عجائب خانہ


کتابیں انسان کی دوست بھی ہیں اور مونس و غمخوار بھی، تنہائی کا بہترین رفیق بھی ہیں اور محفل میں راہبر و راہنما بھی۔ یہ انسان کو زندگی میں آنے والے نت نئے مسائل سے نمٹنا سکھانے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن و دل سے بہت سارے بے بنیاد خوف نکال باہر کرتی ہیں۔

عرفان جاوید کی کتاب ”عجائب خانہ“ بھی ایسا ہی ایک شاہکار ہے کہ جسے پڑھتے جائیے اور حیرتوں کے سمندر میں گہرا اترتے جائیے۔ یہ کتاب واقعی اسم با مسمی ہے کہ یہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر نئے جہانوں کی سیر پہ لے جاتی ہے۔ اس سیاحت کے دوران کچھ ایسے ناقابل فراموش مناظر دکھائی دیتے ہیں جو دل و دماغ کے نہاں خانوں میں پیوست ہو جاتے ہیں۔ کتاب آپ کا ہاتھ تھامے آپ کو پیش قدمی کرانا چاہتی ہے مگر آپ دل کا پس منظر کی دل آویزی میں اٹکا رہتا ہے۔ آپ کسی نو آموز سیاح کی طرح تھوڑی دیر کے لیے ہر منظر میں رک کر اس کی شگفتگی کو جی بھر کے اپنی آنکھوں میں بھرنا چاہتے ہیں مگر یہ محبت بھرے اسلوب میں آپ کو کسی نئے اور دلفریب نظارے کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے۔

کتاب کی ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ آپ کو سوچنے پہ نہیں بلکہ کچھ ہٹ کر سوچنے پہ آمادہ کرتی ہے۔ یہ چیزوں، لوگوں اور حالات کے بارے میں آپ کی بنی بنائی سوچ کو توڑنے کے بعد آپ کے تخیل کی تعمیر نو کرتی ہے اور آپ کے نقطہ نظر کو منطقی اور مدلل بنانے اور اشیاء کو نئے زاویوں سے دیکھنے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

کہیں کہیں یہ کتاب ثقیل ضرور ہے کہ اس میں تحیر اور تفکر سے لبریز دقیق اور پیچیدہ نکتے بھی ہیں، تاریخی واقعات بھی، تحقیق و تنقید بھی ہے اور تبصرے و تجزیے بھی۔ یہ موضوعات جتنے مختلف اور دلچسپ ہیں اتنے ہی فلسفیانہ اور بحثیلے بھی ہیں۔ جیسے کسی خوبصورت اور دلفریب وادی کے حسن کا نظارہ نا صرف آپ کی آنکھ کو بھاتا ہے بلکہ یہ آپ کے دل کی دنیا کو بھی ہلچل سے دوچار کر دیتا ہے۔ آپ اس کا نظارہ بہت جلدی میں نہیں کر سکتے کیونکہ آپ ہر منظر کو ٹھہر ٹھہر کر خوب اچھی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب کو آپ سرسری انداز میں جلدی جلدی نہیں پڑھ سکتے کہ اس طرح اس کی گہرائی کو پانا دشوار تر ہے۔

در حقیقت یہ ایک کتاب نہیں بلکہ معلومات کا گنج گراں مایہ ہے۔ عرفان جاوید صاحب کے قلم کا سحر ہے کہ وہ اس بیش قیمت علمی خزانے کی منتقلی کے دوران ایک لمحے کے لیے بھی قاری کے دل و دماغ کو بوجھل نہیں ہونے دیتے۔ کتاب متنوع مضامین پر مشتمل ہے جن پر عام طور پہ اردو زبان میں بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔ جنس اور درختوں کے موضوعات پر ایسے بیش قیمت اور اچھوتے خیالات پیش کیے گئے ہیں کہ قاری داد دیے بنا نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ غذا کی تاریخ اور ثقافت کو بڑے دلفریب انداز میں موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

کتاب کا لفظ لفظ عرفان جاوید صاحب کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کا غماز ہے، ان کے ذہن کی وسعت اور شدید محنت ورق ورق پر جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ کتاب میں اگرچہ دقیق علمی نکات پر سیر حاصل گفتگو شامل ہے مگر زبان نہایت سلیس اور شستہ استعمال کی گئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ عرفان جاوید صاحب کو نا صرف لکھنا آتا ہے بلکہ اپنے قاری سے پڑھوانا بھی بخوبی آتا ہے۔ نمونے کے طور پر کچھ سطریں ملاحظہ فرمائیں

”چلی جیسے تیسری دنیا کے جنوبی امریکی ملک کی پہچان اس کا ہر دلعزیز شاعر پابلو نیرودا ہے، کولمبیا کو دنیا نوبل انعام یافتہ ادیب گبریل گارشیا مارکیز کے حوالے سے جانتی ہے، آہنی پردے کے پیچھے چھپے ملک چیکو سلواکیہ کا دہائیوں تک چہرہ اس کا جلا وطن ادیب میلان کنڈیرا رہا ہے اور دنیا آج بھی بنگال کی عزت اس کے عظیم بیٹے رابندر ناتھ ٹیگور کی وجہ سے کرتی ہے۔ سو جدید تہذیب یافتہ دنیا میں قومی وقار قائم کرنے کے ذرائع میں سے ایک عمدہ ذریعہ اعلیٰ ادب کی تخلیق ہے اور اعلی ادب کی تخلیق کا پہلا زینہ مطالعہ ادب ہے جو جہاں شناسی سے خود شناسی تک لے جاتا ہے۔“

”عملی اور مادی طور پر کامیاب زندگی وہی ہے جس میں انسان اپنے طے کردہ مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کرے نہ یہ کہ وہ کسی دوسرے کے مقاصد کے حصول میں اس کا آلہ کار بنے“

”سچ تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص برسوں بعد دنیا کے سفروں، سیاحتوں اور قیام کے بعد اپنے گھر لوٹے گا تو بے شک اس کے چاہنے والے باقی نہ رہے ہوں پر اگر اس کے بچپن، لڑکپن کے درخت اس کے گھر کے صحن میں موجود ہوں تو وہ اسے ضرور پہچان لیں گے اور اپنے اندر ہمدردی اور بے زبان انسیت کا وہی جذبہ رکھیں گے جیسا ماں اپنے بیٹے اور باپ اپنی بیٹی کے لیے رکھتا ہے۔“

”جب ایک آدمی کے سامنے اس کا فرمائشی پکوان رکھا جاتا ہے تو وہ صرف ایک رکاب کھانا نہیں ہوتا بلکہ ایک جام جہاں نما ہوتا ہے جس میں وہ ہزاروں برسوں کی انسانی تحقیق، جستجو اور جدت کو نا صرف دیکھ سکتا ہے بلکہ سونگھ اور چکھ بھی سکتا ہے اور وہ من پسند کھانا اس آدمی کی فطرت، مزاج اور طبقے کی بھی خبر دیتا ہے۔“

Facebook Comments HS