیں کہ انصاف دے سکے اور ملک کے اندر سماجی اور سیاسی استحکام نہ رہے اور پھر ہجوم تشدد پسند ہو جاتا اور قانون کو ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ پھر یہ ہجوم تشدد سے خود کو طاقتور سمجھتا ہے اور اپنی پہچان کے لیے اپنے اس کام پر اترتا ہے۔

جاوید اختر صاحب کہتے کہ جہالت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا کہ یہ لامحدود ہوتی ہے اور پاکستان آج اس لامحدود جہالت کا شکار ہے۔ مائیکل شرمر کہتا ہے جہالت والا دماغ خالی سلاٹ نہیں ہوتا۔ وہ متعصب اور غیر منطقی معلومات کا مرکب ہوتا۔ پاکستان میں کچھ حکمران اقتدار کی ہوس میں ڈوبے ہوئے اور کچھ ویسے نشے میں۔ یہ دل دہلا دینے والے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور لوگ ان مذہبی زومبی گروہ کہ ہاتھوں مرتے جا رہے ہیں۔ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے لوگوں کو تعلیم دے۔

ولیم شکسپیئر کہتا ہے کہ جہالت خدا کی لعنت ہے اور علم پروں کی ماند ہوتا جن پر اڑھ کے جنت میں جایا جاتا ہے ۔ یہاں پر لوگوں کو سمجھایا جائے کہ جبر و ظلمت کی صفوں میں کھڑے ہوئے لوگوں کو چھوڑ کے باہر آنے کا نام ہے انسانیت ہے۔ اس حبس کے موسم کو بہار کے موسم سے روشناس کرنا ہو گا۔ کیوں کہ نا معلوم جرم ثابت کرنا بہت مشکل کام ہے قانون کی بالادستی اور اسلام کے لٹریچر کو ریویو کیا جائے نہ کہ جبر کے سینے پر لاٹھی رکھی جائے اور ہجوم کو مارا جائے اس سے پھر انتہا پسندی کو پذیرائی ملے گی یہاں پر آرٹ، لٹریچر، اور موسیقی کو فروغ دیا جائے تاکہ ہمارے لہجوں سے محبت ٹپکے جو آنگن میں پڑی دھوپ کو آسیب کے سائے سے بچائے۔ اس خون کی ہولی کو روکنا پڑے گا۔ محبت اور امن کے باغات اگانے پڑیں گے۔ وقت کی ضرورت کے لیے ملک کی بقا کے لئے۔

 

Facebook Comments HS